شوہروں کی تین پیچیدہ اقسام


ویسے تو کسی بھی مرد کے سکون کی بربادی کے لیے یہی کافی ہے، کہ وہ شوہر ہے؛ لیکن بعض اوقات شوہر اپنی اس کیفیت کو چھپانے کی بھرپور کوشش کرتا ہے؛ اور مختلف اوقات میں مختلف طریقوں سے اپنی بیوی کو متاثر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ اس کے بس میں نہیں ہوتا، ورنہ کب کا اپنی بیوی کے “اوپر” اٹھ جانے کا سامان کر چلا جاتا۔

کہتے ہیں، کہ ایک گاؤں میں رات دو بجے شور مچا۔ ایک معصوم اور شریف شوہر بھی باہر نکلا۔ لوگوں سے پوچھا کہ کیا مسئلہ ہے بھائی؛ کیا ہوا؟ پتا چلا کسی نے پینے کے پانی میں زہر ملا دیا ہے۔ گھر واپس آیا تو بیوی پوچھتی ہے۔
’’میاں کیا ماجرا ہے‘‘؟
شوہر نے جواب دیا۔ ’’کچھ نہیں، تم پانی پی کر سو جاو‘‘۔

خیر! اپنے مضمون کے عنوان کی طرف واپس آتے ہیں۔ ہر شوہر چاہتا ہے کہ مہینے میں کم از کم اس کی بیوی ایک دفعہ تو میکے کا چکر ضرور لگائے۔ جب بیگم میکے جاتی ہے، تو اس صورت احوال میں شوہر کے تین رُوپ سامنے آتے ہیں، اور یہی تین رُوپ شوہروں کی تین پیچیدہ اقسام ہیں۔

ایک شوہر وہ ہوتا ہے، جو بیوی کو ہر وقت باور کراتا ہے، کہ تمھیں میکے جا کر اپنے بہن بھائی اور والدین کے ساتھ کم از کم ایک دو راتیں گزارنی چاہیے۔ جب بیوی جاتی ہے، تو یہ شوہر زندگی کے یہ پر مسرت لمحات بہت ہی “گرم جوشی” کے ساتھ گزاراتا ہے۔ یہ وہ کچھ دن ہوتے ہیں، جس میں وہ ایک عجیب سی خوشی محسوس کرتا ہے۔ یہ شوہر ان دنوں میں اپنی کنوارے پن کی تمام فینٹیسیاں پوری کرتا ہے۔ زرا تصور کریں پورے بستر پر شوہر اکیلا لیٹا ہو لیکن اپنی تصوارتی دنیا میں رانو، جمالو، شیلا، شکیلہ کے ساتھ جام مے نوش کرتا ہو ۔

دوسرا شوہر وہ ہوتا ہے، جو بظاہر بیوی کے میکے جانے پر موڈ بناتا ہے، لیکن دل میں امرتسر کے پتیسے اُمڈ رہے ہوتے ہیں۔ ہر دوسرے گھنٹے بیوی کو کال کر کے پوچھتا ہے، کہ جانوں کب آو گی۔ جب بیوی کہتی ہے، کہ “ابھی تو آئی ہوں”، تو یہ شوہر دنیا کے بہترین ڈانس جیسے کی اتنڑ، بھنگڑا، گاگرا اور شاہی رقص سے اپنے خیالات کے گھنگرو توڑ دیتا ہے۔ اس ایک جملے پر کہ “ابھی تو آئی ہوں”، پر اپنی تخلیات کی دنیا میں ناچ ناچ کر آنگن ٹیڑھا کر دیتا ہے۔

تیسرا نمونہ، میرا مطلب شوہر؛ وہ ہوتا ہے جو بیوی کو خود میکے لے کر جاتا ہے؛ کچھ وقت بھی ساتھ گزارتا ہے، اور بیوی کے ساتھ نہ چاہتے ہوئے بھی چپکا رہتا ہے؛ لیکن اس بات کے تعاقب میں ہوتا ہے، کہ کب بیوی اشارہ کرے اور یہ نمونہ گھر آئے۔ اداکاری کا ماہر یہ شوہر میکے میں کبھی کوئی ایک رات بیوی کے ساتھ نہیں گزارتا؛ بے چاری بیوی سجھتی ہے، کہ شوہر نام دار کا میرے بغیر گزارا ممکن نہیں۔ اس قسم کا بنی نوع شوہر انتہائی شاطر ہوتا ہے۔ اور یہی وہ شوہر ہوتا ہے جو انتہائی کام یاب شوہر ہوتا ہے ۔یہی شوہر جب گھر آتا ہے، تو فل اسپیڈ میں کشور کمار کا یہ گانا لگاتا ہے۔

او میری بیوی۔۔۔ میکے چلی گئی ہے۔
بادل، پتنگا، ستارہ بن گیا ہوں۔
لوگوں مٰن پھر سے آوارہ بن گیا ہوں۔
عیش کا زمانہ آیا
موسم عاشقانہ آیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
او میری بیوی ۔۔۔۔۔ میکے چلی گئی ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں