کیا عمران علی کو پھانسی دینے سے انصاف مل گیا؟


آج زینب کے قاتل عمران کو پھانسی دے دی گئی۔ عوام میں ایک نئی امید جاگی کہ شاید اب ہماری بچیاں محفوظ ہوسکیں۔ شاید اب کوئی بکھری کلی کچرے سے نا ملے۔ شاید اب کسی کا معصوم بچپن کسی کی وحشت کے بھینٹ نا چڑھے۔ مگر مسئلہ آتا ہے اسی شاید پہ۔ کہ کیا یہ شاید یقین میں بدل سکتا ہے؟ صرف ایک پھانسی سے ملک محفوظ ہوجائے گا؟ پچھلے 6 ماہ میں زینب سمیت 15 لڑکیوں اور 12 لڑکوں کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا۔ ان مجموعی 27 بچوں میں سے صرف ایک پہ احتجاج ہوا اس ایک کا مجرم ڈھونڈا گیا اور بروقت سزا بھی ہوئی تو کیا باقی چھبیس واقعات کی کوئی اہمیت نہیں؟ کیا باقی چھبیس بچے حق نہیں رکھتے کہ ان کو انصاف فراہم کیا جائے؟ کیا وہ بچے پاکستان کے شہری نہیں؟

یہ تو زیادتی اور قتل کے کیسز ہیں اس کے علاوہ بھی پچھلے چھ ماہ میں ساحل کے اعداد و شمار کے مطابق رپورٹڈ کیسز میں 2322 بچوں کے ساتھ زیادتی کی گئی۔ اور اصل اعداد و شمار اس سے کہیں زیادہ ہیں۔ ہماری ساری توانائیاں لگتی رہیں زینب کے قاتل کو پکڑنے اور سزا دلوانے تک اور باقی کسی بچے کے لیے ہمارے منہ سے احتجاج تو کیا ایک دکھ کی آہ بھی نہیں نکلی۔ ہاں چھوٹے موٹے احتجاج جو علاقائی سطح تک ہوئے ہوں وہ الگ بات ہے۔ لیکن جس منظم احتجاج کا مظاہرہ زینب کے کیس میں کیا گیا وہ مفقود ہے۔ اور معذرت کے ساتھ وہ غصہ میں کیا گیا احتجاج کم اور ملکی سطح کا تہوار زیادہ لگ رہا تھا کہ پانچ لوگ اکٹھے ہوئے تصاویر کھنچوائیں۔ زینب کا نام استعمال کرکے اپنی تحاریر پہ مزید ویوز بٹورے۔ چائے پی اور دوبارہ اپنے کاموں میں لگ گئے۔

یقیناً سب ایسے نہیں تھے مگر اکثریت نے اسے احتجاج برائے انصاف نہیں ایک قومی ٹرینڈ کی وجہ سے انجام دیا۔ اسی لیے ہماری ساری توجہ صرف ایک مجرم کو ”عبرتناک“ سزا دینے تک محدود تھی کہ اس کی پھانسی کو سرعام کرنے کے لیے بھی تقاضے ہوئے مگر کسی اور واقعے کے لیے کچھ بھی نہیں بلکہ مجرمانہ خاموشی۔ ہم نے قسم کھائی ہوئی ہے کہ نا ہم اپنی غلطیوں سے کچھ سیکھیں گے نا ہی دوسروں کی ترقی سے۔

عوام کا خیال تھا کہ زینب کے قاتل کو عبرتناک سزا ملنے سے دوسرے مجرم ڈر جائیں گے مگر اعداد و شمار اس کی نفی کر رہے ہیں جن کے مطابق چھ ماہ میں ہونے والے واقعات پچھلے ایک سال میں ہونے والے واقعات سے زیادہ ہیں۔ اس کی اگر ایک وجہ یہی ہے کہ ہمارا نظام دو ہزار کیسز میں سے صرف ایک پہ سزا دیتا ہے تو دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ ہم جنسی زیادتی کے پیچھے ہونے والے عوامل پہ وقت ”ضائع“ کرنے کے لیے تیار نہیں۔ جس میں غربت، تعلیم اور اخلاقیات کی کمی اور طبقاتی فرق سب سے اہم عوامل ہیں اسی لیے ان تمام واقعات کے 76% واقعات کا تعلق دیہی غریب علاقوں سے ہے۔

ان دو ہزار بچوں میں سے شاید کوئی ایک آدھ ہی امیر گھرانے کا بچہ ہو۔ اور ہوتا بھی ہے تو چند ماہ میں انصاف فراہم کردیا جاتا ہے۔ اور غریب پھول روندے جاتے رہتے ہیں۔ ان کے کچلے جسموں پہ کسی کو نا پیار آتا ہے نا ترس۔ ان کی لاشوں کی تصاویر ”ہائیڈ“ کردی جاتی ہیں تاکہ نظر آئیں تو دل برا نا ہو۔
یقیناً زینب کے کیس میں عوام کا احتجاج ایک مثبت قدم تھا لیکن یہ قدم ایک بار نہیں 2322 بار اٹھانا ہوگا اور اتنا بھی نہیں تو کم از کم مزید 26 بار تو اٹھانا ہوگا تاکہ ہم اپنے ملک کے مستقبل کو محفوظ کرسکیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

ابصار فاطمہ

ابصار فاطمہ پیشے کے اعتبار سے ماہر نفسیات ہیں۔ ان کا تعلق سندھ کے شہر سکھر سے ہے۔ نفسیاتی اور معاشرتی مسائل پہ آرٹیکلز اور کہانیاں لکھتی ہیں۔ ”ینگ ویمن رائٹرز فورم اسلام آباد چیپٹر“ کی کمیٹی اورگنائزر ہیں۔ سوشل میڈیا پہ سائنس کی اردو میں ترویج کے سب سے بڑے پلیٹ فارم ”سائنس کی دنیا“ سےبھی منسلک ہیں۔

absar-fatima has 20 posts and counting.See all posts by absar-fatima