“ش”سے شیرانی،”ش” سے “شلوار”


aqdas sandhilaجب سے اسلامی نظریاتی کونسل کا خواتین کے حقوق کا بل سامنے آیا ہے تب سے میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی کہ آج کے ترقی یافتہ دورمیں بھی ہمارے مولوی حضرات کو صرف یہی فکر کیوں ہے کہ شوہر بیوی پر کس حد تک تشدد کر سکتا ہے۔ کیوں ہمارے مولوی دوسرے سماجی مسائل پر بات نہیں کرتے ؟ کیوں ان کا اسلام ٖخواتین پر آکر ٖختم ہو جاتا ہے؟ جب انہی میں سے کوئی ڈانس پارٹیوں سے یا نشے کی حالت میں برآمد ہوتا ہے تو اس وقت اسلام کو خطرہ کیوں لاحق نہیں ہوتا؟ -دوسری طرف مولوی حضرات کا موقف یہ تھا کہ چونکہ یہ بل خواتین کے حقوق سے متعلق تھا لہذا اس بل میں ان تمام امور پر تجاویز پیش کی گئی ہیں جن کا تعلق خواتین سے ہے۔ مثال کے طور پر اس بل میں یہ بھی کہا گیا کہ خواتین کو جائیداد میں حصہ دیا جائے، قرآن پاک سے شادی غیر اسلامی فعل ہے اور ایسا کرنے والے کو دس سال کی سزاہو گی، عورت کا مذہب زبردستی تبدیل نہیں کروایا جا سکتا،ونی یا صلح کے لیے لڑکی کی شادی کرنا قابل تعزیر جرم ہے وغیرہ ۔ مگر میڈیا اور چند حلقوں کی جانب سے صرف اس بل کے منفی پہلؤں پر بات کی گئی اور مثبت پہلؤوں کو اجاگر نہیں کیا گیا۔ مولوی حضرات کو صیح معنوں میں تنقید کا سامنا تب کرنا پڑا جب اس بل کے سامنے آنے کے بعد کچھ ہی ہفتوں میں پاکستان میں چار خواتین کو زندہ جلا دیا گیا۔ میرا ماننا ہے کہ پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں خواتین پر تشدد معمول کی بات ہے وہاں لوگوں کے ذہنوں میں یہ بٹھا دینا کہ ایسا فعل اسلامی تعلیمات سے مطابقت رکھتا ہے اس مسئلے کو سلجھانے کی بجائے مزید الجھائے گا۔ ہم یہ تو دیکھتے ہیں کہ قرآن پاک میں ہلکا پھلکا مارنے کی اجازت ہے مگر اس بات پرغور نہیں کرتے کہ حضرت محمد ﷺ جن کی ذات اسوہ کامل ہے ، انہوں نے کبھی اپنی بیویوں پر ہاتھ نہیں اٹھایا۔ اگر ان کا ہاتھ کبھی اٹھا بھی تو اس مقصد سے کہ ان کی زوجہ ان کے ہاتھ پر قدم رکھ کر اونٹ پر سوار ہو سکیں۔

چونکہ اس موضوع پر کئی دنوں سے بحث جاری ہے اور مختلف میڈیا چینلز پر اسلامی نظریاتی کونسل کے مجوزہ بل کی تائید اور مخالفت میں موقف پیش کرنے کے لیے مذہبی جماعتوں کے نمائندے اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے اداروں کے لوگ مختلف ٹاک شوز میں اپنے دلائل پیش کرتے نظر آتے ہیں۔ کل رات ایسے ہی ایک ٹاک شو میں سینیٹر مولوی حمداللہ ، جن کا تعلق جمعیت علماءاسلام(ف) سے ہے ، اور ماروی سرمد جوکہ ایک صحافی ہیں کے درمیان تلخ کلامی ہو ئی اور بات اس حد تک بڑھ گئی کہ مولانا صاحب پہلے ماروی کی شلوار اتارنے کی دھمکی دینے لگے اورپھر ان پر تشدد کی بھی کوشش کی۔ یہ بات اس طرح شروع ہوئی کہ اس ٹاک شو کے ایک مہمان بیرسٹر مسرور نےکہاکہ کہ مولانا شیرانی ہر مسئلے پر بات کرتے ہیں مگر جب خواتین کو زندہ جلایا جاتا ہے تو اس کی مذمت کیوں نہیں کرتے، کیا وہ چرس پی کر سو رہے ہیں؟ اس بات پر مولانا حمد اللہ بھڑک اٹھے اور بیرسٹر صاحب کے گھر والوں تک کو شرابی کہہ ڈالا۔ دل نہیں بھرا تو وقفے میں بیرسٹر صاحب کومارنے کی دھمکی بھی دی ، جس پر جوابا بیرسٹر صاحب نے باور کروایا کہ انہوں نے بھی چوڑیاں نہیں پہن رکھیں۔ بہرحال ماروی صاحبہ کی باری آنے پر انہوں نے بولنا شروع ہی کیا تھا کہ میں بیرسٹر مسرور کی بات سے متفق ہوں ، اچانک مولانا پھر سے سیخ پا ہو اٹھے کہ یہ بھی مولانا شیرانی کی شان میں گستاخی کر رہی ہیں اور میں ان کو نہیں بولنے دوں گا۔ ماروی صاحبہ بھی ماشاء اللہ زبان کی ٖخاصی تیز ہیں، انہوں نے بھی دھمکی لگا ڈالی کہ میں تو بولوں گی اکھاڑ لو جو اکھاڑنا ہے۔ پھر جو مولانا کی جانب سے طوفان بدتہذیبی اور بدتمیزی شروع ہوا تو اس کی مثال آپ کو اس دھرنے میں ملے گی جو کچھ دن پہلے انہی اسلام کے ٹھیکہ داروں نے ممتاز قادری کے چہلم پر اسلام آباد میں دیا تھا ، یا پھر اس کی مثال آپ کو تب ملے گی جب مولانا فضل الرحمن پی ٹی آئی کے جلسوں اوردھرنے میں شرکت کرنے والی خواتین کو ناچنے والی کہا تھا۔

مولانا شیرانی بیشک قابل احترام ہیں، ان کے لیے نازیبا الفاظ کا استعمال غلط ہے۔ چلیں مان لیا کہ حمد اللہ صاحب کا غصہ بھی جائز اور یہ شکوہ بھی بجا کہ خواتین کو جلایا جانا حکومت کی ناکامی ہے لیکن گالیاں مولوی کو پڑتی ہیں۔لیکن کیا اس سب کے باوجود مولوی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ جب چاہے کسی پر کفر کے فتوے لگا دے، کسی کی ماں بیٹی کو فاحشہ بلائے، کسی عورت کو شلوار اتارے کی دھمکی دے، اس پر ہاتھ اٹھائے؟ یہ کون سے اسلام کی بات کرتے ہیں؟ یہ کس نبی کے پیروکار ہیں؟ مولانا کو لبرلز سے مسئلہ ہے، ان کے مطابق یہ ہماری روایات کو تباہ کرنے پر تلے ہیں اس لیے انہوں نے ماروی کو دھمکایا کہ میں تمہارا ایجنڈا پورا نہیں ہونے دوںگا۔ مولانا اگر آپ باہمت ہیں تو براہ کرم ذرا ان لبرلز کے حق میں جب کل دنیا بھر کے اخباروں میں خبریں لگیں گی اور آپ کے گاڈ فادر امریکہ سے جب کوئی مذمتی بیان دے گا تو آپ ان سے کہنا کہ تمہاری اور تمہاری ماں کی شلواریں اتاروں گا، پھر آپ کو سمجھ آئے گا کہ شلورایں کیسے اترتی ہیں۔

اس کہانی کا ایک اورپہلو بھی ہے۔ مولانا حمد اللہ ایک مخصوص طبقہ فکر کے نمائندے ہیں جو کہ خواتین کی آزادی کو اسلام کے خلاف سازش سمجھتا ہے۔ صیح یا غلط، یہی ان کا نظریہ ہے اور یہ اسی کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں۔ اور اس حقیقت کو بھی نہ بھولیں کہ مولوی حضرات کہ یہ طبقہ اور ان کا نظریہ ہمارے ملک میں نہ صرف بہت مشہورہے کہ بلکہ اقتدار کے ایوانوں میں بھی ان کی رسائی ہے۔ آپ کو یاد ہو کہ پنجاب میں نافذ خواتین کے حقوق کے ایکٹ پر عمل درآمد انہی لوگوں نے رکوایا تھا۔ ممتاز قادری کے حق میں اسلام آباد پر قابض ہو کر اینٹی ہیلی کاپٹر چپلیں بھی اسی طبقے کے نمائندوں نے ہی متعارف کروائی تھیں۔ ان کو عوام کی سپورٹ بھی حاصل ہے اور ایک عام پاکستانی کی ڈوریں بھی انہی کے ہاتھ میں ہیں ۔یہ جب چاہیں بسم اللہ پڑھ کر ان ڈوروں کو اپنی مرضی کی سمت میں گھما سکتے ہیں۔ جبکہ ماروی سرمد صاحبہ ایک ایسے طبقے کی نمائندہ جانی جاتی ہیں جو کہ نہ صرف بہت محدود ہے بلکہ عوام میں بہت مقبول نہیں ۔ یہ ایک ایسی کلاس ہے جو اس سوچ کو پروان چڑھاتی ہے جس کو ہمارے دینی طبقے اسلام اورمعاشرتی اقدار کے منافی گردانتے ہیں۔ اب آ جاتا ہے میڈیا ، جوکہ ان انتہاؤں کو آمنے سامنے لا بٹھاتا ہے اور پھر خوب تماشا دیکھا جاتا ہے۔ پتا تو سب کو ہے کہ مولانا صاحب اور ماروی صاحبہ ایک دوسرے کی نفی ہیں اور یہ بھی اندیشہ ہوتا ہے کہ جذبات میں بات آگے بھی بڑھ سکتی ہے تو پھر ان کو اس طرح ایک ساتھ نہیں بلانا چاہیے۔ ایسا پہلی دفعہ نہیں ہوا کہ کسی ٹاک شو میں بدمزگی ہوئی ہو لیکن پھر بھی میڈیا کے اینکرز صرف ریٹنگ کے چکر میں ایسے لوگوں کو بلاتے ہیں جو ایک دوسرے کی شکل دیکھنا گوارہ نہیں کرتے ۔ایسے حضرات جن کے متعلق معلوم ہے کہ وہ تہذیب واخلاقیات سے ناواقف ہیں انہیں پروگرامز میں کیوں بلایا جاتا ہے اور پھر ان کے مخالف ایسے لوگوں کو کیوں بلایا جاتا ہے جو ان کو مزید اکساتے ہیں؟

آج جو تماشا ہوا ، اور جس طرح سے ایک خاتون پر حملہ کیا گیا اس سے ریٹنگ تو مل گئی مگر ہمارے معاشرے کا بہت نقصان ہوا۔ جہاں بہت سے لوگ ماروی صاحبہ کی ہمت کو داد دیں گے اور ان کے حق میں آواز بلند کریں گے، وہاں آپ کو ایسے کئی ملیں گے جو مولانا حمداللہ کا دفاع بھی کریں گے اور ان کو شاباشی بھی دیں گے۔ اور اتنا بھی طے کہ جتنا شور مرضی مچ جائے مولانا صاحب کی خیر ہو گی اور ان کو تحفظ دینے والوں کی بھی۔البتہ ، ہمارے ملک کے دینی طبقوں اور لبرلز کے درمیان خلیج مزید گہری ہوگی ، جو کہ اس معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔سلمان تاثیر صاحب کے مرنے پر ان کے بیٹے آتش تاثیر کی تحریر کے چند الفاظ شاید میرے موقف کو مزید واضح کر سکیں۔ انہوں نے لکھا کہ

“آج ایک سڑک میرے والد کے نام سے منسوب کی گئی ہے ، لیکن میں جانتا ہوں کہ اسی ملک میں ایسی ہی کوئی سڑک اس ممتاز قادری کے نام کی بھی ہو گی ، جس نے میرے والد کا قتل کیا”۔

آج اس ملک میں جہاں بہت سے لوگ ماروی پر ہونے والے تشدد کے خلاف ہیں، وہیں مولانا شیرانی کی عزت کے رکھوالوں اور ان کے چاہنے والوں کی بھی خیر مانگی جا رہی ہو گی۔ان کو یہ سوچنا چاہیے کہ جس “ش” سے شیرانی ہے اسی “ش” سے شلوار، اور جس “م” سے مولانا ہیں اسی “م” سے ماروی۔اسی طرح جس “ت” سے تشدد ہے اسی “ت” سے کرنے والے پر تف۔


Comments

FB Login Required - comments