پاک امریکہ تعلقات۔۔۔ دھونس یا تعاون؟


editپاکستان اور امریکہ کے درمیان آج اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ دونوں ملک اپنی متعین پوزیشن پر قائم ہیں اور دوسرے فریق سے اپنے موقف کو تسلیم کرنے کی توقع کر رہے ہیں۔ صدر باراک اوباما نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ واشنگٹن کے بعد اپنے دو اعلیٰ مشیروں کو پاکستان روانہ کیا ہے تا کہ اسلام آباد کو یقین دلایا جا سکے کہ امریکہ اب بھی پاکستان کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے اور مل کر آگے بڑھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس وفد میں پاکستان و افغانستان کیلئے خصوصی نمائندے رچرڈ اولسن ، سلامتی امور پر صدر اوباما کے معاون خصوصی ڈاکٹر پیٹر لیوائے اور افغانستان میں امریکی افواج کے کمانڈر جنرل جان نکلسن شامل تھے۔ امریکی وفد نے پہلے وزارت خارجہ میں وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز کی قیادت میں پاکستانی وفد سے بات چیت کی۔ پھر اس نے جی ایچ کیو کا دورہ کیا جہاں پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے وفد کی بات ہوئی۔ ان دونوں ملاقاتوں میں امریکی نمائندوں سے 21 مئی کو نوشکی میں ہونے والے ڈرون حملہ پر احتجاج کیا گیا اور واضح کیا گیا کہ اس اقدام سے طالبان کو مذاکرات کے لئے آمادہ کرنے کا عمل متاثر ہوا ہے۔

21 مئی کو کئے گئے اس ڈرون حملہ میں طالبان لیڈر ملا اختر منصور ہلاک ہو گیا تھا۔ امریکہ اسے افغانستان میں امریکی مفاد کے خلاف کام کرنے والے عسکری گروہوں کے لئے واضح اور سخت پیغام قرار دیتا ہے لیکن پاکستان کا کہنا ہے کہ اس حملہ سے افغان طالبان میں انتہا پسند گروہ کو ذیادہ قوت حاصل ہوئی ہے اور مذاکرات کا راستہ مزید مشکل ہو گیا ہے۔ امریکہ کی طرف سے اس حملہ کے بعد تو یہ واضح کیا گیا تھا کہ افغانستان میں تخریب کاری میں ملوث عناصر کو جب بھی موقع ملا، نشانہ بنایا جائے گا۔ لیکن اس کے بعد پاکستان کے احتجاج اور پاکستان کے علاوہ بعض تجزیہ کاروں کی طرف سے اٹھائے گئے اس سوال کا جواب دینے کی کوشش نہیں کی گئی کہ ملا اختر منصور کو مارنے سے آخر کیا مقصد حاصل کیا گیا ہے۔

پاکستانی فوج اور اس کے زیر اثر سول قیادت یہ واضح کر رہی ہے کہ یہ حملہ پاکستان کی سالمیت اور خود مختاری پر حملہ تھا۔ سرتاج عزیز نے آج امریکی وفد کو بتایا کہ آئندہ اس قسم کا حملہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں دراڑ ڈال سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان TTP کے خلاف کارروائی کی جائے۔ جنرل راحیل شریف نے امریکی وفد کے ارکان کو بتایا کہ پاکستان بھی یہ توقع کرتا ہے کہ امریکہ اور افغان حکومت افغانستان میں پاکستان دشمن عناصر کو تحفظ فراہم نہیں کریں گے۔ بلکہ ملا فضل اللہ اور اس کے ساتھیوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی۔ پاکستان کی طرف سے پاک افغان بارڈر پر بہتر کنٹرول اور افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے لئے راستہ ہموار کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ پاکستان کا خیال ہے کہ ان دو اقدامات سے افغانستان کے علاوہ پاکستان میں بھی دہشت گردی کے واقعات کا تدارک ہو سکے گا۔

جنرل راحیل شریف نے کہا کہ یہ افسوسناک بات ہے کہ پاکستان پر افغانستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ حالانکہ پاکستان چہار ملکی گروپ جس میں پاکستان کے علاوہ افغانستان ، امریکہ اور چین شامل ہیں ۔۔۔۔ کے فیصلے کے مطابق امن کا عمل جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔ اس گروپ نے 18 مئی کے اجلاس میں طے کیا تھا کہ افغانستان میں سیاسی حل کے لئے مذاکرات ہی واحد حل ہیں۔ اس اجلاس کے تین روز بعد حملہ کر کے ملا اختر منصور کو ہلاک کر دیا گیا۔ اس طرح اعتماد کی جو فضا پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی تھی، اسے تباہ کر دیا گیا۔ پاک فوج کے سربراہ نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان، بھارتی ’’را‘‘ اور افغان انٹیلی جنس ایجنسیوں کو پاکستان میں تخریب کاری کی اجازت نہیں دے سکتا۔ ان ایجنسیوں کے کئی ایجنٹ گزشتہ چند ماہ کے دوران پاکستان میں پکڑے گئے ہیں۔ ان میں مارچ میں گرفتار ہونے والا بھارتی ایجنٹ کلبھوشن یادیو انڈین نیوی میں کمانڈر کے عہدے پر فائز ہے۔ یہ شخص ایران کے راستے بلوچستان میں داخل ہوا تھا اور گوادر کے علاوہ پاکستان کے دیگر علاقوں میں دہشت گردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ ان خبروں پر بھی امریکہ کی طرف سے کسی خاص ردعمل کا اظہار نہیں کیا گیا۔

امریکی وفد نے اپنے طور پر پاکستان میں ایسے دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کی بات کی، جو افغانستان میں دہشت گردی اور اتحادی و امریکی افواج پر حملے کرنے میں ملوث ہیں۔ امریکہ، پاکستان سے ان گروہوں اور خاص طور سے حقانی نیٹ ورک کے خلاف اقدام کرنے کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ جنرل راحیل شریف اور سرتاج عزیز نے امریکی وفد کو بتایا کہ آپریشن ضرب عضب کے ذریعے تمام دہشت گردوں کے خلاف یکساں قوت سے کارروائی کی جا رہی ہے۔ تاہم پاک افغان بارڈر پر مناسب کنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے سرحد کے آر پار لوگوں کی نقل و حرکت سے نا پسندیدہ عناصر کا مکمل تدارک ممکن نہیں ہے۔ امریکہ کو اس صورت حال کو بہتر بنانے کے لئے افغان حکومت کو آمادہ کرنا چاہئے۔

اس دوران 21 مئی کو ڈرون حملہ کے بعد پہلے بار چین کی وزارت خارجہ نے اقوام عالم سے کہا ہے کہ پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت کا احترام کیا جائے۔ جمعرات کو بیجنگ میں چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ہونگ لی نے کہا کہ سب ملکوں کو پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کا احترام کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کے علاوہ افغان مصالحتی عمل میں بھی پاکستان کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ افغانستان میں امن کے بارے میں بات کرتے ہوئے چینی ترجمان نے کہا کہ چہار رکنی گروپ میں شامل سب ملکوں کو مل جل کر افغانستان میں امن کے لئے راستہ ہموار کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ گروپ قائم کرنے کا مقصد ہی یہ تھا کہ افغانستان میں مصالحت کےلئے سازگار ماحول پیدا کیا جائے۔

چین کا یہ بیان پاکستان کے اختیار کردہ موقف کی حمایت کرتا ہے۔ لیکن امریکہ کی طرف سے 21 مئی کے ڈرون حملہ سے پہلے اور بعد میں پاکستان کے حوالے سے منفی اشارے موصول ہوئے ہیں۔ ان میں ایف 16 طیاروں کی فروخت کے معاہدہ کا منسوخ ہونا اور پاکستان کے لئے فوجی امداد کو مشروط کرنے کے علاوہ نیو کلیئر سپلائرز گروپ NSG میں بھارت کی رکنیت کے لئے کوششیں کرنا شامل ہے۔ امریکی حکومت کے علاوہ کانگریس بھی پاکستان سے حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرنے اور ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کا مطالبہ کر رہی ہے۔ جبکہ پاکستان یہ محسوس کر رہا ہے کہ امریکہ ، بھارت کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھاتے ہوئے اس کے مفادات کو نظر انداز کر رہا ہے۔ امریکہ سویلین جوہری صلاحیت میں اضافہ کے لئے بھارت کو سہولتیں اور مالی تعاون فراہم کر رہا ہے۔ حال ہی میں ایک امریکی کمپنی نے بھارت میں 6 ایٹمی ری ایکٹر لگانے کا معاہدہ کیا ہے۔ لیکن پاکستان سے مسلسل یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کانگرس سے خطاب کرتے ہوئے بحر ہند میں نیوکلیئر میزائل نصب کرنے اور اینٹی بلاسٹک میزائل سسٹم متعارف کروانے کی بھارتی کارروائی کو چین کے اثر و رسوخ کے خلاف اقدام قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ تیاری بھارت اور امریکہ کے مشترکہ مفاد میں ہے۔ کانگریس میں نریندر مودی کی باتوں کو گرمجوش پذیرائی ملی ہے۔

دوسری طرف بحر ہند میں بھارت کی فوجی تیاریوں کو پاکستان اپنے لئے زبردست خطرہ سمجھتا ہے۔ بھارت کے اس منصوبے کو ’’سیکنڈ اسٹرائیک آپشن‘‘ کا نام دیا جاتا ہے، یعنی وہ ایسی فوجی صلاحیت حاصل کر رہا ہے کہ عام فوجی قوت کے ناکارہ ہونے کی صورت میں بھی وہ دشمن پر حملہ کرنے کے قابل ہو گا۔ پاکستان واضح کر چکا ہے کہ وہ ان بھارتی تیاریوں سے خود کو محفوظ کرنے کے لئے ضروری اقدامات کرے گا۔ پاکستان اس سے پہلے بھارت کی کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن کا مقابلہ کرنے کے لئے موبائل جوہری ہتھیار بنانے پر مجبور ہوا تھا۔ امریکہ بھارتی فوجی تیاریوں کو پاکستان کی سلامتی کے نقطہ نظر سے دیکھنے کے لئے تیار نہیں ہے لیکن پاکستان سے یک طرفہ طور پر کئی شعبوں میں تعاون کرنے اور جوہری صلاحیت کو محدود کرنے کے لئے دباؤ ڈالا جاتا ہے۔

اس پس منظر میں یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ پاکستان اور امریکہ اپنی متعین پوزیشن کے مطابق اقدام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دونوں ملک چونکہ ایک ہی معاملہ کو مختلف نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں، اس لئے اختلاف پیدا ہونا لازم ہے۔ بھارت اسی اختلافی ماحول کو استعمال کرنے کےلئے واشنگٹن میں اپنی طاقتور لابی کو متحرک کرتا ہے اور پاکستان کے خلاف امریکی کانگریس کے ارکان کی رائے کو ہموار کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ حالانکہ امریکہ کو اس بات کا ادراک ہے کہ وہ اس خطے میں بھارت سے جو کام لینا چاہتا ہے ، وہ پاکستان کے ساتھ اس کے تصادم کی صورت میں ممکن نہیں ہو سکے گا۔ دونوں ملکوں کے درمیان براہ راست تصادم کو روکنے کےلئے امریکہ کو پاکستان کے ساتھ مضبوط اور قابل عمل تعلقات بحال رکھنے ہونگے۔ اس کے علاوہ افغانستان میں بحالی امن اور مصالحت کے عمل میں پاکستان کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہے۔ اگرچہ بھارت افغانستان میں سرمایہ کاری کے ذریعے پاکستان کے خلاف فضا ہموار کر رہا ہے اور جمہوریت کے فروغ کا نعرہ لگاتے ہوئے امریکیوں سے اس کا کریڈٹ بھی لینا چاہتا ہے۔ لیکن افغانستان میں بھارتی مداخلت صرف ترقیاتی اور جمہوری منصوبوں تک محدود نہیں ہے۔ بلکہ وہ اس اثر و رسوخ کو پاکستان کے خلاف محاذ آرائی کے علاوہ افغانستان کے راستے پاکستان میں مداخلت اور تخریب کاری کے لئے بھی استعمال کر رہا ہے۔ واشنگٹن کو جلد یا بدیر یہ سمجھنا ہو گا کہ پاکستان کو حقانی نیٹ ورک یا دوسرے گروہوں کے خلاف کارروائی پر آمادہ کرنے کے لئے افغانستان میں بھارت کی پاکستان دشمن سرگرمیوں کی روک تھام ضروری ہو گی۔ اس صورتحال کا تقاضہ ہے کہ پاکستان اور امریکہ اپنی پالیسیوں میں لچک پیدا کرتے ہوئے ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ ان حالات میں پہلے سے متعین پوزیشن زیادہ معاون نہیں ہو سکتی۔

اس صورتحال کو سمجھنے کے لئے یہ بتانا ضروری ہے کہ آج جب امریکہ کا اعلیٰ سطحی وفد پاکستان کی سویلین اور فوجی قیادت سے مذاکرات کر رہا تھا تو حافظ سعید کی جماعت الدعوۃ ملک کے مختلف شہروں میں امریکہ اور بھارت کے خلاف مظاہرے کر رہی تھی۔ یہ وہی گروہ ہے جو پہلے لشکر طیبہ کے نام سے متحرک تھا اور جس پر 2008 میں ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔ اس طرح کے مظاہرے بعض خفیہ حلقوں کی مرضی کے بغیر منظم نہیں ہوتے۔ ماضی میں کئی مواقع پر یہ مشاہدہ کیا جا چکا ہے کہ جماعت الدعوۃ اور اسی قبیل کے متعدد مذہبی گروپ فوج اور سول قیادت میں اختلاف کے موقع پر سڑکوں پر پاک فوج زندہ باد کے نعرے لگاتے نمودار ہونے لگتے ہیں۔ جی ایچ کیو کے بااختیار لوگوں کو سمجھنا ہو گا کہ ایسے گروہوں کو ملک میں حکومت کے معاملات یا دوسرے ملکوں کے ساتھ تعلقات پر اثر انداز ہونے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

پاکستان اور امریکہ کو اب بھی ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔ دونوں ملکوں کو فراخدلی سے ایک دوسرے کی اہمیت قبول کرتے ہوئے قابل عمل خطوط پر آگے بڑھنا ہو گا۔ امریکہ یا پاکستان کسی بھی طرف سے دھمکی یا دباؤ کا طریقہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔ ایسی صورت میں دونوں کے مفادات زد پر ہوں گے۔

 


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 416 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali