عہد رسالت میں خواتین کی ترجمان


ammarعہد رسالت میں  جن مسلمان خواتین نے عورتوں کے نجی، خاندانی اور سماجی  مسائل ومشکلات کو بارگاہ رسالت میں پیش کرنے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے حل کی طرف متوجہ کرنے کے ضمن میں نمایاں کردار ادا کیا،   ان میں نمایاں ترین شخصیت تو ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دوسری زوجہ محترمہ، ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا شمار بھی اسی ذیل میں ہوتا ہے۔ آج کی گفتگو میں ہم اس قبیل کے ایک اور اہم کردار، اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کا مختصر تذکرہ کرنا چاہیں گے۔

اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کا تعلق انصار کے قبیلہ بنو عبد الاشہل سے تھا اور وہ مشہور صحابی معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی پھوپھی زاد بہن تھیں۔ انھوں نے ہجرت کے پہلے سال اسلام قبول کیا اور ان کا شمار نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کرنے والی ابتدائی ترین خواتین میں ہوتا ہے۔

صحابیات میں یہ خاتون اپنی قوت ایمانی، جرات وبے باکی، شجاعت اور ذہانت وفراست جیسے اوصاف کی بدولت غیر معمولی طور پر نمایاں مقام کی حامل تھیں۔ قوت ایمانی کا یہ معروف واقعہ انھی کا ہے کہ جنگ احد میں جب ان کے والد یزید بن السکن  اور بھائی عامر بن یزید کے علاوہ ان کے چچا اور چچا زاد بھائی شہید ہو گئے اور یہ اطلاع اسماء تک پہنچی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خیریت معلوم کرنے کے لیے باہر نکل پڑیں اور آپ کو صحیح سالم دیکھ کر کہا کہ کل مصیبۃ بعد جلل (یعنی آپ کے ہوتے ہوئے ہر مصیبت ہیچ ہے)۔

اسماء بنت یزید مشاطگی، یعنی نسوانی زیب وزینت میں بھی مہارت رکھتی تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شادی کے موقع پر انھوں نے ہی دیگر خواتین کے ہمراہ انھیں بنانے سنوارنے کی خدمت انجام دی تھی۔ اس موقع کا دلچسپ واقعہ بیان کرتی ہیں کہ جب میں نے سیدہ عائشہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بنا سنوار لیا تو آپ کے پاس گئی اور اندر آنے کی دعوت دی۔ آپ تشریف لائے اور آ کر عائشہ کے پہلو میں بیٹھ گئے۔ آپ کو دودھ کا پیالہ پیش کیا گیا۔ آپ نے دودھ پی کر پیالہ عائشہ کو پکڑانا چاہا، لیکن انھوں نے شرما کر سر جھکا لیا۔ اسماء کہتی ہیں کہ میں نے عائشہ کو ڈانٹا اور کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے پیالہ لے لو ۔ چنانچہ عائشہ نے پیالہ لے کر کچھ دودھ پیا۔ پھر آپ نے ان سے کہا کہ اب پیالہ اپنی ہم جولی (یعنی اسماء) کو دے دو۔ میں نے کہا کہ یا رسول اللہ، پہلے آپ یہ پیالہ لیں اور اس میں سے پی کر مجھے اپنے ہاتھ سے پیالہ دیں۔ چنانچہ آپ نے ایسا ہی کیا اور میں نے پیالے کو گھما کر عین اس جگہ سے دودھ پیا جہاں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا تھا۔ (مسند احمد، ۲۶۹۶۳)

قدرت نے اسماء بنت یزید کو غیر معمولی فہم وفراست سے نوازا تھا اور خواتین کے معاملات میں خصوصی دلچسپی لینے اور ان کے حقوق ومسائل کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کرنے اور ان کا دفاع کرنے کی وجہ سے انھیں خطیبۃ النساء اور وافدۃ النساء (یعنی خواتین کی ترجمان) کہا جاتا تھا۔ خواتین سے متعلق کئی اہم شرعی مسائل ابتداءٍ ا  ً‌انھوں نے ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیے اور معروف محدث علامہ ابن حجر کا قیاس ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کر کے خواتین کی تعلیم کے لیے الگ دن مقرر کروانے کی خدمت بھی انھوں نے ہی انجام دی تھی۔خواتین کی نفسیات اور ضروریات کے حوالے سے خصوصی حساسیت رکھتی تھیں اور بوقت ضرورت خواتین کے سوالات واشکالات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے  بے باکی سے پیش کر دیتی تھیں۔

ایک موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین سے بیعت لیتے ہوئے انھیں سونے کے زیورات پہننے سے منع کیا تو اسماء نے عرض کی کہ یا رسول اللہ، ہم عورتوں کے لیے ناگزیر ہے کہ اپنے شوہروں کے لیے بنیں سنوریں، اس لیے آپ ہمیں سونے کی دو بالیاں پہننے کی اجازت دے دیں، لیکن آپ نے ان کی درخواست قبول نہ کی اور اس کے بجائے فرمایا کہ عورتیں زعفران کے تنکے مسل کر بالیوں پر مل لیا کریں۔ اس سے وہ سونے ہی کی طرح چمکنے لگیں گی۔ (معجم الطبرانی ۲۴/۱۸۱)تاہم یہ ابتدائی دور کی بات ہے۔ بعد میں آپ نے خواتین کے لیے سونے کے استعمال کو جائز قرار دیا جبکہ مردوں کے لیے اس کی ممانعت برقرار رکھی۔

ایک دوسرے موقع پر انھوں نے خواتین کا ایک بہت اہم اور بنیادی سوال بڑی خوبی کے ساتھ برسر مجلس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا اور آپ سے اپنے حسن بیان کی داد پائی۔ اسماء آپ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ اس وقت آپ اپنے صحابہ کے درمیان تشریف فرما تھے۔ اسماء نے کہا کہ

’’یا رسول اللہ، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں آپ کے پاس خواتین کی ترجمان بن کر آئی ہوں۔ مشرق یا مغرب میں جہاں بھی کوئی عورت ہے، اسے میرے آپ کے پاس حاضر ہونے کا علم ہے یا نہیں، مگر اس کا بھی وہی سوال ہے جو میں پوچھنے آئی ہوں۔  اللہ نے آپ کو مردوں اور عورتوں، سب کی طرف رسول برحق بنا کر بھیجا ہے اور ہم آپ پر اور آپ کے خدا پر، جس نے آپ کو بھیجا ہے، ایمان لائے ہیں۔ ہم خواتین کی سرگرمیاں بہت محدود اور لگی بندھی ہیں اور ہم گھروں میں بیٹھی رہتی ہیں۔ ہم مردوں کی جنسی ضرورتوں کی تسکین کرتی ہیں اور تمھارے بچوں کو پیٹ میں اٹھاتی ہیں۔ اور اے مردوں کے گروہ، تمھیں ہم پر یہ فضیلت دی گئی ہے کہ تم جمعہ اور باجماعت نماز ادا کرتے ہو، بیماروں کی عیادت کرتے اور جنازوں میں شریک ہوتے ہو اور ایک کے بعد دوسرا حج ادا کرتے ہو اور ان سب سے افضل عمل اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ہے۔ اور کوئی آدمی جب حج یا عمرے یا جہاد کے لیے نکلتا ہے تو ہم خواتین تمھارے مالوں کی حفاظت کرتی اور تمھارے کپڑے بنتی اور تمھارے بچوں کی تربیت کرتی ہیں۔ تو کیا تمھارے ان سب کاموں کے اجر اور بھلائی میں ہم تمھارے ساتھ شریک نہیں ہیں؟’’

ایک دوسری روایت میں اسماء کا یہ سوال ان الفاظ میں نقل ہوا ہے کہ

’’یا رسول اللہ، اللہ مردوں اور عورتوں، دونوں کا رب ہےاور آدم، مردوں اور عورتوں، دونوں کے باپ ہیں اور حواء، مردوں اور عورتوں، دونوں کی ماں ہیں اور آپ کو اللہ نے مردوں اور عورتوں، دونوں کی طرف مبعوث کیا ہے۔ اب مرد تو جب اللہ کی راہ میں نکلتے اور شہید ہو جاتے ہیں تو وہ زندہ رہتے ہیں اور اپنے رب کے پاس رزق پاتے ہیں اور جب وہ جہاد کے لیے نکلتے ہیں تو انھیں جو اجر وثواب ملتا ہے، وہ آپ جانتے ہیں، جبکہ ہم عورتیں ان کی خدمت بھی کرتی ہیں اور خود کو ان کے لیے وقف کر دیتی ہیں تو فرمائیے، ہمیں اس کا کیا اجر ملے گا؟’’ (ابن ابی الدنیا، النفقۃ علی العیال، رقم ۵۲۰)

اسماء کا یہ استفسار سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ ’’کیا تم نے کبھی کسی عورت کو اس سے زیادہ عمدہ طریقے سے اپنے دین کے متعلق سوال کرتے ہوئے سنا ہے؟’’ صحابہ نے کہا کہ  یا رسول اللہ، ہم گمان نہیں کرتے تھے کہ کوئی عورت اس جیسا سوال کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوگی۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسماء کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ ’’اے عورت، خود بھی سمجھ لو اور باقی عورتوں کو بھی جا کر بتا دو کہ عورت کا اپنے شوہر کی اچھی بیوی بن کر رہنا اور اس کی خوشنودی چاہنا اور اس کے ساتھ سازگاری اختیار کرنا (اجر وثواب میں) ان تمام  کاموں کے برابر ہے (جو مرد کرتے ہیں)۔’’ چنانچہ اسماء یہ سن کر خوشی سے نعرہ تکبیر بلند کرتی ہوئی وہاں سے لوٹیں۔(بیہقی، شعب الایمان، ۸۴۸۴۔ ابو نعیم، معرفۃ الصحابۃ، ۶۸۸۱)

اسماء بنت یزید، غزوہ خندق اور غزوہ خیبر میں شرکت کے علاوہ وہ بیعت رضوان میں بھی شریک ہوئیں۔بعض دیگر اسفار میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت پر مامور ہوتی تھیں۔ خود بیان کرتی ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر پوری سورہ مائدہ یک بارگی نازل ہوئی تو اس وقت آپ اپنی اونٹنی عضباء پر سوار تھے جس کی نکیل میں نے تھام رکھی تھی اور وحی کے بوجھ سے قریب تھا کہ اونٹنی کی ٹانگیں ٹوٹ جائیں۔ (مسند احمد، ۲۶۹۴۸)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ۱۳ ہجری میں  انھوں نے دوسری مسلمان خواتین کے ہمراہ رومیوں کے خلاف مشہور جنگی معرکہ، جنگ یرموک میں شرکت کی۔ زخمیوں کو پانی پلانے اور ان کی مرہم پٹی کے علاوہ وہ مسلمانوں کے لشکر میں سے فرار کی کوشش کرنے والوں کو بھی مار کر واپس میدان میں جانے پر مجبور کرتی تھیں۔ اسی معرکے میں انھوں نے اپنے خیمے کے ڈنڈے کے ساتھ خیمے پر حملہ آور ہونے والے ۹ رومی فوجیوں کو جہنم رسید کیا تھا۔

اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا نے ۷۰ ہجری کے لگ بھگ وفات پائی اور ان کی قبر دمشق میں باب صغیر کے پاس بتائی جاتی ہے۔

 


Comments

FB Login Required - comments