دل کا معاملہ


asif-farrukhi_1 ان کی بیماری کا بھی افسانہ بن گیا۔

افسانہ تو بہت دن سے چل رہا تھا، بیماری اس میں نیا موڑ بن کر آگئی۔ اس سے پہلے اور طرح کی خبریں آرہی تھیں، معاملات اورتھے۔ اقربا پروری اور بدعنوانی کے متواتر الزام، بے تحاشہ دولت سمیٹ لینے پر سیاسی مخالفین کی سخت سرزنش، لگتا تھا اب گھیرا تنگ ہورہا ہے۔ کچھ لوگ اس خوش گمانی میں مبتلا ہوگئے کہ احتساب کا عمل شروع ہوگا۔ کسی سیاسی بوجھ بجھکّڑ نے ڈنکے کی چوٹ پر کہہ دیا کہ اب ان کے پاس یہ عہدہ سنبھالنے کےلیے اخلاقی جواز نہیں رہا۔ پھر تھوڑے دنوں میں جیسے کایا پلٹ گئی۔ مختلف طرح کی خبریں آنے لگیں، پہلے سفر پھر صحت کا معاملہ، صحت کی اطلاعات اس تفصیل اور اتنے تواتر سے آنے لگیں کہ کوئی یہ نہ سمجھ لے وہ ملک چھوڑ کر جارہے ہیں۔ موسلادھار بارش سے پہلے جس طرح ننھی ننّھی بوندیاں پڑتی ہیں، اس طرح کے ننّھے ننّھے ٹوئٹ آنے لگے۔ اب وہ کمرے میں چلے گئے۔ اب بستر پر لیٹ گئے۔ اب آپریشن شروع ہوا، اب ختم۔ اس کے بعد مُژدہ کہ جراحی کا عمل کامیاب ہوا، قوم کو مبارک ہو۔ ہاں صاحب، کیوں نہیں۔ آپ کو بھی مبارک۔ اب یہ تازہ ترین ٹوئٹ کہ وہ معمول کے مطابق کھانا بھی کھانے لگے ہیں۔ اس اختصار میں بھی ایجاز ہے۔ لیکن یہ اندیشہ بھی__ اگر اپنے معمول کے مطابق کھانا کھا رہے ہیں تو بیماری کا سبب اس کے سوا کیا تھا۔

اب ان کے دسترخوان کی تفصیل بھی کسی نے لکھ دی تو ہم آپ کیا کرلیں گے؟ دل گرفتہ و نم دیدہ قوم کے لوگوں نے صدقے میں کتنے بکرے کاٹے اور دل کی جراحت کے نازک و پیچیدہ عمل کے دوران کتنی شریانیں فصد لگا کر کھول گئیں، میں نے سوچا کہ اس سے آگے کا افسانہ شہرزاد سے پوچھوں کہ اے دانا و بینا، پھر کیا ہوا۔

شہر زاد کا نام لے کر اس سے آگے کا افسانہ مجھے ن م راشد سناتے ہیں۔ لو، اور سنو۔ تو جب سات سو آٹھویں رات آئی/ تو کہنے لگی شہرزاد / ’’اے جواں بخت/ شیراز میں ایک رہتا تھا نائی۔۔۔‘‘

بیان کرنے والےنے اس سے آگے بیان کیا کہ نائی کو یہ نادر، گراں تر ہُنر عطا ہوا تھا کہ جب کسی مرد دانا کا ذہنِ رسا، پرانا ہونے لگتا، یا اس کے چولیں ڈھیلی پڑ جاتیں یا زنگ چڑھ جاتا تو نائی ساری آلائشیں پاک کرکے دماغ کو کاسئہ سر میں لگانے کا ماہر تھا۔ شیراز کا نائی تھا، انگلستان کے کسی بھی جراح سے کم نہیں۔

خدا کا کرنا یہ ہوا کہ ایران کے ایک وزیر کُہن سال کا جی للچایا کہ اپنے الجھے ہوئے ذہن کی ازسرنو صفائی کرالے۔ مگر اس صفائی کے دوران وہ اپنا مغز وہیں بھول کر چلا گیا۔ دوسرے روز نائی نے بتایا کہ پڑوسی کی بلّی بھیجا چٹ کر گئی ہے۔ نائی تو چرب زبان مشہور ہوتے ہیں، اس نے دانیالِ زمانہ کے سر میں کسی بیل کا مغز لے کر رکھ دیا۔

مگر شہرزاد کا افسانہ ختم نہیں ہوا۔ لوگوں نے دیکھا کہ موصوف وزیر کے ساتھ یہ معاملہ پیش آیا کہ وہ فراست میں/ دانش میں/ اور کاروبار وزارت میں/ پہلے سے بھی چاق و چوبند تر ہوگئے ہیں۔

لیکن یہ پرانے قصّے ہیں، یوں ہی کہنے کی باتیں۔ ہمارے زمانے سے بھلا ان کا کیا تعلق۔ یوں بھی میں دماغ کی تہمت کسی امیر، کسی وزیر کے سر نہیں لگانا چاہتا۔

دماغ کا ذکر قطعاً غیرضروری ہے۔ یوں بھی یہ دل کا معاملہ ہے۔ اور دل کا مختلف ماجرا ہے، جس پر مجھے الگ ہی افسانہ یاد آیا۔ شہرزاد کا نام لینے میں یہ قباحت ہے کہ ایک افسانے سے دوسرا اور ایک قصّے سے دوسرا یاد آئے چلا جاتا ہے۔ ہم قصّے سنتے چلے جانے پر مجبور ہیں۔

اس قصّے کو مجبوری نہیں بلکہ انتہائی سرخوشی کے عالم میں پڑھتے چلے جائیے۔ بے حد اچھوتا قصّہ، منفرد پیرائے کا حامل، طنز اور تمسخر میں رنگا ہوا اور زہرناک سیاسی بصیرت میں اس حد تک رچا ہوا جہاں سیاسی بصیرت افسانہ کی صورت حال کی تصویر کشی کرنے لگتی ہیں۔ یہ ہے میخائیل بُلگاکوف کا مختصر ناول The Heart of a Dog ہے۔ بیسویں صدی کے ابتدائی برسوں میں ڈاکٹر کے طور پر پیشہ ورانہ مہارت اور ادبی زندگی کا آغاز کرنے والے اس روسی ناول نگار کو جلد ہی انقلابِ روس کے بعد سیاسی پابندیوں اور نشر واشاعت کی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ چناں چہ اس کا شاہکار ناول ’’دی ماسٹر اینڈ مارگریٹا‘‘ جہاں ابلیس کو ماسکو شہر میں مٹرگشت کرتے دکھایا گیا ہے، اس کی زندگی میں شائع نہیں ہوسکا۔ اس ناول کو بیسویں صدی کے اہم ترین اور بے حد خلاقانہ ناولوں میں سے ایک تسلیم کیا جاتا ہے۔ اسی طرح اس مختصر ناول میں بھی روسی سنسر نے خطرے کی بو سونگھ لی تھی۔

یہ ناول ایک کُتّے سے شروع ہوتا ہے اور ہمیں خبر مل جاتی ہے کہ مایۂ ناز ڈاکٹر صاحب ایک کُتّے کے چند اعضاء بڑی کامیابی کے ساتھ ایک شخص میں منتقل کر دیتے ہیں جو ذرا دیر پہلے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے۔ کُتّے کے اعضاء دوبارہ جی اٹھنے والے اس شخص کی زندگی میں کیا دھوم مچا دیتے ہیں، یہ قصّہ شہر زاد کی زبانی سننے سے زیادہ پڑھنے کے لائق ہے۔ جب پروفیسر صاحب کُتّے کی جراحت پر تُل جاتے ہیں تو ان چند صفحوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ بلگاکوف کیسا ماہر فن ہے کہ گہرے واقعیت پسندانہ بیان کے ساتھ ہی اپنے عہد کی حماقت اور بڑ بولے پن کا ایسی مہارت سے مذاق اڑاتا ہے کہ اس کی نظیر نہیں ملتی۔ وہ آدمی بن جانے والا کُتّا یا کُتّا بن جانے والا آدمی سیدھی، اکہری تمثیل نہیں ہے بلکہ بڑی نفیس اور پیچیدہ سیاسی بصیرت کا حامل حقیقت ہے جو طنز و استہزاسے شروع ہو کر خوف ناک بن جاتی ہے۔ اسی ناول میں بلگاکوف نے لکھا ہے:

‘The whole horror of the situation is that he now has a human heart, not a dog’s heart and about the rottenest heart in all creation!’

انسانوں کی روش پر چلنے کی وجہ سے یہ دل کس قدر خطرناک بن گیا ہے، تمام کائنات کا سب سے زیادہ خراب دل۔

جب تک ہمارے مہربان کا دل بیمار تھا، ان کی باتیں ہماری سمجھ میں آرہی تھیں۔ اب ٹھیک ہونے کے بعد ان کا دل کس ٹھکانے لگے گا، یہ شیراز کے نائی نے بتایا اور نہ انگلستان کے جراّحوں نے!

مجھے یہ فکر کھائے جارہی ہے کہ وہ چاق و چوبند تر ہو کر واپس آجائیں گے تو بھانڈا پھوٹ جائے گا پھر ہم دُنیا کو کیا مُنھ دکھائیں گے۔


Comments

FB Login Required - comments