ٹی ۔ او ۔ آرز ۔ کا تماشہ


ammar masoodپاناما لیکس اور اس کے ٹی او آرز آج کل ٹریکٹر اور ٹرالی بحث میں کچھ دب سے گئے ہیں۔ لیکن بات ابھی ختم نہیں ہوئی۔ اس پر مزید بات کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ بات شروع سے کی جائے۔ چند ماہ پہلے دنیامیں پاناما لیکس نامی ایک ایسا طوفان آیا جو اب تک تھما نہیں۔ ابھی تک اس کی گرد اڑ رہی اور لوگ منہ چھپائے پھر رہے ہیں۔الزامات ہیں کہ رک ہی نہیں رہے اور ٹی اوآرزہیں جن پر اتفاق ہی نہیں ہو رہا۔

جس وقت دنیا میں پاناما لیکس کا شور مچا تو اپوزیشن نے اس موقعے کا خوب فائدہ اٹھایا اور گلی گلی احتساب کا نعرہ بلند کر دیا۔جذباتی سی اس قوم نے سوچے سمجھے بغیر ہر کرپٹ کے احتساب کا نعرہ لگانا شروع کر دیا۔ اس نعرے کے کیا کیا مضمرات ہو سکتے ہیں اس کی طرف کسی کا دھیان نہیں گیا۔ عمران خان نے اپنی ایک ٹوئیٹ میںہر آف شور کمپنی کو لوٹ مار کا طریقہ بتایا اور لوگ اس لاجواب بیان پر سر دھننے لگے۔خورشید شاہ نے بھی معاملے کی نزاکت کو جانے بغیر مشترکہ اپوزیشن کی جانب سے یہی مطالبہ دوہرا دیا۔ وزیر اعظم نے اس موقعے پر قوم سے خطاب کیا اور خود کو احتساب کے لیئے پیش کر دیا۔ یہ بات اپوزیشن کو ہضم نہیں ہوئی۔ ایک نیا مطالبہ سامنے آگیا کہ ایک عدالتی کمیشن بنایا جائے جو اس تمام واقعے کی تحقیقات کرے ۔ حکومت نے یہ مطالبہ بھی تسلیم کر لیا۔ اس دوران عمران خان نے اپنی آف شور کمپنی کا اعتراف کر لیا۔ علیم خان اور جہانگیر ترین کے نام بھی آف شور کمپنیوں کے حوالے سے سا منے آنے لگے۔ بے نظیر بھٹو اور رحمان ملک کا نام بھی اس حوالے سے گونجنے لگا۔صورت حال کی نزاکت دیکھ کر اب اپوزیشن کا مطالبہ تبدیل ہو گیا۔ اب چیف جسٹس سے انکوائری کرانے کا سوال حکومت کے سامنے رکھ دیا گیا۔ وزیر اعظم نے پھر خطاب کیا اور چیف جسٹس کو خط لکھنے کا وعدہ کردیا۔ چیف جسٹس نے اس مرحلے یہ سوال پوچھ کر سب کو چپ کروا دیا کہ پہلے بتایا جائے کہ کس کس کا حساب کرنا ہے اور کب سے کرنا ہے؟ اس کے بعد ایف آئی سے انکوائری کروانے کو شور بلند ہوا ۔ چودھری نثار نے ایف آئی اے کے کسی بھی افسر سے انکوائری کروانے کا وعدہ کر لیا ۔اب اپوزیشن نے ایک بار پھر مطالبہ تبدیل کر دیا ۔ اس دفعہ پارلیمانی کمیشن کی آواز پڑی جس میںحکومت اور اپوزیشن کے چھ چھ ارکان شامل ہوں گے۔ یہ مطالبہ بھی مان لیا گیا اور ایک پارلیمانی کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیا۔

اس پارلیمانی کمیشن کی داستان بھی بہت دلچسپ ہے۔ پہلے اجلاس کے بعد اپوزیشن کے ارکان اس بات پر ناراض ہو گئے کہ خواجہ سعد رفیق نے ایک جلسے میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کو یہ کہہ دیا کہ چوہے پکڑے نہیں جاتے اور چلے ہیں حکومت گرانے۔ خدا خدا کر کے اس بات سے معافی تلافی ہوئی تو پاناما لیکس ایکٹ کے نام پر جھگڑا پر گیا۔ اپوزیشن کا مطالبہ تھا اس قانون کا پاناما لیکس ایکٹ رکھا جائے جبکہ حکومتی ارکان کا کہنا تھا کہ یہ ایکٹ چونکہ آنے والے زمانوں کے لیئے ہے اس لیئے اس کا نام کچھ اور تجویز کیا جائے۔ اسی دوران وزیر اعظم دل کے آپریشن کے لیئے ملک سے باہر چلے گئے اور اپوزیشن نے اس آپریشن کو ڈارمہ قرار دے دیا۔ پاناما لیکس سے فرار کا طریقہ بنا کر اس بیماری کو پیش کیا گیا۔۔ ادھر پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس پر اجلاس چلتے رہے۔ اس دوران کئی دفعہ ایسا ہوا کہ حکومتی ارکان نے اجلاس سے نکل کر بیان دیا کہ اپوزیشن کے ارکان اس بات پر مان گئے ہیں کہ تحقیقات سے وزیر اعظم کا نام نکال لیا جائے۔ لمحوں بعد اپوزیشن کے ارکان نے پریس بریفنگ میں یہ بتایا کہ وزیر اعظم کا نام نکلا تو انکوائری نہیں ہو گی۔ احتجاج ہو گا۔ دھرنا ہو گا۔ اپوزیشن سڑکوں پر آئے گی

دس جو ن تک اس کمیٹی کوکسی نتیجے پر پہنچنا تھا اور دن بہ د ن یہ بات اور بے نتیجہ ہوتی جا رہی ہے۔ یہ بات اب بہت حد تک واضح ہو چکی ہے کہ اس کمیٹی کے مذاکرات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ بات بات میں ابہام پیدا کر کے نتائج میں تعطل پیدا کیا جا رہا ہے ۔

مندرجہ بالا حقائق کو مدنظر رکھ کر یہ بات بڑے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ اس تعطل میں اپوزیشن برابر کی شراکت دار ہے۔ احتساب ایک ایسا کڑا امتحان ہے جس سے بہت سے لوگوں کی ٹانگیں کانپ رہی ہیں۔ یہ ہمارے ہاں کی ریت روایت رہی ہے کہ جو شخص خودکرپٹ ہوتا ہے وہ دوسرے پر سب سے پہلے بلند آواز میں کرپشن کا نعرہ لگا دیتا ہے۔جو چوری کرتا ہے وہی چور چور کا شور مچا دیتا ہے۔ بڑے یقین سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اپوزیشن میں بہت سے لوگ ان ٹی او آرز کے نام پر وزیر اعظم کا احتساب نہیں چاہ رہے بلکہ اپنی جانیں بچا رہے ہیں۔پیپلز پارٹی کے لوگ ہوں یا تحریک انصاف کے ۔ ان کو پتہ ہے کہ بات اگر کھل گئی تو بہت دور تک جائے گی۔ پاناما لیکس میں آنے والے ناموں کے علاوہ ہر ملک کی آف شور کمپنی تک جائے گی۔ سر ے محل کی دیواربھی اس انکوائری کے نتیجے میں گر سکتی ہے۔ پراپرٹی کے کاروبار کرنے والوں کا کام بھی ٹھپ ہو سکتا ہے۔ شوگر مافیا کے پیسوں کا احتساب بھی ہو سکتا ہے۔ دوبئی کی جائیدادوں کا قصہ بھی سامنے آ سکتا ہے۔ ایل این جی ٹھیکے بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ ٹیکسوں کے گھپلے اور غیر قانونی ذرائع سے کمایا پیسہ بھی برآمد کرایا جا سکتا ہے۔قبضہ گروپ بھی زیر عتاب آ سکتا ہے ۔ اس پس منظر میںاپوزیشن کی پوری کوشش ہے کہ یہ معاملہ تعطل کا شکار ہو تے ہوتے ختم ہو جائے۔ سیاسی پوائنٹ سکورنگ جو ہو چکی ہے بس اس پر اکتفا کر کیا جائے۔پاناما لیکس کو اس ملک کے بہت سے رازوں کی طرح کہیں دفنا دیا جائے۔ بھلا دیا جائے۔

ایک صاحب نے خبر دی ہے کہ اپوزیشن کے پارلیمانی کمیٹی کے ایک رکن جو ہر ٹی وی سکرین پر بڑے ولولہ انگیز انداز میں حکومت کی کرپشن پر گرجتے ہیں۔ وہ صاحب وزیر اعظم کے ایک قریبی وزیر کے پاس گئے اور ان سے التماس کی کہ پاناما لیکس پر اپوزیشن نے جو پوائنٹ سکورنگ کرنی تھی وہ کر لی، اب اس معاملے کو ختم کرتے ہیں۔آئیں صلح کر لیتے ہیں۔ شنید یہ کہ جب وزیر موصوف یہ پیغام لے کر وزیر اعظم کے پاس گئے تو وزیر اعظم نے کہا بات انہوں نے شروع کی تھی یہ اب ختم ہماری مرضی سے ہو گی۔

پاناما لیکس ہمارے پاس ایک سنہری موقع ہے کہ ہم ہر کرپٹ کا احتساب کریں۔ اس ملک عزیز سے لوٹی ہوئی ایک ایک پائی کا حساب ہو۔ لوٹنے والوں کے نام سرعام لائے جائیں۔ انکی جائدادیں ضبط کی جائیں۔ اس رقم کو برآمد کروایا جائے۔پاکستان لایا جائے۔ ترقی کے کاموں میں لگایا جائے۔ احتساب اور کڑا احتساب سب کا ہو۔ حکومت کا کوئی فرد اس میں ملوث نظر آئے تو اس کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے اور یہی رویہ اپوزیشن کے ساتھ بھی اپنایا جائے۔ ہر کرپٹ کو بے نام و ننگ کیا جائے اور پھر اس احتساب کا دائرہ سیاستدانوں کے سوا بھی تنگ کیا جائے۔ یہی کڑے احتساب کا وقت ہے اوریہی اس وقت کی ضرورت ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

عمار مسعود

عمار مسعود ۔ میڈیا کنسلٹنٹ ۔الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ہر شعبے سےتعلق ۔ پہلے افسانہ لکھا اور پھر کالم کی طرف ا گئے۔ مزاح ایسا سرشت میں ہے کہ اپنی تحریر کو خود ہی سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ مختلف ٹی وی چینلز پر میزبانی بھی کر چکے ہیں۔ کبھی کبھار ملنے پر دلچسپ آدمی ہیں۔

ammar has 43 posts and counting.See all posts by ammar