بیویوں کے سہارے ترقی کے خواہشمند ذلتوں کے مارے لوگ


معاشرتی زندگی میں کچھ افراد کے کڑوے سچ پورے معاشرے کی مجموعی سوچ کا احاطہ کرتے نظر آتے ہیں ۔ جنہیں اجتماعی طور پر تسلیم کرنے کے لیے بہت جرات اور بہادری کی ضرورت ہوتی ہے جو ہمارے ہاں ناپید ہو چکی ہے۔سب سے اہم ترین سچ کہ ہم جیسے ہیں ویسے نظر نہیں آتے،اپناسچ چھپا کر دوسروں کو دھوکہ دینا اور ان کے جذبات سے کھیلنا ہم نے اپنے لیے جائز اور حلال قرار دے دیا ہے۔

جبکہ دھوکہ دینے والا دوسرے کو دھوکہ دینے سے پہلے خود اس سے بڑے دھوکے میں ہوتا ہے۔ وہ خدا سے غافل، نفس کے دھوکے میں آکر، خدا کی مخلوق کو نہیں ایک طرح سے خدا کو دھوکہ دیتا ہے۔ اس طرح دوسرے کو دھوکہ دے کر یا دھوکے میں رکھ کر اپنی زندگی میں دھوکے کو دعوت دے کر بلاتا ہےْ کیوں کہ دھوکہ پلٹ کر آتا ہے جیسے نیکی پلٹ کر آتی ہے، ہر نفس وہ سب دیکھ لے گا اس جہاں میں بھی اور اس جہاں میں بھی، جو جو اس نے بویا اور کمایاہے۔

شادی درحقیقت انسانی تمدن کا سنگ بنیاد ہے اور کوئی فرد خواہ و عورت ہو یا مرد قانون فطرت کے اس دائرے سے خارج نہیں ہو سکتا جو اس رشتہ کو مضبوط بنانے کیلئے بنایا گیا ہے۔ بچپن سے لے کر بڑھاپے تک عمر کے ہر حصے میں یہ رشتہ کسی نہ کسی صورت میں انسان کی زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے۔
اگروہ بچہ ہے تو ماں اور باپ کے تعلقات اس کی تربیت پر اثر ڈالیں گے۔ اگر جوان ہے تو اس کی شریک زندگی سے واسطہ پڑے گا۔ اگر سن رسیدہ ہے تو اس کی اولاد ازدواجی رشتے کے بندھنوں میں بندھ جائیں گی اور ان کے قطب و روح کا سکون اور ان کی زندگی کا چین بڑی حد تک ان تعلقات کی بہتری پر منحصر ہو گا۔

اکثر لوگ شادی کے اصل مطلب کو سمجھ نہیں پاتے۔ شادی نہ تو ایک ایسا قلعہ ہے جس کے قیدی باہر آناچاہتے ہیں اور نہ باہر کے آزاد لوگ اندر جانا چاہتے ہیں۔ اور نہ ہی ایک ایسا گہرا سمندر ہے جس میں آدمی ہر دم غوطے کھانے لگتا ہے اور بلکہ اس دنیا کے بے آب و گیاہ ریگستان میں شادی ایک ایسا نخلستان ہے جہاں دو محبت بھرے دل دنیا و مافیا سے بے خبر، بے پروا، سکون کی چند گھڑیاں گذارنے میں مدد دیتے ہیں۔

لیکن جب عورت اور مرد شادی کے مقدس بندھن میں بندھ جانے کا فیصلہ کرتے ہیں تو ان دونوں پر بڑی بھاری ذمہ داریاں عائد ہو جاتی ہیں۔ کیونکہ ایک کا سکھ، دوسرے کا سکھ، ایک کی خوشی دوسرے کی خوشی ہوتی ہے۔ کچھ چھوٹی بڑی قربانیاں بھی دینی پڑتی ہیں۔ تب کہیں جا کر زندگی کی اصل خوشی حاصل ہوتی ہے۔ اگر زندگی میں اونچ نیچ، اتار چڑھاؤ نہ ہوتو زندگی کا لطف ہی ختم ہو جاتا ہے۔ ایک سپاٹ زندگی جس میں حرکت اور کشاکش نہ ہو بے جان اور بے مزہ زندگی بن جاتی ہے۔مگر اس رشتے کی بنیاد صرف سچ اور احترام پر ہونی چاہیے ورنہ یہ دھوکے کے سوا کچھ نہیں۔

اس ساری تمہیدکا اہم مقصدایک واقعہ ہے جو علم میں آیا، ایک دوست کا رشتہ طے ہوا۔ہم سب بھی خوش ہوئے کہ شکر ہے ایک اچھی دوست پیا گھر سدھارے گی۔ مگر رشتہ طے ہونے کے تین ماہ بعد ہی ختم ہو گیا، وجہ پوچھی تو وہ ذلت کی انتہائیوں پر تھی۔ رشتے کے لیے ہاں کرنے کی اہم وجہ لڑکے کا تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ اپنا کاروبار تھا ،دوسرے انہوں نے جہیز کی کوئی ڈیمانڈ نہیں کی اور سادگی سے نکاح ہونا طے پایا تھا۔

جب سب کچھ اچھا تھا تو پھر انکار، تو اصرار پر اس نے بتایا کہ سب ٹھیک تھا مگر ہاں ہونے کے ایک ماہ بعد ہی اس نے کارروباری خسارے کا رونا شروع کر دیاجس پر اس نے اپنی جاب جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ دونوں کی ملاقات بھی گھر کے قریب ایک فوڈ پوائنٹ یا پارک میں ہوجاتی تھی ،موصوف نے کبھی ہاتھ پکڑنے کی بھی کوشش نہیں کی۔

وہ اپنے ہونے والے شریک سفر کی شرافت کی قائل ہوتی جا رہی تھی اور گھر والوں کے دباؤپر ہونے والی ہاں قلبی واردات میں ڈھلتی جا رہی تھی۔یوں تین ماہ گزر گئے ، ایک دن موصوف کی کال آئی کہ ملناہے۔شام کا وقت تھا اس نے یہی سمجھا کہ جہاں پہلے جاتی ہے وہیں جانا ہو گا۔ مگر اسے بائیک پر بیٹھا کر جب اس نے اپنا رخ مخالف سمت کیا تو پوچھنے پر بتایا گیا کہ ہم گھر جا رہے ہیں۔

لڑکی نے پوچھا کہ باجی اور بچے تو گھر پر ہیں۔ جواب نے اسے ہلا دیا کہ نہیں، میں ، تم میرا دوست اور بزنس پارٹنر ہوں گے۔ تم نے میرے بزنس پارٹنر سے ملنا ہے اور میرے بارے میں اس کی رائے جاننا ہے۔اگر تمہیں گھر جانے پر اعتراض ہے تو کزن کے آفس چلتے ہیں جہا ں ہم تینوں ہوں گے۔ لڑکی کے ہوش اڑ گئے اس نے بائیک رکوائی اور غصے میں گھر پلٹ آئی اور کچھ دن بعد ہی اس رشتے سے انکار کر دیا۔

اس کی بات تو ختم ہو گئی مگر میرے لیے بہت سارے سوال چھوڑ گئی کہ ہم اپنی روز مرہ زندگی میں انتہا کے منافق واقع ہوئے ہیں اوراس میں مسلسل اضافہ جاری ہے۔ شادی ایک مقدس فریضہ ہے مگر اسے ابہام اور لالچ کی نظر کر دیا گیا ہے۔ یہ صرف ایک پہلا کیس نہیں ہو گا، پتہ نہیں ماں باپ کو تکلیف نہ ہو، کتنی ہزاروں لڑکیا ںیہ زہر پی جاتی ہوں گی کہ گھر بسا رہے۔

مذہب کی آڑ لیکر طلاق کو سماج کا داغ بنا دیا گیا اور حوا کی بیٹی سہنے اور قبول کرنے کے لیے رہ گئی ہے۔ کیوں اور آخر کب تک؟ وہ لڑکی خوش قسمت تھی جیسے گھر والوں کا اعتماد حاصل تھا اوراس نے یہ قدم اٹھا لیا۔بعد میں اس بندے کے معافی مانگنے پر وہ یہ شادی کر لیتی تو پھر پتہ نہیں اسے کتنی عمر تک ذلت کا یہ سفر طے کرنا پڑتا۔مگر اس نے ہمت دکھائی ۔اس نے شادی کے نام پر کسی استحصال کا حصہ بننے سے انکار کر دیا۔

مگر وہ جس زہنی اذیت کا شکار ہے اس کا اندازہ کرنا بہت مشکل ہے، وہ کہتی ہے پانچ سو میں ملنے والی فاحشہ مجھ سے زیادہ خوش قسمت ہے جیسے یہ تو پتہ ہوتا ہے کہ ایک یا دو گھنٹوں کاکام ہے اور بس۔ اس نے نکاح ، محبت اور ایک گھر کے نام پر مجھے استعمال کرنے کی کوشش کی؟میری روح کو پائمال کیاجس کاپرچہ دنیا کے کسی تھانے میں درج نہیں ہو سکتا۔

وہ شکرگزار ضرورہے مگر اب پہلے کی طرح پراعتماد نہیں۔اور میں ان کا سوچ رہی جو خاموشی سے یہ دھوکہ اورظلم سہتی ہیں اور پھر ذلتوں کا کفن اوڑھے ابدی نیند سو جاتی ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں