صنفی امتیاز اور صنفی مساوات کے درمیان باریک لائن۔۔۔


\"fayyaz1\"کیا ہم مرد اور عورت کی برابری کے قائل ہی؟ سماج کو ترقی کی اُس سطع تک لے جانا چاہتے ہیں کہ جہاں صنفی امتیاز کی کوئی صورت باقی نا رہے؟ تو پھر ہماری شیریں مزاری پر کسے جانے والے جملے پر ہونے والی ساری تنقید کا محور صنفی امتیاز کیوں ہے؟

بلاشبہ کسی کی بھی شکل صورت، قد کاٹھ، ہیت کذائی، آواز، لباس، اُٹھنے بیٹھنے کا انداز یہ ساری بہت ہی ذاتی نوعیت کی چیزیں ہوا کرتی ہیں۔ بلاشبہ ان کی بنیاد پر کسی کو ہدفِ تنقید بنانا بہت ہی بہیودہ، نیچ اورگھٹیا بات ہے۔ مگر کیا یہ درست نہیں کہ ہمارے کلچر میں یہ بات نہایت عام ہے؟ کیا اس کی سنگینی صرف اس لئے زیادہ ہو گئی کہ یہ ایک عورت کے متعلق ہے؟ مگر وہ عورت تو بذاتِ خود صنفی مساوات کی قائل ہے۔ تو پھر اتنا شور کاہے کا؟

جب لاکھوں کی تعداد میں لوگ باقاعدہ مطالبہ کرتے ہیں کہ عمران خان مولانا فضل الرحمان کے متعلق کچھ کہیں۔ جب لوگ مطالبہ کرتے ہیں کہ لال ٹوپی میں یا لال مفلر میں کوئی مسخرہ شام سات سے رات بارہ بجے تک لوگوں کو اپنی بِلو دا بیلٹ باتوں سے خوش کرئے۔ جب اچکزئی کی چادر کے انداز کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ کسی کے کھانے کا انداز، کسی کا دسترخؤان، کسی کا پیٹ، کسی کی داڑھی، کسی کے لباس کا رنگ روزانہ ہم یہی کچھ تو دیکھتے سُنتے ہیں۔ اس پر تالیاں پیٹتے ہیں۔ کیا کبھی یہ ممکن ہو گا کہ سوشل میڈیا پر مقبول عام پوسٹروں کو مین سٹریم میڈیا میں بھی دکھایا جائے۔ دکھایا جائے کہ لوگوں کے ذوق کی سطع کتنی پست ہے؟ کیا خواجہ آصف کے جملے پر اتنی لے دے صرف اس لئے کہ صنفی امتیاز بُری بات ہے؟ مگر یہ بات تو صنفی مساوات کے اصول کے خالف ہے۔ ہے کہ نہیں؟

کیا شیریں مزاری پر ہونے والے جملے بازی صرف اس لئے غلط ہے کہ وہ ایک عورت تھی؟ تو پھر ہم کیوں یہ چاہتے ہیں کہ صنفی بنیاد پر عورت اور مرد کی تخصیص کو ختم کیا جائے۔ انہیں سماج کا ایک مساوی کردار مانا جائے، ان سے کوئی امتیازی سلوک روا نا رکھا جائے۔ یہ اصول تو ہر معاملے پر لاگو ہوتا ہے۔ کیا کلچر میں پیوست گھٹیا انداز کا طنز اس سے مُبرا ہے؟ اگر ہاں تو کس اصول کے تحت؟

بلاشبہ ہم اپنے آدرشوں میں اپنے آئیڈیلز میں کلئیر نہیں۔ ہم یہ نہیں جانتے کہ جن اقدار کو ہم اپنانا چاہتے ہیں، جینا چاہتے ہیں اُن کے تقاضے کیا ہیں؟ ان کی قیمت کیا ہے؟

جاپان میں ایک عورت اُسی طرح ٹرین میں دھکے کھاتی مردوں کے درمیان سینڈوچ بنی سفر کرتی ہے جیسے کہ کوئی مرد۔ ٹرین کی مخصوص نشستیں یا تو ڈس ایبلز کے لئے ہیں یا پھر اُن عورتوں کے لئے جن کی گود میں کوئی بچہ ہو یا جن کی عمر ایک خاص حد سے زیادہ۔

امریکہ میں چالیس فٹ والا ٹرالر ایک عورت ڈرائیور چلاتی ہے اور اُسے بھی وہ تمام مشکلات پیش آتی ہیں کہ جو کسی بھی مرد ڈرائیور کو۔۔اب اگر کوئی عورت اس بنیاد پر شور مچا دے کہ چونکہ وہ عورت ہے اس لئے اس کے ساتھ بہتر سلوک روا رکھا جائے تو بہتر سلوک بھی تو امتیازی سلوک ہی ہے۔ مساوات میں تو بہتر یا بدتر دونوں برابر ہوا کرتے ہیں۔۔ مساوات تو کسی امتیاز کی قائل نہیں۔ مساوات میں تو کسی تخصیص کی گنجائش نہیں۔

 میرے نزدیک بہتر ہو گا کہ ہم لگے ہاتھوں پہلے یہ فیصلہ کر لیں کہ ہمیں صنفی مساوات چاہیئے یا صنفی امتیاز؟


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ظفر فیاض کی دیگر تحریریں
ظفر فیاض کی دیگر تحریریں

One thought on “صنفی امتیاز اور صنفی مساوات کے درمیان باریک لائن۔۔۔

  • 11-06-2016 at 9:46 pm
    Permalink

    واجہ آصف کا جملہ قابل اعتراض ہے، یہ بھی سچ ہے کہ خواجہ صاحب یہ جملہ کسی مرد کے بارے میں کہتے تو لکھے جانے والے ڈیڑھ سو کالموں میں کمی آ جاتی. جو صنفی تقسیم مانتے ہیں ان کا یہ کہنا کہ عورت سے بات کرنے کا انداز دوسرا ہونا چاہیے… بہ جا.
    جو عورت مرد کو محض انسان کی بنیاد پہ پرکھنے کے قائل ہیں، وہ کیسے یہ کہ سکتے ہیں، یہ عورت سے بات کرنے کا انداز دوسرا ہونا چاہیے؟
    مولانا شیرانی کو چرسی کہا گیا. یہی الفاظ ماروی سرمد کے لیے کہے جاتے، تو؟

Comments are closed.