ابا جان ناراض ہو جایئں گے!


farhan khalid(1)ایک بچہ پیدا ہوتا ہے. کچھ لمحوں کے بعد اس کے کانوں میں اذان دی جاتی ہے. اسے ڈاکٹر ڈکلئیر کر دیا جاتا ہے. وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ اس کا باپ بھی ڈاکٹر ہے. ان کا سارا خاندان ڈاکٹر ہے. ان کے محلے میں ایک ایسا ہی انجنیئر خاندان بھی رہتا ہے. اسے یہ لوگ درست نہیں سمجھتے. کیونکہ ان کے خیال میں ڈاکٹر ہونا ہی سب سے زیادہ درست ہے. سب کو ڈاکٹری اور انجینرنگ کی اسناد وراثت میں ہی ملی ہیں. کون کیا ہے یہ سب خدا کی منشا سے ہوتا ہے. کسی کا اس پر کوئی اختیار نہیں.

بچہ باپ سے پوچھتا ہے: ابا، میں انجنیئر کیوں نہیں ہوں؟ باپ کہتا ہے: بیٹا، ڈاکٹر ہونا ہی سب سے افضل ہے. بیٹا: افضل کیوں ہے؟ باپ: کیوں کہ ایک ڈاکٹر کو ہی نجات ملے گی. بیٹا: مگر انجنیئر بھی تو انسانی بھلائی کے کام کرتے ہیں؟ تو میں صرف ڈاکٹری کا حلف اٹھانے سے اچھا کیسے ہو گیا اور وہ برا کیسے؟ باپ: تم سوال بہت کرتے ہو. بڑوں کے آگے یوں زبان درازی نہیں کرتے! بچہ خاموش تو ہو جاتا ہے مگر اس کے ذہن میں تجسس رہ جاتا ہے. یہ اسے بعد میں پتہ چلتا ہے کہ دنیا میں حساب، فلسفہ اور معاشیات جیسے شعبوں کے لوگ بھی ہیں. اور وہ بھی درست راستے پر ہیں.

بچہ اسکول میں داخل ہو جاتا ہے. وہاں وہ نئے نئے علوم کے بارے میں پڑھتا ہے. اردو، انگریزی، اسلام، عیسایت، ہندوازم، یہودیت، بدھ مت، دہریت وغیرہ. ڈاکٹری کا مضمون تو ظاہر ہے کہ لازمی ہے. اردو اور انگریزی کے مضامین سے وہ اظہار و بیان میں مہارت حاصل کرتا ہے. ڈاکٹری یوں تو اسے ورثے میں ملی ہے، وہ پیدائشی ڈاکٹر ہے، مگر اس کے بارے میں معلومات وہ اپنے خاندان کے بعد اسی مضمون سے حاصل کرتا ہے. اس کے بعد رہ جاتے ہیں تکنیکی نوعیت کے علوم. ان میں سے وہ اسلام، عیسایت، بدھ مت اور دہریت اختیار کرتا ہے. وہ اسلام کے پانچ عقائد، عیسائیت کی تثلیث، بدھ مت کے نروان اور دہریت کے انکار خدا کے بارے میں پڑھتا ہے. وہ ان سب میں ایک چیز کو مشترک پاتا ہے: خدا. وہ حیران رہ جاتا ہے کہ کیسے یہ سب علوم خدا کو مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں. یقینا سب اپنے اپنے زاویہ فکر اور تحقیق میں ٹھیک ہوں گے.

اعلی تعلیم کے لئے اس کو کسی ایک تکنیکی علم کا انتخاب کرنا ہے. وہ اسلام کو منتخب کر لیتا ہے. اب وہ آٹھ سمسٹرز میں اسلام کے بارے میں گہرائی سے مطالعہ اور پریکٹیکل کرے گا.

1 (1)اس کو معلوم ہوتا ہے کہ آگے اسلام کی بھی کافی شاخیں ہیں. سب سے پہلے تو اسے سنی، شیعہ، اہل حدیث اور صوفی ازم میں تقسیم کیا جاتا ہے. پھر آگے سنی اسلام میں چار فقہ ہیں. ان سب کی رائے کو احترام سے دیکھا جاتا ہے. اسی طرح باقی شاخوں کی بھی اپنی روایات ہیں. ان سب میں دو چیزیں مشترک ہیں: قرآن اور سنت. وہ تین سال اسلام کی شاخوں کے بارے میں پڑھتا ہے. آخری سال میں اسپیشلائیزیشن سنی اسلام میں کرتا ہے. اس کے آخری سال کا پروجیکٹ قرآن پر ہے. یاد رہے، آخر میں سب کو ڈگری اسلام کی ہی ملنی ہے.

وہ اپنے آخری پروجیکٹ پر بہت تحقیق کرتا ہے. اس کا موضوع قرآن کی عالمگیریت پر ہے. اسے معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کا خالق ساری انسانیت کا رب ہے. وہ انسان کی ہدایت کے لئے انبیا کو بھیجتا ہے. ان کا مشن انسانیت کو ظلم کے خلاف جگانا اور مہذب کرنا ہوتا ہے. وہ انسانوں کے لئے تنبیہ چھوڑ جاتے ہیں. یہ پیغام بنیادی طور پر کسی ایک قوم، وقت یا مقام کے لئے نہیں ہوتا بلکہ ساری انسانیت کے لئے ہوتا ہے اور ہمہ گیر ہوتا ہے. اس میں انسانوں کو تہذیب الاخلاق کا درس دیا جاتا ہے. اعتدال اور میانہ روی کی مثالیں دی جاتی ہیں. یہ بتایا جاتا ہے کہ انسان کے اچھے اور برے کاموں کا نتیجہ بھی ان کے مطابق ہی نکلتا ہے. وہ آزادی کے ساتھ اپنی اصلاح کر سکتا ہے. سب بتوں کو توڑ کر وہ صرف خدا کے حضور جواب دہ ہوتا ہے. ایسے میں معاشرہ آہستہ آہستہ بہتری کی طرف بڑھتا ہے. اس میں امن، انصاف، شعور اور بھائی چارے کی فضا پیدا ہوتی ہے.

سب سے عمدہ بات یہ کہ اس علم کو کوئی بھی حاصل کر سکتا ہے. وہ محنت سے سیکھے، درست جوابات جانے، امتحان میں پاس ہو تو اسے بھی اسلام کی ڈگری مل جاۓ گی.

3پھر وہ اس کا اپنی آبائی سند سے موازنہ کرتا ہے. کیا ہی بہتر ہوتا وہ پیدائشی طور پر ڈاکٹر قرار نہ پاتا. وہ ایسے ہی کالج یا یونیورسٹی میں اس علم کے بارے میں پڑھتا. اس میں عملی مہارت حاصل کرتا. انجینرنگ کو بھی سرسری طور پر جان پات. اپنے میلان کو دیکھتے ہوئے شاید وہ انجینرنگ کا شعبہ ہی اختیار کر لیتا. یا زیادہ ہوتا تو ریاضی دان، معیشیت کا ماہر یا فلسفی ہی بن جاتا… یوں اسلام یا عیسایت جیسے علوم پر اسے رشک آتا ہے. ان کا تعلّق ورثے یا نسل سے نہیں بلکہ ذاتی کسب و مہارت سے ہے. یہی وجہ ہے کہ ان میں منافقت نہیں پائی جاتی. جو جتنا ہے، جو ہے، وہی ہے. اس سے زیادہ وہ اپنی درستی اور انسانیت کی فلاح کا حقدار نہیں. نہ ہی وہ پیدائشی طور پر کسی امتیازی درجے کا دعویدار ہے. یہ سب ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں، ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہیں اور ہم آہنگی سے رہتے ہیں. کیونکہ انہی مسلمانوں، عیسائیوں، یہودیوں، ہندوؤں اور دوسرے علوم کے ماہر لوگوں کی وجہ سے زندگی کی گاڑی رواں دوں رہتی ہے. دوسری طرف خود ساختہ ڈاکٹری اور انجینرنگ کے حامل لوگوں میں عمومی طور پر ریا بھی ہے اور دوسرے کے خلاف تعصب بھی. پھر تصادم کا خدشہ بھی ہر وقت رہتا ہے. مثالی باتیں تو بہت ہیں مگر عملی طور پر کسی بیمار کو ان سے شفا یاب ہوتے یا دکھی انسان کو فلاح پاتے کم ہی دیکھتے ہیں.

اس کے دل میں یہ خواہش جنم لیتی ہے کہ اپنے خیالات کے بارے میں وہ اپنے گھر والوں کو بھی آگاہ کرے. ‘مگر ابا جان ناراض ہو جایئں گے!’ یہ سوچ کر وہ اس سے باز ہی رہتا ہے.


Comments

FB Login Required - comments