ایڈورڈ سعید: دانش ور کے اظہارات (3)


nasir abbas nayyarذکر ہورہا تھا اڈورنو کا۔ ان کی فکر کی ترجمانی ان کے اس انداززِ تحریر میں ہوتی ہے، جو انتہائی حدوں میں تشکیل پاتاہے۔ ایقان شکن تشکیک اوراطمینان کو پارہ پارہ کرنے والا استفہام ہی، دانش ور کو انتہائی حدوں میں لے جاتے ہیں۔ اڈورنو کہتے ہیں کہ جس کے پاس گھر نہیں، اس کے لیے، اس کی تحریر ہی رہنے کی جگہ ہے۔ اڈورنو کی دانش میں چوں کہ قیام ناممکن ہے، اس لیے تحریر بھی مستقل ٹھکانہ نہیں ہو سکتا۔ مستقل ٹھکانہ ,، حدیامنجمد آئیڈیالوجی میں بدلنے کا امکان رکھتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ادیب دانش ور تحریر سے جلاوطن کیسے ہو؟ اسے اپنی تحریر کومخصوص اسلوب، کلیشوں، چند گنے چنے سوالات، پیش گوئی کیے جانے والے استفہامیوں کی آماج گا ہ نہیں بننے دینا چاہیے۔ بہ قول سعید دانش ور بنیادی طور پر علم اور آزادی کا علم بردار ہے (یہ ایک تجریدی بات نہیں، ایک حقیقی تجربہ ہے)۔ وہ رابنسن کروسو کی طرح نہیں جس کا مقصد ایک چھوٹے جزیرے کو نو آبادی بناناہے، مارکو پولو کی مانند ہے جو ہرمقام پر خود کو عارضی مہمان سمجھتا ہے؛ حملہ آور اور فاتح نہیں۔ ادیب دانش ور کے لیے روا نہیں کہ وہ اپنی تحریر کو اپنی نو آبادی بنائے؛ اسے اپنی ہر تحریر کو عارضی ٹھکانہ بناناچاہیے۔ یہ ان لوگوں کے لیے لمحہ ءفکریہ ہے جو اپنے اسلوب ِ خاص پر فخر کرتے ہیں۔

اڈورنو دانش ورانہ فکر کو جن انتہائی حدوں میں لے جانے کی تجویز پیش کرتے ہیں، ان کا نتیجہ یاسیت اور کلبیت ہو سکتا ہے۔ سعید دانش ور کے لیے تشکیک، شوخی اورطنزکو تو ضروری قرار دیتے ہیں، مگرکلبیت کو نہیں۔ دانش ور کی جلاوطنی اسے سماج میں حاشیائی مقام دیتی ہے؛ انعامات و اعزازات، ایک طرح سے گھر کی فضا سے عبارت ہیں۔ انعام و اعزاز کی مانوس دنیامیں دانش ور کی اجنبیت اسے حاشیائی حیثیت دیتی ہے۔ اگر دانش ور اپنی جلاوطنی کو گریہ و زاری میں بدل لیتا ہے، تو اس کا کلبی ہوجانا یقینی ہے۔ انعامات واعزازات سے محرومی کا قلق اسے ایک مایوس روح میں بدل سکتا ہے۔ سعید اس خیال کے حامی محسوس ہوتے ہیں کہ تحریر، edornoدانش ور کا گھر ہو سکتی ہے۔ دانش ورانہ تحریر کے اپنے اعزازات ہیں اور تحریر ایک اور قسم کے گھر کی فضا کی حامل ہو سکتی ہے۔ اڈورنو کے یہاں نطشے کی عدمیت کا عکس محسوس ہوتا ہے، جو تمام اخلاقی اقدار کی معروضی بنیاد کا یکسر انکار کرتی ہے۔ جب کہ سعید ان اقدار پر سوال قائم کرتے ہیں، جو دنیا کو’ محروم اور مراعات یافتہ طبقوں ‘ میں تقسیم کرتی ہیں۔ سعید تجریدی فلسفیانہ فکر پر سماجی، سیکولر فکر کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ ایک انوکھا اتفاق ہے کہ اردو میں مرزاغالب دانش ور کے اسی تصور کے حامل محسوس ہوتے ہیں، جسے سعید ان خطبات میں دہراتے ہیں۔ تشکیک، شوخی اور طنزغالب کی شاعری کے اساسی عناصر ہیں۔ غالب ان تمام کبیری تصورات پرشوخ و طنزیہ انداز میں استفہام قائم کرتے ہیں، جو اپنی اصل میں تجرید ہیں۔ مثلاًغالب کا یہ شعر: مٹتا ہے فوت فرصت ہستی کا غم کوئی عمرعزیز صرفِ عبادت ہی کیوں نہ ہو، دانش ورانہ شوخی کا کیساعمدہ اظہار ہے۔

سعید کے نزدیک جلاوطنی کا سب سے اہم تحفہ ’دوہرا تناظر‘ ہے۔ جلاوطنی کا ہر منظر یا صورتِ حال، گھر کے منظر یا صورتِ حال کی طرف دھیان منتقل کرتی ہے۔ بہ قول سعید عقلی طور پر ا س کا مطلب ہے کہ ہر خیال یا تجربہ، دوسرے خیال یا تجربے کے روبروہے۔ نئے ملک اور پرانے ملک کے تناظرات کے دوبدو ہونے سے، دونوں ایک نئی روشنی میں آجاتے ہیں، اور ایک ایسے علم کو ممکن بناتے ہیں جس کی پہلے پیش گوئی نہیں کی جا سکتی۔ دوہرا تناظراس بات کو ممکن بناتا ہے کہ ہم اپنے وطن کو دوسروں کی نظر سے اور دوسروں کو اپنے وطن کی نگاہ سے دیکھ سکیں۔ بسا اوقات حب الوطنی ہمیں تنگ نظری و تعصب کا شکار کرتی ہے، دوہراتناظر ہمیں ان سے آزادی دلاتا ہے۔ یہاں سعید ایک بار پھر مغرب کے اسلام سے متعلق ڈسکورس کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ” میں نے محسوس کیا ہے کہ اسلامی بنیاد پرستی سے متعلق یورپ کی انتہائی ناقص بحثیں دانش ورانہ طور پر اشتعال انگیز ہیں، کیوں کہ ان کا موازنہ یہودی یا عیسائی بنیاد پرستی سے نہیں کیا گیا، جو مشرق وسطیٰ کے میرے تجربے کے مطابق غالب اور نفرت انگیز ہیں “۔ گویا ان بحثوں پر یورپ کا محض ایک، مقامی تناظر حاوی ہے۔ سعید خود مسلمان ملکوں میں اسلام کی said-pngبحثوں کا حوالہ نہیں دیتے، جہاں ایک طرف اسلام کے نام پر بادشاہت کے ظالمانہ نظام کی دہشت سے لے کر فرقہ وارانہ قتل و غارت کا بازار گرم ہے، اور دوسری طرف مغرب کی سیکولرفکرکے ساتھ وہی سلوک کیا جاتا ہے جو اسلام کے سلسلے میں مغرب کے دانش ور کرتے ہیں۔ دونوں جگہ واحد، مقامی تناظر حاوی ہے۔ مغرب میں اسلام کی بحثیں اور مسلم دنیا میں مغربی تہذیب کی بحثیں، دو انتہاﺅں پر ہیں۔ اس ’انتہا پسندی ‘ کا نقصان مغرب کو کم، مگر مسلم دنیا کو زیادہ ہے۔ عام طور پر مسلم دنیا کے دانش ور، اسلام سے متعلق مغربی مباحث کو بنیاد بناکر سیکولرانسانی تہذیب کے حقیقی ثمرات سے نفرت کا پرچار کرتے ہیں۔ لہٰذامسلمان ملکوں کے تناظر میں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا یہاں اس ایقان شکن تشکیک کے لیے فضا سازگار ہے، جو دانش وری کی اساس ہے؟ ظاہرہے اس سوال کو اخباری کالم نویس، اینکر پرسن اور ن کے پروگراموں میں روزانہ شام کو گل افشانی گفتار کا مظاہر ہ کرنے والے ’ماہرین‘ زیرِ بحث لانے سے تو رہے!

کیا ایک دانش ور پوری آزادی کے ساتھ، من موجی انداز میں کام کرسکتا ہے؟ معاشی اعتبارسے کسی کا مرہون ِمنت، اورنظریاتی لحاظ سے کسی کا وفادار ہوئے بغیر کیاوہ دانش ورانہ سرگرمی جاری رکھ سکتا ہے؟ انیسویں صدی میں بوہیمین دانش ورکا تصور سامنے آیا تھا، جب کہ بیسویں صدی میں کیفے فلسفی، ٹی ہاﺅس دانش ور کی جگہ تنظیمی دانش وروں نے لے لی؛ بیسویں صدی میں علم کی صنعت کے غیر معمولی فروغ سے ’دانش وروں ‘کی بہتات ہوگئی۔ یہ ’دانش ور‘سرکاری، نیم سرکاری، نجی اداروں اورسیاسی، مذہبی، فلاحی جماعتوں سے وابستہ ہیں اورتنخواہ اور مراعات حاصل کرتے ہیں۔ ان سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے دارے یا جماعت کے معاشی و نظریاتی مفادات سے وفاداری کا مظاہرہ کریں۔ اسی تناظر میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم ایک ایسے دانش ور کا آج تصور کر سکتے ہیں جو کارپوریٹ فکر کی بجائے، انفرادیت پسند فکر کا حامل ہو؟ سعید یہ سوال اپنے چوتھے خطبے ”پیشہ ور اور باذوق دانش ور “ میں اٹھاتے ہیں۔ ان کا مﺅقف ہے کہ مذکورہ سوال کا جواب ضروری ہے، کیوں کہ یہ جواب، دانش ور کے ہم سے خطاب کی توقعات کو متاثر کرتا ہے۔ کیا اس کا نقطہ ءنظر ایک آزاد شخص کا نقطہ ءنظرسمجھا جائے، یا حکومت، منظم سیاسی جماعت، کسی لابی کا نقطہ ءنظر؟ سعید یہ تسلیم کرتے ہیں کہ آج انیسویں صدی کے بوہیمین دانش ور کا تصور ممکن نہیں ؛ آج ہر دانش ور کسی نہ کسی ادارے سے وابستہ ہے۔ لیکن کیا ادارے سے وابستگی، اس کی آزادانہ رائے کو ناممکن بناتی ہے؟ سعید کہتے ہیں 46551_1کہ اس سوال کا جواب مثالیت اور حقیقت کے امتزاج کی روشنی میں زیربحث لایا جا سکتا ہے، نہ کہ کلبیت کی روشنی میں۔ کلبی شخص بہ قول آسکر وائلڈ، وہ شخص ہے جو ہر شے کی قیمت جانتا ہے، مگر قدر کسی کی نہیں۔ سعید کے مطابق یہ سمجھنا ایک کلبی رویہ ہوگا کہ پورا معاشرہ اس قدر بد عنوان ہوگیا ہے کہ ہر شخص دولت کے آگے جھک جاتا ہے۔ اسی طرح ایک مکمل بے نیاز، خود نگر دانش ور کا وجود بھی غیر حقیقی ہے۔ گویا ادارے سے وابستگی کے باوجود ایک شخص، حقیقی دانش ور کا کردار ادا کرسکتا ہے۔ گویا بوہیمین دانش ورکا تصور مثالی، مگر ادارے سے وابستگی کے باوجود اپنی انفرادیت کو قائم رکھناحقیقت پسندانہ تصور ہے۔ تاہم وہ اکیڈمک دانش وروں کے ضمن میں یہ ضرور کہتے ہیں کہ بیسویں صدی میں ان کی تحریریں فقط عوامی مباحث پر مرکوز نہیں، بلکہ تنقید اور بت شکنی سے متعلق ہیں، جن میں قدیم روایات کے جھوٹے پیغمبروں کو بے نقاب کیا گیا اور کھوکھلے ناموں کا بھانڈا پھوڑا گیا ہے۔ یہاں ان کا واضح اشارہ نئی تنقیدی تھیوری کی طرف ہے، جو اتھارٹی کی ہر شکل کو معرض سوال میں لاتی ہے۔

سعید اپنے خطبات میں دانش ور کی انفرادیت پر جا بجا زور دیتے ہیں۔ ان کی نظر میں دانش ور کو کارپوریٹ فکر کا شکار ہونے اور اس کا ترجمان بننے سے اگر کوئی شے بچا سکتی ہے تو وہ اس کی انفرادیت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کارپوریٹ فکر کی آکاس بیل، دانش ور کے بنیادی جوہر ہی کو چوس لیتی ہے۔ بوہیمین دانش ور کو یہ سہولت حاصل تھی کہ وہ ان تمام تنظیموں سے بے زاری کی حد تک دورتھا، جو اسے سٹیریوٹائپ فکر کے دام میں لا سکتی تھیں، اور اس طرح وہ اپنی شدید انفرادیت کا تحفظ کر سکتا تھا، مگر جدید دانش ور اس سہولت سے محروم ہے۔ اردو میں بوہیمین دانش ور کا اوّلین، اور نسبتاً نامکمل تصور ہمیں توبتہ النصوح کے کلیم کی شکل میں ملتا ہے۔ وہ جب اپنے باپ سے کہتا ہے: مجھ کو تمھارے ماں باپ ہونے سے انکار نہیں۔ گفتگو اس باب میں ہے کہ تم کو میرے افعال میں زبردستی دخل دینے کا اختیار ہے یا نہیں۔ سو میں سمجھتا ہوں کہ نہیں ہے“، تو وہ اپنی انفرادیت کا تحفظ کرتا ہے۔ باپ کی اتھارٹی سے انکار، استعاراتی طور پر سماج کی مقتدر قوتوں سے انکار ہے۔ اس کے انکار کی بنیاد، شاعری سمیت دیگر فنون سے اس کی دل چسپی میں ہے۔ کلیم کا رویہ ایک باذوق شخص (amateur) کا رویہ ہے۔ یہ اسی باذوق دانش ور کی تصویر ہے، جسے سعید اپنے زیرِ بحث خطبے میں ’تنظیمی دانش ور‘ کے مقابلے میں پیش کرتے ہیں۔ بیسویں صدی کی تیسری اور چوتھی دہائی میں میراجی، کلیم کی بوہیمین دانش ورکی نامکمل تصویر کو مکمل کرتے ہیں۔ جو چیز کلیم کے یہاں استعارے کی سطح پر تھی، و ہ میراجی کے یہاں ایک حقیقت بن جاتی ہے؛ میراجی سماجی اشرافیہ کی سب اہم علامتوں کے منکر تھے۔ میراجی کی انفرادیت اپنا مفہوم، اشرافیہ کلچر کی کارپوریٹ فکرکا مضحکہ اڑانے کی صورت میں متعین کرتی ہے۔ یہی کام ایک دوسرے انداز میں منٹو نے کیا۔

edward8907دانش ور کی انفرادیت، ایک بات ہے اور اس انفرادیت کا’اثر‘ دوسری بات ہے۔ سعید نے یہ نکتہ اجاگر نہیں کیا۔ قصہ یہ ہے کہ دانش ور کی انفرادیت کا اثر سماج میں اس صورت میں، اور اسی حد تک پڑ سکتا ہے، جہاں تک سماجی رشتے اس امر کی اجازت دیں۔ اسی سے ہم اس سوال کا جواب بھی تلاش کر سکتے ہیں کہ دانش ور وں کے غیر معمولی خیالات کے باوجود، سماج میں ان کی روشنی میں کوئی تبدیلی کیوں رونما نہیں ہوتی۔ جسے ہم تبدیلی کہتے ہیں، وہ دانش ور اور سماج کے درمیان ابلاغ کا دو طرفہ رشتہ قائم ہوجانے کا نتیجہ ہے۔ نیزا س سوال کا جواب بھی مل جاتا ہے کہ کیوں ایک معاشرے میں دانش ور کی تحریریں، بیانات واضح اثر رکھتے ہیں اور کسی دوسرے معاشرے میں کیوں بے اثر رہتے ہیں ؟

سعید کی رائے ہے کہ آج مغربی اور غیر مغربی دنیا میں دانش ور کو اگر کسی طرف سے خطرہ ہے تو وہ اکیڈمی ہے، نہ مضافات ہیں، صحافت کی جادو اثر صارفیت ہے نہ پبلشنگ ہاﺅس، بلکہ اس رویے سے ہے، جسے میں پیشہ وریت (پروفیشنل ازم) کہتا ہوں۔ اگر کوئی شخص اپنی دانش ورانہ فکر اور اپنی معاشی فکر میں حد فاصل قائم نہ رکھے؛ وہ اپنے دانش ورانہ کام کو بھی روٹی روزی کے کام کی طرح سمجھے، جس میں نو تا پانچ آنکھ گھڑی پر لگی رہتی ہے، اور کوئی متنازع بات نہیں کہی جاتی ہے، خود کو ادارے یا منڈی کی ضرورت کے مطابق ڈھالا جاتا ہے، تو یہی پیشہ وریت ہے۔ پیشہ وریت کا سادہ مفہوم پنی ذہانت اور علم کو کسی ایسے مقصد کے لیے کام میں لانا ہے، جس کا تعین ادارے اور تنظیمیں اپنے محدود مفادات کے لیے کرتی ہیں۔ یہ اپنے علم و مہارت کی سیدھی سادھی فروخت ہے۔ اس پر سوالیہ نشان اس وقت قائم ہوتا ہے، جب اس مہارت کو دانش کہنے پر اصرار کیا جائے۔ علم و مہارت کی فروخت کی ایک اور صورت بھی ہے۔ انعام و اعزاز۔ چوں کہ یہ حکومتوں، مقتدر اداروں کی طرف سے ملتے ہیں، اس لیے انھی لوگوں کو ملتے ہیں جو انھیں للکارتے نہیں ؛ وہ ان کی روشوں پر سوال اٹھانے کی بجائے، ان کے نظریات واعمال کی توثیق کرتے ہیں۔ اس کے بدلے ہی میں انھیں انعام واعزاز ملتے ہیں۔ سارتر (جنھوں نے1964 میں ادب کا نوبل انعام ٹھکرادیا تھا) تو یہاں تک کہتے ہیں کہ جب تک کوئی شخص سوسائٹی کے مطالبات و ترغیبات میں گھر اہے، وہ دانش ور ہی نہیں ہو سکتا۔ سعید دراصل دانش ور کے لیے حاشیائی حیثیت کو اصول بنا لیتے ہیں۔ دانش ور کو اپنے ادارے، سوسائٹی، ملک میں طاقت کے مرکز سے دور، حاشیے پر رہنا چاہیے، تاکہ وہ مرکز پر سوال قائم کرتا رہے۔

سعید کی نظر میں پیشہ وریت، دانش ور پر چارقسم کے دباﺅ ڈالتی ہے۔ اوّل تخصیص کاری۔ آج سب سے زیادہ اسی کی ضرورت سمجھی جاتی ہے۔ سعید کے مطابق تخصیص کا مفہوم ہے، آرٹ یا علم کو تشکیل دینے والی خام قوتوں (تاریخ و سیاست) کے سلسلے میں بے بصری۔ تخصیص سے دریافت اور جوش کی وہ حس ہی ختم ہوجاتی ہے، جس پر دانش ور کا بنیادی انحصار ہوتا ہے ؛ تخصیص کار مکمل طور پر دوسروں کی آرا کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔ دوم سندی نوعیت کی مہارت۔ بہ قول سعید، اس میں تسلیم شدہ معیارات کی جگالی ہوتی ہے۔ جو لوگ، ادارے، تنظیمیں ان معیارات کو مسلمہ قرار دیتی ہیں، وہ دیگر، مختلف معیارات کے سلسلے میں عدم رواداری کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ سوم طاقت و اتھارٹی کی طرف جھکاﺅ۔ پیشہ وریت، طاقت و اتھارٹی کی طرف جھکنے کا میلان رکھتی ہے، تاکہ اسے اپنی خدمات بیچ کر مراعات حاصل کرسکے۔ اس ضمن میں سعید امریکا سمیت مختلف ملکوں کے حکومتی اداروں کی طرف سے تحقیقی گرانٹس کا ذکر کرتے ہیں، جنھیں سماجی سائنس کے پیشہ ور ماہرین حاصل کرتے اور متعلقہ اتھارٹی کے ایجنڈے کے مطابق نظریات وضع کرتے ہیں۔ تاہم سعید یہاں یہ بات بھی واضح کرتے ہیں کہ امریکا و یورپ میں ’کرائے کی تحقیق‘ کے متوازی حقیقی، بے غرض تحقیق کی اہمیت کا احساس باقی رہا ہے۔ اس ضمن میں وہ نوم چومسکی کی مثال لاتے ہیں۔ بھارت میں ارون دھتی رائے اس حقیقی، دانش ورانہ تحقیق کی اہم مثال ہیں۔

edwrad marianپیشہ وریت کے اس جبر سے آزادی کی کیا صورت ہے؟ سعید ایک لفظ میں جواب دیتے ہیں : غیر پیشہ وریت (amateurism)۔ کلاسیکی مفہوم میں غیر پیشہ ور، باذوق دانش ور کسی دباﺅ اور جبر کی پروا نہیں کرتا، نہ کسی لالچ وترغیب کے دام میں گرفتار ہوتا ہے؛ آرٹ اور علم سے ا س کا تعلق غیر افادی ہوتا ہےاگر آرٹ کی روح، حسن اور علم کی روح، بصیرت ہے تو اسے فقط ان سے غرض ہے۔ سعید ’غیر پیشہ ور، باذوق دانش ور‘ کے کلاسیکی تصور کو پورے طور پر قبول کرتے محسوس نہیں ہوتے۔ شاید اس لیے کہ کلاسیکی مفہوم میں ’باذوق، غیر پیشہ ور شخص‘آرٹ و علم کی سماجی افادیت پر توجہ نہیں کرتا (جیسے کلیم یا میرا جی )، جب کہ سعید دانش ور کے سیاسی و سماجی کردار کے شدت سے حامی ہیں۔ اسی طرح وہ تحقیق کے پیشہ ورانہ اصولوں اور رسمیات کے جبر سے تو انکار کرتے ہیں، مگر بذاتہ ان سے نہیں۔ چناں چہ کہتے ہیں کہ با ذوق دانش ور معاشرے کے ایک سوچنے والے، مضطرب رکن کے طور پر اسے اپنا حق سمجھتا ہے کہ وہ اپنی ٹیکنیکل اور پروفیشنل سرگرمی کے عین دوران میں اخلاقی سوال اٹھائے۔ خاص طور پر یہ سوال کہ کس بات سے کون فائدہ اٹھاتا ہے؟ اس طرح وہ ان قوتوں کی نشان دہی کی کوشش کرتا ہے، جو کسی ڈسکورس سے بہ ظاہر فاصلے پر ہوتی ہیں، مگر اس سے منفعت حاصل کر رہی ہوتی ہیں۔ غیر پیشہ ور دانش ور کے سامنے یہ سوال بھی ہوتا ہے کہ آیا اس کے قارئین ایک صارف کی طرح مطمئن ہورہے ہیں، یا انھیں چیلنج کیا جارہا ہے، یعنی انھیں مکمل اختلاف کی تحریک دے کر معاشرے میں جمہوری شرکت کے قابل بنایا جارہا ہے، یا نہیں ؟ سعید دانش کے نام پر خاص طرح کے خیالات کی اجارہ داری کو ناپسند کرتے ہیں۔ اگر دانش وری کا اہم فریضہ جھوٹے پیغمبروں کو بے نقاب کرنا اور بت شکنی ہے، تو خود دانش ور کیوں کر ایک پیغمبر اور بت کے طور پر اپنی نمائندگی کا ارتکاب کر سکتا ہے؟

’طاقت ور کے سامنے کلمہ ءحق‘سعید کے پانچویں خطبے کا عنوان ہے۔ سعید کے مطابق دانش ور کے لیے بنیادی سوال یہ ہیں کہ کوئی شخص سچ کیسے بولتا ہے؟ کون سا سچ؟ کس کے لیے؟ کہاں ؟ سعید کہتے ہیں کہ بد قسمتی سے کوئی ایسانظام یا طریقہ ءکار موجود نہیں جو اس قدر وسیع اور یقینی ہو کہ دانش ور کو ان سوالات کے راست جواب دے سکے۔ کچھ نظامِ فکر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ سچائی کا حتمی علم رکھتے ہیں۔ سعید غالباً انھی کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ ہماری دنیا سیکولر ہے، اس مفہوم میں کہ اس کی تعمیر انسانی کوششوں سے ہوئی ہے۔ لہٰذا دانش ور مذکورہ سوالات کے جواب تلاش کرنے کے لیے سیکولر طریقے (تاریخی edward_said_in_memories_by_hamzazو سماجی تجزیے کے طریقے) ہی کام میں لا سکتا ہے۔ سعید تسلیم کرتے ہیں کہ وحی و الہام نجی زندگی[کے معاملات کی] تفہیم کے لیے مکمل طور پر قابلِ عمل طریقے ہیں، لیکن اس وقت یہ تباہ کن بلکہ وحشیانہ بن جاتے ہیں، جب نظریاتی ذہن کے حامل مرد و عورت انھیں استعمال کرتے ہیں۔ بہ قول سعید: ” لاریب، مجھے یہ کہنے میں باک نہیں کہ دانش ور کو لازماًمقدس وژن یا متن کے محافظوں سے تاحیات بحث میں شریک رہنا چاہیے، جن کی غارت گری کی کوئی حد نہیں، جن کی سخت گیری کسی اختلافِ رائے کو برداشت نہیں کر سکتی، اور اس طرح [سماج میں ]تنوع پیدا نہیں ہوتا“۔ گویا ذاتی زندگی میں مذہب ایک نعمت، مگر ایک سماجی نظریے کے طور پر تباہ کن ہے۔ نشاة ثانیہ کے بعد مغربی فکرنے دنیا کو مادی مظہر ہی سمجھا اور اس کی تفہیم میں عقلی طریقوں کو استعمال کیا ہے۔ اردو میں سر سید نے (بیسویں صدی کے سیکولر انسان دوست فلسفی برٹرینڈ رسل سے پہلے ) انیسویں صدی کے اواخر میں لکھا تھا کہ”قدیم اصول یہ ہے کہ مذہب روحانی اور جسمانی یعنی دینی ودنیوی دونوں کاموں سے متعلق ہے۔ جدید اصول یہ ہے کہ مذہب صرف روحانی کاموں سے متعلق ہے “۔ سعید اور سر سید کے یہ خیالات آج پاکستان میں جاری مذہبی شدت پسندی کے سلسلے میں کس قدربر محل معلوم ہوتے ہیں، یہ واضح کرنے کی ضرورت نہیں۔ مذہبی گروہوں کی غارت گری، مقدس متن کے نام پر ہے۔ اقبال نے سیاست کے دین سے جدا ہونے کو چنگیزی کہا تھا، مگر مذہبی گروہوں، مذہبی سیاسی جماعتوں میں دین و سیاست کی آمیزش، چنگیزیت کی صورت اختیار کر گئی ہے۔ پاکستان کے اہل ِدانش کا مخمصہ اس قدر انوکھا ہے کہ شاید اس کی کہیں مثال بھی نہ ہوگی۔ مذہب کے نام پر وجود میں آنے والی ریاست میں، ایسے گروہوں کو وجود میں آنے سے کیسے روکا جا سکتا ہے جو ریاست کے تمام قوانین کو مذہبی بنانے کی جدو جہد کو مقصدِ حیات بنا لیں، اور جو لوگ مذہب کو ذاتی زندگی تک محدود رکھنے کے قائل ہوں، ان کے خلاف صف آرا نہ ہوں ؟ یہ ایک ایسا مخمصہ ہے، جس سے نکلنے کے لیے کبھی کبھی قائد اعظم کی گیارہ اگست کی مشہور تقریر کا حوالہ دیا جاتا ہے، جس میں انھوں نے پاکستانی شہریت کی تعریف بلا مذہب و فرقہ کی تھی، مگر اس کے جواب میں قائد اعظم کے متعدد ایسے خیالات پیش کیے جاتے ہیں جو پاکستان کو اسلام کی تجربہ گاہ بنانے سے متعلق تھے۔ اس کانتیجہ کنفیوژن ہے، نتیجہ خیز مباحثہ نہیں۔

سعید کو یہ ماننے میں تامل نہیں کہ الوہی صداقت میں یقین رکھنے والوں کو اپنی رائے کے اظہار کا حق ہے، اور یہ حق انھیں سیکو لر دنیا دیتی ہے۔ سیکولر دنیابحث مباحثے میں تمام لوگوں کی جمہوری شرکت کی قائل ہے۔ سیکولر دانش ور رائے ظاہر کرنے میں یقین رکھتا ہے، مسلط کرنے میں نہیں۔ یہی اصول مذہبی دانش وروں کے لیے بھی ہے۔ بہ قول سعید، سیکو لر دانش ور کا اگر کوئی قلعہ ہو سکتا ہے تو وہ رائے کی تشکیل اور اظہار کی آزادی ہے۔ اسی اصول کی بنا پر سعید سلمان رشدی کے حق میں آواز بلند کرنابھی ضروری خیال کرتے ہیں۔

edwardsaidکیا سیکولر ہونے کا مطلب سچائی کے ایک غیر متنازع تصور کا حامل ہونا ہے؟ کیا سیکولر سچائی ایک معروضی سچائی ہے؟ اگر اس کا جواب ہاں میں ہو تو ایک سیکولر اور ایک مذہبی دانش ور میں کیا فرق باقی رہ جاتا ہے!سعید کو بھی اس نزاکت کو احساس ہے، اس لیے وہ امریکی مﺅرخ پیٹر نووک کی کتاب That Noble Dream (مطبوعہ۸۸۹۱) کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ حقیقت سچائی سے متعلق اتفاق رائے غائب ہوگیا ہے۔ نیز روایتی اتھارٹی بھی باقی نہیں رہی، بہ شمول خدا اور مصنف۔ ظاہر ہے یہاں اشارہ نئی تھیوری کی طرف ہے، جس نے سچائی کو ایک سماجی تشکیل کہا ہے۔ سعید اپنی رائے ظاہر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ” یہ کہنا سچ ہے کہ معروضیت اور اتھارٹی کی تنقید نے مثبت خدمت انجام دی، کیوں کہ اس تنقید سے یہ واضح ہو ا کہ بنی نوع انسان نے کس طرح سیکولر دنیا میں سچائیاں تشکیل دیں “۔ یہیں سعید اپنے محبوب موضوع مابعد نو آبادیات کی طرف پلٹتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ سفید آدمی کی برتری بھی ایک ’معروضی سچائی‘ سمجھی گئی تھی۔ ایشیا و افریقا پر حکم رانی، اسی ’معروضی سچائی‘ کو اتھارٹی سمجھ کر کی گئی۔ سعید نے اپنی کتابوں میں تفصیل سے واضح کیا ہے کہ کس طرح سفید آدمی نے ’ہم ‘ کو ایک آفاقی صداقت قرار دے کر مقامی ثقافتوں کا استحصال کیا، حالاں کہ ’ہم ‘ خود ایک مقامی یورپی تصور تھا۔ اتھارٹی کی تنقید سے آفاقیت معرض سوال میں آئی ہے۔ آفاقیت کی جگہ مقامیت نے لے لی ہے۔ عقلی طور پر مقامیت کا مطلب ہے کہ سچائی غیر معین یعنی contingentہے۔ آج اور یہاں کی سچائی، ضروری نہیں کہ کل اور وہاں کی سچائی کے عین مطابق ہو، یا اس کے لیے معیار ہو۔ مطابقت اور معیار بننے کا امکان ہو سکتا ہے، لازمی اصول نہیں۔ یہی وہ سچ ہے جس کا اظہار دانش ور کوطاقت ور کے سامنے کرنا چاہیے۔

عالمی دانش ور کے سامنے اب بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ کس طرح مقامی شناختوں کو دیگر مقامی شناختوں سے ہم آہنگ کیا جائے؟ اس ضمن میں وہ ایک اہم بات یہ کہتے ہیں کہ آج کسی دانش ور کے شایان شان نہیں کہ وہ اپنی ثقافت کی شان و شوکت کے قصیدے لکھے۔ یہ قصیدے دوسری، مختلف ثقافتوں کی موجودگی میں کوئی جواز نہیں رکھتے۔ اپنی ثقافتی عظمت کا ترانہ، دوسری ثقافتوں سے ہم آہنگی میں ایک بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔ سعید دانش ور کو ثقافتی سفیر کے طور پر نہیں دیکھتے۔ ان کی نظر میں دانش ور کے لیے معقول رویہ، یہ ہے کہ وہ اپنے اور دیگر معاشروں میں موجو داختیارات کی حامل ان طاقتوں کو موضوع بنائے جو اپنے شہریوں کو جواب دہ ہیں۔ طاقت کو موضوع بنانے، اس کی حکمت عملیوں اور ان کے اثرات کو منکشف کے لیے ضروری ہے کہ دانش ور غیر معمولی تحقیق اور سخت محنت کرے۔ وہ ان دانش وروں کوملامت کرتے ہیں جو دوسروں کے لیے تو اصولی اور مشکل مﺅقف اختیار کرنے کی بات کرتے ہیں، مگر خود اس سے گریز کرتے ہیں کہ کہیں ان پر سیاسی ہونے کی چھاپ نہ لگ جائے، یا جو متنازع ہونے سے ڈرتے ہیں۔ نیز وہ متوازن، معتدل ہونے کی شہرت چاہتے ہیں، یا یہ خواہش رکھتے ہیں کہ انھیں کسی باوقار بورڈ میں شامل کر لیا جائے، وہ فیصلہ سازوں کی مین سٹریم میں رہیں، اور امید رکھیں کہ انھیں کوئی اعزازی ڈگری مل جائے، کوئی بڑا نعام یا شاید سفارت۔ سعید کے نزدیک دانش ور کے لیے اگر کوئی شے اس کی پر جوش دانش ورانہ زندگی کی خاصیت بد ل سکتی ہے، اسے بے اثر اور بالآخر اسے قتل کر نے والی ہو سکتی ہے تو ان عادات کو ’داخلی بنانا‘ ہے۔ دانش ور کے خوف اور ترغیبات، اس کی ذہنی زندگی کو زہر آلود کرتے ہیں، جس کا اثر اس کی تحریروں میں بھی ظاہر ہوتا ہے؛ وہ طاقت کے آگے کلمہ ءحق کہنے کی بجائے، طاقت کی رضامندی کا طالب رہنے لگتا، اور مشکل وقت پڑنے پر طاقت کی آئیڈیالوجی کے آگے ہتھیار ڈال دیتا ہے۔ تاہم سعید یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ طاقت کے سامنے اظہار کوئی سادہ لوح قسم کی مثالیت پسندی نہیں۔ بہ قول سعیددانش ور کا کلمہ ءحق دراصل متبادلات کا محتاط جائزہ ہے، یعنی صحیح بات کا انتخاب، اور اس کی قابل فہم انداز میں نمائندگی، اور اس پلیٹ فارم سے نمائندگی جہاں یہ زیادہ مﺅثر ہو اور صحیح تبدیلی کا سبب بن سکے۔

ان خطبات میں سعید اس مﺅقف کو کئی بار دہراتے ہیں کہ دانش ور انہ سرگرمی، سیاست سے الگ نہیں رہ سکتی۔ سیاست ہر شے میں سرایت کیے ہوئے ہے۔ یہ سعید کا پسندیدہ مقو لہ لگتا ہے۔ نیزوہ دانش ور کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں کہ وہ تبدیلی کے عمل کا حصہ بھی بنے۔ ایسے میں اس بات کا امکان ہے کہ دانش ور کسی سیاسی جماعت میں شامل ہوجائے، لیکن ساتھ ہی سعید اس اندیشے کا اظہار کرتے ہیں کہ اس کی جماعت میں شمولیت اسے دانش ور کی بجائے جماعتی نظریے کا معتقد بنا سکتی ہے۔ اس سوال پر وہ بحث اپنے آخری خطبے ” دیوتا جو سدا ناکام ہوتے ہیں “ میں کرتے ہیں۔ خطبے کا یہ عنوان انھوں نے رچرڈ کراس مین کی کتابThe God that Failed (مطبوعہ ۹۴۹۱) سے لیا ہے۔

Edward Said Poses In His Officeایک دانش ور کے طور پر سعید کسی دیوتا میں یقین نہیں رکھتے۔ لکھتے ہیں : ”میں کسی بھی قسم کے سیاسی دیوتا میں اعتقاد کے خلا ف ہوں “۔ سعید بعض تاریخی مثالوں سے اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ سیاسی دیوتاﺅں میں دانش ور کے اعتقاد کا انجام بالآخر اعتراف گنا ہ کی اذیت ہے۔ وہ اپنے ایک ایرانی دوست کی کہانی لکھتے ہیں، جو خمینی انقلاب کا پر جوش حامی تھا۔ انقلا ب کے بعد خمینی حکومت کا حصہ بنا، بعدمیں مایوس ہوا۔ جب اسلامی انقلاب کے ممکنہ نتائج سامنے نہیں آئے، تو وہ امریکا آگیا۔ یہی نہیں بلکہ خلیج کی جنگ کے دوران میں اس نے امریکا کی حمایت بھی کی۔ گویا ایک دیوتا سے مایوس ہوکر، دوسرے دیوتا میں اعتقاد پختہ کر لیا۔ بہ قول سعید ا س کا رویہ، بائیں بازو کے یورپی دانش وروں کا ساتھا، جو فاشزم اور امپیریل ازم میں سے امپیریل ازم کا انتخاب کرتے ہیں۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں : ”دانش ورانہ اور سیاسی طور پر مطلوب رویہ، یہ تھا کہ فاشزم اور امپیریل ازم دونوں کو ردّکیا جاتا“۔ برصغیر کے بائیں بازو کے دانش وروں نے بھی دوسری عالمی جنگ کے دوران میں فاشزم کے مقابلے میں برطانوی امپیریل ازم کا ساتھ دیا تھا۔ سعید نے یہ واضح نہیں کیا کہ بائیں بازو کے یورپی دانش وروں نے فاشزم کی مخالفت میں کیوں امپریل ازم کا انتخاب کیا؟ بائیں بازو کے یورپی دانش ور ہوں یا برصغیر کے، ان کی فکرطاقت کی حرکیات میں اسیر تھی؛ ان کے لیے یہ بات قابل ِ فہم تھی کہ طاقت کی ایک سفاک شکل کا خاتمہ، طاقت کی دوسری زبردست صورت سے کیا جاسکتا ہے۔ ایک طاقت کے مقابلے میں دوسری طاقت کے انتخاب کا ’جبر‘، دوسری عالمی جنگ (جس میں فاشسٹ جرمنی و اٹلی کے مقابلے میں اتحادی ملکوں میں سوویت یونین بھی شامل تھا، جو بائیں بازو کی جماعتوں کی دانش ورانہ فکر کا قبلہ تھا) کی پیداوارتھا۔ سوال یہ ہے کہ اس میں آج کے دانش ور کے لیے کیا پیغام ہے؟ ہماری رائے میں بڑا سادہ پیغام ہے۔ دانش ور کو طاقت کے مراکزسے فاصلہ رکھنا چاہیے، تاکہ وہ طاقت، جبر، استحصال کی واضح اور مخفی یعنی مادی، نفسیاتی اور علمیاتی صورتوں کا پردہ چاک کر سکے۔ یہ دانش ور کا حاشیائی مقام ہے، مگر اس کی دانش کی ساری طاقت کا خزینہ یہیں دفن ہے۔

edwardرچرڈ کراس مین کی کتاب میں ممتاز مغربی دانش وروں، جیسے آندرے ژید، آرتھر کوئسلرکے ماسکو کی طرف جانے اور پھر واپس غیر کمیونسٹ ملکوں میں آکر ’اعتراف گناہ‘کے قصے ہیں۔ بہ قول سعیدسرد جنگ کے زمانے میں اکثر لوگوں کے ’دانش روانہ کیریر‘کی بنیاددانش ورانہ کامیابیوں کے بجائے کمیونزم کی برائیوں کو ثابت کرنے، نیز کمیونسٹ ملکوں میں جاکر رہنے کے ناکام تجربے پر ندامت کے اظہار پر تھی۔ اس پر سعید طنزاً کہتے ہیں : ”میں پوچھنا چاہتا ہوں، ایک دانش ور کے طور پر آپ کیوں دیوتا میں یقین رکھتے ہیں ؟ مزید براں آپ کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ آپ یہ تصور کریں کہ آپ کا سابقہ اعتقاد اور بعد کی التبا س شکنی[ہمارے لیے] اس قدر اہم ہیں ؟ “سعید دیوتا میں یقین کو تشدد سے وابستہ دیکھتے ہیں۔ نئے نظریے کو مذہب بنانے والے، اور پرانے نظریے کی طرف مراجعت کرنے والے اکثر عدم روادار اور متشدد ہوتے ہیں۔ قصہ مختصر، دانش ور کے لیے دیوتا ہمیشہ ناکام ہوتے ہیں۔

دیوتا کیوں ناکام ہوتے ہیں ؟ دیوتا (اورہیرو بھی)، ایک ایسی شبیہ ہے، جس کی اصل ہمیشہ ماضی میں ہوتی ہے، مگر یہ حال میں پوری شان سے جلوہ گر رہتی اور مستقبل سے متعلق امیدوں اور خواہشات کا مرکز بنی رہتی ہے؛ گویا یہ لازمانی شبیہ ہے، جس کا تصور ہم اپنے اس ذہن سے کرتے ہیں، جس کی ساری کارکردگی زمان و مکاں کی اسیر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دیوتا کو اپنی عقیدت کا مرکز بنانے کے لیے ہم اپنے مکانی وزمانی شعورکو معطل کرتے ہیں۔

[دانش ور کے اظہارات (Representations of the Intellectual) ونٹاژ بکس، نیو یارک سے 1994 میں پہلی مرتبہ شایع ہوئی۔ اس تحریر میں کتاب کا پہلا ایڈیشن ہی سامنے رکھا گیا ہے۔ ن ع ن]

 


Comments

FB Login Required - comments