مخالف اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رہا ہو تو اسے ڈسٹرب مت کریں


انتخابات کی گہما گہمی میں سننے میں آیا تھا کہ آصف زرداری حکومت بنانے میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے اور انہوں نے نواز شریف کو بھی قائل کرنے کی کوشش کی تھی کہ وہ عمران خان کو حکومت میں آنے دیں۔ آصف زرداری کو صرف سندھ میں حکومت چاہیے تھی۔ وجہ یہ بتاتے تھے کہ ایک مرتبہ قوم کا شوق پورا ہونے دیں۔ ویسے تو سال دو سال کی بات ہے مگر پانچ پورے ہو جائیں تو پھر بھی خیر ہے۔ کام پکا ہو جائے گا۔

اب سننے میں آ رہا ہے کہ نواز شریف کو یہ بات سمجھ آ گئی ہے اور ان کی خاموشی کی وجہ یہ فلسفہ بیان کی جا رہی ہے کہ جب کوئی مخالف اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رہا ہو تو اسے ڈسٹرب کر کے اس کی توجہ کو بھٹکانا نہیں چاہیے۔ اسے پوری یکسوئی سے اپنا کام بہترین طریقے سے کرنے کا موقعہ دینا چاہیے۔

اب یہی دیکھ لیں کہ تجاوزات کے خلاف آپریشن کس طرح اپنے گلے پڑ رہا ہے۔ آپریشن ضرور ہونا چاہیے، قبضہ گروپوں سے نجات دلانا بہترین حکومتی کام ہے۔ لیکن قبضہ گروپوں سے سرکاری زمین ہی کو نہیں عام شہریوں کی زمین کو بھی واگزار کروانا چاہیے تھا۔ ان چھوٹی موٹی تجاوزات کو ختم کرنے سے بہتر کام یہ ہے کہ رہائشی علاقوں کو کمرشل ہونے سے سختی سے روکا جائے، اور کمرشل عمارتوں کو آگے موجود سرکاری زمین استعمال کرنے سے ویسے ہی روکا جائے جیسے ڈی ایچ اے میں روکا جاتا ہے۔

آصف محمود صاحب نے اسلام آباد کی اس بڑھیا کا قصہ لکھا ہے جو اپنے گھر کے ملبے پر بیٹھی آنسو بہا رہی تھی اور رونے کے درمیان وقفہ آنے پر اپنے بیٹے کو مارنے لگتی تھی کہ تو نے عمران خان کو ووٹ ڈلوایا تھا۔ ان غریبوں کے قبضے کی زمین پر موجود گھر ضرور گرائیں لیکن پہلے ان کو سر چھپانے کی کوئی جگہ ضرور دے دیں۔ انہیں گھر بنا کر مت دیں مگر دس بائی دس فٹ کا پلاٹ تو دے دیں جہاں وہ اپنا جھونپڑا خود ڈال سکیں۔ آخر کو اسلام آباد میں کروڑ پتیوں کی خدمت کے لیے ”کمی کمین“ بھی چاہیے ہوں گے۔

اسی طرح کسی غریب کا ٹھیلہ ضبط کرنے کی بجائے اسے ٹھیلے لگانے کے لیے کوئی موزوں جگہ بھی فراہم کی جاتی تو اچھا ہوتا۔ حکومت اپنے ذمے روزگار اور ملازمتوں کا خرچہ لینے کی بجائے پانچ دس ہزار روپے کے سرمائے والے کو اپنے روزگار کا خود بندوبست کرنے دے۔

دوسری طرف بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافہ بھی شدید عوامی بے چینی پیدا کرے گا۔ لوگ ابھی سے اپنے بل دکھانے لگے ہیں۔ دسمبر تک کیا سماں ہو گا؟ ہم آپ بیٹھے سوچ رہے ہوں گے کہ بل جمع کروائیں یا کھانا کھا لیں۔

میٹرو پر سبسڈی ختم کرنے کا کیا نتیجہ نکلے گا؟ اس پر سفر کرنے والے لاکھوں لوگ اس بات پر مجبور ہو جائیں گے کہ سستی موٹر سائیکل پر سفر کرنے لگیں۔ بلکہ بعض بزرجمہر تو فرما رہے ہیں کہ اورینج ٹرین کی بجائے اس میں سفر کرنے والے ڈھائی لاکھ شہریوں کو مہران کاریں دے دی جائیں تو سستا پڑے گا۔ بندہ سوچے کہ پھر لاہور میں ٹریفک اور پلوشن کا کیا منظر ہو گا جہاں پہلے ہی تیزابی فوگ ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ ان کاروں کا پیٹرول کہاں سے آئے گا اور ڈالروں میں آئے گا یا مفت میں ملے گا؟

اپوزیشن کے زمانے میں تحریک انصاف والے یہ کہتے تھے کہ نواز حکومت نے ناجائز ٹیکس لگا کر عوامی ضروریات کو مہنگا کر رکھا ہے۔ اب حکومت میں آنے کے بعد وہ کہتے ہیں کہ نواز حکومت نے مہنگائی کو زبردستی روکا ہوا تھا اور وہ عوام کو ناجائز سبسڈی دیتی تھی۔ عوام کی زندگی اس ”ناجائز کام“ سے آسان ہوتی ہے اور حکومت کا کام عوام کی زندگی آسان کرنا ہے۔

تحریک انصاف نے عوام کو جو سبز باغ دکھائے تھے وہ سب کچھ کرنا عملی طور پر ممکن نہیں ہے۔ الٹا ہر گزرتے مہینے کے ساتھ صورت حال بد سے بدتر ہوتی جائے گی۔ سیاستدانوں کے کھیل ٹھہرے، بھگتیں گے ہم عوام۔ آصف زرداری ٹھیک ہی کہتے ہیں کہ کہ جب کوئی مخالف اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رہا ہو تو اسے ڈسٹرب کر کے اس کی توجہ کو بھٹکانا نہیں چاہیے۔ لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ کلہاڑی ان کا سیاسی مخالف عوام کے پیٹ پر بھی مار رہا ہے جس کا نتیجہ تمام سیاستدانوں کے خلاف ہی نکلے گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1027 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar