قصہ ’’واراینڈ پیس‘‘ کے ترجمے کا


mehmudul hasanلیو طالسطائی کے ناول ’’وار اینڈ پیس‘‘ اور دوستوفسکی کے ناول’’برادرزکرامازوف‘‘کا شمارعظیم ناولوں میں ہوتا ہے۔ اردو میں روسی فکشن کے بہتیرے ترجمے ہوئے، پر مذکورہ دونوں ناولوں کو ترجمہ نگاروں نے بھاری پتھر جانا، اس لیے ادب کے ان شاہ کاروں کا مدتوں اردو میں ترجمہ نہ ہو سکا۔ پھر یوں ہوا کہ اردو کو یہ ناول ترجمے کرنے کے واسطے شاہد حمید جیسا باکمال مترجم میسرآگیا، جن کی ترجمے، اور اس کے ساتھ حواشی کے ضمن میں محنت دیکھ کر یقین نہیں آتا کہ یہ فرد واحد کی کاوش ہے۔ مترجم کی ہنرمندی ان دو ناولوں کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ جین آسٹن کے شہرۂ آفاق ناول ’’pride and prejudice‘‘، ہیمنگوئے کے معروف ناول’’old man and sea‘‘، جسٹن گارڈر کے مشہور ناول ’’sophie’s world‘‘ اورایڈورڈ سعید کی کتاب Question of Palestineکا ترجمہ بھی ان کے قلم سے ہے۔ معروف نقاد شمیم حنفی کے بقول ’’یقین کرنا مشکل ہے کہ ہزاروں صفحوں پر پھیلا ہوا یہ غیرمعمولی کام ایک اکیلی ذات کا کرشمہ ہے۔’‘ ممتاز فکشن نگار نیر مسعود نے محمد سلیم الرحمٰن کے نام خط میں شاہد حمید کو حیرت خیز آدمی قرار دیا ۔ شاہد حمید نے دوہزار سے زائد صفحات پر مشتمل انگریزی اردو لغت بھی تیار کی ہے، جو زیر طبع ہے۔ حال ہی میں ’’گئے دن کی مسافت’‘ کے عنوان سے ان کی یادداشتیں شائع ہوئی ہیں، جنھیں ان نے ممتازادیب انتظارحسین کے نام معنون کیا ہے،جنھوں نے اپنی آپ بیتی ’’جستجو کیا ہے ؟‘‘میں لکھا ’’ارے ہاں ہمارے بیچ ایک اور پرانی ہڈی بھی تو ہے ۔ میں شاہد حمید کو 48ء سے دیکھتا آرہا ہوں۔ اس وقت سے جب میں ’’نظام’‘ کو سنبھالے بیٹھا تھا اور مظفر ایک صبح اسے ساتھ لے کر میری طرف آیا تھا ۔ اس کے قلم نے بھی رفتار اس وقت پکڑی ہے جب اس نے جوانی کے ایام کو درس وتدریس کی نذر کر کے اس طرف سے فراغت پا لی ۔ بس اس وقت سے اپنے قلم کے ساتھ جٹا ہوا ہے۔ کتنا کچھ کر چکا ہے، کتنا کچھ کرنے کے درپے ہے۔’‘

یہ تو تھا شاہد حمید کا سرسری تعارف۔ اصل میں تو ہمیں پڑھنے والوں کو یہ بتانا ہے کہ اس باہمت شخص کو ’’واراینڈ پیس‘‘ کے ترجمے کی اشاعت کے لیے کتنے پاپڑ بیلنے پڑے۔ طالسطائی کے ناول کا، انھوں نے بڑے ذوق وشوق سے ترجمہ کیا، اور فن ترجمہ کے ماہرین سے داد سمیٹی۔ اس محنت کا معاوضہ تو خیر کیا ملتا، الٹا اس کی اشاعت کے لیے انھیں خاصی بھاگ دوڑ کرنی پڑی۔ کئی پبلشروں نے اس ضخیم کتاب کا ترجمہ چھاپنے سے چٹا انکار کر دیا۔ ایک پبلشر نے چھاپنے کی ہامی بھر لی، لیکن چار بار پروف شاہد حمید نے خود پڑھے۔ پریس کا طواف کیا۔ اور بھی کشٹ اٹھائے، تب کہیں جا کر اشاعت کی صورت پیدا ہوئی۔ یہ اس عظیم ناول کے ترجمے کا معاملہ ہے، جس کے متعلق مظفر علی سید نے ایک مغربی نقاد کے حوالے سے لکھا تھا کہ جس زبان میں ’’وار اینڈ پیس’‘ کا ترجمہ موجود نہیں، اس کی تہذیبی صلاحیت مشکوک ہے۔ 23 برس قبل یہ ترجمہ شائع ہوا تو چند برس میں فروخت ہوگیا۔ اس کے بعد اشاعت ثانی کے لیے جس پبلشر نے آمادگی ظاہر کی، ا س نے برسوں ٹال مٹول سے کام لیا۔ تنگ آکر مترجم نے ایک اور پبلشر سے بات کی، جس نے یہ ترجمہ کئی برس سے اپنے پاس سینت کر رکھا ہے ۔

01

’’واراینڈ پیس‘‘ کا یہ ترجمہ جب نیر مسعود کو لکھنؤ میں موصول ہوا تو جہاں وہ اس کاوش سے خوش ہوئے، وہیں یہ جان کر حیران بھی کہ اس کام پر معاوضے کے نام پر پھوٹی کوڑی بھی ترجمہ نگار کو نہیں ملی۔ نیر مسعود کے شاہد حمید کے نام خط کے ساتھ ہم وہ خط بھی شائع کر رہے ہیں، جو جواباً انھیں ’’وار اینڈ پیس‘‘ کے مترجم نے لکھا ۔

15 مارچ 1995ء

برادرم شاہد حمید صاحب

السلام علیکم!

اجمل کمال نے ’’جنگ اور امن‘‘ کی دو جلدیں بھیج دیں۔ جس طرح کسی عظیم الشان عمارت کو دیکھ کر کچھ خوف بھی محسوس ہوتا ہے اسی طرح آپ کے اس کارنامے کو دیکھ کر محسوس ہوا۔ جس ناول کو پڑھنے کی میری ہمت نہیں پڑتی تھی آپ نے اس کا ترجمہ کر دکھایا، اور ترجمہ بھی کیسا عمدہ! میری انگریزی دانی معمولی سے بھی کچھ کم ہے، پڑھنے کی رفتار بھی اردو کے مقابلے میں بہت سست ہے۔ اس لیے امید نہیں تھی کہ ’’جنگ اور امن‘‘ کبھی مکمل پڑھ سکوں گا۔ اب آپ کی بدولت پڑھ سکوں گا۔ بلکہ پڑھنے کی شروعات بھی کر دی ہے۔

محمد سلیم الرحمٰن صاحب سے اس ترجمے کی خبر ملی تھی۔ انھوں نے یہ بھی لکھا تھا کہ یہ کام آپ نے محض اپنے شوق سے کیا ہے اور کتاب چھپ جانے کے سوا آپ 03کو اس کا کوئی معاوضہ نہیں ملا۔ یہ بڑی افسوسناک صورتحال ہے۔ ناشر حضرات کتاب پر بڑی سے بڑی رقم خرچ کر دیتے ہیں۔ کاتبوں، پریس والوں اور جلد سازوں کو پورا معاوضہ دیتے ہیں لیکن لکھنے والوں سے حتی الامکان ادب کی مفت خدمت کرانا چاہتے ہیں۔ امریکا میں محمد حسین آزاد کی ’’آب حیات‘‘ کا انگریزی میں ترجمہ ہو رہا ہے۔ شمس الرحمن فاروقی صاحب کو ترجمے کی نظرثانی کا کام سونپا گیا ہے جس کے لیے فاروقی صاحب ڈیڑھ ڈیڑھ مہینے کے لیے چار بار امریکا جائیں گے (ایک بار جا چکے ہیں)۔ امریکا کے چار سفر، وہاں چھ ماہ قیام کا صرف، پھر نظرثانی کا معاوضہ، اور اس سے کہیں زیادہ اصل مترجم کا معاوضہ، اسی طرح کسی مغربی ادارے کی طرف سے امیر خسرو کی ’’اعجاز خسروی‘‘ کا ترجمہ ہندوستان میں فارسی کے پندرہ سولہ عالموں سے کرایا گیا ہے۔ ہر مترجم کو بہت معقول معاوضے کے علاوہ ایک ایک باتنخواہ مددگار بھی دیا گیا۔ ان لوگوں کو بتایا جائے کہ ہمارے یہاں ’’جنگ اور امن‘‘ کا ترجمہ بلا معاوضہ ہوتا ہے تو کس قدر حیران ہوں گے؟

طالسطائی کی ’’آننا کریننا‘‘ اور متعدد دوسری کہانیوں کے اردو ترجمے روس سے شائع ہوئے ہیں، لیکن وہ اتنے رواں اور واضح نہیں ہیں جتنا آپ کا ترجمہ ہے۔ اس عظیم الشان کام پر دلی مبارکباد قبول کیجئے۔

آپ کا

نیرمسعود

……….

نیرمسعود کا خط موصول ہونے پر شاہد حمید نے آٹھ مئی 1995ء کو جوابی خط میں لکھا:

02’’ رہا معاوضہ یہ مسئلہ میرا ہی نہیں، برصغیر کے چوٹی کے ادیبوں کو بھی اس سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ (محمد حسین آزاد کو اپنی بے مثال تحریروں پر کیا ملا ہو گا؟) دراصل قصور اتنا ناشرین کا نہیں جتنا نظام کا ہے۔ انڈیا میں تو پھر بھی بڑے بڑے پبلشنگ ہاؤس (ملکی اور غیر ملکی موجود ہیں….یہاں بڑے طباعتی ادارے…. جو ایک دو ہیں…. ان کی دل چسپیاں کچھ اور ہیں۔ چھوٹے چھوٹے بے بضاعت ناشرین ہیں، ننگی نہائے گی کیا اور نچوڑے گی کیا۔ چار پانچ سو کتاب چھاپ کر خود کیا کھائے گا اور مصنف کو کیا کھلائے گا۔ نزلہ ہمیشہ اسی پر گرتا ہے جو Receiving end پر ہوتا ہے۔ چناں چہ مصنف اکثر اپنے حق سے محروم رہتا ہے بلکہ بعض اوقات اسے کتاب کی طباعت کا بار بھی اٹھانا پڑتا ہے۔

میں نے جب بھی کوئی چھوٹا موٹا کام کیا، کبھی صلے کی توقع پر نہیں کیا۔ جب میں نے ’’وار اینڈ پیس‘‘ کا ترجمہ شروع کیا (میں نے یہ کام کیوں کیا، میرے پاس اس کی کوئی معقول توجیہہ نہیں۔ بس یوں سمجھیں کہ ایک قسم کا Obsession تھا)، مجھے معلوم تھا کہ مالی منفعت تو دور کی بات ہے، الٹا متعلقہ کتابیں اور دوسرا مواد اکٹھا کرنے کے لیے اپنی گرہ سے خرچ کرنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ ایک مسئلہ اور بھی تھا، اور وہ تھا ترجمے کو چھاپنے کا۔ جس ناشر سے بھی بات کی اس نے کانوں کو ہاتھ لگایا، ’’ناں بابا، ناں۔ اتنی ضخیم کتاب اور وہ بھی ترجمہ (ترجمہ اس ملک میں گھٹیا کام سمجھا جاتا ہے)، ہم اپنا روپیہ ڈبو نہیں سکتے‘‘۔ میرے پبلشر کے حق میں یہ بات جاتی ہے کہ اس نے درسی کتابوں کے ناشر ہونے کے باوجود اسے چھاپنے کی ہامی بھری (اگر کتاب بک گئی تو شاید… کچھ نہ کچھ معاوضہ بھی دے ہی دے گا…) لیکن اس شرط پر کہ طباعت کی ساری ذمہ داری مجھے ہی اٹھانا ہوگی۔ چناں چہ کمپوزر کے پیچھے میں ہی بھاگتا رہا۔ پروف بھی خود ہی (چار مرتبہ) پڑھتا رہا، اپنی نگرانی میں غلطیاں درست کراتا رہا اور آخر میں پریس کے بھی چکر کاٹتا رہا اور ملا کیا؟…باذوق اور باعلم اصحاب کی تحسین۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ میرے لیے یہی کافی ہے۔’‘

اور اب آخر میں نیرمسعود کے اس ترجمے کے بارے میں مضمون کا کچھ حصہ نقل کرتے ہیں:

’’روسی حکومت کے زیراہتمام طالسطائی اور دوسرے روسی مصنفوں کے شاہکار اردو میں منتقل کرکے شائع کئے گئے ہیں ۔ ان میں بعض اچھے ترجمے بھی ہیں لیکن ’’جنگ اور امن’‘ کا یہ ترجمہ ان سے بہتر ہے جس کا سبب میر کے لفظوں میں یہ سمجھا جاسکتا ہے ’’کسو دل کی لاگ ایدھر ہے‘‘ شاہد حمید نے یہ ترجمہ دل کے title frontہاتھوں مجبور ہوکر لیکن ذمہ داری کے پورے احساس کے ساتھ کیا ہے ۔ ترجمے کی زبان پر ان کی غیر معمولی محنت کا اندازہ کتاب کے کسی بھی حصے سے لگایا جا سکتا ہے ۔ خصوصاً جن لوگوں کو خود بھی ادبی تحریروں کے ترجموں کا کچھ تجربہ ہے وہ شاہد حمید کے اس کارنامے پر حیرت آمیز داد دیے بغیر نہیں رہ سکتے ۔

’’جنگ اور امن’‘وقوعوں، صورت حالوں، منظروں، کرداروں اور مکالموں کا موجیں مارتا ہوا سمندر ہے اور اس کے ترجمے کے لیے موجیں مارتے ہوئے سمندر ہی کی سی زبان درکار ہے ۔ شاہد حمید نے اس زبان کو پا لیا ہے ۔ ان کا ترجمہ یہ خوش گوار احساس دلاتا ہے کہ اگر محنت کی جائے تو اردو زبان میں ہر قسم کے مطالب ادا ہوسکتے ہیں ۔

شاہد حمید نے یہ ترجمہ بڑے بڑے دعووں کے بغیر اور خالص علمی کسر نفسی کے ساتھ پیش کیا ہے لیکن ان کا یہ کارنامہ انھیں اردو کے بڑے مترجموں میں جگہ دلانے اور اردو دنیا کو ان کا شکرگزار بنانے کے لیے کافی ہے۔’‘


Comments

FB Login Required - comments