ایڈز میں مبتلا ایک پاکستانی اداکارہ کی کہانی


1997ء میں نارتھ کراچی کے ایک ہسپتال میں ایک اداکارہ کا انتہائی راز داری سے علاج ہو رہا تھا۔ یہ اداکارہ ایڈز جیسے موذی مرض میں مبتلا تھی۔ مجھے کسی نے اس کے بارے میں بتایا تو میرا تجّس بڑھا اور ایک دن میں کراچی کے لئے روانہ ہو گیا۔ کراچی میں قیام کے دوران میرا زیادہ وقت شہر کے ایسے علاقوں میں گزرا جہاں میرے کام کی عورتیں موجود ہیں۔ لیکن سب سے پہلے میں نے نارتھ کراچی کے اس ہسپتال کا دورہ کیا جہاں میری اطلاع کے مطابق ایک مریضہ زیر علاج تھی۔ میں اس اداکارہ کا پتہ معلوم کر کے جب ہسپتال پہنچا تو استقبالیہ پر موجود نرس نے مخصوص ہندوستانی سٹائل میں سرے سے یہ تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیا کہ وہاں اس قسم کی کوئی مریضہ زیر علاج ہے۔ آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے۔

میرے پاس سوائے واپس آنے کے کوئی راستہ نہ تھا۔ ہوٹل واپسی پر میں نے اپنے سورس سے رابطہ قائم کیا تو اس نے کہا کہ آپ فلاں کمرے میں کسی سے اجازت لئے بغیر چلے جائیں آپ کو ایک شناسا چہرہ نظر آجائے گا۔ میں ڈرتا اسی شام دوبار ہسپتال چلا گیا۔ اتفاق سے استقبالیہ پر کوئی دوسری نرس موجود تھی۔ میں انتہائی اعتماد سے چلتا ہوا ایک مخصوص پرائیویٹ کمرے کے سامنے جا پہنچا اب میرا دل دھڑک رہا تھا میں بے عزتی کی صورت میں بھی نکل سکتا تھا۔ میں نے دھڑکتے ہوئے دل سے دروازے پر آہستہ سے دستک دی۔ حسب توقع فوراً ہی ایک عورت نے دروازہ کھولا اور ایک اجنبی نو جوان کو دروازے پر کھڑا دیکھ کر حیران رہ گئی۔

”جی فرمایئے“
”میں لاہور سے آیا ہوں۔ “
”آپ کس سے ملنا چاہتے ہیں۔ “

”میں اس کمرے میں موجود مریضہ سے ملنے آیا ہوں۔ “ میں نے اپنی دلی کیفیت پر قابو پاتے ہوئے کہا وگرنہ حقیقت یہ تھی کہ میرے اند ر طوفان اٹھ رہا تھا۔ میرے کان سرخ ہو رہے اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا پھیلتا جا رہا تھا۔

”لیکن آپ کو کس سے ملنا ہے“ اس عورت نے ذرا نرم لجے میں پوچھا۔ شاید میری اس بات کا اس پر خاصہ اثر ہوا تھا کہ لاہور سے آیا ہوں۔
”آپ میرا کارڈ اندر پہنچا دیں۔ “ میں نے اپنا تعارفی کارڈ اس عورت کی ہتھیلی پر رکھ دیا۔ کارڈ دینے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ میں نے غلطی کی ہے کیونکہ ایک صحافی کو کوئی اس صورت میں کیسے بلا سکتا ہے جب وہ کسی موذی مرض میں مبتلا ہو اور وہ اس کی تشہیر سے خوفزدہ ہو۔

وہ عورت میرا کارڈ لے کر اندر گئی اس کی واپسی فوراً ہی ہوئی۔
”بی بی جی کہتی ہیں کہ میں کسی اخبار والے سے نہیں ملوں گی۔ “

”آپ انہیں کہہ دیں کہ میں اخبار نویس کی حیثیت سے ان سے ملاقات کرنے نہیں آیا بلکہ میرے آنے کا مقصد کچھ اور ہے۔ “یہ سن کر وہ دوبار اندر گئی اور واپس آنے پر اس نے کچھ کہے سنے بغیر دروازہ بند کر دیا۔ مجھے صاف محسوس ہوا کہ کسی نے دروازہ اندر سے لاک کر لیا ہے۔ اسی اثنا ء میں ہسپتال کے دو ملازم تیزی سے میری طرف آئے اور انہوں نے درخواست کی کہ میں فوراً یہاں سے چلا جاؤں۔ چنانچہ میں کسی قسم کی مزاحمت کیے بغیر وہاں سے چل دیا۔ لیکن میری منزل لاہور نہیں تھی بلکہ ہسپتال کے ایم ایس کا کمرہ تھا۔ میں نے اپنا وزیٹنگ کارڈ بھیجا تو فوراً ہی ایک چیڑاسی نے مجھے ہاتھ کے اشارے سے کہا کہ ”اندر چلے جائیں۔ “

ایم ایس نے بڑی گرمجوشی سے ہاتھ ملایا۔ وہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور کے تعلیم یافتہ ایک ملنسار انسان تھے۔ تعارف ہونے پر مجھے بھی خوشی ہوئی۔ ہم نے کچھ دیر لاہور کے بارے میں باتیں کیں۔ ایم ایس ذکا ء اللہ کے پوچھنے پر میں نے بتایا کہ میں کمرہ نمبر 18 میں موجود مریضہ سے ملنا چاہتا ہوں۔ ذکاء اللہ نے کہا شو بزنس سے تعلق رکھنے والے لوگ بعض معاملات میں بہت حساس ہوتے ہیں۔ یہ خاتون بیمار ہے اور اپنے قریبی ترین عزیزوں کے علاوہ کسی سے ملاقات نہیں کرے گی۔ اور صحافی کا تو یہ سایہ تک خود پر نہیں پڑنے دے گی۔

میں نے تصور بھی نہ کیا تھا کہ جس خاتون کو ایڈز ہے وہ فلمی دنیا سے تعلق رکھتی ہو گی۔ اپنے جذبات اور ذہن میں ہونے والے دھماکوں پر کنٹرول کرتے ہوئے میں نے کہا: ”اگر میں غیرذمہ دار ہوتا تو لاہور سے کراچی آنے کی بجائے زیادہ سے زیادہ ایک فون کر لیتا اور پھر خبر شائع کر دیتا کہ صف اول کی ایک اداکارہ یا گلوکارہ ایڈز جیسے موذی مرض میں مبتلا ہو گئی ہے۔ لیکن دیکھ لیں میں نے ایسا نہیں کیا۔ “

”مجھے اس بات کا اعتراف کرنے میں کوئی جھجک نہیں کہ آپ نے ایک ذمہ دار صحافی کے ساتھ ساتھ ایک اچھے انسان ہونے کا بھی ثبوت دیا ہے۔ آپ میرے کمرے میں ہی انتظار کریں۔ میں خود ان سے بات کرتا ہوں۔ “ یہ کہہ کر ایم ایس ذکاء اللہ کمرے سے باہر نکل گئے اور میں آنے والے لمحوں کے بارے میں سوچ بچار کرتا ہوا خیالات کی دنیا میں کھو گیا۔ ایم ایس کی واپسی 25 منٹ بعد ہوئی اور آتے ہی انہوں نے بڑے پر اعتماد لجے میں کہا: ”وہ تیار ہے لیکن اس سارے معاملے میں میرا کردار ایک ضامن کا ہے“
”آپ مجھ پر بھروسہ کریں۔ “
”تو پھر آپ جائیں۔ وہ لوگ منتظر ہیں۔ “

میں اپنے جذبات کو چھپاتا ہوا دوبار ہ اسی کمرے کے سامنے پہنچ گیا جہاں تھوڑی دیر پہلے مجھے دھتکار دیا گیا تھا۔ میری دستک پر دروازہ کھلا اور اسی خاتون نے مجھے اندر بلوا لیا جس نے پہلے میری بات سننے سے انکار کر دیا تھا۔ میں دھڑکتے دل کے ساتھ کمرے میں داخل ہوا تو بیڈ پر ایک انتہائی خوبصورت اداکار لیٹی ہوئی تھی۔ اس کے چہرہ کی زردی مائل رنگت صاف بتا رہی تھی کہ وہ اپنی بیماری سے بہت پریشان ہے۔ مجھے تصور بھی نہ تھا کہ میری ملاقات ملک کی صف اول کی ایک اداکارہ سے ہوگی۔

”مجھے افسوس ہے کہ میں نے آپ کو زحمت دی۔ دراصل میں ایڈز پر ریسرچ کر رہا تھا۔ میری ملاقات کئی مریضوں سے ہوئی لیکن وہ تمام کے تمام مرد تھے۔ آپ پہلی خاتون ہیں جس کے بار ے میں مجھے اطلاح ملی اور میں لاہور سے آپ کو مطلع کیے بغیر یہاں چلا آیا۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ زندگی کے حصے میں بھی میرے قلم سے یا میری زبان سے آپ کا نام ادا نہیں ہو گا۔ لیکن میں اتنا ضرور چاہوں گا کہ آپ مجھے اپنے بارے میں کچھ ضرور بتائیں۔ “

وہ چند لمحے آنکھوں اور چہرے پر اداسی لئے میری طرف دیکھتی رہی اور پھر اس کی آنکھوں میں نمی آ کر ٹھہر گئی۔ وہ بولنا چاہتی تھی مگر الفاظ اس کی زبان کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ کمرے میں عجیب قسم کی اداسی چھائی ہوئی تھی۔ مجھے خود سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اسے ڈھارس کیسے دوں۔ وہ اداکارہ تھی مگر اس اداکاری نہیں کر رہی تھی۔ کئی منٹ میں بھی خاموش ریا اور وہ بھی اپنے بیڈ کے قریب رکھے ایک گلدستے کو گھورتی رہی۔ کبھی اس کے چہرے کی رنگت گلابی پھولوں جیسی تھی مگر اب چہرے سے یوں لگتا تھا جیسے کسی نے خون نچوڑ دیا ہو۔ 28 برس میں وہ 38 برس کی لگ رہی تھی۔

اس کی ملازمہ نے خاموشی کو توڑتے ہوئے کہا کہ ”بی بی جی! پانی دوں۔ “
”ہاں دو۔ “

پھر اس نے اشارے سے ملازمہ کو کہا کہ چائے بناؤ۔ میں نے انکار نہ کیا۔
وہ بولی ”کبھی سوچا بھی نہ تھا کہا آپ ٹھیک ہو جائیں گی۔ “
وہ میرے فقرے پر ہنسی۔ اس کا لہجہ صاف بتا رہا تھا کہ وہ ایڈز جیسے موذی مرض سے اچھی طرح آگاہ ہے۔

”یہ سب کچھ کیسے ہوا؟ “
”میں نہیں جانتی کہ میرے جسم میں زہر کیسے پہنچا اور اس کا ذمہ دار کون تھا۔ اتنا ضرور کہوں گی کہ شو بزنس کی دینا میں آنے کی قیمت تو ادا کرنی پرتی ہے۔ ڈاکڑ کہتے ہیں کہ ابھی میرا مرض انتہائی ابتدئی سٹیج پر ہے لیکن میری حالت بتاتی ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ “

”آپ چھ ماہ پہلے تک تو تندرست تھیں۔ “
”جی“
”پھر اچانک یہ سب کچھ کیسے ہو گیا۔ “

”کچھ بھی اچانک نہیں ہوا۔ میں چار پانچ سال پہلے ایک فلم کی شوٹنگ کے سلسلے میں ہانگ کانگ گئی تھی۔ وہاں بہت زیادہ بے احتیاطی کی۔ شاید یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ بیرون ملک زندگی کے خوبصورت لمحات گزارنے کا میرا پہلا تجربہ تھا۔ وہاں میں نے کئی اوٹ پٹانگ حرکتیں کیں۔ شوٹنگ ختم ہونے کے بعد میں نے وہاں مزید ایک ماہ قیام کیا۔ مجھے وہاں کے پرستاروں نے اصرار کر کے روک لیا تھا۔ بلاشبہ وہ زندگی کے حسین ترین لمحات تھے۔ میں نے ایک آزاد پرندے کی طرح فضاؤں میں اڑان بھری لیکن اندازہ نہ تھا کہ میری بے احتیاطی یہ دن بھی دکھائے گی۔

ہانگ کانگ میں بے تحاشہ شراب نوشی اور نئے دوستوں کے ساتھ شب بسری کے باعث میرے جسم میں کہیں ٹائم بم فٹ ہو گیا۔ جو ٹک ٹک کرتا رہا لیکن میں اس کی ٹک ٹک نہ سن سکی۔ پھر اچانک مجھے احساس ہوا کہ میرا وزن کم ہونا شروع ہو گیا ہے۔ نزلہ زکام جیسی معمولی بیماری تو پہلے بھی لگ جایا کرتی تھی اور میں سردی میں نزلے زکام کی پرواہ کیے بغیر آئس کریم کھا لیا کرتی تھی۔ مگر اس دفعہ جو بیماری لگی وہ لمبی ہی ہوتی چلی گئی۔ مجھے تین ماہ سے زکام اور بخار تھا۔ اب شاید میرے پھیپھڑوں میں پانی پڑ گیا ہے اور جگر میں پیپ بھر گئی ہے میرے جسم کا مدافعتی نظام تباہ ہو رہا ہے۔ “

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں