بلال غوری کا ناقابلِ اشاعت کالم: قبروں سے ہڈیاں نکال کر ٹرائل کا فلسفہ


ہمارے ہاں معاشرتی بانجھ پن اور بے نوری کا ماتم کرنے والوں کی کوئی کمی نہیں۔ مایوسی کا پرچار کرنے والے صبح شام یہ باور کرانے میں لگے رہتے ہیں کہ اب وہ ”بابے ‘‘ نہیں رہے جو شوقِ کمال یا خوفِ زوال سے بے نیاز ہو اکرتے تھے۔ سچ تو یہ ہے کہ معاملے کی تہہ تک جا کر حقیقت کا سراغ لگانے والے مجھ جیسے لوگ بھی ان کی باتوں پر کان دھرنے لگے تھے لیکن چیف جسٹس ثاقب نثار کی شکل میں قدرت نے ایک ایسا سچا اور کھرا بابا عطا کیا جسے دیکھ کر سب مشکلیں کافور اور تمام اندیشے دور ہو گئے۔

بعض ناہنجار و کج رفتار لوگوں نے ”بابے ‘‘ کے تصور کی بھد اڑائی لیکن عقیدت مندوں نے ان کے توسط سے دل کی مُراد پائی۔ مجھے یقین ہے کہ معاشرے کی اصلاح کرنے والے ”بابے‘‘ آج بھی بدرجہ اتم موجود ہیں اور بھیس بدل کر اپنے اپنے شعبہ جات میں لوگوں کی رہنمائی کا فریضہ بطریق احسن سرانجام دے رہے ہیں۔ انہیں پہچاننے اور دریافت کرنے کے لئے وہ دیدہ بینا درکار ہے جو مجھ جیسے گناہ گار انسانوں کو ودیعت کی گئی ہے۔ میرا خیال ہے کہ لوگ خواہ مخواہ صوفیوں کے گیت گاتے اور فرزانوں کو سر چڑھاتے ہیں۔ فلسفی تو سلجھی ڈور کو مزید الجھا کر زندگی مزید دشوار بناتے اور واعظ پند ونصائح سے کام چلاتے ہیں۔ مصلحت بیں فقیہان عصر سے تو وہ رند بادہ خوار اچھے جو ترنگ میں آکر ایک ہی جملے میں لگی لپٹی رکھے بغیر من کی بات کہہ جاتے ہیں۔

اب آپ میرے ممدوح چیف جسٹس، جسٹس ثاقب نثار کو ہی دیکھ لیں۔ ان کے ارشادات عالیہ مجتمع کرنے لگیں تو اقوالِ نثار کے عنوان سے ایک ضخیم مسودہ مرتب کیا جا سکتا ہے۔ مگر میں محض نمونے کے طور پر چند سنہری قول پیش کرنا چاہتا ہوں۔ مثال کے طور پر چند روز قبل انہوں نے منرل واٹر سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے ایسے گہر ہائے آبدار آشکار کیے جو انمول ہیں۔ چیف جسٹس نے فرمایا، آپ ملک سے عشق کریں، ملک کو معشوقہ سمجھ کر اس کا خیال کریں، سب ٹھیک ہو جائے گا۔ میرا خیال ہے کہ لوگوں نے کسی قدر شناس جوہری کی طرح علم وفکر کے ان موتیوں کو پرکھنے کی کوشش نہیں کی اور محض عدالتی ریمارکس سمجھ کر نظر انداز کردیا۔ آج تک ہمیں یہی بتایا گیا کہ ملک کو مادرِ وطن کہا جاتا ہے، یہ سرزمین ماں دھرتی ہے اور حقیقی ماں کی طرح اس کا احترام کرنا چاہیے۔

یہ فرسودہ اور پرانا تصور وطن عزیز کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا تھا۔ اس پرفتن دور میں ماں کو کون پوچھتا ہے، لڑکیاں ایک پل میں والدین کی محبت اور شفقت بھلا کر اپنے عاشق کے ساتھ فرار ہو جاتی ہیں۔ بیٹے کسی قاتل حسینہ کی زلفِ گرہ گیرکے اسیر ہوتے ہی ماں کے سینے کا تیر ہو جاتے ہیں۔ معشوقہ بیوی بن کر گھر آتی ہے تو ماں کی زندگی مزید دشوار ہو جاتی ہے۔ اگر ہمارے معاشرے میں لوگ ملک سے عشق کرنے لگیں، معشوقہ کی طرح اس کے ناز نخرے اٹھائیں، محبوب سمجھ کراسے سینے سے لگائیں اوراتصال جسم سے حِظ اٹھائیں تو حالات سنور جائیں۔ یقیناًیہ عشق ہیر رانجھا یا سسی پنوں کے پیار کی طرح روحانی اور پاکیزہ جذبوں کا حامل تو نہیں ہوگا، اس عشق کو آپ مرزا صاحباں کی رومانوی داستان سے تشبیہہ دے سکتے ہیں جس میں روحانی جذبوں کے برعکس جسمانی و نفسانی خواہشات غالب آگئی تھیں۔ لیکن عشق تو عشق ہے خواہ کسی بھی درجے اور سطح کا ہو۔ مِرزا اور صاحباں چونکہ ہمارے زمانے کے عاشق اور معشوق ہیں اس لئے ان کی منزل و مراد تو محض وصال صنم ہی ہے۔ اس لئے جذبات واحساسات کا اظہار کچھ یوں کیا جاتا ہے:

حجرے شاہ مقیم دی اِک جٹی عرض کرے
میں بکرادیواں پیر دا جے سر دا سائیں مرے
ہٹی سڑے کراڑ دی جتھے دیوا نِت بلے
کُتی مرے فقیر دی جیہڑی چوں چوں نت کرے
پنج ست مرن گوانڈھناں، رہندیاں نوں تاپ چڑھے
گلیاں ہوجان سنجیاں، وِچ مِرزا یار پھرے

جناب چیف جسٹس چند روز قبل کسی مقدمے کی سماعت کے دوران جلال میں آئے تو کہا، وقت آگیا ہے کہ مُردوں کو قبروں سے نکال کر ان کا ٹرائل کیا جائے۔ تعصب اور عناد میں اندھے ہوجانے والے لوگ شاید اس طرح دار بیان پر بھی تنقید کریں مگر سچ یہ ہے کہ آج تک انصاف کی کرسی پر بیٹھے کسی شخص کو ایسی حق گوئی کی توفیق نصیب نہیں ہوئی۔ اور اس میں برائی کیا ہے؟ دنیا بھر کی مہذب قوموں کے ہاں یہ تصور موجود ہے کہ جرم کبھی پرانا نہیں ہوتا۔ کئی ایسی مثالیں موجود ہیں کہ عدالتوں نے سنگین جرائم میں ملوث افراد کے مر جانے کے بعد ان کے خلاف کارروائی کی۔ اگر یہ گورے اپنے ڈکٹیٹر کرام ویل کی قبر کشائی کرکے اس کی ہڈیاں نکال کر ٹرائل کر سکتے ہیں تو ہمارے ہاں ایسا کرنے میں کیا مضائقہ ہے؟

سینیٹ تھومس بیکٹ 12ویں صدی میں کینٹبری بشپ تھے جسے بادشاہ ہنری دوئم کے خلاف بغاوت پر قتل کر دیا گیا۔ 300سال بعد جب ہنری ہشتم نے کیتھولک چرچ کے متوازی اینجلکل چرچ بنایا توسینیٹ تھومس بیکٹ کی ہڈیاں نکال کر اس کا ٹرائل کیا گیا، غداری کا مجرم قرار دیتے ہوئے اس کی ہڈیاں سرعام نذر آتش کر دی گئیں۔ ہٹلر کے ساتھی مارٹن بورمان کو ان کی موت کے بعد ایک ملٹری ٹریبونل نے سزائے موت سنائی۔ جان وِک لف نے 14ویں صدی میں کیتھولک چرچ کے نظریات سے انحراف کیا، بائبل کا انگریزی زبان میں ترجمہ کیا، عدالتیں اس کی زندگی میں انصاف کے تقاضے پورے نہ کر سکیں تو کیا ہوا، وک لف کی موت کے بعد اس کا ٹرائل ہوا، عدالتی فیصلے کی روشنی میں اس کی کتابیں نذر آتش کر دی گئیں اور قبر سے ہڈیاں نکال کر چوراہے میں آگ لگا دی گئی۔

مائی لارڈ! جو آپ نے فرمایا، وہ سب قوم کا سرمایا ہے۔ لیکن میری ایک عاجزانہ التماس ہے۔ اگر آپ مناسب سمجھیں تو پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کے مقدمے کی کارروائی روک دیں یا پھر یونہی اس مقدمے کو لٹکائے رکھیں تاکہ ان کی طبعی رحلت کے بعد ہم اس فلسفے کی روشنی میں ایوب خان، یحیٰ خان، ضیاء الحق اور پرویز مشرف کی ہڈیاں نکال کر ان کا ایک ساتھ ٹرائل کرنے کا خواب پورا کر سکیں۔ قتیل شفائی نے کہا تھا:

زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں
میں تو مر کر بھی مری جان تمہیں چاہوں گا

زندہ ڈکٹیٹروں کا احتساب تو سبھی عدالتیں اور تمام منصف کر سکتے ہیں، بات تو تب ہے کہ ان ڈکٹیٹروں کے مرنے کے بعد ان کی ہڈیاں نکال کر انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں۔

نوٹ: کالم نگار پاکستان کے سب سے بڑے اشاعتی ادارے “جنگ“ سے منسلک ہیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں