حافظ حمداللہ… مذہب اور تہذیب پر کلنک


Hamdullahکل رات پاکستان کے ایک ٹی وی شو میں جمیعت علمائے اسلام (ف)کے سینیٹر حافظ حمداللہ نے مباحثہ میں شریک ایک خاتون کے بارے میں جو لب و لہجہ اختیار کیا، اسے نرم سے نرم الفاظ میں بھی شرمناک اور ناقابل قبول قرار دیا جائے گا۔ اس سے بھی زیادہ افسوس کا مقام یہ ہے کہ یہ ساری گفتگو اسلام اور اس کے ’زعما‘ کے وقار کا تحفظ کرنے کے نام پر کی گئی ہے۔ پورا پاکستان اس غیر اخلاقی، گھٹیا اور بدترین زبان درازی پر کانوں کو ہاتھ لگا رہا ہے حتیٰ کہ آج صبح قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی اس سانحہ کی گونج سنائی دی لیکن جمیعت علمائے اسلام (ف) کے کسی ذمہ دار کی طرف سے اس بارے میں شرمندگی یا ندامت کا ایک لفظ سننے کو نہیں ملا۔

مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں کام کرنے والے دین کے ’ سرفروشوں‘ کے اس گروہ کو اگر یقین ہے کہ وہ عورتوں کے خلاف اس قسم کی مجاہدانہ کاوشوں سے اسلام کا تحفظ کرسکتے ہیں تو وہ سنگین غلط فہمی کا شکار ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب بھی کوئی شخص اسلام کا ٹھیکیدار بن کر ان بنیادی اخلاقیات کی دھجیاں اڑاتا ہے جن پر اسلام ایک مہذب معاشرہ استوار کرنے کی بات کرتا ہے، تو وہ متعدد لوگوں کو اس دین برحق سے برگشتہ کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ عقیدے کے نام پر کی جانے والی یہ غنڈہ گردی لوگوں کے دلوں میں صرف ان کٹھ ملاؤں اور جہلا کے بارے میں ہی غصہ اور نفرت پیدا نہیں کرتی بلکہ اس ملک اور دنیا بھر میں اس قسم کے رویہ کو دیکھنے اور سننے والا عام سادہ لوح مسلمان نوجوان، اس عقیدہ کے بارے میں بھی شبہات کا شکار ہوجاتا ہے ، بزعم خویش جس کی حفاظت کرتے ہوئے یہ ملا آپے سے باہر ہوئے جاتے ہیں۔ منبر رسول پر بیٹھ کر ملا یہ تو بتاتا ہے کہ کسی غیر مسلم کو مسلمان کرنے کا کیا اجر ہے، لیکن اب ان سب منبر نشینوں کو یہ تبلیغ کرنی چاہئے کہ سیاسی مفاد کے جوش میں ہوش کھوکر جو ملا، نوجوانوں کے دلوں میں اسلام کی حقانیت کے بارے میں شبہات پیدا کرنے اور نتیجے میں انہیں دین سے دور کرنے کا سبب بنتے ہیں، ان کے لئے کیا جزا یا عذاب تجویز ہوگا۔

بدنصیبی کی بات ہے کہ حمداللہ نام کا یہ شخص اس ملک کے ایوان بالا کا رکن ہے، ایک سیاسی مذہبی جماعت کا رہنما ہے اور کسی نہ کسی مدرسے کا فارغ التحصیل ہے۔ اس کے لب و لہجہ اور ایک خاتون کے ساتھ فحش کلامی کے بعد اگر کچھ لوگ یہ کہیں کہ اس سے ان مدرسوں کے ماحول اور تربیت کا پتہ چلتا ہے جہاں یہ ملا تعلیم پاتے ہیں تو اس رائے کو کیسے مسترد کیا جائے گا۔ حمداللہ اگرچہ عورتوں کے ساتھ یا ان کے بارے میں توہین آمیز گفتگو کرنے والا پہلا یا آخری مولوی نہیں ہے۔ اس قسم کی فحش اور درشت کلامی کی درجنوں مثالیں حالیہ برسوں میں ہی مختلف ملاؤں کے دہن مبارک سے ادا کئے ہوئے جملوں میں تلاش کی جا سکتی ہیں۔ یہ لوگ قرآن اور سنت کا نام لے کر جس رویہ کا مظاہرہ کرتے ہیں ، وہ ان کی گھٹیا ذہنیت، کج فہمی، کم تر سماجی شعور اور بداخلاقی کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔ یہ سب لوگ اسلام جیسے دین کے نام پر کلنک بنے ہوئے ہیں۔ یہی لوگ اور ان کی باتیں دنیا بھر میں اسلام کے خلاف برسر پیکار لوگوں اور عناصر کے ہاتھ میں دو دھاری تلوار بن کر مسلمانوں کے مفاد پر وار کررہی ہیں۔ لیکن کسی گندے جوہڑ کے مینڈک کی طرح محدود سمجھ اور شعور کے حامل یہ کم علم اور بے شعور لوگ مسلسل اپنی تخریب کاری میں مصروف ہیں ۔ کوئی ان کا راستہ روکنے والا نہیں ہے کیوں کہ انہوں نے دین کا پرچم اٹھا رکھا ہے۔ اس ملک میں کیا کوئی ایسا ذی شعور عالم دین موجود نہیں ہے جو صورت حال کی سنگینی کو سمجھ سکے اور اس طرز عمل کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرے۔

حمداللہ نے جو بدکلامی کی ہے، اور جس جارحانہ اور متشدد رویہ کا مظاہرہ کیا ہے، وہ پاکستانی معاشرے میں عورتوں کے حقوق کے حوالے سے نہایت سنگین تصویر پیش کرتا ہے۔ بدنصیبی کی بات ہے کہ ایک عورت کے ساتھ فحش کلامی کا المناک واقعہ ایک ایسے پروگرام میں پیش آیا جس میں ملک میں خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد اور جرائم پر بات کی جا رہی تھی۔ گزشتہ ایک ماہ میں مختلف مقامات پر تین لڑکیوں کو زندہ جلانے کے واقعات سامنے آچکے ہیں۔ کل ہی لاہور میں پسند کی شادی کرنے پر ایک باپ نے اپنی بیٹی اور داماد کو قتل کیا ہے۔ اس صورت حال میں پوچھا جا سکتا ہے کہ یہ کون سنگدل ہیں جو اس قسم کے گھناؤنے جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ٹی وی شو میں حمداللہ کی باتیں اور حرکتیں دیکھ کر کیا یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ وہ ایسے لوگ ہوتے ہیں۔ جو اپنی مرضی کے خلاف بات سننا گوارا نہیں کرتے اور شرافت اور ثقاہت کا کا جبہ اتار کر ننگا شیطانی ناچ دکھانے سے بھی باز نہیں آتے۔ ایسے لوگ جب ٹی وی شو پر نہیں ہوتے تو وہ ایسی مجرمانہ ذہنیت کے ساتھ کسی بھی قسم کا جرم کرنے کے اہل ہوتے ہیں۔ یہ لوگ اسمبلیوں، سیاسی پارٹیوں یا مذہب کے لئے ہی کلنک نہیں ہیں بلکہ کسی مہذب معاشرے کے لئے بھی ہر وقت خطرے کی گھنٹی ہیں۔

اس واقعہ کے بعد سب سے پہلے جمیعت علمائے اسلام (ف) کی قیادت پر لازم ہے کہ وہ اس سانحہ کا نوٹس لے اور حمداللہ اور اس قبیل کے دوسرے لوگوں کو قیادت اور نمائیندگی کے منصب سے ہٹا کر، تربیت کے لئے دوبارہ کسی بہتر مدرسے میں روانہ کرے۔ یہ مطالبہ جائز اور بروقت ہے کہ سینیٹ جیسے مقدس ایوان کو ایسے بدکلام شخص کے طرز عمل کا نوٹس لینا چاہئے ۔ اس قسم کے لوگ سینیٹ کے نام بھی دھبہ ہیں۔ رضا ربانی کی سربراہی میں سینیٹ کو ضرور یہ سوچنا ہوگا کہ بدتر سماجی رویہ کا مظاہرہ کرنے والے سینیٹر کی تنبیہ ، اصلاح (گو کہ یہ لوگ ناقابل اصلاح ہیں) یا نجات حاصل کرنے کا کیا طریقہ ہو سکتا ہے۔ اور سب سے آخر میں ریٹنگ کی دوڑ سے قطع نظر ملک کے سب ٹاک شوز کو یہ فیصلہ کرنا چاہئے کہ وہ حمداللہ کو آئندہ کسی مذاکرہ میں گفتگو میں حصہ لینے کی دعوت نہیں دیں گے۔ اس طرح کم از کم باقی لوگوں کو یہ وارننگ مل سکے گی کہ کپڑوں سے باہر ہونے کی صورت میں وہ ٹیلی ویژن سے بھی باہر ہو سکتے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 414 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

One thought on “حافظ حمداللہ… مذہب اور تہذیب پر کلنک

  • 12-06-2016 at 9:15 am
    Permalink

    حمداللہ کے رویے کو ہرگز سپورٹ نہیں کیا جا سکتا کھل کر مزمت کی جانی چاہیئے
    لیکن آپ کی تحریر بھی تصویر کا محض ایک رُخ دکھا رہی ہےاور جزئیات سے کُل کا فیصلہ کرنے کی کوشش ہے۔

Comments are closed.