فاخرہ نورین کی / کا “خندہ ہائے زن”


یہ کوئی فخر کی بات نہیں اس لئے شرمندگی سے بتا رہے ہیں کہ ادب سے تعلق ہونے کے باوجود خصوصاً فکاہیہ مضامین کو باقاعدہ کتابی شکل میں پڑهنے کا یہ ہمارا پہلا موقع ہے-
طنز اور مزاح سے الگ الگ تو ہمیشہ واسطہ پڑا- کبهی طنز کے تیروں سے زخم زحم ہوئے اور کبهی مزاح سے حظ اٹهایا- لیکن انہیں بیاہتا جوڑے کی صورت ایک دوسرے کے پہلو بہ پہلو بلکہ ایک دوسرے سے بغل ہوتے ہوئے دیکهنے کا اتفاق بہت کم ہوا-
مزاج پر اُن دنوں شدید مردنی کا راج تها جب فاخرہ سے زبردستی مفت میں منگوائی ہوئی اس کی ( دستخط زدہ ) فکاہیہ مضامین پر مبنی کتاب “خندہ ہائے زن” ہم تک پہنچی-
جونہی “خندہ ہائے زن” کو سرہانے رکها مزاج کی مردنی صاحبہ منہ پهلائے پائنتی جا بیٹهیں اور لگیں اواہی تواہی بکنے، کیونکہ محترمہ ہم سے ہمیشہ خوب ناز اٹھوانے کی عادی رہی ہیں اس لیے اپنی یہ بے حرمتی برداشت نہ کر پائیں۔
خیر ہم نے بھی زیادہ پروا نہ کی اور کتاب کی پشت پہ لگی فاخرہ کی فخر و انبساط کے غلبے یا شاید زکام سے لال گلابی ہوتی ستواں ناک والی تصویر کو دیکھنے اور دل ہی دل میں سراہنے کے ساتھ ہی کتاب کھولی۔
اس کتاب کا پہلا مضمون “قینچی” پڑھ کر یوں محسوس ہوا کہ جیسے فاخرہ کے قلم میں قینچی جیسی کاٹ تو ضرور ہے لیکن ابھی یہ قینچی تھوڑی کُند ہے جو کبوتروں کے پر تو کاٹ لے گی لیکن باز اور شِکرے بچ نکلیں گے۔ اس لیے اس قینچی کو ابهی مزید “لگوانے” کی ضرورت ہے-
جب اگلا مضمون “چربی” پڑها تو اپنا خیال خود ہی رد کرنا پڑا اور ہم نے بخوشی اس تبدیلی کو قبول کیا۔ (یہ الگ بات کہ فی زمانہ ہم ہٹ دھرم مشہور ہیں) اور دل سے مان لیا کہ بهئی خوب ہی تیز دهار ہے یہ قینچی اور اگر اسے مزید “لگوایا” گیا تو کسی کا بھی اس کی زد سے محفوظ رہنا دشوار تر ہو جائے گا- اس کی دھار مزید تیکھی ہو گئی تو بہت ممکن ہے کہ پھر یہ قینچی والی فرشتوں اور پریوں کے بھی پَر کترنے نکل پڑے۔
مضمون “چربی” میں محترمہ فرماتی ہیں کہ “کھانا اور رشوت کا پیسہ سامنے ہوں تو ہاتھ روکنا اپنا پِتّا مارنے کے مترادف ہے۔ چونکہ پِتّا جسم اور نظامِ انہضام کا اہم جزو ہے لہٰذا اسے بچانا ضروری ہوتا ہے ۔
اگرچہ بعد ازاں بسیار خوری اور بے احتیاطی کے سبب پِتّے میں پتھری ہو جاتی ہے جو آپریشن ‌‍‍‌کے بغیر نہیں نکلتی۔
پِتّے کا آپریشن عوام میں عام ہے مگر خواص کا آپریشن کرنے والے اِدارے بھی کچھ نہیں کر پا رہے کیونکہ بُھوک انہیں بھی لگتی ہے”۔
سچ پوچھیے تو یہ مضمون نظام کہنہ کی جانب اشارہ ہے جبکہ اب تو تبدیلی کے نعرے والی نئی حکومت اور نیا نظام رائج ہے جو اچّھے اچھّوں کا پِتّا پانی کیے دے رہا ہے۔

ہمارا کسی بھی کتاب پر بات کرنے یا رائے دینے کا طریقہ باقیوں سے ذرا مختلف ہے، ہمیں کتاب اور “کتاب دار” پہ بات کم اور اپنے فلسفے زیادہ بگھارنا کبھی بھی پسند نہیں رہا۔ عموماً ہمارے ہاں ہوتا یہ ہے کہ بات بظاہر کسی دوسرے کی کتاب پر ہو رہی ہوتی ہے اور مقصد خود کو نابغے ثابت کرنا ہوتا ہے۔
ہم اس روایت کے باغیوں میں سے ہیں اس لیے ہمارے ہاں ہمارے فلسفوں سے زیادہ کتاب کے اقتباسات ملیں گے جو پڑھنے والوں کو ہماری نام نہاد ذہانت و فطانت کی بجائے کتاب کی طرف مائل کریں گے۔ ہاں کہیں کہیں اس بارہ مسالے والی مسور کی شاہی دال پر ہماری رائے کا بگھار بھی ضرور لگا ہو گا لیکن وہ بگھار اس کے کرارے پن کو ابھارنے کے لیے ہو گا نہ کہ اس کے اصل سواد کو مسخ کرنے کی ناکام کوشش۔
اب یہی دیکھیے کہ آخر بندر بھی انسان ہوتا ہے اس لیے اس بات پر بندر احتجاج بھی کر سکتا ہے کہ بھئی میں اتنا بھی ڈھیٹ نہیں ہوں لیکن لکھاری محترمہ کا دل گردہ مضبوط ہے سو بندر سے بِنا گھبرائے کہتی ہیں کہ
“درخت پر چڑھا بَندر اور عورت پہ چڑھی چربی اُتارنے کے لئے بہت اُستادی درکار ہے” ۔
پھر اسی مضمون میں کہتی ہیں کہ “ہمارے جسموں پہ چربی جبکہ علم و ادب تہذیب و ثقافت اور رویوں پر چربے کی یلغار ہے”-
بھلا کون سورما ہو گا جو ان کی اس بات کو دلیل سے جھٹلائے یا رد کرے، ہاں البتہ زور زبردستی کی بات الگ ہے۔

ذیل میں درج کردہ اقتباس سے آپ کو اندازہ ہو گا کہ کہنے والوں نے سچ ہی کہا ہے کہ ہر بری سے بری شے کا بھی ایک لطیف پہلو ہوتا ہے جو صرف محترمہ جیسی بصیرت رکھنے والوں کو ہی دکھائی دیتا ہے۔ لکھتی ہیں
“انگریزی محاورہ ہے کہ جب عزت لٹنا ناگزیر ہو جائے تو مدافعت چهوڑو اور ( کم از کم ) اس سے لطف تو لینا شروع کر دو- تیسری دنیا کے باسی اگر اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر آواز اٹهانے کی بجائے ان سے لطف کشید کرنے لگ جائیں تو ان کا شمار دنیا کی سب سے زیادہ خوش رہنے والی قوموں میں ہونے لگے گا”-
پیاری پروین شاکر کے لیے دلی دعا کہ وہ ایسے مواقع پر جذبات و احساسات کی صحیح طور پر ترجمانی کرنے کے لیے کیا حسین مصرع کہہ گئی ہیں کہ “بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی” ۔

“جس گوشت کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نازن” یہ مضمون دراصل انتہائی معاملہ فہم، زمانہ شناس اور سوجھ بوجھ رکھنے والی دو انتہائی زیرک اور باریک بین بہنوں کا علمیت سے لبریز آپسی مکالمہ ہے جس میں ہارمونز کی تبدیلیوں سے لے کر “اصلی اور فصلی” ہر دو طرح کے مرغانِ چمنِستانِ زمانہ کے ساتھ ساتھ داڑھی سے مردانگی کے تعلق اور ہڈی چوسنے کے درست طریقے کے حوالے سے مختلف موضوعات زیرِ بحث لائے گئے ہیں۔ جیسے دو ملاؤں میں مرغی حرام ہوتی ہے بالکل اسی طرح دو بہنوں میں تیسری پھاپھا کُٹنی (جو کہ ہم ہرگز نہیں ہیں) اس لیے ان کی بات میں ہرگز دخل نہیں دیں گے البتہ یہ ضرور کہیں گے کہ ان کی گفتگو سے “چس” واقعی بڑی آئی اے۔

اگلا مضمون چھجو کا چوبارا پڑھا، یہ مضمون پڑهنے سے پہلے منڈی بہاؤ الدین جیسے مضافاتی شہر کو دیکهنے کا کبهی شوق ہوا نہ اس کی طرف دِل میں کوئی “کِهچ” محسوس ہوئی لیکن یہ مضمون پڑھ کر ایسا لگا کہ منڈی بہاؤ الدین نہیں دیکها تو بصارت جیسی انمول نعمت کا حق ادا نہیں کیا-
محترمہ اپنی جنم بهومی کے حسن و فراخی اور اپنے سمیت وہاں کے رہنے والوں کی فراخ دلی و فراخ مزاجی کی شان میں قصیدے پڑهتے ہوئے اس کی وجہء تسمیہ بیان کرنے لگیں اور بیانیہ میں ایسی دردمندی تھی کہ آنسوؤں کی نمی لفظوں میں محسوس کی جا سکے۔
فرماتی ہیں کہ “یہ خوبی بهی کچھ اسی زمین کا حصہ ہے کہ “منڈی” ہونے کے باوجود اس نے اجناس کی تجارت تک ہی خود کو محدود رکها- انسانوں اور ان کے جذبات کو مال تجارت نہیں بننے دیا” یقین مانیے ان کی اس بات پر آنکهوں کے کنارے بهیگ گئے (کیونکہ ناچیز کی آنکھوں میں دیر سے بلب (انرجی سیور) کی روشنی پڑ رہی تھی) اور اسی روشنی کا کوندا سا اک خیال کی صورت اچانک ذہن میں لپکا کہ اس درد مند دل رکھنے والی ہستی سے چھجو کے چوبارے کا واسطہ دے کر کیوں نہ تھوڑا ہی ادھار مانگ لیا جائے! چاہ کر انکار نہ کر پائیں گی۔

آگے ذکر ہے “وردی” کا تو صاحبو اور صاحباؤ کون نہیں جانتا کہ وردی والوں نے کبھی پیش منظر اور کبھی پس منظر میں رہ کر قوم ( bloody civilians ) کو کیسے کیسے کچوکے لگائے ہیں۔ لیکن فاخرہ کے ہاں ذکر “اساتذہ” کی وردی کا ہے۔ “ودری” میں ایک جگہ لکھتی ہیں ” کچلی ہوئی خودی کے ساتھ اقبال پڑھاتے اساتذہ اور کھلے بالوں کے ساتھ ٹی وی پر کھانا بناتی عورتیں ہمیں سخت ناپسند ہیں۔ ثانی الذکر سے کھانے میں بال آتا ہے اور اول الذکر سے دل میں”۔ ان کی اس بات سے یہ اندازہ لگانا قطعی دشوار نہیں کہ یہ کھانے اور دل دونوں کے ہی معاملے میں انتہائی حساس واقع ہوئی ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں