ادب کے بڑے بڑے نام اور عمیرہ اور نمرہ احمد کی مخالفت


کچھ دنوں پہلے فیس بُک پر ایک پوسٹ دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں ایک مرد لکھاری نے ایک خاتون لکھاری کی تحریری منظر کثی کے متعلق بڑے ظنزیہ انداز میں بات کی تھی مگر یہ کوئی واحد پوسٹ نہیں تھی، سوشل میڈیا پر خواتین لکھاریوں کے انداز تحریر کو لے کر منفی انداز کے تبصرئے اکژ میری نظر سے گزرتے ہی رہتے ہیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ اگر خواتین اتنا ہی بکواس لکھتی ہیں تو پھر اُن کے ناولز ہر بار بیسٹ سیلرز کی فہرست میں کیوں آتے ہیں۔

کوئی لگ بھگ سال پہلے میں نے ایک ادبی فورم کے زیر اہتمام ایک افسانوی مقابلے میں شرکت کی تھی۔ وہاں موجود ادب کے بڑے بڑے نام خواتین لکھاریوں کو لکھاری تسلیم ہی نہیں کرتے تھے۔ مجھے اس تعصب کی وجہ کبھی سمجھ نہیں آئی۔ میں حیران ہوتی ہوں کہ کسی خاتون لکھاری نے تو کبھی کسی مرد لکھاری کے انداز تحریر کو تنقید کا نشانہ نہیں بنایا بلکہ ہمیشہ سراہا ہی ہے مگر مرد لکھاریوں نے بہت کم خواتین لکھاریوں کی تحریروں کو قابل تعریف سمجھا ہے۔ خواتین مصنفین کے لئے ایک اصطلاح استعمال کی جاتی ہے اور وہ ہے ڈائجسٹ رائٹر کی، حالانکہ ڈائجسٹ میں تو مرد حضرات بھی لکھتے ہیں مگر تنقید کا نشانہ خواتین کے مخصوص رسائل ہی بنتے ہیں۔

فیس بُک پر ان رسائل کے متعلق مرد حضرات کے تبصرئے پڑھ کر پہلا خیال تو یہی آتا ہے کہ ان رسائل کے قارین میں صرف خواتین شامل نہیں ہیں بلکہ مردوں کی ایک بڑی تعداد بھی بہت شوق سے نہ صرف ان کہانیوں کو پڑھتی ہے بلکہ اُن پر تبصرئے بھی کرتی ہے۔ ڈائجسٹ پر سب سے پہلا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ ڈائجسٹ خواب دکھاتے ہیں حالانکہ مجھے تو یہ ان ڈائجسٹوں اور ان میں لکھنے والی مصنفات کا صنف نازک پر احسان لگتا ہے کہ اُنہوں نے عورت کو خواب دیکھنا سکھا دیے۔

ہم جس معاشرئے میں رہتے ہیں وہاں عورت کو گھومنے پھرنے کی آزادی نہیں ہوتی۔ خواتین کا ایک مخصوص حلقہ احباب ہوتا ہے اور وہ ایک مخصوص ماحول کے اندر رہتے ہوئے ساری زندگی گُزار دیتی ہیں۔ ایسے میں یہ ڈائجسٹ اُسے رنگوں اور خوشبووٗں بھری ایک ایسی دُنیا میں لے جاتے ہیں جہاں وہ کچھ دیر کے لئے ہی سہی پر اپنی خواہشات کو خوابوں کا رنگین پیراہن دیے سکتی ہے۔ یہ خواب اُسے حوصلہ دیتے ہیں، اُسے اُمید دیتے ہیں اور یہی حوصلہ اور اُمید اُس کے اند ر کی عورت کو مضبوط بناتا ہے۔ عمیرہ احمد اور نمرہ احمد پر سب سے بڑا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ وہ مذہب کا چورن بیچ کرپیسے کماتی ہیں۔

دنیا بھر میں ہر لکھنے والے کا اپنا ایک مخصوص لکھنے کا انداز ہوتا ہے۔ اگر عمیرہ اور نمرہ مذہبی انداز کی کہانیاں لکھتی ہیں تو یہ اُن کا طرز تحریر ہے۔ جو اُن کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ اُن کی کہانیاں پڑھ کر اگر لوگ مذہب کے قریب ہوتے ہیں اور منفی کی بجائے کسی مثبت راستے کا انتخاب کرتے ہیں تو اس سے زیادہ قابل تعریف بات کیا ہو سکتی ہے مگر اعتراض کرنے والے اعتراض کرنے لئے کوئی نہ کوئی پہلو ڈھونڈ ہی لیتے ہیں۔ فرحت اشتیاق کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اُن کی کہانیاں ہیرو ازم کا شکار ہیں۔

ہیرو کی خوبیاں بیان کرتے ہوئے وہ تمام حدیں پھلانگ جاتی ہیں حالانکہ یہی کام بہت سے مرد لکھاری اپنی تحریروں میں بھی کرتے ہیں فرق صرف اتنا ہے کہ وہ اپنی ہیروئن کے حُسن کے قصیدئے بیان کرتے ہوئے ہر حد پار کرتے دکھائی دیتے ہیں مگر اُس پر کوئی بات نہیں کرتا۔ پچھلے دنوں مجھے نمرہ احمد کے ساتھ ایک تقریب میں شرکت کا موقع ملا یہ تقریب اُنہوں نے اپنے بیسٹ سیلر ناول نمل کی کامیابی کے دو سال مکمل ہونے کی خوشی میں رکھی تھی۔ یہ ایک ٹکٹ بیس ایونٹ تھا۔ نمرہ کی اس تقریب سے پہلے ہی اُن پر بہت اعتراض اُٹھائے گئے اور یہی کہا گیا کہ اُنہوں نے اس قدر مہنگی ٹکٹ رکھ کر ایک بہت غلط روایت کا آغاز کر دیا ہے۔

لوگ کچھ بھی کہیں مگر نمرہ کے اس ایونٹ کی کامیابی اس بات کی دلیل ہے کہ ڈائجسٹ رائٹر آج بھی لوگوں کے دلوں میں بستے ہیں، وہ معاشرہ جہاں ابھی بھی کتاب خرید کر پڑھنے کا چلن اتنا عام نہیں ہوا وہاں ڈھائی سو کے قریب لوگ محض ایک ڈائجسٹ رائٹر سے ملنے کے لئے ٹکٹ خرید کر آتے ہیں اور اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ خوابوں کو رنگین پیراہن دینے والے یہ ڈائجسٹ اور یہ ڈائجسٹ رائٹرز علامت ہیں اُمید اور محبت کی، اور جب تک زندگی ہے خوابوں کو رنگین پیراہن دینے کا یہ سلسلہ کبھی بھی ختم نہیں ہو گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں