سید کاشف رضا کاناول چار درویش اور ایک کچھوا


سید کاشف رضا کا پہلا ناول ”چار درویش اور ایک کچھوا“ ہمارے اردگرد کی حقیقتوں کے اوپر تہہ بر تہہ پڑے ہویے پرتوں کو اتارنے کی ایک گستاخ اور بے باک کوشش ہے۔ پڑھنے والا اس ناول کے ہرباب کو ایک ایک مستقل تھیم سمجھ کر آگے بڑھتا ہے لیکن اختتام تک پہنچتے پہنچتے یہ انکشاف ہوتاجاتا ہے کہ ناول کے بظاہر اپنی ذات میں مکمل دکھنے والے تمام کردار کس طرح اس بڑے منظرنامے کی تشکیل اور تخلیق میں ناگزیر طور پر شامل بلکہ ملوث ہیں جس منظرنامے کو ان کرداروں کے بغیر جنرلائز کرکے سمجھنا ممکن ہی نہیں ہے۔ یہ ناول گویا جہالت، محرومی، تنگ نظری، جرم، تشدد، گھٹن اور سماجی منافقت کی باہمی رشتوں کی کوائف کی جستجوہے۔

انسان کے لیے اس کے الفاظ مافی الضمیر کےاظہار کا ذریعہ ہے یاپھر الفاظ کے اوٹ میں انسان اپنا اصل چھپانے کی کوشش کرتاہے؟ جب ہم کسی شخص کی گفتگو پر غور کرتے ہیں تو اس کے الفاظ کا تحت السطور ہمیں اس کے الفاظ سے مختلف اور بعض اوقات تو بالکل مخالف سمت کو دھکیل رہا ہوتا ہے۔ حقیقت کی تلاش میں انسان کی ناکامی کا سیدھا سادا سبب تو یہی دشواری ہے کہ ایک ہی کلامیہ کی مختلف شیڈز میں سے کیا اصل ہے اور کیا کچھ محض اس اصل کے بے کار اور اضافی سایے۔ لفظ اور حقیقت کا اگر کوئی رشتہ ہے بھی تو اتناہی ہے کہ تحت اللفظ کا شعور بھی لفظ ہی سے تو حاصل کیاجاسکتاہے۔

خود حقیقت کی ہیئت اور ماہیت اس ناول کی موضوعات میں سے بھی ایک ہے یعنی حقیقت کی حقیقت۔ ناول نگار کی تخلیق کردہ ایک کردار کا کہنا ہے کہ ”ایک سطح پر فیکٹ اور فکشن دونوں میں کچھ زیادہ فرق ہے نہیں کیونکہ فیکٹ بیان کرنے والا بھی بہت کچھ ایڈٹ کر ہی دیتاہے“۔ لیکن حقیقی زندگی میں تو حقیقت کی تعین کا مسئلہ اس سے کہیں زیادہ گھمبیرتا کا شکار ہے۔ بالفرض اگر یوں کہاجاے تو یہ زاویہ کتنا تبدیل ہوجاے گا کہ فکشن فیکٹ ہے اور فیکٹ فکشن، خود اس ناول میں کئی جگہوں پر کچھ باتیں بڑی عریان انداز میں بیان کی گئی ہیں لیکن کیا یہ درست نہیں ہے کہ حقیقت کی اصل اس کی وہی عریان صورت ہے جس صورت کے ساتھ وہ پہلی تصور کے ساتھ ہمارے ذہنوں میں منعکس ہوتا ہے اور جس شکل میں اسے ناول کے کرداروں سے دکھلایا گیا ہے اس لحاظ سے فیکٹ اور فکشن کی مروجہ ترتیب معکوس ہوجانی چاہیے، فیکٹ وہی ہے جسے کوئی تخلیق کار بھی اپنے ذات کے جانب منسوب نہیں کرسکتا بلکہ اپنے گھڑے ہویے کیریکٹرز کے زبانی سامنے لانے کی کوشش کرتا ہے جبکہ عام بول چال میں ہم جن استعاروں اور لفظی تکلفات کے سہارے ایک دوسرے سے مخاطب ہوتے ہیں یہ سارے کاسارا فکشن ہی تو ہے۔

ناول میں جابجا ریالٹی کی اپنی ریالٹی پر فلسفیانہ انداز سے روشنی ڈالنے کے علاوہ دوسرا اہم موضوع جو ناول کے شروع سے آخر تک بار بار نمودار ہوتا اور پھر واقعات کی ابھار میں پس منظر میں چلاجاتا ہے وہ جبر واختیار کا ہے۔ اس باب میں بھی سید کاشف رضا کا ذاتی وسیع مطالعاتی تناظر اور عالمی ادب کی مختلف سرچشموں کی دھاروں سے براہ راست سیراب ہونے کا احساس پڑھنے والے کے دامن گیر ہوجاتاہے۔ ناول نگار نے زندگی کے اتفاقات کے ہاتھوں انسان کی دائمی اسیری کی بھی خوب وکالت کی ہے اور دوسری طرف بورخیس کی ایک کہانی کی حیرت انگیز پلاٹ کی مدد سے زندگی کی میدان کے نا مختتم امکانات اور لا محدود راستوں کی موجودگی کی بھی نشاندہی کردی ہے۔ تاہم یہ فیصلہ شاید انہوں نے پڑھنے والوں پر ہی چھوڑ رکھا ہے کہ اس ناول کو پڑھنے کے بعد اپنے آپ کو وہ جبری اتفاقات میں محصور سمجھتے ہیں یا امکانات کی ایک وسیع دنیا میں انتخاب کی کھلی آزادی سے بہرہ مند ایک خود مختار وجود۔

ناول نگار نے معنی کی رد تشکیلیت کی نظریے کو پوری قوت کے ساتھ اجاگر کیا ہے بلکہ ایک طرح سے ناول کے کردار بھی ایسے تخلیق کیے گیے ہیں کہ ایک ہی واقعہ راوی کے نظر میں ایک روپ میں اور وہی واقعہ حکایت کی زبان میں دوسرا رنگ اپنا لیتاہے، کاشف رضا اس عمل کو تقلیب کہتے ہیں تقلیب یعنی تبدیل کرنا، ری شیپنگ، ری ماڈلنگ، ری ڈیزائیننگ، ری آرگنائزیشن۔ لیکن معنی کی ڈی کنسٹرکشن کے علاوہ ناول نگار نے اسلوب واظہار کی بھی ڈی کنسٹرکشن کی ہے جسے آپ کلینتھ بروکس کے الفاظ میں ”بیان کی بدعت“ کہہ سکتے ہیں۔

اردو کو رومن رسم الخط میں لکھنے اور انگریزی الفاظ کو اردو کے رائج رسم الخط میں اس انداز میں برتاگیا ہے جیسا کہ ان الفاظ کا استعمال آج کل ہمارے روزمرہ کی بول چال میں اب ایک حقیقت بن چکا ہے لیکن لکھنے والے عام طور پر ان الفاظ کے ایسے عربی اور فارسی زدہ متبادلات ڈھونڈ کر لکھتے ہیں جس سے عبارت کی ثقل میں تو اضافہ ہوتاہوگا لیکن پڑھنے والے کے لیے یہ متبادلات بالکل نامانوس ہوتے ہیں۔ کاشف رضا نے اس بدعت کو توڑ دیا ہے یا کلینتھ بروکس کی تعبیر میں خود ہی بیان کی بدعت کی بنیاد رکھ دی ہے۔ ”چار درویش اور ایک کچھوا“ میں تکنیک کے کمال سے کرداروں کی حقیقت بڑی وضاحت کے ساتھ ظاہر کی گئی ہے اور ساتھ ہی حقیقت کے کردار کو بھی متنوع رنگوں اور سحر انگیز بو قلمونیوں کے ساتھ دکھایا گیاہے۔

سید کاشف رضا نئے زمانے کا اپنا شاعر تو ہے ہی، عالمی ادب پر بھی ان کی گہری نظر ہے یہاں تک کہ وہ کوئی معمولی سی بات کو بھی فکشن کے کسی اعلی تصور وتخیل کی روشنی کے بغیر دیکھنے کاروا دار نہیں ہے۔ روزنامہ جنگ میں ان کی کالم نویسی کے مختصر دوارنیے کے معدودے چند کالمز میں ہی وہ ہربات کو ایک وسیع تناظر کے ساتھ پیش کرنے کی انفرادیت قایم کرنے کی روایت کا داغ بیل ڈالنے نکل پڑے تھے پھر پتہ نہیں کیا وجہ ہوئی کہ ان کی کالم نویسی کاسلسلہ آگے نہ بڑھ سکا۔ وہ نوم چومسکی کی تحریروں کی تراجم پر مشتمل دوکتابیں بھی شائع کرچکے ہیں۔

نوم چومسکی امریکہ کے استعماری پالیسیوں کے بڑے ناقد ر ہے ہیں خصوصا دہشت گردی کے ایشو کو اپنے سیاسی استعماری مقاصد کے لیے استعمال کرنے پر وہ امریکی اسٹیبلشمنٹ کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے آیے ہیں تاہم کاشف رضا نے اپنے ناول میں دہشت گردی کی انڈسٹری کے پس پردہ عوامل ومحرکات سے صرف نظر کرتے ہویے اس انڈسٹری کے مقامی ہرکاروں کی نفسیات، اسی طرح ان کا سیاسی دفاع کرنے والے حلقوں کی بیانیے کو اس خوبی کے ساتھ لکھا ہے جس کے لیے یقینا ناول نگار خود اپنے ذات کو ان کرداروں کی ماحول، نفسیات اور معاشرت میں ڈھالنے کے تجربے سے گزرے ہوں گے۔

” چار درویش اور ایک کچھوا“ یقینا بامقصد ادب کا نمایندہ ناول کہلاے گا۔ اس ناول میں جہاں بندر اور انسان میں ننانوے فی صد چیزیں کامن ہونے کی بات کہی گئی ہے تو یہ گویا نخل آرزو کی اس پھل کی برگ وبار لانے کا حسرت ہے کہ کاش انسان اور انسان کے درمیان تصادم کی بنیاد بننے والی چیزوں کا تناسب کم سے کم تر ہوجائیں۔ انسان کو بندر کے ساتھ مشترکات یاد دلانے کا خوبصورت خیال کاشف رضا کا ہے لیکن انسانوں کے درمیان نفرت، تعصب اور بیگانگی کی دیواریں ڈھ جانے کا خواب ہم سب کاہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں