ہود بھائی، رابرٹ گولڈ مین اور فتوے


husnain jamal (3)کوڈک کمپنی کے پاس 1998 میں ایک لاکھ ستر ہزار ملازمین تھے اور دنیا میں استعمال ہونے والا 85 فی صد فوٹو گرافی پیپر وہی بیچتے تھے۔ چند ہی برس میں وہ سب کاروبار نہ صرف تباہ ہو گیا بلکہ وہ دیوالیہ ہو چکے تھے۔ جو کوڈک کے ساتھ ہوا وہ بہت سے اداروں کے ساتھ اگلے دس پندرہ برس میں ہو سکتا ہے، وہ لوگ جانتے ہی نہیں کہ ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ 1998 میں کیا آپ نے یہ سوچا تھا کہ چند ہی سال بعد آپ تصویریں فلم رول پر نہیں کھینچیں گے؟ پہلا ڈیجیٹل کیمرہ 1975 میں ایجاد ہوا تھا مگر اس کی تصویر کچھ اتنی عمدہ نہیں ہوتی تھی۔ پکسلز کی تعداد بہت کم ہوتی تھی۔ صرف دس ہزار میگا پکسلز۔ آج آپ بات کر رہے ہوتے ہیں اٹھارہ بیس سے لے کر پچاس ساٹھ میگا پکسلز تک کی۔ ایک میگا پکسلز کا مطلب ہے دس لاکھ پکسلز۔ کر لیجیے حساب کتاب!

ڈاکٹر رابرٹ گولڈ مین کہتے ہیں کہ یہ سارا چکر مورز لا (مور نامی سائنسدان کا قانون) کے عین مطابق ہے۔ رابرٹ گولڈ مین ایک میڈیسن ڈاکٹر، کراٹے ماسٹر، سماجی علوم کے ماہر اور گنیز بک ورلڈ ریکارڈ ہولڈر ہیں، بہت سی چیزیں ایک ساتھ کرنے والے انسان ہیں۔ مورز لا آسان الفاظ میں یہ بتاتا ہے کہ ٹیکنالوجی کی ترقی بجائے جمع در جمع ہونے کے ضرب در ضرب کے انداز سے ہوتی ہے۔ یعنی ایک ایجاد آج کے دن اتنی اہم نہیں لگ رہی لیکن بیس سال اس پر ہونے والی مسلسل محنت کے نتیجے میں وہ دنیا بدل کر رکھ سکتی ہے۔ تو رابرٹ گولڈ مین کہتے ہیں کہ یہی حال آرٹیفشل انٹیلیجنس، صحت، آٹو میٹک گاڑیوں، بجلی سے چلنے والی کاروں، تعلیم، تھری ڈی پرنٹنگ، زراعت اور لوگوں کی نوکریوں کے ساتھ ہو گا۔

سافٹ وئیر بہت سے کاموں کے روایتی طریقہ کار کی جگہ سنبھال لیں گے۔ جیسے آج کل ہر آدمی کمپیوٹر پر خود ٹائپ کر لیتا ہے تو سٹینوگرافر کی نوکریاں کم سے کم ہوتی جا رہی ہیں۔ Uber صرف ایک سافٹ وئیر ہے، ان کی اپنی کوئی گاڑیاں نہیں مگر وہ دنیا کی بڑی ٹیکسی کمپنیوں میں سے ہے۔ یہی معاملہ Airbnb کا ہے۔ دنیا کے سو سے زائد ممالک میں آپ کو کہیں بھی رہائش چاہئیے ہو، وہ آپ کو دیتے ہیں جب کہ ان کی اپنی ایک ٹکے کی جائیداد نہیں ہے۔

آرٹیفیشل انٹیلیجنس یا کمپیوٹر کی ذہانت پچھلے کئی برس میں بہت تیزی سے بڑھ چکی ہے۔ بیماریوں کی تشخیص، قانون دانی اور کھیلوں تک میں وہ انسانوں سے بہتر پرفارم کر رہے ہیں۔ 2030 تک وہ مکمل طور پر انسانی ذہانت سے آگے نکل جائیں گے۔ 2020 تک گاڑیوں کا روائتی تصور ختم ہو جائے گا، آٹو میٹک گاڑیاں جو بغیر ڈرائیور اور سافٹ وئیر سے چلیں گی، مارکیٹ میں آنی شروع ہو جائیں گی، اپنی کار لینے کی بجائے لوگ ایسی گاڑی زیادہ پسند کریں گے جو ایک فون کرنے پر دروازے کے باہر ان کی منتظر ہو۔ نہ پارکنگ کا جھنجھٹ، نہ چلانے کی فکر، اور جب ایسا ہو گا تو حادثات بھی یقینی طور پر کم ہو جائیں گے، بازاروں میں پارکنگ نہ ملنے والا مسئلہ بھی کچھ حل سا ہو جائے گا اور ماحول بھی بہتر رہے گا کیوں کہ وہ گاڑیاں بجلی سے چلیں گی۔ روایتی کار ساز ادارے دیوالیہ ہو سکتے ہیں، حادثات نہ ہونے کے برابر ہو گئے تو انشورنس کمپنیوں کا وجود بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ لوگ شہروں میں مکان بنانے کی بجائے دور دراز پرسکون علاقوں میں رہنا پسند کریں گے کیوں کہ گاڑی خود چلانی نہیں ہو گی اور اس میں جو وقت ضائع ہوتا ہے وہ اس دوران بھی کام کر رہے ہوں گے۔ شہروں کا شور اور آلودگی بجلی کی گاڑیوں کی وجہ سے کافی کم ہو جائے گا۔ 2027 تک کارخانوں میں بننے والی دس فی صد چیزیں لوگ خود اپنے تھری ڈی پرنٹروں پر بنا رہے ہوں گے۔

گولڈمین کے مطابق اگلے بیس برس میں روائتی نوکریاں ستر سے اسی فیصد تک ختم ہو سکتی ہیں۔ کسان اپنا مکمل کام مشینوں سے لے رہے ہوں گے۔ پروٹین روائتی جانوروں کے علاوہ کیڑے مکوڑوں سے بھی حاصل کی جا سکے گی اور 2036 تک شاید انسان کی اوسط عمر سو برس ہو!

مگر ذرا رکیے۔ یہ سب مغربی دنیا کی باتیں ہیں۔ ہم درویش صفت لوگ ہیں، ہمارا اس سارے معاملے سے کیا لینا دینا۔ ہمارے یہاں انسان کی اوسط عمر اس کے مذہب پر انحصار کرتی ہے، اس وقت بھی کرے گی۔ ہاں یہ اتنے سارے بھانت بھانت کے دوسرے مذہب والے لوگ معلوم نہیں اس وقت ہوں گے بھی یا نہیں۔ تو یہ اوسط عمر وغیرہ سب جہالت کی باتیں ہیں اور رزق دینے والی بے شک خدا کی ذات ہے، ہمیں کیا پڑی ہے کہ ہم نوکریوں کی فکر کریں، کون سی آج ہم نے کوئی فکریں پالی ہوئی ہیں۔ گاڑی واڑی نہ ہم پہلے بناتے تھے نہ آئندہ بنائیں گے، یہ دنیاوی کام وہ کم بخت کفار کو ہی زیب دیتے ہیں، ہم اس وقت بھی اپنی اپنی مہران چلائیں گے جو وہی 1980 کے ڈیزائن والی ہو گی، بر پشم قلندر!

hoodbhoyبیماریوں کے علاج کی بھی سب کی اپنی کہانیاں ہیں۔ ہر دوا کے ساتھ اس کے سائیڈ ایفیکٹس ہوتے ہیں، ہم چوں کہ مشرقی اور یونانی طب کا ایک عظیم الشان ماضی رکھتے ہیں اس لیے بیماریوں کی تشخیص وغیرہ کے لیے یہ مشینیں ہمیں متاثر نہیں کر سکتیں۔ ہمارے حکیم تو نبض چھو کر معدے تک پہنچ جاتے ہیں، یہ سافٹ وئیر کیا بیچتے ہیں۔ تو یہ ساری انسانی ترقی اور یہ چمک دمک سب مغرب کا دکھاوا ہے عارضی چیزیں ہیں، دنیاوی باتیں ہیں اور دنیا میں ہی رہ جانی ہیں، ہم اس لیے نہ ان پر کبھی بات کرتے ہیں اور نہ سنتے ہیں۔

پرویز ہود بھائی نے گولڈ مین جیسی باتیں تمام عمر کیں، ہم نے کان نہیں دھرے، ہمارا شعبہ ہی نہیں۔ ایک طویل انٹرویو ان کا ہوا جس میں انہوں نے ڈاکٹر عبدالسلام کے متعلق چند فقرے کہے اور وہ جملے پوری قوم لے اڑی۔ ہم تو پہلے ہی کہتے تھے، ہمیں تو پہلے ہی معلوم تھا، دیکھا وہ احمدی تھے اور متعصب مذہب پرست تھے، ان کی تمام تر وفاداریاں اپنے مذہب کے ساتھ تھیں، کوئی اور نہیں کہہ رہا، خود ہود بھائی کہہ رہے ہیں، لبرلز، سیکیولرز کے اپنے آدمی ہیں، دیکھا، اندر کے آدمی کی گواہی آ گئی، یہ لوگ اپنے منہ سے کہہ رہے ہیں کہ عبدالسلام ایسے تھے اور ویسے تھے۔

ہم شخصیات کے متعلق بات کرتے ہیں۔ ہم ان کے مذاہب کے متعلق بات کرتے ہیں۔ ہم گھروں میں، فون پر یا تھڑوں پر گپ شپ میں پورے ملک کی سیاسیات اور اس کی تزویراتی گہرائی تک جان لیتے ہیں۔ ہمیں اسرائیل کے ایٹمی پلان سے لے کر ہندوستان کے میزائلوں کی تعداد کا علم ہوتا ہے۔ جس وقت رابرٹ گولڈ مین یہ باتیں کر رہے ہوتے ہیں، ہم اس وقت بھی انہیں چکروں میں لگے ہوتے ہیں۔ ہماری ترقی بھی ضرب در ضرب کے حساب سے ہوتی ہے، مورز لا یہاں بھی لگتا ہے لیکن صرف فتوے لینے کے لیے۔ آئیے دیکھیے مستقبل میں دنیا جب یہ سب کر لے گی تو ہم کیا پوچھ رہے ہوں گے۔

مولانا صاحب، کیا خواتین کا آٹومیٹک گاڑی میں بغیر محرم کے بیٹھنا جائز ہے؟

حضور، مجھے گوشت سے الرجی ہے، کیا مصنوعی پروٹین والی غذا میرے لیے حلال ہے؟

حضرت صاحب، کیا کھیت ایسے مزارعے کو ٹھیکے پر دیا جا سکتا ہے جس نے بینک سے سود پر ساری زرعی مشینری اٹھائی ہو؟

قبلہ، میرے روبوٹ نے کل ایک بندہ مار دیا ہے، اس کی دیت مجھ پر کتنی واجب ہے؟ کیا اس پر پالتو جانوروں والا حکم لگے گا؟

میاں جی، تھری ڈی پرنٹر میں کئی کیمیکلز استعمال ہوتے ہیں، ان سے بنائے گئے مگ میں پانی پیا جا سکتا ہے؟

اور وہ سوال جو 2060 تک بھی سدابہار رہے گا؛ سرکار، وہ جی میری بیوی بہت نافرمان ہے، میں اسے کہاں کہاں اور کیسے کیسے مار سکتا ہوں؟ ویسے جلا ہی نہ دوں؟


Comments

FB Login Required - comments

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 145 posts and counting.See all posts by husnain

One thought on “ہود بھائی، رابرٹ گولڈ مین اور فتوے

  • 12-06-2016 at 2:49 pm
    Permalink

    جب دنیا یہ سب کرلے گی تو یہ سوال پوچھنے سے کیا ہوگا؟ کیا یہ سوالات ہمیں ترقی سے روکیں گے؟ کیا نئے دور کیساتھ فقہ میں نئے مسائیل در آنا بند ہوجائیں گے؟ یا ترقی کے بعد یہ پوچھنا نا جائز ہوجائیگا؟ چلیں مباشرت جیسی چیزوں کے حوالے سے سوالات ایک طرف رکھتے ہیں، حلال حرام گوشت، سودی لین دین وغیرہ کے بارے میں کئے جانیوالے سوالات بھی آپ کی نظر میں دقیانوسی اور غلط ہیں؟ اگر ایسا ہی ہے تو پھر اگر مگر، لفاظی کو ایک طرف رکھ کر صاف کہہ کیوں نہیں دیتے اسلام، فقہ، ایمانیات، عبادات ان ساری چیزوں سے مجھے نفرت ہے اور یہ چیزیں جدید دُنیا میں نہیں چلیں گی؟

Comments are closed.