نیک بنیں لیکن خدائی ترجمان نہ بنیں


زندگی حادثات سے عبارت ہے۔ ایسی زندگی ایک واہمہ ہے جس میں نہ اندیشہ ہو اور نہ ملال۔ آنے والا ہر دن خدشات میں گھرا ہوتا ہے۔ کون ہے جو اس سے نجات پائے۔ قرآن مجید نے اللہ کے دوستوں کے بارے میں کہا کہ انہیں کوئی حزن ہو گا اور نہ ملال۔ مولانا امین احسن اصلاحی نے تصریح کی کہ یہ جنت اور اجر کا بیان ہے۔ نیک لوگوں کو ایسی زندگی ملے گی جو اندیشوں سے پاک ہو گی۔ اس زندگی میں تو یہ ممکن نہیں۔ انسان کا معاملہ مگر عجیب ہے۔ وہ دوسروں پر گزرے حادثات کی تعبیر کرتا ہے اور گاہے اس طرح کہ خدائی فیصلوں کا ترجمان بن جاتا ہے۔

بکر اقتدار سے محروم ہو کر جیل پہنچ گیا۔ ہم نے فیصلہ سنایا ”یہ مکافات عمل ہے‘‘ ۔ زید کا خاندان پے در پے حادثات کا شکار ہو گیا۔ باپ پھانسی چڑھ گیا۔ ایک بیٹا پراسرار موت کی نذر ہو گیا۔ دوسرا قتل ہو گیا۔ ماں حواس کھو بیٹھی۔ ہم نے فیصلہ سنایا: ” یہ خاندان عبرت کا نشان بن گیا‘‘۔ کبھی کہا: ” فلاں ابن فلاں کی قبر دیکھو ! کبھی کوئی دعائے مغفرت کرنے والا نہیں دیکھا۔ یہ اللہ کا انتقام ہے۔‘‘

مکافات عمل ، عبرت، خدا کا انتقام۔ انسان فیصلے سنا رہا ہے اور اپنے تئیں خدا کا ترجمان بن بیٹھا ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ کون سا ذریعۂ علم ہے جو اس باب میں ہماری راہنمائی کرتا اور ہمیں یقینی نتیجے تک پہنچاتا ہے؟ ایک واقعے پر ہم یہ حکم کیسے لگا سکتے ہیں کہ یہ عبرت کا مظہر ہے؟ کسی کے بظاہر غیر مطلوب انجام کو ہم خدا کا انتقام کیسے کہہ سکتے ہیں؟

اس میں شبہ نہیں کہ دنیا میں بہت سے واقعات مکافات عمل کا مظہر ہوتے ہیں۔ یہ بھی سچ ہے کہ بعض عبرت کے لیے ہوتے ہیں۔ عالم کا پروردگار یہ چاہتا ہے کہ لوگ امورِ زندگی میں خدا کو بے دخل نہ سمجھیں۔ انہیں یاد رہے کہ اس کا اقتدار قائم ہے اور وہ اگر کسی کو مہلت دیتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اس مہلت کو مختصر نہیں کر سکتا۔ وہ آج بھی ماورائے اسباب مداخلت کرتا اور اس پر ہمیشہ قادر ہے۔ یہ سچ ہے کہ اس زندگی کا نظام اس نے کچھ اصولوں پر کھڑا کر رکھا ہے لیکن ایک بڑا سچ یہ ہے کہ وہ خود کبھی کبھی ان اصولوں سے بے نیاز ہو کر بھی اپنا فیصلہ سناتا ہے۔ وہ بھی اُس کی سنت ہے اور یہ بھی اُس کی سنت ہے۔

سوال البتہ یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی واقعے کے بارے میں ہم متعین طور پر کیسے حکم لگا سکتے ہیں کہ وہ مکافات عمل کا مظہر ہے یا وہ عبرت کا مقام ہے؟ یہ اللہ تعالیٰ کی کس سنت کا اظہار ہے؟ یہ حق ہمیں کس نے دیا کہ ہم کسی انسان کے بارے میں یہ فیصلہ سنائیں کہ اُس کی یہ مشکل اس وجہ سے ہے کہ وہ خدا کی پکڑ کا شکار ہے؟ کیا خدا نے کسی کو اپنا نمائندہ بنایا ہے کہ وہ اس کی طرف سے اعلانِ عام کرے؟

جو لوگ مذہب کی نظر سے معاملات کو دیکھتے ہیں، وہ اکثر ایک غلط فہمی کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اپنے فہم کی بنیاد پر وہ یہ حق رکھتے ہیں کہ کسی متعین واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ فیصلہ سنائیں کہ یہ خدا کی سنت ہی کا ظہور ہے۔ یہ اس کے باوجود ہوتا ہے کہ دنیا میں ہر فیصلے کے بارے میں دو تعبیرات ہوتی ہیں۔ ایک آدمی پھانسی کے گھاٹ اتر جاتا ہے تو ایک گروہ اس کو شہید قرار دیتا ہے اور دوسرا عبرت کا نشان۔ دونوںکے پاس کوئی یقینی ذریعۂ علم نہیں ہے۔ دونوں اپنا اپنا قیاس اور تاثر بیان کر رہے ہیں بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ دونوں اپنے اپنے تعصبات میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ دونوں میں سے ایک غلط ہے۔ جب دونوں طرف قیاس ہو تو فیصلہ کرنا ممکن نہیں ہوتا کہ کون صحیح ہے۔

بھٹو صاحب کے بارے میں ایک بار عدالت سے یہ پوچھا گیا کہ کیا انہیں شہید کہا جا سکتا ہے جبکہ عدالتِ عظمیٰ کے ایک فیصلے کے نتیجے میں وہ قتل کے مجرم قرار پائے اور پھانسی چڑھ گئے؟ اس پر فیصلہ دیا گیا کہ اس کا فیصلہ عدالت نہیں کر سکتی۔ وہ تو ظاہری واقعات پر ہی حکم لگاتی ہے۔ جو انہیں شہید کہتا ہے، عدالت اسے منع نہیں کر سکتی۔

جب لوگ خود کو خدائی ترجمان سمجھ لیتے ہیں تو اس سے بڑی غلط فہمیاں جنم لیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ یا اس کے رسولﷺ نے کوئی بات عمومی مفہوم میں کی ہوتی ہے اور وہ اس کو مطلق کر دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر قربِ قیامت کی نشانیاں ہیں۔ روایات میں ایسے بہت سے واقعات کا ذکر ہے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا ظہور قربِ قیامت میں ہو گا۔ کوئی ایک آدھ روایت ایسی ہو گی‘ جس میں کوئی متعین بات کہی گئی ہو ورنہ اجمال ہے۔ مثال کے طور پر دجال ہے۔ اس کی نشانیوں کا ذکر ہے لیکن کسی کو دجال قرار دینا ممکن نہیں۔ لوگوں نے جب مختلف ادوار میں اپنے طور پر ایسی روایات کا مصداق متعین کرنے کی کوشش کی تو عامۃ الناس کو ایک فتنے میں مبتلا کر دیا۔

حالیہ تاریخ میں پیش آنے والے واقعات پر بھی لوگوں نے ان روایات کا اطلاق کیا۔ یہ افغانستان میں آنے والی سیاسی تبدیلیاں ہوں یا مشرقِ وسطیٰ میں، مختلف گروہوں نے اپنے اقدامات کو روایات کا مصداق قرار دے کر اپنے اقدام کو خدائی فیصلہ کہا اور یہ تاثر دیا ہو کہ اس کا ساتھ دینا اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔ اسی طرح بعض لوگ ان روایات کو متعین کرنے کی کوشش میں لگ گئے اور انہوں نے لوگوں کو ایک غیر ضروری امتحان میں ڈال دیا۔

یہ حق صرف اللہ اور اس کے رسول کا ہے کہ وہ کسی فرد یا گروہ کے بارے میں متعین طور پر یہ فرما دیں کہ فلاں مکافاتِ عمل کا شکار ہے اور فلاں عبرت کا نمونہ ہے۔ جیسے فرعون کے بارے میں کہا گیا کہ اسے قیامت تک عبرت کا نشان بنا دیا گیا ہے۔ یا قرآن مجید نے قانون اتمامِ حجت کے تحت یہ واضح کر دیا کہ اللہ کے رسولﷺ کو بہرحال غالب آنا ہے۔ اب جس بات کو خود اللہ تعالیٰ یا اللہ کے آخری رسولﷺ نے مبہم رکھا، اس کے بارے میں قیاس تو کیا جا سکتا ہے لیکن یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

دنیا اصلاً دارالامتحان ہے، دارالجزا نہیں۔ ہمارے سامنے جو واقعہ پیش آتا ہے، اس کے بارے میں یہ فیصلہ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ امتحان ہے یا کسی فعل کا اجر؛ تاہم ہمیں اپنے طور پر خبردار رہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ ہمیں اپنی آخرت کی فکر کرنی چاہیے۔ ہم کسی کے اقدام پر تبصرہ کر سکتے ہیں۔ ہم اسے غلط یا صحیح قرار دے سکتے ہیں۔ ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ فلاں واقعہ دراصل فلاں اقدام کا نتیجہ ہے۔ لیکن یہ بات کہ وہ مکافاتِ عمل کا کوئی واقعہ ہے یا عبرت کا نشان، اس کا فیصلہ ہم نہیں کر سکتے۔ جیسے انتخابات میں جیت ہار ایک دنیاوی عمل ہے۔ اس میں جیت کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہو سکتا کہ اسے اللہ کی طرف سے عزت مل گئی اور نہ ہار کا مطلب ذلت ہو سکتا ہے۔

خدائی فیصلوں کا اعلان صرف پیغمبر کر سکتا ہے۔ جو فیصلے آپﷺ نے سنائے، ہم انہیں دھرا سکتے ہیں۔ جو بات آپؐ نے عمومی لہجے میں فرمائی، ہم بھی اسے عموم کے ساتھ بیان کریں گے۔ جہاں آپؐ نے کسی فرد کے بارے میں خصوصی ذکر کیا، ہم اسے اسی طرح مانیں گے۔

میں زندگی کو مذہب کی نظر سے دیکھتا ہوں۔ اس کا نتیجہ میرے نزدیک یہی ہے کہ اہلِ مذہب کو خدائی فیصلوں کا اعلان نہیں کرنا چاہیے اور معاشرے کی بھی اس باب میں یہی تربیت کرنی چاہیے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں