لبرل اور مذہبی افراد میں بڑھتی عدم برداشت


rabi waheedکل ایک نجی چینل پر ایک ٹاک شو میں ماروی سرمد اور مولانا حمد اللہ کو سننے کا موقع ملا۔ یہ ٹاک شو خواتین کے حقوق پر ایک گفتگو پر مشتمل تھا۔ مولانا بار بار ماروی سرمد کی بات کو کاٹ رہے تھے جس پر ماروی سیخ پا ہو گئیں۔ پھر کیا تھا دونوں کے درمیان عدم برداشت کا منظر دیکھنے والا تھا۔ دونوں افراد کی جانب سے تند و تیز بلکہ غیر مہذب اور بد تمیزانہ انداز سے الفاظ کی جنگ شروع ہو گئی۔بات کیا تھی کہ دونوں ایک دوسرے کا موقف سننے کو تیار نہیں تھے۔ یا نفرت کی آگ اتنی زیادہ تھی کہ چنگاریاں ایک دوسرے کی طرف اڑ رہی تھیں۔

پاکستانی معاشرے میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت آج ہمارے لیے پریشان کن حد تک مسئلہ بن چکی ہے۔ لاہور میں پسند کی شادی کرنے والی زینت کو ماں نے جلا دیا، مری میں رشتہ سے انکار پر ماریہ کو اُس کا باپ پیٹرول چھڑک کر آگ کی بھٹی میں جھونک دیتا ہے۔ ایبٹ آباد میں ایک لڑکی کو سہیلی کو پسند کی شادی کرنے میں مدد فراہم کرنے کے شبہ میں جرگہ کھلے عام جلا دیتا ہے اور ماں جرگے کا ساتھ دیتی ہے بلکہ اُن کو مدد فراہم کرتی ہے۔ ملتان میں بھی اسی قسم کا ایک واقعہ رونما ہُوا ہے جہاں ماں نے اپنی دو بچیوں کو تیزاب پلا دیا اور خود بھی اسی تیزاب سے زندگی ختم کر لی۔ آپ اگر اپنے اردگرد کا مشاہدہ کریں تو آپ کو اس قسم کے اندوہناک واقعات روزانہ کی بنیاد پر ملتے نظر آئیں گے۔ کچھ منظر عام پر آ جاتے ہیں اور بہت سے وقت اور بے حسی کی دھول میں دب جاتے ہیں۔ حیرت ہوتی ہے کہ دنیا اکیسویں صدی میں قدم رکھ چکی ہے ایک طرف تخلیقِ کائنات کے راز کو پانے کی کوشش جاری ہے اور ہم یہاں زندگی کو بچانے کے لیے سرگرم ہیں۔

marviبات یہ ہے کہ کسی بھی معاشرے میں مختلف طبقہ ہائے فکر کے افراد موجود ہوتے ہیں۔ کچھ مذہبی رجحانات رکھتے ہیں کچھ انتہائی بائیں فکر کے اور کچھ آزاد فکر والے۔ معاشرے میں آزاد فکر میں سوچنے والوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے جنہیں کبھی لبرلز اور کبھی دائیں فکر کے لوگ اپنے دائرے میں لانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ سب کے موقف کو سنا جانا چاہیے۔ اختلاف رائے اس طریقے سے کیا جانا چاہیے کہ سب کا موقف سامنے آ جائے۔ میڈیا پر بیٹھے افراد یقیناً اپنے اپنے میدانوں میں ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔ شہری علاقوں میں ٹی وی کے کرداروں کو بہت حد تک سمجھ جاتے ہیں مگر ابھی بھی بہت سے دیہاتی علاقوں میں لوگ ٹی وی ٹاک شوز سے اثر پذیری لیتے ہیں۔

عدم برداشت صرف معاشی تنگ دستی سے ہی پیدا نہیں ہوتی بلکہ اپنے آپ کو کلی اور کامل سمجھنے سے بھی جنم لیتی ہے۔

اب آئیے اس ٹاک شو کی طرف۔ میں سوشل میڈیا پر مولانا حمد اللہ کو پڑنے والی گالیوں کو پڑھ رہی ہوں۔ کیا مجھے معزز ناقدین بتانا پسند کریں گے کہ کیا ماروی کا رویہ بحیثیت عورت اُن کا تقدس عیاں کر رہا تھا؟ ماروی نے اُسے ٹانگیں توڑنے کی دھمکی بھی دی۔ یہ دھمکی اُس وقت دی جب مولانا نے اُسے طوائف نہیں کہا تھا اور نہ اُسے کوئی گالی دی تھی۔ ان سب امور کے پیچھے دونوں فکروں کی نفرت ہے۔ اگر معاشرے میں دائیں اور لبرل فکر مکالمہ کرنا چاہتی ہے تو ایک دوسرے کو برداشت کرنا سیکھیں ورنہ دائیں فکر والے طالبان بننے اور بائیں فکر والے داڑھیاں مونڈنے نکل پڑیں گے اور معاشرہ بے چارہ ایبٹ آباد، مری اور لاہور والی بچیوں کے جنازے اٹھاتا رہ جائے گا۔


Comments

FB Login Required - comments