مولانا، ماروی اور سماجی رویے


naseem kausarمیری رائے میں بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ہم اپنے مخالف نظریات کو بھی وقعت دینا سیکھیں۔خود ہی کو حق پر مت سمجھیں۔دنیا کا کوئی نظریہ حتمی، بہترین اور خامیوں سے ماروا نہیں ہے۔ایسا خیال کر لینا اپنے اوپر علم اور نشوونما کے دروازے بند کر لینے کے مترادف ہے۔یہ انتہا پسند سماجی رویوں کی ترویج کا بھی سبب ہے۔باہمی احترام اور رواداری جو ایک دوسرے کے نقط نظر کو سمجھنے کی کوشش کرنے اور ناقد نقطہ نظر کو جگہ دینے سے حاصل ہوتی ہے پر امن سماجی تعلق کی پہلی شرط ہے۔

ہمارا نظام تعلیم، چاہے وہ مدرسے کا ہو یا مکتب کا، ایسا ہونا چاہیے جس میں نظریاتی اجارہ داری نہ  ہو۔ مخلوط نظریات و مظاہر کو غیر جانبداری سے پیش کرتے ہوئے ان کے مثبت و منفی پہلو اجاگر ہونے چاہیں۔ جب تقابل اور موازنہ ہو گا تو فرد کی نفسیات میں ہٹ دھرمی، انتہا پسندی اور  خود راستی کے عناصر کم ہوں گے۔

ماروی سرمد اور مولانا حمدللہ، دونوں کا ہی رویہ قابلِ ستائش نہیں تھا۔ ماروی سرمد کو البتہ اتنی چھوٹ دی جا سکتی ہے کہ ابتدا اس کی طرف سے نہیں ہوئی۔مولانا بیرسٹر صاحب کی گفتگو سن کر اپنے اعصاب پر قابو نا رکھ سکے اور ماروی کو نقطہ نظر پیش کرنے سے روکنے لگے۔ دو دفعہ ویڈیو دیکھ کر مجھے یہی محسوس ہوا کہ مولانا صاحب ابلاغ کی مہارت سے عاری ہیں اور ان کے اعصاب  جواب دے گئے۔ لیکن یہ امر بھی دلچسپ ہے کہ انہوں نے بیرسٹر صاحب کی بجائے ماروی صاحبہ کو ہی کو قابلِ گرفت کیوں سمجھا؟ اس کے پیچھے بھی پوری سائنس ہے جو نظریات کی نفسیات میں نفوذ ہو کراکتسابی رویے کی صورت میں ظاہر ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

رویہ مکمل طور پر ایسی شے ہے جس کی تربیت ہو سکتی ہے اور جسے پریکٹس سے سیکھا اور بدلا جا سکتا ہے لیکن یہ پریکٹس کہاں ہو؟ یقیناً ان تعلیمی اداروں میں جہاں سے ہم سب زندگی جینے کے طریقے سیکھنے جاتے ہیں اور اب جن کا نمبر بطور تعلیم و تربیت کے ماخذ گھر سے پہلے آتا ہے۔ کیا ہمیں وہاں یہ سہولت میسر ہے؟

مکاتب میں ہمارے اساتذہ چاہے کتنے ہی دقیانوس یا جدید علوم اور تعلیمی مہارتوں سے بے بہرہ ہیں لیکن سیکھنے والوں کے لیے وہاں پھر بھی کچھ نا کچھ سامان موجود ہے۔ اردو ادب، انگلش ادب، لائبریری کی کتب، ٹی وی ڈرامہ، فلم، سائنس کی کتب یہ وہ سب دروازے ہیں جن کے ذریعے ہم اپنا علمی کینوس بڑا کر کے کچھ نا کچھ ذہنی وسعت پیدا کر سکتے ہیں جو ہمارے متحمل رویے کی صورت اجاگر ہو جاتی ہے۔ لیکن مدارس کی صورت حال کیا ہے؟ وہاں کے طالب علم کی شخصیت پالش کرنے کے لیے کن ذرائع اور کن حوالوں کا استعمال کیا جاتا ہے؟ سوائے کراچی، اسلام آباد اور دیگر چند ایک بڑے مدارس کے جہاں جدید تعلیم کا انتظام ہے باقی چالیس پینتالیس ہزار مدارس بنیادی اسلامی تعلیم جو کہ خالص احکامات سے آگہی کی تعلیم ہے اور یک فکری کی سختی سے مقلد ہے، پر ہی تکیہ کیے ہوئے ہیں۔ ہر قسم کی دیگر اخلاقی و دنیاوی تعلیم انہوں نے خود پر حرام قرار دے رکھی ہے۔ نصاب کے علاوہ ایسی غیر نصابی سرگرمیاں بھی وہاں ممنوع ہیں جو کسی قسم کی تربیت میں حصہ لے سکتی ہیں۔ ہم مدارس کے نظام تعلیم پر انگلی اٹھا کر ترامیم اور اصلاحات کی بات کرتے ہیں تو ہمیں مذہب دشمن کہا جاتا ہے۔

مذہب زندگی کے مخصوص پہلوؤں پر ہماری رہنمائی کرتا ہے لیکن بہت سے دنیاوی معاملات ایسے ہیں جن میں مہارت حاصل کرنے کے لیے ماہرین کے ان تربیتی course and discourse سے رہنمائی لینے کی ضرورت پیش آتی ہے جو انہوں نے مختلف سائنسی و نفسیاتی تجربات سے اخذ کیے ہیں۔ہماری خواہش اتنی ہے کہ فقہ کی تعلیم کے ساتھ ساتھ مدارس میں زیر تعلیم طلباء علت و معلول کی حرکیات کے متعلق معلومات اور تربیت بھی حاصل کریں۔ یہ انہیں عملی زندگی میں بہتر طریقے سے ایڈجسٹ کرنے اور بہتر اور قابلِ تقلید انسان بننے میں مدد کرے گا۔ کیا مدارس میں پڑھتے ہمارے ہم وطنوں کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ مخصوص سماجی موقع پر دانشمندی سے کم از کم  ابلاغ اور مکالمے کی مہارت ہی پیدا کر لیں اور جان لیں کہ گفتگو کے آداب کیا ہیں۔ کسی کی بات کاٹنا، اسے بات مکمل نہ کرنے دینا کتنا نامعقول رویہ ہے، دوران گفتگو مبالغے اور دروغ گوئی کے بغیر محض استدلال اور اخلاقی دباؤ ہی سے فریق کو چت کیا جا سکتا ہے۔ اور اڑتے جہازوں کو چپلیں مارنا کوئی قابلِ فخر فعل نہیں۔ دین کی تعلیم کے ساتھ  معاشرتی میل جول بھی سیکھنا چاہیے کیونکہ اس میں حقیقی دوستی اور باہمی روابط کو بہت اچھے طریقے سے سمجھا جا سکتا ہے۔

اگر مدارس میں ایسی تعلیم  و تربیت کا انتظام ہو جائے تو ہمارے مرر و زن ایک دوسرے کو دیکھتے ہی اپنے عصبی نظام میں اتنے اجڈ طریقے سے ہیجان محسوس نا کریں۔ مشہور زمانہ Shuttle and cage تجربے کے مستند نتائج کی روش میں ڈیزائن کردہ کلاس روم یا تربیتی ماحول فراہم کرنا سود مند رہے گا جہاں مشرق و مغرب نظر آنے والی یہ مخلوق (مرد و زن) جو اصل میں ایک دوسرے کا جز اور پرتو ہیں بار بار ایک دوسرے کو سامنے دیکھ کر، ایک دوسرے سے ڈیلنگ کر کے، ایک دوسرے سے ابلاغ کرنے کے مختلف مگر جذباتی و عصبی حوالوں سے کنٹرولڈ طریقے دریافت کرکے اچھے طریقے سے ایک دوسرے کے ساتھ رہنا سیکھ جائیں گے۔کچھ بعید نہیں کہ پھر معتبر حلقے ماروی سرمد کو بھی ایسے اداروں میں تعلیم کے لیے بھیجنے کی ضرورت محسوس کریں.

ماروی صاحبہ مولانا کی داڑھی کو کوس رہی تھیں اور مولانا انکی شلوار کو۔ میں سوچ رہی ہوں کہ لندن جہاں بقول ہمارے اسلامی بھائیوں کے مساجد کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔وہاں کی ماروی سرمد داڑھی والوں کو کیسے  برداشت کرتی ہو گی اور وہاں کا داڑھی والا ملکہ برطانیہ کی منی سکرٹ اور لال سوہی لپ اسٹک سے کیسے نمٹتا ہو گا؟

یہ سب سماجی رواداری اور  قابل عمل رویے سیکھنے کا معاملہ ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

نسیم کوثر

نسیم کوثر سائنس کی استاد ہیں۔ وہ زیادہ تر سماجی و سائنسی موضوعات پر لکھتی ہیں۔ افسانہ نگاری میں بھی طبع آزمائی کرتی رہتی ہیں۔ انہیں شاعری، موسیقی اور فکشن سے لگاؤ ہے۔ موصوفہ کو گھڑ سواری اور نشانے بازی کا بھی شوق ہے۔

naseem has 8 posts and counting.See all posts by naseem

2 thoughts on “مولانا، ماروی اور سماجی رویے

  • 13-06-2016 at 8:12 pm
    Permalink

    مضمون پسند کیا گیا ہے

  • 14-06-2016 at 10:05 am
    Permalink

    مولوی اور ماروی … !
    پروگرام شروع ہوتا ہے, یہ پروگرام ہے ان مظلوم بچیوں کے نام پر کہ جنہیں
    “Honor killing ”
    کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے پروگرام کا عنوان انتہائی مناسب ہے پروگرام کی ہوسٹ ایک طرحدار خاتون نادیہ مرزا ہیں اور پروگرام کے شرکاء ہیں .
    مولانا حمدللہ جے یو آئی ایف
    فیاض الحسن چوہان میڈیا ایڈوائزر تحریک انصاف
    لیگل ایکسپرٹ بیرسٹر مسرور شاہ صاحب
    اور لبرل ایکٹوسٹ ماروی سرمد صاحبہ
    پروگرام کی ابتدا ہوسٹ کی تقریر دلپذیر سے ہوتی ہے مہمانوں کا تعریف کروایا جاتا ہے اور ابتدائی کمنٹس لیے جاتے ہیں …
    ہوسٹ پوچھتی ہے کہ کیا اٹھارہ بیس سال کی لڑکیوں کو زندہ جلا دینا درست عمل ہے … ؟
    پہلے ماروی سرمد بولتی ہیں اور ابتدائی کمنٹس میں ہی یہ بات بھی کہ جاتی ہیں کہ ہمارے سو کالڈ اسلامی معاشرے میں ایسا ہوتا ہے اور فرماتی ہیں کہ ” مذھب کو ڈھال بنایا جاتا ہے”.
    (گراونڈ بنایا جا رہا ہے کہ جو پروگرام کی ٹون سیٹ کرے گا صحافی حضرت سمجھ سکتے ہیں)
    حافظ حمدللہ صاحب سے سوال ہوتا ہے ..
    ” مولانا فرماتے ہیں اس لڑکی پر اتنا ظلم ہوا ہے کہ اسکے لیے صرف مذمت کے الفاظ کافی نہیں ہیں ”
    (پروگرام اچھا جا رہا ہے بنیادی پائنٹ اسٹیبلش ہو چکا ہے اور سب ایک پیج پر ہیں )
    مولانا تین سوال اٹھاتے ہیں
    ١. اس حوالے سے قانون سازی کیا ہے .
    ٢. قانون پر عمل درآمد کیوں نہیں ہوتا .
    ٣. ایسے واقعات کے عوامل کیا ہیں .
    (انتہائی منطقی نکات )
    یہاں سے ہوسٹ قانون سازی کا نکتہ اچک کر لیگل ایکسپرٹ بیرسٹر مسرور شاہ صاحب کی جانب پلٹتی ہیں اور ان سے سوال کرتی ہیں .
    ملاحظہ کیجئے بیرسٹر صاحب کا جواب …
    بیرسٹر صاحب فرماتے ہیں مسلہ قانون نہیں ہے مسلہ کچھ اور ہے
    ( اب گفتگو منطق اور حقائق سے نکل کر پروپیگنڈے اور الزامات کی حدود میں داخل ہوتی ہے )
    ١. قبائلی روایات جہالت پر مشتمل ہیں .
    (یہاں تمام قبائلی روایات کو جہالت قرار دیا جا رہا ہے )
    ٢. ان روایات کو مقتدر ادارے اسلام کے نام پر بیچتے ہیں ،
    (یعنی اسلام ان تمام قبائلی روایات کو جسٹیفائی کرتا ہے )
    ٣. عورتوں پر ہلکا پھلکا تشدد کرنے کی اجازت دیکر لڑکیوں کو جلانے کی راہ ہموار کی گئی .
    (نرا الزام )
    ٤. مولانا شیرانی کیا چرس پی کر سوۓ ہوۓ ہیں آج جمعہ کی نماز ہوئی ہے .
    (گفتگو آؤٹ آف ٹریک ہو جاتی ہے )
    بازگشت ………
    مولانا شیرانی کیا چرس پی کر سوۓ ہوۓ ہیں .
    مولانا شیرانی کیا چرس پی کر سوۓ ہوۓ ہیں ..
    مولانا شیرانی کیا چرس پی کر سوۓ ہوۓ ہیں …
    مولانا شیرانی کیا چرس پی کر سوۓ ہوۓ ہیں ….
    مولانا شیرانی کیا چرس پی کر سوۓ ہوۓ ہیں …..
    اب یہاں رکتے ہیں غور کیجئے
    (صحافی حضرات متوجہ ہوں )
    Media tactics provocative comments to dismantle opponent:
    بحث کے دوران کس انداز میں گفتگو کو اپنے حق میں موڑا جاتا ہے اور کیسے مخالف کو ڈی ٹریک کرکے اپنا موقف ثابت کیا جاتا ہے ملاحظہ کیجئے
    1. Stubbornness:
    ضد اور تکرار کا اصول
    You: “The moon is made of cheese.”
    Opponent: “Umm. It’s a proven fact that the moon is NOT made of cheese.”
    You: “The moon is made of cheese.”
    Opponent: “Ok, look, I have a piece of moon ROCK at my house. It is not made of cheese. It is made of ROCK.”
    You: “The moon is made of cheese.”
    Opponent: “No, it isn’t. We’ve sent ships to the moon. People landed on it. They looked at it. They said it was made of ROCK. They brought back ROCK. It is made out of ROCK.”
    You: “The moon is made of cheese.”
    2. Strategic Compromise:
    مفاد پرست سمجھوتہ
    You: “We should go out to eat tonight.”
    Opponent: “But we ate out last night, and we need to save our money.”
    You: “I don’t care. We should go out to eat tonight, and then we’ll treat ourselves and all of our neighbors to a Broadway play.”
    Opponent: “But that would cost a fortune!”
    You: “Yeah, I suppose you’re right. Gosh, that would run hundreds of dollars, wouldn’t it?”
    Opponent: “Yes, it would.”
    You: “Ok, just dinner it is, then.”
    3. Big Words:
    بڑبولا پن
    “Hockey is better than football.”
    “You are the manifest profusion of delusional ideology incarnate if you do not fulminate against the institution of football with great superciliousness and promulgate the preeminence of hockey.”
    4. Forgetfulness:
    بات پلٹنا
    You: “Virginia has never produced any good presidents.”
    Opponent: “Yes it has. Actually, most of our better presidents came from Virginia.”
    You: “But that’s exactly what I’m saying…I think…I dunno…I forgot.”
    Opponent: “So we agree?”
    You: “Yup. I’m right.”
    5. Lies:
    گمراہ کن جھوٹ
    You: “Dogs are better than cats.”
    Opponent: “I prefer cats.”
    You: “But cats eat babies! They dig their rabid muzzles into infants’ chests and rip their kidneys out!”
    Opponent: “No they don’t!”
    You: “They do! And they killed my great grandmother! Twice !”
    اور ایسے ہی لاتعداد دوسرے ہتھیار کہ جو اگلے کو گمراہ کر دیں اور بحث کا نتیجہ صرف آپ کے حق میں برآمد ہو جیسے …..
    Interruption , Rhymes , Taunting , Random Comments , Clearly , Subliminal Messages , The Last Word , Name Calling , Yelling , Swearing .
    پھر کچھ جسمانی اظہاریوں کا استعمال
    ١. ہاتھوں کا گرا دینا .
    ٢. شانوں کا اچکانا .
    ٣. تضحیک آمیز مسکراہٹ .
    ٤. دانت کچکچانا .
    ٥. کھنکھارنا
    ٦. قہقہہ لگانا .
    ٧. سر پیٹنا .
    اب آتے ہیں اصل گفتگو کی طرف
    یہاں سے گفتگو ہاتھ سے نکل جاتی ہے اور پھر وہ ہوتا کہ جسے زنجیری ردعمل کہا جاتا ہے
    یہ ایک عالمی قانون ہے کہ اگر کسی کو اسکی کسی جذباتی مناسبت کے حوالے سے ابھارا جاوے بے جا تنقید سے بڑھ کر تضحیک کی جاوے مضحکہ اڑایا جاوے الزامات لگاۓ جاویں تو کسی بھی قسم کے رد عمل کی ذمہ داری ابتدا کرنے والے کے سر ہوتی ہے .
    یہاں سے ماروی سرمد گفتگو کو اٹھاتی ہیں اور بیرسٹر مسرور شاہ صاحب کو سیکنڈ کرتی ہیں مولوی حمدللہ انہیں روکتے ہیں …
    اینکر کہتی ہے
    حافظ صاحب آپ کو زیب نہیں دیتا
    حافظ صاحب آپ کو زیب نہیں دیتا
    حافظ صاحب آپ کو زیب نہیں دیتا بس کر دیجئے
    (غور کیجئے یہاں حافظ صاحب پر زور ہے تاکہ وہ اور بھڑکیں )
    ماروی سرمد کہتی ہے
    “جو اکھاڑ سکتے ہو اکھاڑ لو”
    مولوی حمدللہ جو کہ ایک پختون بیک گراونڈ سے تعلق رکھتے ہیں ضبط قائم نہیں رکھ پاتے اور معاملہ ہاتھ سے نکل جاتا ہے …..
    نتیجہ : مولوی تو ہیں ہی بدکلام تنگ نظر عورتوں کے حقوق کے غاصب تشدد پسند وغیرہ وغیرہ …
    اب ہم پیچھے جاتے ہیں اور معاملہ جہاں سے خراب ہوا تھا وہاں سے سرا پکڑتے ہیں …
    لیگل ایکسپرٹ بیرسٹر مسرور شاہ صاحب
    ١. قبائلی روایات جہالت پر مشتمل ہیں.
    ٢. ان روایات کو مقتدر ادارے اسلام کے نام پر بیچتے ہیں .
    ٣. عورتوں پر ہلکا پھلکا تشدد کرنے کی اجازت دیکر لڑکیوں کو جلانے کی راہ ہموار کی گئی .
    ٤. مولانا شیرانی کیا چرس پی کر سوۓ ہوۓ ہیں آج جمعہ کی نماز ہوئی ہے .
    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ” قبائلی روایات جہالت پر مشتمل ہیں ” ہیں کیا جلائی جانے والی بچیوں کا تعلق قبائلی بیک گراونڈ سے تھا کیا یہ ایک نرا الزام نہیں .
    کون سے مقتدر اسلامی ادارے یا ادارے ان روایات کو اون کرتے ہیں کیا
    ” قرآن سے شادی ”
    ” کارو کاری ”
    ” ستی ”
    ” ونی ”
    ” ولور ”
    اور جہیز کو اسلام سپورٹ کرتا ہے .
    ” ہلکا پھلکا تشدد ”
    لطف کی بات یہ ہے کہ تشدد ” torture ” کا لفظ مستقل استعمال کیا گیا جبکہ قانون بھی اسے ”
    غور کیجئے لفظ تشدد پر عربی زبان کا ,ش ، د ، د اسکا مصدر ہے اسکے معانی ہوۓ . جبر، شدت، غلو انگریزی میں اسکیلئے لفظ استعمال ہوتا ہے torture اس کا مصدر قدیم لاطینی زبان کا لفظ ” tortura ” ہے مطلب
    “Pain inflicted by judicial or ecclesiastical authority as a means of punishment or persuasion,” from stem of Latin torquere “to twist, turn, wind, wring, distort”
    اب ملاحظہ کیجئے آیات قرآنی
    وَالّٰتِیْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَہُنَّ فَعِظُوْہُنَّ وَاہْجُرُوْہُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوْہُنَّ فَاِنْ اَطَعْنَکُمْ فَلاَ تَبْغُوْا عَلَیْْہِنَّ سَبِیْلاً اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیًّا کَبِیْرًا.
    (النساء ۴: ۳۴)
    قرآن کریم لفظ استعمال کرتا ہے وَاضْرِبُوْہُنَّ اس کا صریح مطلب تشدد نہیں بلکہ اسے تنبیہ اور تادیب کے معانی میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے دراصل کچھ حلقوں کی جانب سے ” torture ” کی گردان کسی بہت بڑے ظلم کو ثابت کرنے کیلئے کی جا رہی ہے تاکہ اسلام کے خلاف مقدمہ قائم کیا جا سکے .
    ١. ایک گروہ لبرلز کا ہے کہ جنہیں اسلام کی تعلیمات سے ہی بیر ہے انکے سامنے کتنی ہی خوبصورت شکل میں اسلام کو پیش نہ کر دیا جاوے انہیں قبول نہیں .
    ٢. دوسرا گروہ ان مسلمانوں کا ہے کہ جنہیں اسلامی تعلیمات پر ہمیشہ شرمندگی کا احساس رہتا ہے اور انکی انتہائی کوشش یہ ہوتی ہے کہ تعلیمات اسلامی کو اتنا نرم کر دیا جاوے کہ وہ موم کی ناک بن جائیں جہاں چاہیں موڑ لیجئے .
    ٣.تیسرا طبقہ عام مسلمانوں کا ہے کہ جن کو عام طور پر ان مسائل کی سمجھ نہیں ہوتی .
    اس گردان کا مقصود دراصل ایک سائیکی تخلیق کرنا ہے کہ جو اصل میں قرآن کریم کو ہی ظالم سمجھے یہاں مقصود دراصل لا دینیت کی راہ ہموار کرنا ہے …
    اب آتے ہیں آخری بات کی جانب
    ٤. مولانا شیرانی کیا چرس پی کر سوۓ ہوۓ ہیں آج جمعہ کی نماز ہوئی ہے ..
    پہلے تو موصوف اس بات کی تحقیق فرماتے کہ پاکستان میں موجود
    (دیوبندی ، بریلوی ، اہل حدیث ، شیعہ ، جماعت اسلامی اور تنظیم اسلامی )
    کے ماتحت چلنے والی مساجد میں کہیں بھی اسکی تردید نہ ہوئی …
    اسکے بعد پاکستان کے ایک آئینی اور قانونی ادارے کے سربراہ کی بابت ” چرس ” کہ جس کا استعمال قانونی جرم ہے کیا انکے پاس کوئی ثبوت موجود تھے یا نہیں ..
    دوسری طرف جو معاملہ خالص قانون کی عملداری نہ ہونے کا تھی اس میں دین کو داخل کر دینے کا کیا مقصود …
    تصور کیجئے اگر اس واقعے کے خلاف مولوی حرکت میں آتا اور ان مجرمین پر اسلامی شرعی سزاؤں کا نفاز فرما دیتا تو کیا اسے ریاست کے حق میں بغاوت تسلیم نہ کیا جاتا …
    لال مسجد والوں نے ایک ایسی عورت کا ہاتھ ہی تو روکا تھا کہ جو معصوم لڑکیوں کو
    prostitute
    بناتی تھی پھر کیا ہوا …..
    یہاں سوال یہ بھی ہے کہ یا تو اقتدار مولوی کے ہاتھ میں دیجئے یا پھر مولوی سے مطالبہ نہ کیجئے …
    اب آپ کو متوجہ کرتا ہوں اس طریقہ کار کی جانب کہ جو اس طبقے سے مکالمے کا بہترین طریقہ ہے گفتگو ہو رہی تھی افغانستان میں پاکستان کے کردار کے حوالے سے شرکاء تھے جرنل حمید گل مرحوم اوریا مقبول جان اور موصوفہ مروی سرمد صاحبہ …
    خاتون نے حسب روایت گالی گلوچ اور گھٹیا زبان کا استعمل کیا الزامات دھرے مگر سامنے ایک تربیت یافتہ جرنیل اور ایک بہترین صحافی اور سابقہ بیوروکریٹ موجود تھے پھر جب دلائل کے میدان میں موصوفہ کی خوب دھلائی ہو چکی تو آخر میں جرنل صاحب نے فرمایا ..
    “ آپ مسکراتی بہت اچھا ہیں بس مسکراتی رہا کریں ”
    حسیب احمد حسیب

Comments are closed.