بے خبری کا علاج خبر ہے تنگ نظری کا کوئی علاج نہیں


آج بہت دنوں بعد لکھنے کی تحریک اس وقت پیدا ہوئی جب ہم سب پر وہ خبر پڑھی جس میں ”سلونی چوپڑا نے کھل کے سارے واقعے کی تفصیل سنا دی“ تھی۔ خبر نے ایک عجیب سی خوشی پیدا کی جیسے ایک دروازہ کھل گیا ہو۔ مگر لکھنے کی تحریک خبر کے نیچے لکھےگئے کمنٹس نے پیدا کی۔ زیادہ تر کمنٹس ایک ہی کہانی بیان کر رہے تھے کہ اس قسم کی خبر چھاپنے کی جرات وجاہت مسعود اور عدنان کاکڑ نے کیسے کی۔ یقینا اس کے پیچھے ان صاحبان کے کچھ نہ کچھ درپردہ ارادوں کا دخل ہوگا۔

ایک صاحب نے وجاہت مسعود کے علم میں اضافہ کیا کہ ان کے اخبار کی ریڈر شپ خبروں کی وجہ سے ہے (یعنی ہم سب کے کالم تو ضمنی ہیں) جب کہ مجھ جیسے پڑھنے والے جانتے ہیں کہ ہم سب پر لوگو ں نے کالموں ہی کی وجہ سے آنا شروع کیا تھا خبروں کا سلسلہ تو شاید بعد میں شروع ہوا۔ پھر انہوں نے بہت ہی شستہ لہجہ میں دھمکی دی کہ ایسی خبروں سے اخبار کی ریڈرشپ خراب ہوسکتی ہے۔ ایک اور صاحب نے طنز فرمایا کہ استاد محترم وجاہت مسعود جو کر رہے ”سماج کی بھلائی“ کے لیے کر رہے ہیں۔ ثبوت کے لیے انہوں نے عدنان کاکڑصاحب کی بتائی گئی میڈیا ریٹنگ پیش کی کہ ان جیسی واہیات خبروں اور بحث مباحثوں کی وجہ سے تو ہم سب شہرت کی حسین کہکشاؤں میں محو پرواز ہے۔

اگلے صاحب نے آکر ہم سب کو مشورہ دیا کہ ہر ”گندی خبر“ کو چھاپنا ہم سب کو زیب نہیں دیتا۔ پھر ایک صاحب آئے اور انہوں نے بتایا کہ ہم سب اعتدال پسند تحریروں کا ایک اچھا ذریعہ ہوا کرتا تھا مگر اب یہ جنس زدہ اور سستی زرد صحافت کی طرف گامزن ہے۔

اس موقع پر کامیڈین جارج کارلن کا لطیفہ بھی یاد آگیا کہ ”عورتیں پاگل ہیں اورمرد بے وقوف، عورتیں اس لیے پاگل ہیں کہ مرد بے وقوف ہیں“ اور میں اس سوچ پڑگئی کہ ایک ایسی خبر چھاپنے پر جس میں ایک لڑکی نے اپنے اوپر مردانہ جنسی طاقت کے استعمال کو کھل کر بیان کردیا ہو ہم سب کے ایڈیٹروں کو اتنی سننی پڑرہی ہے تو اس عورت کو کیا نہ سننے کو ملا ہوگا۔ پھر کہتے ہیں آخر یہ عورتیں بیس تیس سال کیوں خاموش بیٹھی رہتی ہیں پہلے کیوں نہیں بولتیں۔ بے خبری کا علاج خبر ہے جہالت کا کوئی علاج نہیں۔

سیاہ فام تحریک میں کافی مرتبہ یہ سننے کو ملا کہ یہ ایک سیاہ فام کی ذمہ داری نہیں کہ وہ سفید فام کو سمجھائے کہ نسل پرستی کیا ہے۔ نا یہ ایک ہم جنس پرست کا کام ہے کہ وہ ہوموفوبیا کی نشاندھی کرتا پھرے۔ یہ سفید فام اور غیر ہم جنس پرست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اور معاشرے کے رویوں پر نظر رکھیں۔ ظلم کو اپنے اوپر روکیں اور اپنی طاقت ور جہالت کو مظلوم پر حاوی نہ ہونے دیں۔

تو یہ عورت کی بھی ذمہ داری نہیں کہ وہ مردوں کو سمجھائے کہ وہ اپنی بے خبری میں عورت پر ظلم کا کیسے حصہ بن رہے ہیں۔ یہ مردوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اوپر اور مردشاہی نظام پر نظر رکھیں۔ مگر چونکہ اس دنیا میں زیادہ تر کام الٹے ہوتے ہیں تو سیاہ فاموں ہم جنس پرستوں اور عورتوں کو ہی بتانا پڑے گا کہ دوسروں کا رویہ کس طرح شرم ناک حد تک ظالمانہ ہے۔

سلونی چوپڑا نے کھل کے سارے واقعے کی تفصیل سنا دی“ جیسی خبروں کا تعلق جنس یا عریانیت سے نہیں بلکہ طاقت اور ظلم سے ہوتا ہے۔ جنس کو طاقت کی طرح استعمال کرکے ظلم کیا جاتا ہے۔ جس کا ثبوت اس خبر میں یہ ہے کہ مظلوم بے بس ہو کر رونے لگی۔ مظلوم کا ہاں یہ قصور ضرور ہے کہ اس نے اپنے اوپر ہوئے ظلم کو اپنا قصور نہیں سمجھا اور اس پر شرمندہ ہونے کہ بجائے سچ کو اپنی طاقت بنا کر لوگوں کے سامنے بیان کر دیا۔ اس خبر میں جنس اور عریانیت ان لوگوں کو نظر آئی جن کو طاقت اور ظلم نظر نہیں آیا۔ جن کو جنس عبادت کے بجائے گندہ عمل لگتا ہے۔ بالکل جنس اس وقت عبادت کے بجائے گندہ گناہ بن جاتا ہے جب اس میں ایک فریق کی مرضی شامل نہیں ہوتی یا/اور دوسرے کی طاقت سر چڑھ کر بولتی ہے۔

میں خوش ہوں کہ می ٹو تحریک ہالی وڈ سے کامیابی کا سفر کرتی ہوئی امریکی ایوانوں (بظاھر ناکام ) سے ہوتی ہوئی بالی وڈ تک پہنچ گئی۔ وہاں سے پاکستان کا راستہ زیادہ دور نہیں۔ مجھے امید ہے کہ میری طرح بہت سی پاکستانی بہنیں اور حساس مرد حضرات خاموشی سے انڈیا میں اٹھتی می ٹو تحریک کو بہت قریب سے جانچ رہے ہوں گے۔ وقت آنے پر پاکستانی می ٹو تحریک خاموشی کی دیوار گرا کر جلوہ افروز ضرور ہوگی۔ مجھے اس وقت کا بھی انتظار ہے جب یہ تحریک بڑے اداروں اور ایوانوں سے نکل کر خاندانوں تک پہنچ جائے گی۔ اس وقت اس کے کرشمے دیکھنے کے ہوں گے۔

انڈیا میں می ٹوتحریک کے بہت سے مباحثوں میں سے ایک گفتگو یہ بھی ہو رہی ہے کہ خاص طور پر خواتین کو اور عمومی طور پر معاشرے کو یہ طے کرنا ہے کہ ان مردوں کے ساتھ کیا کیا جائے جن کے نام سامنے آرہے ہیں۔ فوری طور پر تو انڈیا میں قوانین پولیس اور عدالتوں کو پرکھا جا رہا ہے۔ مگر میگھنا گلزار کا کہنا ہے کہ ہم ان پرتشدد مردوں جیسے نہیں ہو سکتے۔ نہیں تو ہم میں اور ان میں کیا فرق باقی رہ جائے گا۔

مجھ کو لگتا ہے ایک وقت آئے گا جب عورتوں کو اپنے مردوں کے لیے ایک پتلی گلی کا راستہ نکالنا پڑے گا۔ جس سے وہ اپنے پیاروں کا ہاتھ پکڑ کر باہر نکل سکیں گیں۔ جیسے نیسلن مینڈیلا نے سیاہ فام اور سفید فام لوگوں کو ایک ساتھ باہر نکالا تھا۔ کیونکہ اگر انسانی تاریخ نے عورتوں کو مظلوم بنایا ہے تو انسانی تاریخ نے ہی مردوں کو طاقتور بھی بنایا ہے۔ مگر یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک مردوں کو سفید فاموں کی طرح اپنی طاقت اور اس کے پرتشدد اثر کا اچھی طرح سے احساس نہ ہو جائے۔ اگرچہ میں ایک روشن مستقبل کی امید رکھتی ہوں مگر ابھی اس مستقبل میں اور ہم میں کافی فاصلہ ہے۔

آخر میں میں ہم سب کے دوستوں کی شکر گزار ہوں کہ وہ اتنی مخالفت کے ماحول میں ”خواتین کی بھلائی“ کے لیے بہت کچھ کر رہے ہیں اور ان کو سوچنے سمجھنے کہنے اور سننے کے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں