ٹریکٹر ٹرالی، ٹائر اور شلوار


inam-rana-3صاحبو کہتے ہیں وہ سچ ہی کیا جو اپنے یا کسی اپنے کے خلاف نہ بولا جا سکے۔ میرے والد کئی اعتبار سے روشن خیال تھے۔ خواتین کی تعلیم کے شدید حامی تھے اور خواتین وکلا اور جونئیر ججز کو سپورٹ کرنے میں مشہور۔ مگر پھر بھی کئی بار روایتی مرد ہی نکلتے تھے۔ عرصہ گزرا، میرے والد کا نام ہماری ایک جاننے والی نے جاب ریفرینس کے طور پر دیا۔ محترمہ برٹش ائیرویز کی سابقہ ایئر ہوسٹس تھیں اور پندرہ سال پہلے بھی کھلے عام سلیولیس قمیص پہن کر گھومتی تھیں۔ ریفرنس فارم بھرتے ہوے میرے والد نے ہر جگہ ویری گڈ، ایکسیلنٹ پر نشان لگایا مگر کیریکٹر پر سیٹیسفیکٹری(satisfactory)  لکھا۔ جب میں نے اس پر اعتراض کیا تو بولے “اب ایئر ہوسٹس کا کیریکٹر ایکسیلنٹ تو نہی لکھ سکتا”۔ اپنے انتہائی تعلیم یافتہ، کافی روشن خیال اور معزز جج ، والد کے منہ سے یہ جملہ کچھ اچھا نہیں لگا۔ خیر میرے والد مرحوم سن بیالیس کے مشرقی پنجاب کی پیداوار تھے، اور ایک رانگڑ شاید زیادہ سے زیادہ اتنا ہی روشن خیال ہو سکتا تھا۔ مگر حقیقت تو یہ کہ آج دو ہزار سولہ میں بھی ہم عورت کیا مرد کو بھی اسکے پیشے اور لباس سے ناپتے ہیں۔ خصوصا گھر سے نکلی عورت اگر ڈاکٹر یا ٹیچر نہیں تو یقینا کردار کی کمزور ہی ہو گی۔ (انعام رانا، شاید آپ نے جی ٹی روڈ کے دونوں طرف ان دونوں قابل احترام پیشوں سے وابستہ خواتین کے بارے میں لوک وزڈم  کے نمونے نہیں سنے۔۔۔ مدیر)

اکیسویں صدی میں ایک نیوکلئیر پاور کی قومی اسمبلی میں اس کا وزیر دفاع ایک معزز رکن اسمبلی کو ٹریکٹر ٹرالی کہہ کر پکارتا ہے۔ رکن اسمبلی پڑھا لکھا ہے، گوشوارے کے مطابق وکالت کی ڈگری ہے۔ سن اسّی سے سیاست میں ہے۔ خواتین اس کی ووٹر بھی ہیں اور کو لیگ بھی۔ چلو گھر کی عورت کا احترام تو شاید سب ہی کرتے ہیں ( ویسے کیا سب ہی کرتے ہیں؟) پر باہر کی عورت کا احترام بھی تو ضروری ہے۔ مگر وزیر صاحب کو اب تک اتنی تمیز تو آ جانی چاہیے تھی کہ باہر کی عورت کے احترام کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ اسے ان القاب سے نہ پکارا جائے جو غصے میں بےتکلف جاننے والوں کے لئے بھی سرعام استعمال نہیں کیے جاتے۔ شاید وزیر صاحب نے بھی سوچا ہو کہ سیاست میں آئی عورت کی عزت آخر کتنی کُو کی جا سکتی ہے۔

ایک ہیں ہمارے حمد للّٰہ۔ ہمارے تمھارے، چینل کے پیارے حافظ حمد للّٰہ۔ اور ایک ہیں میڈم ماروی سرمد، افسوس کچھ زیادہ پیاری، مطلب زیادہ کُو پیاری نہیں ہیں۔ صاحبو،گو میں انتہائی رومان پرست ہوں مگر پھر بھی بدتمیز عورت سے چڑتا ہوں۔ یقین کیجیے ماروی سرمد اور شیخ رشید میں کچھ زیادہ فرق نہیں کہ مقصد فقط ریٹنگ ہے۔ لبرلزم اور فیمنزم کو ماروی جیسی خواتین اتنا ہی نقصان دیتی ہیں جتنا حمدللّٰہ جیسے اسلامی نظریہ سیاست کو۔ دور ہے ریٹنگ کا اور بقول بھائی قادر غوری ریٹنگ نہ بڑھے تو چینل کے باقی ملازمین کی تنخواہ کہاں سے آئے۔ سو پہلا سوال تو یہی بنتا ہے کہ طاہرہ عبدللہ صاحبہ اور حافظ حسین احمد جیسوں کو چھوڑ کر یہ ہر دو حضرات ساتھ بٹھانا کیا صریحاً بدنیتی نہ تھی۔ خیر کیا ہوا اور کس نے شروع کیا غیر ضروری ہے کہ ریٹنگ کے تقاضوں نے یہ کروانا ہی تھا۔ مگر پھر حافظ قرآن، علمبردارِ اسلامی سیاست نے شلوار شلوار کھیل ڈالا۔ شاید انھوں نے بھی سوچا ہو کہ ٹی وی پر بیٹھی اس ٹریکٹر ٹرالی کی شلوار کتنی مقدس ہو سکتی ہے۔

آپ اس روئیے کو بطور طنز اسلامی سیاسی جماعتوں ، اہل مدرسہ یا مولوی کے خلاف استعمال کیجیے۔ میں بلکل نہیں کروں گا۔ یہ ایک ایسی سوچ ہے جو ملحد سے مولوی اور جج سے وزیر تک پختہ ہے۔ اس کا مذہب یا نظرئیے سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ خالص برصغیری مردانہ سوچ ہے جسے آپ کسی بھی مذہب، نسل یا نظرئیے کی چادر میں باآسانی چھپا سکتے ہیں۔ میرے بہت سے کمیونسٹ دوستوں کو ہماری ایک دو ساتھیوں کے سیگرٹ پینے پر غصہ چڑھ جاتا تھا کہ حد ہے بے غیرتی کی عورت ہو کر سیگرٹ پیتی ہیں۔ میرے بہت سے پڑھے لکھے مذہبی دوست معترض ہو جاتے ہیں کہ دین کی بات کرنے کے باوجود فلاں خاتون دوپٹہ کیوں نہیں لیتی۔ اور تو اور تائب میرزا غصہ کر جاتے ہیں۔  صاحبو، جب تک ہم یہ سوچ نہیں اپنائیں گے کہ گھر سے باہر نکلی عورت کا کیریکٹر “ایکسیلنٹ” بھی ہو سکتا ہے، ٹریکٹر ٹرالی کا ٹائر اترتا رہے گا اور شلوار اتارنے کی دھمکی دی جاتی رہے گی۔


Comments

FB Login Required - comments

انعام رانا

انعام رانا لندن میں مقیم ایک ایسے وکیل ہیں جن پر یک دم یہ انکشاف ہوا کہ وہ لکھنا بھی جانتے ہیں۔ ان کی تحاریر زیادہ تر پادری کے سامنے اعترافات ہیں جنہیں کرنے کے بعد انعام رانا جنت کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ فیس بک پر ان سے رابطہ کے لئے: https://www.facebook.com/Inamranawriter/

inam-rana has 35 posts and counting.See all posts by inam-rana