آپ کونسی غلطی کرنا پسند کریں گے؟


انسان کی انفرادی اور اجتماعی تاریخ طرح طرح کی غلطیوں سے بھری پڑی ہے۔ سیانے کہتے ہیں کہ غلطیوں سے ہی انسان سیکھتا ہے۔ سیانوں کا قول سر آنکھوں پر، لیکن یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ ایک ہی غلطی کو بار بار دہرانے سے وہ غلطی اس طرح سے آپ کی اجتماعی نفسیات کا حصہ بن جائے کہ بعد میں باوجود حقیقی صورتِ حال واضح ہونے کے، محض روایات کے احترام میں یا شخصی تعصبات کی بناء پر آپ اس غلطی کو ماننے یا اس سے پیچھے ہٹنے کے لئے تیار نہ ہوں۔ انسانیت کی ان اجتماعی غلطیوں کو، جو ہمار ی روایات یا ڈاکٹر ژونگ کے الفاظ میں ہمارے ”اجتماعی لاشعور“ کا حصہ بن جاتی ہیں، اوہام کہا جاتا ہے۔ آج کی پوسٹ میں ہم اسی طرح کی چند غلطیوں کا جائزہ لیں گے۔

ان غلطیوں کا تعلق فیصلہ سازی کے عمل سے ہے اور ان کی دو قسمیں ہیں۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے ایک مثال پر غور کرتے ہیں:

فرض کیجئے آپ ایک لمبے سفر کے بعد گھر واپس آتے ہیں اور کمرے میں داخل ہوتے ہوئے آپ کی نظر اچانک کھڑکی کے پیچھے ہلتے ہوئے ایک سائے پر پڑتی ہے۔ اب اس سائے کے حوالے سے یہاں دو احتمال ہیں:

اول۔ یہ سایہ کسی چور کا ہے جو آپ کے گھر کو خالی سمجھ کر چوری کی نیت سے داخل ہوا ہے
دوم۔ یہ سایہ کھڑکی کے پیچھے ہلتے ہوئے درخت کا ہے جس سے آپ کو کوئی خطرہ نہیں۔
اس صورت میں آپ کیا فیصلہ کریں گے؟

زیادہ امکان اسی بات کا ہے آپ ایک دفعہ جاکر ضرور چیک کریں گے کہ وہاں کوئی چور تو نہیں ہے۔ چیک کرنے پر معلوم ہوا کہ سایہ محض درخت کے ہلنے کی وجہ سے تھا اور فی الاصل آپ کے جان و مال کو کوئی خطرہ لاحق نہیں۔ گویا آپ نے فیصلہ کرنے میں ایک غلطی کی۔ مگر سوال یہ ہے کہ یہاں آپ نے کونسی غلطی کی؟ اس بات کو سمجھنے کے لئے سٹیٹسٹکس یا علم شماریات کی طرف چلتے ہیں۔

سٹیٹسٹکس میں کسی بھی احتمال یا بیان کو صحیح یا غلط ثابت کرنے کے لئے دو طرح کے مفروضے بنائے جاتے ہیں، جنہیں نل ہائپوتھیسز یا (H0) اور الٹرنیٹو ہائپوتھیسز یا (H1) کہا جاتا ہے۔ نل ہائپوتھیسز وہ ہوتا ہے جس میں ہم فرض کرتے ہیں کہ دو چیزوں (مثلاً اس مثال میں سایہ اور چور) میں کوئی باہمی تعلق نہیں اور ہمارا مشاہدہ محض اتفاق یا ہمارے اپنے تخیل کی پیداوار ہے۔ اگر یہ مفروضہ صحیح ثابت ہو گیا تو ہم اسی کو اختیار کر لیں گے ورنہ ہمارا متبادل مفروضہ خود بخود صحیح ثابت ہو جائے گا۔

مندرجہ بالا مثال میں آپ کا ایچ ناٹ یہ ہوگا کہ وہاں کوئی چور نہیں ہے اور وہ سایہ کھڑکی کے پیچھے ہلتے ہوئے درخت کا ہے یا محض ہمارے تخیل کی پیداوار ہے جبکہ ایچ ون یہ ہوگا کہ کھڑکی کے پیچھے نظر آنے والا سایہ واقعی ایک چور کا ہے۔ آپ نے جب جاکر چیک کیا تو معلوم ہوا کہ وہاں کوئی چور نہیں تھا۔ آپ نے دراصل ایک غیر موجود چیز کو موجود فرض کرکے کوئی عمل کیا۔

اس قسم کی غلطی کو شماریات کی زبان میں پہلی قسم یا ٹائپ ون غلطی کہتے ہیں۔ دوسری صورت میں، اگر واقعی وہاں کوئی چور ہو، اور آپ اس کو درخت کا سایہ سمجھ کر نظرانداز کردیں، تو آپ ٹائپ ٹو غلطی کا شکار ہوں گے یعنی ایکِ غلط مفروضے کو صحیح سمجھ کر اس کی بنیاد پر کوئی فیصلہ کرنا۔

آپ کے خیال عام طور پر لوگ کون سی غلطی کا زیادہ شکار ہوتے ہیں؟
اگر آپ کا جواب ٹائپ ون ہے، تو آپ صحیح ہیں۔ مگر ٹائپ ون ہی کیوں؟

اس کا جواب بہت آسان ہے: کیونکہ ٹائپ ٹو غلطی (یعنی چور کو درخت سمجھ کر نظر انداز کر دینا) میں آپ کے جان و مال کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ انسانی مزاج میں ٹائپ ون غلطی کرنے کا میلان زیادہ کیوں ہے، اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لیے آپ کو انسانی ارتقاء کے سفر میں ہزاروں لاکھوں سال پیچھے جا کر اپنے آپ کو اپنے اجداد کی نظر سے دیکھنا ہوگا جو جنگلوں اور غاروں میں رہتے تھے جہاں ہر وقت انہیں نامساعد حالات اور جنگلی جانوروں سے مقابلے کی صورتحال درپیش تھی۔

فرض کریں آپ ایک گھنے جنگل سے گزر رہے ہیں، قد آدم گھاس اگی ہوئی ہے، آپ کی دائیں طرف والی گھاس میں ابھی ابھی کچھ حرکت سی ہوئی ہے۔ ذرا دھیان سے۔ یہ ایک شیر بھی ہو سکتا ہے جو آپ کا شکار کرنے کے درپے ہے، اور یہ حرکت محض ہوا چلنے سے بھی ہو سکتی ہے۔ یہاں ایچ ناٹ یہ ہوگا کہ جھاڑیوں میں کوئی شیر نہیں ہے اور یہ کہ گھاس کی حرکت محض اتفاق یا مثلاً ہوا چلنے کا نتیجہ ہے۔

ایچ ون یہ ہوگا کہ وہاں ایک شیر چھپا ہوا ہے۔ اب اگر جھاڑیوں میں حقیقت میں کوئی شیر نہ ہو مگر بھی آپ گھاس کی حرکت کو شیر کی موجودگی پر محمول کرکے چوکنے ہوجائیں اور اپنے آپ کو بچانے کی خاطر وہاں سے بھاگ جائیں یا مقابلے کے لیے اپنے آپ کو تیار کریں، تو آپ ٹائپ ون غلطی کے مرتکب ہوں گے۔ جبکہ شیر کی موجودگی میں گھاس کی حرکت کو ہوا چلنے پر محمول کرنا ٹائپ ٹو غلطی ہے۔ آپ کونسی غلطی کرنا پسند کریں گے؟ اس صورت میں ٹائپ ٹو غلطی یقیناً آپ کے لئے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔

ہمارے اجداد کی یہی سوچ اور خاصیت ہمارے مشاہدے، تربیت، اور دوسرے میکنزم (جیسے سلیکشن پریشر وغیرہ) کے ذریعے نسل در نسل منتقل ہوتی ہوئی ہمارے مزاج میں رچ بس گئی اور نتیجتاً ٹائپ ٹو غلطی کرنے والے انسانوں کے مقابلے میں ٹائپ ون غلطی کا انتخاب کرنے والے انسانوں کی نسل بڑھتی گئی (ٹائپ ٹو غلطی جان لیوا جو ہوئی)۔ اور آج یہ عالم ہے کہ دنیا میں ہر جگہ، جہاں بھی غلطی کا کوئی امکان موجود ہو، لوگ ٹائپ ٹو کی جگہ ٹائپ ون غلطی کرنے کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔

ٹائپ ون غلطیوں کی کچھ مزید مثالیں:

1۔ لیبارٹری سے خون کے ٹیسٹ کی رپورٹ کا غلط طور پر پازیٹیو آنا
2۔ محض احتمال کی بنیاد پر کسی ایسی دوائی کا استعمال جو اس مرض میں فائدہ مند نہ ہو
3۔ کسی بلڈنگ میں بغیر آگ کے غلطی سے فائیر الارم کا بجا دینا

4۔ آپ کے اینٹی وائرس سافٹ وئیر کا کسی کارآمد فائل کو وائرس کے طور پر رپورٹ کرنا
5۔ بچوں کی اچھل کود سے ہونے والی ہل جل کو زلزلہ سمجھ کر جان بچانے کے لیے بھاگنا
6۔ ایک غیر زہریلے سانپ کو زہریلا سمجھ کر اس سے بچنا
7۔ عام کتے کے کاٹنے کی صورت میں اس کو پاگل سمجھ کر ریبیز کی ویکسین لگوانا۔

انہی کیسز میں ٹائپ ٹو غلطیوں کی مثال کچھ یوں ہوگی:

1۔ لیب ٹیسٹ میں خون میں موجود کسی بیماری کے جراثیم کا پتہ نہ لگا پانا
2۔ کسی ایسی دوائی کا استعمال اسے غیر مؤثر سمجھ کر ترک کرنا جس کے بغیر مریض کی جان بچنا ممکن نہ ہو
3۔ آگ لگنے کی صورت میں بلڈنگ کے فائیر الارم کا نہ بجا پانا
4۔ اینٹی وائرس پروگرام کا کسی وائرس کو عام فائل سمجھ کر نظر انداز کر دینا

5۔ زلزلہ آنے کی صورت میں ہل جل کو بچوں کے اچھل کود کا نتیجہ سمجھ کر جان بچانے کے لیے بھاگ دوڑ نہ کرنا۔
6۔ ایک زہریلے سانپ کو بے ضرر سمجھ کر اس کے نزدیک جانا
7۔ پاگل کتے کو عام کتا سمجھ کر کاٹنے کی صورت میں ویکسین نہ لگوانا۔

ایک دفعہ پھر غور فرمائیں، مندرجہ بالا مثالوں میں کون سی غلطی زیادہ خطرناک ہے؟

بس اسی سے انسانی اذہان میں توہمات نے جنم لیا۔ یعنی لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر آسیب کا اثر نہ بھی ہوا، تو جھاڑ پھونک کروانے میں کیا حرج ہے، یا اگر ہومیو پیتھک دوائی کام نہ بھی کرے تو آزمانے میں کیا حرج ہے۔

بعض لوگ ڈاکٹری علاج کے ساتھ ساتھ دم درود، جھاڑ پھونک، اور ہومیو پیتھک کا سلسلہ بھی جاری رکھتے ہیں۔ اسی طرزِ عمل سے معاشرے میں توہم پرستی کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں۔

اگر ایک نئی اور بہتر ملازمت کے لیے آپ کے انٹرویو کا ٹائم چار بجے ہو مگر آپ کو یاد نہ رہا ہو تو آپ پانچ بجے جانے کی غلطی کریں گے یا تین بجے جانے کی؟

آئندہ آپ کے سامنے کوئی ایسی کہانی پیش کرے تو اس کا تجزیہ ضرور کریں کہ اس کے پیچھے ٹائپ ون غلطی کس شکل میں موجود ہے۔
نوٹ: زیادہ بہتر تفہیم کے لئے اس تحریر کو راقم کی دوسری تحریر وہم کا علاج کے ساتھ ملا کر پڑھیں۔

وہم کا علاج اور حکیم لقمان کی مجبوریاں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں