میری آواز ہی پہچان ہے۔۔۔ گر یاد رہے!


ہماری گاڑی بہاولپور شہر سے دور، اور دور دوڑتی جا رہی تھی جنوب کی طرف۔ اور میرا ذہن اس شہر میں بیتے سالوں سے قریب اور قریب ہوتا جا رہا تھا۔ ماضی کی کتنی صدائیں تھیں جو اڑتی دھول کی طرح دل کا غبار بنتی جا رہی تھیں۔ قریباً ڈیڑھ گھنٹے کے سفر کے بعد منزل پر پہنچنے کی نشانی یہ تھی کہ ہمیں ایک میل دور سے ہی قلعہ دراوڑ کی فصیلیں دکھ جانی تھیں۔ سو سبھی اس انتظار میں حدِ نظر دیکھ رہے تھے۔

”کبھی برسوں بعد ملو گی تو کیا رک کے بات کرو گی مجھ سے۔ یا انجان بن کے گزر جاؤ گی؟ “

آوازیں ہمارے ساتھ ساتھ سفر کرتی ہیں۔ کبھی اس کان میں آ کے کچھ کہتی ہیں کبھی جواب بن کہ دوسرے کان میں۔ ”اچھا تو بچھڑ جانے کا ارادہ پورا ہے جناب کا۔ نہیں۔ کبھی نہیں ملوں گی اگر ایسا وقت آیا تو۔ کبھی راہ چلتے بھی نہیں“۔ پر دیکھئے نا انسان کو کہاں علم ہوتا ہے کہ اس کے الفاظ ایک بھوش وانی کی طرح کہیں لکھے جا رہے ہیں۔ اور یہی الفاظ آنے والے وقت کی کہانی بن جاتے ہیں۔ کتنے چہرے، کتنے لوگ پیچھے چھوڑ کر ہم آگے نکل جاتے ہیں۔ پر یہ بھی غنیمت ہے کہ آوازیں بچھڑتی نہیں۔ ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔

قلعہ دراوڑ کی کہانی بھی اس کے وجود سے پہلے ہی شروع ہو چکی تھی جس طرح ہر محل، ہر عبادتگاہ، ہر انسان کی کہانی اپنی ہویدگی سے بہت پہلے جنم لے لیتی ہے۔ کبھی اس دھول اڑاتی بنجر زمین سے دریائے ہاکڑہ جیسلمیر کی شمالی سرحد عبور کر تا، ٹھاٹھیں مارتا جنوب مغرب کی طرف تین سو میل تک بہتا ہوا دریائے سندھ کے سینے میں اتر جاتا تھا۔ تب یہ زمین بنجر نہیں تھی۔ اس کے دونوں جانب آبادی تھی۔ کہتے ہیں کہ آٹھویں صدی کی ابتدا سے ہی اس علاقے میں راجپوتوں کی دھاک بیٹھی تھی۔ راجہ کہر بھاٹیہ جو اپنے خیالات اور وسیع النظری کی وجہ سے مشہور تھا، اس نے ملتان کے باراہوں اور لنگاہوں کو شکست دے کر اپنی راجدھانی وسیع کی۔

پر وقت، ظلم کی یاد کب بھولتا ہے۔ اس ہزیمت کا بدلہ لینے کو باراہوں اور لنگاہوں نے راجہ بھاٹیہ کے پوتے باجے راؤ اور تقریبا 800 بھاٹیہ رشتہ دارروں کو ایک دعوت میں مدعو کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ یوں ایک عرصہ کے لئے راجپوتوں کا نام یہاں سے مٹا دیا گیا۔ باجے راؤ کا ولی عہد دیو راج جو اس خونریزی سے بچ گیا تھا، ایک پروہت، بابا رت نامی، کے گھر میں جا کر چھپ گیا جہاں سے اسے اس کے ننھیال پہنچا دیا گیا۔ جب وہ جوان ہوا اور اس نے کچھ زمین بھی اپنی ملکیت میں شامل کر لی تو ایک دن وہی بابا رت نامی دیو راج کے پاس آ گیا۔ اب وہ ایک بہت بڑا سنیاسی جوگی تھا۔ وہ جانتا تھا کہ یہی نوجوان پھر سے اپنی پشتوں کی راج دھانی آباد کرے گا۔

میری عادت ہے کہ ایسی جگہوں پر میں ساتھیوں سے بات چیت کرنے کی بجائے میوزک سننا پسند کرتی ہوں۔ سو میں نے اپنی پلے لسٹ سے گانے چلا لئے۔ لتا منگیشکر کی خوبصورت آواز نے پہلے بھی کئی سفر یادگار بنائے ہیں۔ اب کی بار قلعہ دراوڑ کے نقش ذہن و دل پر گہرے ثبت کر دیے۔ کس قدر خوبصورت گیت ہے۔ ”نام گم جائے گا، چہرہ یہ بدل جائے گا۔ میری آواز ہی پہچان ہے، گر یاد رہے“۔ وقت نے راجپوتوں کا نام مٹایا بھی تو ان کے عزم و جاہ کی صدائیں فضا میں محفوظ رہیں۔ آنے والے کل کی کہانی انھیں صداؤں نے لکھی۔

وقت کے ستم، کم حسیں نہیں
آج ہیں یہاں، کل کہیں نہیں
وقت سے پرے اگر، مل گئے کہیں
میری آواز ہی پہچان ہے۔ گر یاد رہے

ہم وقت کے ستم دیکھتے جا رہے تھے۔ جگہ جگہ شکست خوردہ دیواریں، اجاڑ کمرے، چمگادڑوں سے اٹی چھتیں، دھول اڑاتے دالان، وحشت کا منظر پیش کرتے تہ خانے۔ وقت، جاہ و حشمت کو کیسے مسمار کرڈالتا ہے۔ پی۔ بی شیلے کی نظم ”اوزیمینڈیاس“ یاد آ گئی۔ کبھی ان اونچی راہداریوں سے ہاتھیوں کے رتھ گزرا کرتے تھے۔ 1500 میٹر پر پھیلا قلعہ کا حجم یہ بتاتا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں وزراء اور ملازمین ہوتے ہوں گے جو قلعہ کے تیس چالیس میٹر اونچے برجوں سے باہر اور اندر کی دنیا کے بیچ زندگی کی لہر بن کہ دوڑتے بھاگتے، احکامات بجا لاتے ہوں گے۔

نغمہ چلتا رہا اور قلعے کی اجاڑ نگری کے ساتھ دل کے دکھ مدغم ہوتے رہے۔
”جو گزر گئی، کل کی بات تھی۔ عمر تو نہیں، ایک رات تھی“۔

پروہت بابا رت نامی نے دیو راج کی زمین پر پیلو کے جھاڑ کے سائے میں ڈیرے ڈال لئے۔ ایک بار جو دیو راج، سنیاسی بابا سے ملنے اس کی کٹیا میں پہنچا تو اسے وہاں نہ پا کر بابا کی حکمت کا سامان ٹٹولنے لگا۔ اس نے وہاں ایک ایسا عرقِ کیمیائی پایا جس کے چھونے سے ہی اس کی تلوار سونا بن گئی۔ وہ اس عرقِ کیمیائی کو اپنے ساتھ لے آیا۔ جوگی کو علم ہو گیا کہ یہ کام دیو راج کا ہے۔ بابا رت جوگی دیو راج کے پاس پہنچا اور کہا اگر تم میرے چیلے بن جاؤ اور جوگیوں کا منچھ اختیار کرو تو میں تمہیں معاف کر دوں گا، ورنہ بد دعا دوں گا۔ دیو راج جو پہلے ہی بابا رت جوگی کے کمالات کا معتقد تھا، اس کا چیلا بننے کو تیار ہو گیا۔ گیروے رنگ کے کپڑے پہن کر، کانوں میں مندرہ اور گلے میں منگوٹ باندھے دیو راج نے دور پار جا کر شاہی محلات سے بھیک مانگنا شروع کر دی۔

رت نامی جوگی نے دیو راج کو راول ( جوگی ) کا لقب دیا۔ بابا رت نامی نے دیو راج کو فقر کے ساتھ ساتھ دنیاوی دولت سے بھی مالا مال کر دیا۔ اس نے اپنے عرقِ کیمیائی سے سونے کا بیش بہا خزانہ بنایا اور دیو راج کو سونپ دیا۔ وہ خزانہ محفوظ رکھنے کی غرض سے ہی دیو راج نے 909 ء ؁ میں قلعے کی تعمیر کا کام شروع کیا۔ ”دیو راول“ کے نام سے ہی منسوب اس قلعہ کا نام کب ”دیراور“ او ر ”پھر دیراوڑ“ پڑا اس کی خبر کسی کو نہیں۔

خبر تو اس خزانے کی بھی آج تک کسی کو نہ ملی جو خزانہ قلعے کے تہہ خانوں میں چھپا دیا گیا تھا۔ وقت نے ہمیشہ اس خزانے پر پردے ہی ڈالے رکھے۔ مہا راجہ جیسلمیر سے یہ قلعہ نادر شاہ نے 1732 ء ؁ میں فتح کیا۔ اور جب 1753 ء ؁میں نواب صادق محمد اول نے قلعہ کو اپنی حکمرانی میں لیا تو راول رائے سنگھ اس وقت قلعے کے امور سنبھالتا تھا۔ نواب صادق اول نے اسے اور اس کے خاندان کو قلعے ہی میں رہنے کی اجازت دے دی کیونکہ وہی اس خزانے کا علم رکھتا تھا۔

قصہ یہ بھی مشہور ہے کہ وہ ایک بار نواب صاحب کے اصرار پر ان کو خزانے تک لے گیا تھا، مگر آنکھوں پہ پٹی باندھ کر۔ تہہ خانے سے گزرتا ہوا وہ رستہ خاصا طویل تھا۔ جب پٹی کھولی گئی تو نواب صاحب کی آنکھیں خزانے کو دیکھ کر خیرہ رہ گئییں۔ نواب صاحب نے تقاضہ کیا کہ یہ خزانہ انھیں اپنے قبضے میں کرنے میں مدد کی جائے تو راول رائے سنگھ نے اس خزانے کی پہریداری کے فرض کو نبھانے کا راجپوتانہ عزم ظاہر کیا۔ اور نواب صاحب کو یہ بھی یاد دلایا کہ وہ نہیں جانتے کہ وہ زیرِ زمین کس مقام پر کھڑے ہیں۔ اور یوں یہ خزانہ نواب صاحب کے ہاتھ لگا اور نہ ہی اس کے بعد کی کوئی تلاش ہی بارآور ثابت ہوئی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں