’گالہا‘ تو میں بھی تھا


safdar saharلفظ ’گالہا‘ سرائیکی میں دوہری معنویت کا حامل ہے۔ لغوی مطلب تو اس کا ہے پاگل، مینٹل، دماغی توازن بگڑا ہوا۔ مگر اس لفظ کو لاڈ لٹاتے وقت استعمال کیا جائے تو اسے کا مطلب بالکل الٹ جاتا ہے۔ مثال کے طور پر جب ماں کو اپنے بچے کی کسی حرکت پر انتہائی پیار آتا ہے تو وہ اس کا ماتھا چومتے ہوئے کہتی ہے’گالہا‘۔ اردو سمجھنے والے اس کو یوں بھی سمجھ سکتے ہیں کہ جب محبوب کسی نئے انداز سے محبت جتائے تو محبوبہ دلنواز کہتی ہے ’تم تو ہو ہی پاگل‘۔ سرائیکی زبان میں گالہا کا بالکل ہی یہی مطلب نکلتا ہے۔

ہمارے بچپن کا ایک کردارہمارے علاقے کا وہ گالہا بھی تھا۔ کپڑوں سے بے نیاز یہ گالہا خاموشی سے گلیوں میں گھومتا رہتا تھا۔ دنیا و مافیہا سے بے خبر اس شخص کا نام کسی کو بھی معلوم نہ تھا۔ لوگ اسے بس گالہا کہتے تھے۔ گرمی ہو یا سردی اس کا جسم انتہائی مختصر لباس میں لپٹا ہوتا تھا، وہ لباس جو مردانہ ستر کو چھپانے کے لیے کافی ہوتا تھا۔ مگر گرمی ہو یا سردی عاقل و پاگل دونوں پر اپنا اثر تو رکھتی ہی ہے۔ انتہائی گرمیوں میں دوپہر کے وقت گالہا گھنے نیم یا پیپل یا ٹاہلی(شیشم) کے درخت تلے جا پناہ پکڑتا جبکہ سردیوں کی انتہائی سرد راتوں میں اس کا ٹھکانہ عموما ہمارے علاقے کی رات کے وقت کی ویران مسجدیں یا مزار ہوتے تھے۔ گالہے نے اپنے معمول کو ایک خاص طرح سے سیٹ کر رکھا تھا۔ صبح کو موذن کی آمد سے قبل وہ مسجد کی ان صفوں کو چھوڑ کر نکل جاتا جو صحن میں لپٹی رکھی ہوتی تھیں اور جنہیں راتوں کی سردیوں سے بچنے کے لیے گالہا اپنے گرد لپیٹ لیتا تھا۔ گرمیوں میں اس کا ٹھکانہ بننے والے درخت عموما ویران جگہوں پر ہوتے۔ لیکن اگر وہاں بچے کھیلنے یا بڑے تاش کی بازی سجانے آجاتے تو گالہا چپکے سے وہاں سے نکل جاتا۔

بچپن کی ناسٹلجک یادوں میں ایک یاد ماہ رمضان کا اعتکاف بھی ہے۔ اس دور کا اعتکاف بچوں کے لیے انتہائی پرلطف قسم کی تفریح ہوتا تھا۔ چند نوجوان، چند بچے اور ان کی نگرانی کرنے اور عبادات پر ابھارنے والے ایک دو بزرگ ہمارے علاقے کی دیہی مساجد کے اعتکاف کا لازمی حصہ ہوتے تھے۔

 سردیوں کے ایک اعتکاف کی کہانی ہے کہ تمام معتکفین بشمول ہم بچوں کے، لیلتہ القدر کی تلاش میں رتجگے کی کیفیت میں تھے۔ ہمارے نگران بزرگ اس عشرہ اعتکاف میں ایک زاہد خشک تھے۔ ہم عبادات میں مصروف تھے کہ اچانک میں نے اس گالہے کو مسجد کے قدرے تاریک کونے میں صف میں لپٹا دریافت کیا اور شور مچا دیا۔ زاہد خشک اور نگران اعلی تک گالہے کی نیم سے بھی زیادہ برہنہ حالت میں مسجد میں موجودگی کی اطلاع پہنچائی گئی۔

زاہد خشک کے چہرے پر دوران عبادت موجود نورانیت کی جگہ بے انتہا غصے نے لے لی۔ فورا نوجوانوں کو حکم ہوا کہ گالہے کو مسجد سے کسی بھی طرح سے نکالا جائے۔ کچھ نوجوانوں نے باادب انداز میں اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے باہر شدید سردی کی دلیل دی۔ زاہدانہ غصے میں اور شدت پیدا ہوئی اور ساتھ ہی ایک واعظ وارد ہوا۔ یہ ناپاک شخص توہین مسجد ہے، فورا نکالو اسے ورنہ کسی کی بھی عبادت قبولیت کی سرحد میں داخل نہ ہو سکے گی۔ حکم حاکم سے مجبور نوجوانوں نے گالہے کو تقریبا دھکے دیتے ہوئے مسجد سے نکال کر باہری پگڈنڈی پر کھڑا کر دیا۔ ہم سارے بچے مسجد کی کندھ سے لگے کھڑے اس پاگل کو کافی دیر تک کھڑے دیکھتے رہے۔ جو کافی دیر تک وہیں کھڑا کبھی مسجد کے گنبد کو حیرت بھری نظروں سے دیکھتا ، کبھی ہمیں یوں دیکھتا کہ گویا ہم مریخی مخلوق تھے۔ کچھ دیر تک وہاں کھڑا رہنے کے بعد گالہا وہاں سے چل دیا اور آئندہ کبھی مسجد کی صفوں کی گرمی سے لطف لیتے نہیں پایا گیا۔ کہتے ہیں کہ اس کے بعد اس کا ٹھکانہ بستی کا قبرستان ہو گیا تھا۔ جہاں کے زاہد شاید زیادہ غصیلے نہ تھے۔ شاید کم متشدد اور کم غصیلے زاہد گورستانوں میں ہی پائے جاتے ہیں۔

اس کہانی کو عرصہ بیس سال سے زیادہ گزر چکا ہے۔ دو روز قبل اسی زاہد خشک کے ہمراہ کسی موضوع پر بات ہو رہی تھی کہ ماروی سرمد اور حافظ حمد اللہ کا قصہ چل نکلا۔ زاہد نے پوچھا آخر ہوا کیا۔ ہم نے پورا واقعہ ہوبہو دہرا دیا۔ حافظ صاحب کی اس حرکت پر زاہد خشک کی خشکی میں خاصی کمی ہوئی اور انہوں نے متبسم انداز میں فرمایا’’تھا تاں گالہا‘‘ جی وہی انداز کہ ’تم بھی پاگل ہو‘۔

 لفظ گالہا سن کر بے تحاشا مجھے بچپن کا اپنا گالہا یاد آ گیا۔ جو اس وقت موجود ہوتا اور بول سکتا تو پوچھتا کہ ’گالہا تو میں بھی تھا‘۔


Comments

FB Login Required - comments