ایک زندہ اور ایک مردہ بچی کی کہانی


hashir ibne irshadننھی انیلیز کو پتہ نہیں تھا کہ آٹو گراف بک کیا ہوتی ہے دکان کے شوکیس میں سجی خوبصورت سی سرخ اور سفید رنگ کی آٹو گراف بک جس پہ ایک چھوٹا سا تالا ہوا تھا ، نے گویا اس کے پیر پکڑ لیے تھے ۔ اس کے باپ اوٹو نے اس کی آنکھوں  میں چمکتی طلب دیکھی اور یہ جان گیا کہ اسے اپنی پیاری بیٹی کے لیئے یہ خریدنی ہوگی۔”ابھی نہیں گڑیا ’’باپ نے اپنی جیب ٹٹولی”لیکن میں ’تمہیں یہ دلا دوں گا‘‘۔ انیلیز جانتی تھی کہ اس کا باپ جھوٹے وعدے نہیں کرتا۔ ’’ ٹھیک ہے بابا لیکن بھولنا نہیں، مجھے یہ ڈائری چاھیے”۔ اوٹو نے پہلے تو سوچا کہ اسے بتا دے کہ یہ ڈائری نہیں ہے۔ ’’ کیا فرق پڑتا ہے‘‘ اس نے دل میں کہا اور انیلیز کی انگلی پکڑ کر آگے بڑھ گیا۔

آج ہی کا دن تھا۔ 12 جون 1942ء کو انیلیز نے ایک ایک کرکے اپنی سالگرہ کے تحفے کھولنے شروع کیے۔ پہلا، دوسرا، تیسرا  اور پھر جونہی چوتھا تحفہ کھولا اس کے سامنے اس کی ڈائری تھی، ’’تھینک یو پاپا‘‘ کہ کر وہ اوٹو سے چمٹ گئی ۔ یہ اس کی سالگرہ کا سب سے خوبصورت تحفہ تھا ۔

انیلیز نے اسی دن سے اس ڈائری کو اپنا دوست مان کر اس میں روز کی باتیں لکھنا شروع کر دیں۔ چھوٹی چھوٹی باتیں۔ اپنی بہنوں سے لڑائی، اپنی ماں کی شکایتیں، اپنی دوستوں کے چٹکلے، اپنے باپ کی شفقت، کھانے کی اپنی پسند، اپنے معصوم  سے خواب، اپنی زندگی کے منصوبے اور نجانے کیا کیا کچھ۔ جہاں ڈائری میں یہ ساری باتیں تھیں وہیں تیرہ سالہ انیلیز نے اپنے ڈر، اپنے خوف اور اپنی پریشانیاں بھی لکھ ڈالیں۔ ہر وہ پابندی جو ہالینڈ کے شہری جرمنوں کے ہاتھوں برداشت کرنے پر مجبور تھے، انیلیز کی ڈائری کا حصہ بن گئی – انیلیز کوفلمیں دیکھنے کا شوق تھا لیکن نازیوں کے قانون کے تحت اس کی قوم کے لوگوں کا تھیٹر میں داخلہ منع تھا۔ انیلیز کو سیاست اور جنگ کی سمجھ تو نہ تھی لیکن اپنے چھوٹے چھوٹے خواب ٹوٹنے کا دکھ بہت  تھا۔

ابھی سالگرہ کو ایک ماہ بھی نہ گزرا تھا کہ انہیں جرمن کیمپ میں رپورٹ کرنے کا حکم ملا۔ ’’ وہاں سے کوئی واپس نہیں آتا ’’ اس کی ماں نے حواس باختہ ہو کر اپنے شوہر سے کہا۔ اوٹو نے اپنی بیٹیوں پر نگاہ ڈالی، اپنی بیوی کا آنسوؤں سے بھیگا چہرہ دیکھا اور فیصلہ کر لیا۔۔۔ پورا خاندان راتوں رات ایک چھوٹے سے خفیہ اپارٹمنٹ میں جو اوٹو کے سابقہ آفس کے اوپر تھا وہاں منتقل ہوگیا۔ یہ ایک ناقابل معافی جرم تھا مگر اوٹو کے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا۔ انیلیز کے پاس اب اپنا بستر اپنا کمرہ اپنے کھلونے کچھ بھی نہیں تھا۔ وہ ایک تنگ سی پرچھتی پر مقید تھی۔ کھڑکی کے نام پر ایک دیوار میں دو چھوٹے روزن تھے اب یہی اس کا گھر تھا اس کی واحد رفیق اب اس کی ڈائری تھی۔

“گسٹاپو نے میرے کتنے جاننے والوں کو پکڑلیا ہے۔ ان کو جانور ڈھونے والی گاڑیوں میں ٹھونس کر لے جایا گیا۔ ویسٹ بروک کیمپ سے کوئی واپس نہیں آتا مجھے پتہ ہے ان سب کو ماردیا جائے گا۔ اگر ہالینڈ میں یہ حال ہے تو دور دراز کے علاقوں میں لوگوں پر کیا ظلم نہیں ہو گا”۔

“میں اب کبھی سکول نہیں جا سکوں گی میں نے کب سے کوئی فلم نہیں دیکھی۔ میں سوچتی ہو ں شاید یہ ایک دن ختم ہو جائے گا شاید میں پھر سے اپنے  دوستوں سے مل سکوں گی شاید میں پھر سے گلی میں کھیل سکوں گی ۔ شاید “

” آج  مسٹر بولکستین نے برطانیہ سے اپنے خطاب میں کہا کہ جنگ ختم ہونے پر وہ ہالینڈ کے شہریوں کی لکھی ہوئی ڈائریوں اور خطوط کو اکٹھا کریں گے۔ یہ سنتے ہی سب میری ڈائری کے پیچھے پڑ گئے”۔

“مجھے اب اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ میں زندہ رہوں یا مرجاؤں۔ دنیا میرے بٖغیر بھی چلتی رہے گی اور میں بہت  بے بس ہوں۔ میں کچھ نہیں بدل سکتی۔”

anne-frank-malala-yousafzai” یہ ایک معجزہ ہے میں نے ابھی بھی خواب دیکھنے نہیں چھوڑے۔ اب بھی میں انسان کی اچھائی پر یقین رکھتی ہوں یہ دنیا رفتہ رفتہ ایک جنگل بن رہی ہے۔ مجھے تباہی کے قدموں کی چاپ سنائی دیتی ہے۔ مجھے لاکھوں پر ہونے والا ظلم نظر آتا  ہے ان کے دکھ میری رگوں میں دوڑتے ہیں پر جب بھی میں آسمان کو دیکھتی ہو اور مجھے آسمان کا ایک بہت چھوٹا سا ٹکڑا نظر آتا ہے مجھے ابھی  بھی لگتا ہے کہ یہ دن بدل جائیں گے۔ سب کچھ بہتر ہوجائے گا ظلم مٹ جائے گا ور امن اور آشتی کا دور لوٹ آئے گا۔”

انیلیز کے خواب خواب ہی رہے۔ اور اگست 1944 ء کو ایک مخبری پر جرمن سپاہیوں نے اس پارٹمنٹ پر دھاوا بولا اور سارے خاندان کو گرفتار کر لیا۔ روتی چلاتی انیلیز کو اس کے خاندان سے الگ کر کے ایک ٹرین پر سوار کردیا گیا جو جس کی منزل آشوٹز کا عقوبتی کیمپ تھا۔ انیلیز کو یقین تھا کہ اس کے سارے خاندان کو مار دیا گیا ہے وہ جینے کی ہر خواہش کھو چکی تھی مگر اس کی تکلیفیں تو ابھی شروع ہونی تھیں۔

آشوٹز کے کیمپ میں 14 سالہ انیلیز کا کام پتھر ڈھونا تھا۔ کبھی کبھی اس کی ذمہ داریوں میں گھاس کھودنے کو بھی شامل کر لیا جاتا۔ رات کو اسے ڈربہ نما بیرک  میں چالیس اور لڑکیوں کے ساتھ ٹھونس دیا جاتا جہاں وہ ٹھیک سے کروٹ بھی نہ بدل پاتی۔ ڈائری لکھنے والے ننھے ہاتھ اب پتھر توڑتے تھے اس کی رفیق ڈائری اب اوٹو کے دوست میپ گیز کے پاس تھی جو  اس کی گرفتاری کے بعد اس اپارٹمنٹ میں پہنچا تھا مگرانیلیز یہ نہیں جانتی تھی اس کی ڈائری اس کے خوابوں اور اس کی امنگوں کی طرح کھو چکی تھی۔ سات ماہ تک انیلیزعقوبتی کیمپ کیصعوبتیں جھیلتی رھی۔ اس کی آنکھیں اندر کو دھنس چکی تھیں اس  کے ہاتھوں  پر گٹے پڑے ہوئے تھے۔ اور اس کے ناخنوں میں اس کی اپنی انگلیوں سے بہنے والا خون جما رہتا تھا۔ اب وہ ٹھیک سے چل نہیں پاتی تھی بولنا تو اس نے کئی ماہ سے چھوڑدیا تھا۔ ایک ہنستی کھلیتی کھلکھلاتی زندگی اب ایک چلتی پھرتی لاش تھی۔

مارچ 1945ء میں جنگ ختم ہونے سے چند دن پہلے انیلیز بالآخر زندگی کی بازی ہار گئی۔ مرتے وقت وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ اس کی ماں، اس کی بہن اور اس کی گہری سہیلیاں گیس چیمبر کی بھینٹ چڑھ چکی تھیں مگر اس کا باپ اب بھی زندہ تھا۔ اپنے سارے ارمانوں، خواہشوں اور خوابوں کو لئے 15 سال کی انیلیز کو ایک اجتماعی قبر میں دفن کر دیا گیا۔ مگر کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔

جولائی 1945ء میں جنگ ختم ہونے کے بعد اوٹو میپ گیز سے ملا جس نے اس کی پریوں کی سی بیٹی کی ڈائری اس کے حوالے کی ’’ یہ ڈائری میری نہیں، یہ میری پوری قوم کا نوحہ ہے‘‘ اوٹو نے کہا اور فیصلہ کیا کہ اسے یہ ڈائری چھپوانی ہے۔”انیلیز کی آواز روئے ارض کے ہر انسان تک پہنچنی ہوگی”۔

 یہ ڈائری 1946ء میں شائع ہوئی اور آج ہم اسے ’’این فرینک کی ڈائری‘‘ کے نام سے جاتنے ہیں۔ اس ڈائری نے پوری انسانیت کو جھنجوڑ کر رکھ دیا۔ ایک تاریخ دان نے کہاں۔ ’’ یہ ڈائری نہیں ہے۔ یہ ایک بچی کی آواز میں ظلم کے خلاف سب سے بڑی گواہی ہے۔ نیورم برگ میں پیش کی گئی ساری گواہیوں سے زیادہ پر اثر اور زیادہ طاقتور۔”

یہودیوں نے اس ڈائری کو اپنے سر کا تاج بنا لیا۔ یہ ڈائری دنیا کی سب سے زیادہ چھپنے والی کتابوں میں سے ایک ہے اور این فرینک اس ڈائری کی زبانی  قربانی، عزم، حوصلے اور صبر کا استعارہ بن گئی۔ 1999ء میں ٹائم میگزین  نے این فرینک کو بیسویں صدی کے عظیم ترین ہیروز میں شامل کیا اسے آج بھی انسانی عزت و احترام کے لیئے بلند کی جانے والی طاقتور ترین آواز سمجھا جاتا ہے۔

ایسی ہی ایک ڈائری ایک اور قوم کے پاس بھی ہے۔ ایسی ہی ایک اور آواز ظلم اور جبر کے خلاف آج بھی توانا ہے۔ موت کے منہ سے واپس آئی ہوئی اس آواز کا بھی نعرہ صرف انسانیت اور احترام انسانیت ہے۔ فرق شاید صرف قوم کا ہے۔ یہ بات سمجھنا کوئی دشوار نہیں کہ نہ پندرہ سالہ این فرینک نے کوئی دستور لکھا تھا نہ آج کی اس آواز نے کوئی حکومت چلائی ہے۔ یہ تو استعارے ہیں صبر، عزم، حوصلے اور بہادری کے جن کی تلاش میں قومیں اپنی پوری زندگی گزار دیتی ہیں۔ یہودیوں نے این فرینک سے محبت کی اسے اپنا آئیڈیل جانا اور اسے پوری قوم کا اثاثہ بنا دیا۔ سوال یہ ہے کہ ہم نے ملاله کے ساتھ کیا کیا؟ شاید زندہ اور مردہ قوموں میں یہی فرق ہوتا ہے۔ زندہ قومیں اپنی مری ہوئی بچیوں کو بھی زندہ رکھتی ہیں اور مردہ قومیں اپنی زندہ بچیوں کو بھی مار ڈالتی ہیں، کبھی گولیوں سے، کبھی طعنوں سے اور کبھی اپنی نفرت سے۔


Comments

FB Login Required - comments

حاشر ابن ارشاد

حاشر ابن ارشاد کو سوچنے کا مرض ہے۔ تاہم عمل سے پرہیز برتتے ہیں۔ کتاب، موسیقی، فلم اور بحث کے شوقین ہیں اور اس میں کسی خاص معیار کا لحاظ نہیں رکھتے۔ ان کا من پسند مشغلہ اس بات کی کھوج کرنا ہے کہ زندگی ان سے اور زندگی سے وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔ تادم تحریر کھوج جاری ہے۔

hashir-irshad has 43 posts and counting.See all posts by hashir-irshad