’البرٹ پنٹو کو غصہ کیوں آتا ہے‘


 

آخر البرٹ پنٹو کو غصہ کیوں آتا ہے؟ میں نے بہت کوشش کہ اس معمے کا حل نکالوں۔ بڑی تحقیق اور عرق ریزی کے بعد بھی میں اس نتیجے پر نہیں پہنچ سکا کہ آخر پنٹو کے ساتھ مسئلہ ہے کیا۔

میں پنٹو خاندان کو اس وقت سے جانتا ہوں جب سے میں نے اس دنیا میں آنکھ کھولی ہے۔ میرا دوست پنٹو دوسرے پنٹوؤں سے الگ نہیں ہے مگر اس کے ساتھ ایک مسئلہ ہے کہ وہ چپ نہیں رہ سکتا، فوراً غصے میں آ جاتا ہے اور دوسروں پر اپنے اس فطری یا جبلی عمل کا اظہار برملا کرتا ہے۔ اس کے برعکس میں نے اسے کبھی کسی سے پیار کا اظہار کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ (صرف اس کے قصے سنے ہیں)۔

پنٹو کیونکہ میرا پرانا دوست ہے اس لیے میں اس غصے کی وجہ سے کافی پریشان رہتا ہوں۔ اس کے غصے کے بارے میں تحقیق کے لیے میں نے کئی طرح کی کتابوں اور تحقیقی مکالموں کو پڑھا بھی ہے۔ مثلاً حالیہ تحقیق کو ہی لیجیئے۔ امریکن سائکلوجیکل ایسوسی ایشن نے اپنی ویب سائٹ پر ایک مضمون شائع کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ آپ کو غصہ کیوں آتا ہے اور آپ غصے کو کن کن طریقوں سے کنٹرول کر سکتے ہیں۔

پنٹو تو اسے کبھی نہیں پڑھے گا کیونکہ اگر میں نے اسے صرف اتنا کہا کہ ’تمہیں غصہ بہت آتا ہے اسے پڑھو شاید کچھ مدد مل سکے۔ تو یقیناً اسے غصہ آ جائے گا‘۔ اس لیے میں نے خود ہی اس سے کچھ اخذ کرنے کی کوشش کی ہے شاید اس میں پنٹو کی بہتری ہو۔

مضمون میں لکھا ہے کہ غصہ ایک نارمل چیز ہے بلکہ صحت مند بھی ہے۔ لیکن جب یہ کنٹرول سے باہر ہو جاتا ہے تو اس سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ آپ کے کام میں بھی اور آپ کی نجی زندگی میں بھی۔ جب آپ غصے میں ہوتے ہیں تو آپ میں فزیولوجیکل اور بائلوجیکل تبدیلیاں آتی ہیں۔ آپ کے دل کے دھڑکن تیز ہو جاتی ہے اور آپ کا بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے۔

غصہ اندرونی اور بیرونی انتشار یا واقعات کی وجہ سے بھی ہوتا ہے۔ بچپن کی کوئی یاد یا کوئی ایسا واقعہ بھی انسان میں غصے کی صلاحیت پیدا کر سکتا ہے۔ مضمون میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ غصہ دھمکیوں کے خلاف مدافعت کے لیے قدرتی طور پر خود کو ڈھالنے کا عمل ہے۔

ہر انسان غصے کو قابو کرنے کے لیے تین طرح کے بنیادی طریقے اپناتا ہے۔ پہلا طریقہ اس کا برملا اظہار ہے۔ دوسرا اسے اپنے اندر روکے رکھنا اور تیسرا اپنے آپ کو پرسکون کرنے کے طریقے ڈھونڈنا۔

پنٹو صرف اور صرف پہلے طریقے پر ایمان رکھتا ہے اور اسی میں خوش ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ جس غصے کا اظہار نہ کیا گیا اس کا کیا فائدہ۔ اس سے تو اپنا ہی بلڈ پریشر بڑھے گا، ڈپریشن ہو گا اور کسی کو اس کا پتہ بھی نہیں چلے گا۔

جن لوگوں کو غصہ جلدی آ جا تا ہے ان کے متعلق ماہرینِ نفسیات کہتے ہیں کہ وہ لوگ سمجھتے ہیں کہ دوسروں کو انہیں اس طرح کی صورتِ حال میں ڈالنا ہی نہیں چاہیئے جہاں انہیں غصہ آئے۔ اس کی مثال ماہرین یہ دیتے ہیں کہ جیسے کسی کی چھوٹی سی غلطی کی تصیح کرنے کی کوشش کی جائے یا اس کی طرف اس شخص کی توجہ مبذول کروائی جائے۔

غصے کو قابو کرنے کے طریقے

ماہرین غصے کو قابو کرنے کے چار طریقوں کو سود مند مانتے ہیں۔

(1)  لمبے سانس لینا۔ ایسے محسوس کریں کہ سانس آپ کی چھاتی سے نہیں بلکہ کہیں ’اور‘ سے آ رہا ہے۔

(2)  آہستہ آہستہ اپنے منہ ہی منہ میں ایسے لفظ ادا کریں کہ جیسے ’آرام کرو‘ یا انگریزی کا لفظ take it easy۔ ان سے سکون ملتا ہے۔ اس کو بار بار ادا کریں۔

(3)  اپنے دماغ میں کسی بھی سکون پہچانے والی یا آرام دہ جگہ یا چیز کا تصور لائیں۔

 (4)  اور دھیرے دھیرے یوگا کی ورزشیں کریں۔ اس سے مسلز کو سکون ملتا ہے اور آپ بہتر محسوس کرتے ہیں۔

 کئی ماہرین silly humour کو بھی غصہ بھگانے کے لیے بہتر جانتے ہیں۔

پر میں اور پنٹو تو ہمیشہ ہی لطیفے (آپ گندے لطیفے کہہ لیں) سنتے اور سناتے ہیں اور اس پر بہت خوش ہوتے۔ لیکن اس کا تو پنٹو پر بالکل الٹ اثر پڑ رہا ہے۔ مثلاً حال ہی میں سنے ہوئے اس لطیفے کا ذ کر کرتا ہوں جس میں ایک شخص ڈاکٹر کو ایمرجنسی میں کال کرتا ہے کہ اس کا زندگی اور موت کا مسئلہ ہے اسے دیکھا جائے۔ جب ڈاکٹر صرف اس شخص کے لیے سرجری کھولتا ہے تو وہ شخص اسے بتاتا ہے کہ مرض گزشتہ دس دن پہلے کا ہے۔ ’ہوا یوں کہ میں ایک دن گھر گیا تو میں نے اپنی بیوی کو کسی کے ساتھ دیکھا۔ مجھے بہت غصہ آیا کچن میں گیا، چاقو نکالا اسے تیز کیا اور دونوں کو مارنے گیا۔ لیکن آخری وقت میں خیال آیا کہ ان کو مارنے سے مجھے کیا فائدہ ہو گا۔ الٹا جیل جاؤں گا، چلو اوپر والے پر چھوڑ دیتا ہوں۔ کچن میں گیا چاقو رکھا اور پانی گرم کیا، پیالی میں ڈالا اور ایک پتی کی پڑیا ڈالی، پی گیا اور باہر نکل گیا‘۔

ڈاکٹر اس بات پر حیران ہو کر کہتا ہے کہ ’پھر اس میں میری ضرورت کیا پڑی۔ آپ ایک نیک آدمی ہیں کہ آپ نے قتل نہیں کیا‘۔ میرا وقت برباد نہ کریں۔

وہ شخص اصرار کرتا ہے کہ آگے سنیں آپ کی ضرورت ہے تو آپ کے پاس آیا ہوں۔

اس طرح وہ شخص پھر بتاتا ہے کہ وہ شخص اس کے بعد مسلسل اس کے گھر آ رہا ہے اور روز وہ ان کو مارنے کا سوچ کر بعد میں معاف کر دیتا ہے اور تڑک سے تڑک چائے پیتا جا رہا۔ یعنی پہلے ایک پڑیا ڈالتا تھا اب چار ڈالتا ہے۔

جب ڈاکٹر کہتا ہے کہ پھر میں کیا کر سکتا ہوں یہ میرا کام نہیں تو وہ شخص کہتا ہے ’ڈاکٹر صاحب اصل میں آپ سے پوچھنا یہ تھا کہ زیادہ چائے صحت کے لیے مضر تو نہیں ہوتی‘۔

غصے کو کنٹرول یا ’اینگر مینجمنٹ‘ کا کوئی نہ کوئی تو طریقہ ہونا چاہیئے۔ میں اور پنٹو اس پر بہت ہنسے لیکن اگلے ہی دن پھر پنٹو کے غصے کی خبر مل گئی۔

میں جتنا پنٹو کے غصے کا حل ڈھونڈنے کے لیے پڑھتا جا رہا ہوں اتنا ہی زیادہ ’کنفیوز‘ ہوتا جا رہا ہوں۔ یہ سب منطق اور کتابیں تو پنٹو کے کیس میں بالکل الٹ ہیں۔ اس پر کوئی تھیوری یا منطق فٹ نہیں بیٹھ رہی۔

پنٹو تو ایک نارمل انسان ہے جو بس صرف چپ نہیں رہ سکتا، کسی کی کوئی بات سن نہیں سکتا، اپنی بات پر ڈٹا رہتا ہے، اور غصے میں فوراً آ جاتا ہے۔ بس ان دو تین چیزوں کے علاوہ وہ سو فیصد اچھا انسان ہے۔

میرا مشورہ یہ ہے کہ بھئی خدا کے لیے اسے تنگ نہ کریں۔ وہ بیمار ہو سکتا ہے۔

(میں تو پنٹو کو اپنی یہ تحقیق نہیں دکھاؤں گا لیکن میری خواہش ہے کہ پنٹو خود ہی اسے پڑھ لے۔ شاید افاقہ ہو۔اسے دوا سے زیادہ دعا کی ضرورت ہے‘۔

ویسے دنیا میں پنٹو بڑھتے ہی نہیں جا رہے؟ اسے گلوبل وارمنگ یا عالمی حدت پہ ڈال دیتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

عارف شمیم کی دیگر تحریریں
عارف شمیم کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں