بیمار معاشرے کی اخلاقی نبض ڈوب رہی ہے


editکل رات پاکستانی ٹیلی ویژن چینل نیوز ون کے ایک پروگرام میں سینیٹر حافظ حمد اللہ اور انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی صحافی و کالم نگار ماروی سرمد کے درمیان جو تنازعہ ہوا، وہ بدستور سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ اس مکالمہ کی نوعیت اور شدت اس قدر زیادہ تھی کہ ملک کے ممتاز ترین اخبار ڈان نے اس پر خبر شائع کرنا ضروری خیال کیا۔ اس کے علاوہ آج قومی اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کی شیریں مزاری نے اس مسئلہ پر بات کرتے ہوئے سینیٹر حمد اللہ کی مذمت کی۔ شیریں مزاری چند روز قبل وزیر دفاع خواجہ آصف کے ہاتھوں اسی قسم کے رویہ کا شکار ہو چکی ہیں جس کا سامنا ٹیلی ویژن بحث کے دوران ماروی سرمد کو کرنا پڑا ہے۔ خواجہ آصف نے اگرچہ اپنے کئے پر پشیمانی کا اظہار کیا ہے لیکن یہ اظہار بھی حجت پورا کرنے کی حد تک کیا گیا ہے۔ وہ ابھی تک شیریں مزاری سے اپنے الفاظ کے چناؤ اور ہتک آمیز لہجے پر معافی مانگنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ سینیٹر حمد اللہ کے حامی بھی ایسا ہی رویہ اختیار کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کر رہے ہیں کہ ماروی سرمد منہ پھٹ اور بدزبان خاتون ہیں اور انہوں نے جارحانہ گفتگو کرنے میں پہل کی تھی۔ اس طرح ایک موضوع پر بحث کو ذاتی کردار کی چھلنی سے گزارتے ہوئے غیر ضروری ہنگامہ قرار دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

حمد اللہ نے جس انتہا پسندانہ جاہلیت اور الفاظ کے چناؤ میں جس شرمناک ڈھٹائی کا مظاہرہ کیا ، وہ دو افراد کی لڑائی کا مسئلہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ رویہ اس معاشرے میں عورت کے رتبہ اور مقام کے تعین سے متعلق ہے۔ اس بحث میں جو عناصر مذہبی روایت کا حوالہ دیتے ہوئے عورت کو احترام کا مقام دینا چاہتے ہیں، وہ دراصل یہ اصول طے کروانا چاہتے ہیں کہ عورت اپنی ذات میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی البتہ ماں ، بہن ، بیٹی یا بیوی کی صورت میں اسے عزت و احترام کا مقام عطا کیا جا سکتا ہے۔ اس موقف میں دو کمزوریاں ہیں۔ ایک تو یہ اس اصول کو ماننے پر اصرار کرتا ہے کہ عورت کو اگر عزت ملنی ہے تو وہ مرد کی اجازت اور مرضی سے عطا ہو گی۔ بصورت دیگر اسے اس کا ’’حق‘‘ حاصل نہیں ہے۔ آج کی عورت اس خسروانہ عنایت کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ اس موقف کی دوسری کمزوری یہ ہے کہ عورت کو ماں ، بہن ، بیٹی یا بیوی کا رتبہ دے کر ایک مرد خود اپنے رشتوں کا احترام تو کرتا ہے لیکن دوسروں کی ماؤں ، بیٹیوں ، بہنوں اور بیویوں کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا جو وہ خود اپنی عورتوں کو دے رہا ہوتا ہے۔ زیر بحث ٹی وی پروگرام میں سینیٹر حمد اللہ کے طرز عمل ، انداز گفتگو اور رویہ سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے۔ اس طرح عورت کے لئے معاشرے میں گنجائش پیدا ہونے کی بجائے اسے مرد کی میراث اور ملکیت کا درجہ دینے کا چلن عام ہو رہا ہے۔ بدنصیبی کی بات یہ ہے کہ ملک میں دین کے ترجمان اور نمائندے اس طریقہ کار کو درست مانتے ہوئے اسے نافذ کروانے پر مصر ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ عورتوں کو ان حدود کا پابند کر دیا جائے جو دین کے یہ علمبردار اپنی فہم اور صوابدید کے مطابق عورتوں کے لئے متعین کر رہے ہیں۔ معاشرے کی جو عورت بھی ان حدود کو تسلیم کرنے اور خود اپنی حیثیت منوانے کی کوشش کرتی ہے، اسے مخالفت اور طعن و تشنیع کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اسی طرز عمل کے سبب عورتوں کو ان کے لباس ، بول چال کے انداز ، اٹھنے بیٹھنے کے طریقے اور سماجی رویوں کی بنیاد پر کمتر یا بہتر قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ملک کے وزیر دفاع جب شیریں مزاری کے بارے میں نازیبا کلمات ادا کر رہے تھے ۔۔۔۔ تو ان الفاظ کی شدت سے زیادہ اس مزاج کی پستی پر افسوس ہوتا ہے جس کی وجہ سے انہوں نے ایک خاتون رکن اسمبلی کے بارے میں کہا کہ اسے نسوانی ہونا چاہئے۔ گویا نسوانیت ایک ایسی خوبی یا معیار ہے جس کا فیصلہ بہر صورت مرد کرے گا اور ہر عورت کو اس معیار پر پرکھنے کو اپنا حق منوانے کی کوشش کرے گا۔ اس جابرانہ رویہ کو عورت کے مساوی حق کے حوالے سے ناقابل قبول طرز عمل سمجھنا ضروری ہے۔ سینیٹر حمد اللہ نے بھی بعینہ وہی رویہ اختیار کیا اور ماروی سرمد کو پہلا مشورہ ہی یہ دیا کہ ’’شوہر‘‘ بننے کی کوشش نہ کرو۔ ان مولوی صاحب کے ذہن میں شوہر ایک ایسے کردار کی صورت میں نقش ہے ، جو فیصلے کرتا اور رہنمائی کا فریضہ ادا کرتا ہے۔ جو اپنے موقف پر قائم رہنے پر اصرار کرتا ہے۔ اسی لئے وہ ماروی سرمد سے یہ حق واپس لینے کے لئے اسے باور کروانا چاہتے تھے کہ تم عورت ہو شوہر نہ بنو۔ خواتین کے لئے معاشرے میں مساوی حقوق اور عزت و وقار کی بات کرتے ہوئے اگر سینیٹر حمد اللہ کے اس تصور عورت یا وزیر دفاع خواجہ آصف کے تصور نسوانیت کو معیار بنایا جائے گا تو اس کا صرف یہ مطلب ہو گا کہ ہم مزاجاً عورتوں کو مردوں سے کمتر سمجھتے اور ان کے ساتھ ویسا ہی سلوک روا رکھنا چاہتے ہیں۔ آج کی بحث میں اس مزاج اور سوچنے کے اس طریقہ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ بصورت دیگر عورت کے احترام اور حفاظت کی باتیں بے معنی اور غیر ضروری ثابت ہوں گی۔

غور کیا جائے تو معاشرے میں جنسی زیادتی یا سماجی ظلم و استبداد کا شکار بننے والی عورتوں کو اس لئے انصاف نہیں مل پاتا کہ کسی نہ کسی بااختیار حیثیت میں موجود کوئی مرد یہ سمجھ رہا ہوتا ہے کہ کسی خاص وقوعہ میں عورت نے ایک طے شدہ فارمولے یا پیمانے کو تسلیم کرنے کی بجائے اس سے بغاوت کی ہے۔ اسی لئے کبھی ریپ کے معاملات میں فحاشی یا نامناسب لباس کو عذر بنا کر جرم کا ارتکاب کرنے والے کے لئے سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور کبھی بیٹی یا بہن کے قتل کو خاندان کی عزت کی حفاظت کے نام پر جائز قرار دیا جاتا ہے۔ بڑھتے ہوئے سماجی دباؤ کی وجہ سے اگر براہ راست یہ نہ بھی کہا جائے کہ باپ نے یا بھائی نے بیٹی یا بہن کو مار کر کوئی کارنامہ سرانجام دیا ہے تو بھی گفتگو کو بڑھاتے ہوئے بات کا اختتام اسی نکتے پر ہوتا ہے کہ اگر لڑکی یہ باغیانہ اقدام نہ کرتی تو اس کا یہ افسوسناک انجام نہ ہوتا۔

اس بات میں بھی شبہ نہیں ہے کہ پاکستانی معاشرے کی عورتیں کسی حد تک سماجی روایات کو تسلیم کر کے ان حدود میں گزارا کرنے کی کوشش کرتی ہیں جو سماج نے ناجائز طور سے ان کے لئے متعین کر رکھی ہیں۔ لیکن یہ امر بھی فطری ہے کہ علم کی روشنی عام ہونے کے ساتھ عورتوں میں شعور و آگہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ وہ بھی بعض پابندیوں کو ناجائز اور غیر منصفانہ سمجھتی ہیں اور یہ تقاضہ بھی کیا جاتا ہے کہ مردوں پر بھی ویسی ہی کوئی پابندیاں کیوں عائد کرنے کی بات نہیں کی جاتی۔ مثال کے طور پر جنسی زیادتی کے معاملات میں لڑکی اور اس کے خاندان کو کیوں شرمندگی اور سماجی تنہائی اور لعن طعن کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ نفرت اور سماجی غصہ لڑکے اور اس کے خاندان کی طرف کیوں منتقل نہیں ہوتا۔ لڑکیوں سے کیوں یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ دھیمے لہجے اور نیچی نظروں سے بات کریں۔ مردوں کو حیا کے تقاضے پورے کرنے میں کون روکتا ہے۔ اس کجی کی دلیل کے لئے مذہب کو استعمال کیا جاتا ہے جو سراسر غلط اور دین کے ساتھ زیادتی کا ارتکاب ہے۔ یہ اس معاشرے کے سماجی رویے ہیں۔ اب ان کی اصلاح کی بات کی جا رہی ہے لیکن بعض سفید پوشوں کو یہ باتیں اچھی نہیں لگتیں۔ وہ بہر صورت وہ معاشرہ قائم رکھنا چاہتے ہیں جہاں مرد کا جبر ہی بنیادی قدر اور انصاف کے عین مطابق ہے۔ اس لئے اگر ماروی سرمد جیسی کچھ عورتیں منہ پھٹ ہو گئی ہیں تو اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ معاشرے کے رسم و رواج حتیٰ کہ قانون و قاعدے تک مرد کی ضرورتوں کے مطابق بنائے گئے ہیں اور مرد اپنا یہ اختیار چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہے۔ ایسی صورت میں تصادم ہونا ناگزیر ہے۔

تاہم مہذب معاشرے میں اختلاف رائے اور تصادم کی کیفیت سے دلیل اور حجت سے نمٹنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس طرح فریقین اپنے لئے جگہ بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ لیکن سینیٹر حمد اللہ اور خواجہ آصف کے طرز عمل سے لگتا ہے کہ وہ ان معاملات میں دلیل کو زیادہ اہمیت دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ان کا انداز یہ ہے کہ ہماری بات مان لی جائے وگرنہ ہم وہ انداز تخاطب اختیار کریں گے جو تمہارے لئے قابل قبول نہیں ہو گا اور تم ’’شرم‘‘ سے پانی پانی ہو جاؤ گی۔ یہ لوگ ایسا کرتے اور کہتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ اگر وہ اپنا چلن نہیں چھوڑیں گے تو شیریں مزاری اور ماروی سرمد جیسی عورتیں ضرور ان کا راستہ کاٹیں گی اور ان کی مقرر کردہ حدود کا تمسخر اڑائیں گی۔

بحث میں یہ نکتہ بھی سامنے لایا جا رہا ہے کہ سینیٹر حمد اللہ اور ماروی سرمد کے تنازعہ میں متوازن رائے قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ دو افراد کے معاملہ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ دونوں طرف کی غلطی کا ذکر کیا جائے لیکن اس معاملہ میں سینیٹر حمد اللہ ایک فرد کے طور پر نہیں بلکہ ایک مرد کے طور پر اپنی اتھارٹی تسلیم کروانے پر اصرار کر رہے تھے۔ ان کا موقف تھا کہ وہی فیصلہ کریں گے کہ مناسب تنقید کیا ہے اور بداخلاقی کسے کہتے ہیں۔ ایسی صورت میں ماروی سرمد بطور ایک فریق کے غیر متعلق ہو جاتی ہیں۔ اور یہ اصول زیر بحث لانا ضروری ہو جاتا ہے کہ کیا سینیٹر حمد اللہ کے بیان کردہ اصول کو مان لیا جائے۔ وہ معاشرہ میں عورت کے مقام کے بارے میں جن تصورات کا پرچار کرتے ہیں، کیا ان کو تسلیم کر لیا جائے۔ اور کیا انہیں یہ حق دے دیا جائے کہ اگر کوئی بھی شخص خواہ وہ ماروی سرمد ہو یا کوئی دوسرا، ان کے اس تصور کو قبول نہیں کرے گا تو انہیں فحش کلامی کرنے اور مار پیٹ کرنے کی اجازت ہو گی۔

یہی طرز عمل معاشرے میں لاقانونیت کو جنم دے رہا ہے۔ اس کی ایک شکل قومی اسمبلی میں خواجہ آصف اور ٹی وی شو پر حمد اللہ کی بدکلامی کی صورت میں نمودار ہوتی ہے تو دوسری طرف کوئی ہاتھ میں بندوق لئے اپنے تصور حیات کو نافذ کرنے پر اصرار کرتا ہے۔ کبھی وہ ممتاز قادری کی شکل میں سامنے آتا ہے، کبھی کسی خودکش بمبار کی صورت اور کبھی دین نافذ کرنے والے دہشت گرد گروہوں کے طور پر اپنے معیار زندگی کو منوانے پر اصرار کرتا ہے۔ اگر ان عناصر کی ان بے ادائیوں کو مان لیا جائے تو معاشرہ اپنی موجودہ ہئیت اور شکل میں برقرار نہیں رہ سکتا۔ کسی بھی سماج میں آباد لوگوں کی زندگیوں اور اپنی زندگیوں کو اپنے طور پر گزارنے کے حق کی حفاظت کے لئے ایسے سب عناصر کو مسترد کرنا ضروری ہے۔ اسی لئے حمداللہ غلط تھا اور اس کے طرز عمل کو سختی سے رد کرنا ہر مہذب اور سماجی انصاف پر یقین رکھنے والے کے لئے ضروری ہے۔ اسی طرح ایک بیمار سماج کی صحتیابی کے لئے کام کیا جا سکتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 416 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

One thought on “بیمار معاشرے کی اخلاقی نبض ڈوب رہی ہے

  • 12-06-2016 at 4:14 am
    Permalink

    Bilkul Drust asttt…

Comments are closed.