مضبوط اور پائیدار جمہوریت میں کامیابی ہے


Kashif Rafiqueہمارے ایک سادہ لوح دوست نے نہایت معصومیت سے آج کا اخبار ایک طرف ڈالتے ہوئے سوال کیا کہ یہ سفارتکار اور اعلیٰ سرکاری وفود دیگر ممالک کے صدور و سربراہان مملکت ہمارے پڑوسی ملک کا بھی دورہ کرتے ہیں مگر میں نے کبھی نہیں پڑھا کہ انہوں نے فوج کے سربراہ سے ملاقات کی ہو اور اس کی تصاویر و خبریں اخبارات کے صفحہ اول کی زینت بنی ہوں پھر آخر ہمارے یہاں ایسا کیوں ہوتا ہے؟

سوال گو اتنا پیچیدہ نہیں تھا مگر جواب بھی اتنا سہل نہیں ابھی ہم جواب کے لئے مناسب الفاظ و تراکیب کو ذہن میں ترتیب ہی دے رہے تھے کہ وہ پھر گویا ہوئے۔

آپ کو یاد ہوگا کچھ عرصہ قبل ہمارے پڑوسی ملک کے چیف آف آرمی اسٹاف کی ریٹائرمنٹ کا وقت قریب آیا تو انہوں نے کہا کہ میرے سروس ریکارڈ میں درج تاریخ پیدائش غلط ہے میرے پاس صحیح تاریخ پیدائش کے ثبوت موجود ہیں جن کے حساب سے میری ملازمت کی مدت ابھی ایک سال مزید بنتی ہے اور پھر وہ ان دستاویزات کو لے کر وزیراعظم سے ملاقات کی کوششیں کم و بیش دو ماہ تک کرتے رہے مگر وزیر اعظم سے نہیں مل سکے اور وزیر اعظم نے انہیں یہ پیغام بھجوا دیا کہ ان کا مسئلہ وزارت دفاع سے متعلق ہے لہٰذا وہ وزیر دفاع سے ملیں۔ دو ماہ بعد چیف صاحب نے وزارت دفاع کے چکر لگانا شروع کئے تو وہاں سے جواب ملا کہ آپ کے مسئلے کا تعلق سیکریٹری دفاع سے ہے آپ ان سے ملیں جب وہ سیکریٹری دفاع سے ملے تو سیکریٹری صاحب نے فرمایا کہ زبانی کہنے سے تو کچھ نہیں ہوگا آپ تحریری درخواست لکھ کر ثبوتوں کے ساتھ جمع کروا دیں چناچہ چیف صاحب نے ایسا ہی کیا اور کچھ دن بعد انہیں جواب موصول ہوگیا کہ سروس بک میں آپ کی جو تاریخ پیدائش درج ہے اسے ہی درست تسلیم کیا جائے گا چیف صاحب اپنا مقدمہ عدالت میں لے کر گئے مگر عدالت نے بھی حکومت کے فیصلے کو برقرار رکھا اور چیف صاحب اپنے وقت پر ریٹائر ہو گئے، وہ ایک ہی سانس میں بات ختم کر کے جواب طلب نظروں سے ہماری طرف دیکھنے لگے۔

ہم اپنے سادہ لوح دوست کے بظاہر سادہ سے سوال کا جواب تو نہ دے سکے مگر اس سوچ نے مضطرب کر دیا کہ ہم اگر اپنے ملک میں غیر جمہوری طرز عمل پر تنقید کریں تو بھی غدار اور اگر پڑوسی ملک کی مضبوط جمہوری روایات کی تعریف کریں تو مبینہ طور پر را کے ایجنٹ۔ ایسی صورت میں مثبت تنقید جس سے تعمیر کا کوئی پہلو نمایاں ہو، ذہنوں پر چھائی کچھ گرد چھٹے، ماضی کے ہولناک اندھیروں سے حال کی بے ثمر و بے ربط حکمت عملی تک قومی مفاد کی تعبیر وتشریح کو صیغہ راز میں رکھ کر ملک کو سیکیورٹی اسٹیٹ بنانے کے عمل کو ترک کر کے بتدریج سوشل ویلفئیر اسٹیٹ کی جانب بڑھا جائے، کیونکر ممکن ہو۔۔۔۔۔۔۔۔ اضطراب اپنی جگہ مگر جواب اس سوچ کا بھی کوئی نہیں۔

سینٹ میں بجٹ پر بحث سے پہلے جناب بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کے کل ہونے والے دو واقعات پر میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ ایک جس طرح وزیردفاع کو جی ایچ کیو طلب کیا گیا اور دوسرا کراچی میں ایم این اے فاروق ستار کے گھر کا رینجرز نے جس انداز میں محاصرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم سول حکمرانی کے ماننے والے ہیں مگر حکومت خود اپنا مقام کھو رہی ہے۔ جی ایچ کیو میں جنرل راحیل اور ان کے رفقا کی وزیر دفاع سمیت اعلیٰ حکومتی وفد سے ملاقات کی جو وڈیو جاری کی گئی ہے وہ گو کہ بے آواز ہے مگر میز کے اطراف کی باڈی لینگویچ سے یقینی طور پر ہر جمہوریت پسند جو جمہوری روح سے آشنا ہے اس کے جذبات اعتزاز احسن ہی کی طرح مجروح ہوئے ہوں گے۔ بات غیر موثر سفارتکاری اور خارجہ پالیسی ہی کی تھی کے جس کے کارن بھارت اپنے دامن میں بہت سی کامیابیاں سمیٹ رہا ہے اور پاکستان بتدریج تنہائی کا شکار ہو رہا ہے مگر اس پر حکومت سے باز پرس بھی ایک ایسی خود فریبی ہے جس سے عزت نفس کی تسکین کا سامان تو شاید پیدا ہو جائے مگر مطلوبہ اہداف کے حصول کے لئے طرز عمل کی تبدیلی نا گزیر ہے۔

خارجہ پالیسی اور سفارتکاری کی کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ آپ کے جمہوری ادارے اور جمہوری عمل بین الاقوامی سطح پر مستند ہوں۔ ان کی پائداری پر کوئی سوالیہ نشان نہ ہو۔ خارجہ پالیسی کی پشت پر عوامی امنگوں کی سچی ترجمانی موجود ہو۔

محترمہ شیریں رحمٰن فرماتی ہیں کہ امریکہ میں انڈیا کے چار چار لابسٹ موجود ہیں اور پاکستان کا ایک بھی نہیں یہی ہماری ناکامی کی وجہ ہے۔ گزارش ہے کہ آپ کے پاس صرف ایک حسین حقانی کی طرز کا متحرک سفارتکار موجود ہو جس کی پشت پر ایک ایسی مضبوط جمہوری حکومت ہو جو پائیدار ہو اور جسے مکمل عوامی حمایت حاصل ہو، تمام آئینی ادارے حکومت کے تابع ہوں، آئینی حدود سے تجاوز ناپید ہو تو آپ کو ایک بھی لابسٹ کی ضرورت نہیں اور اگر بین الاقوامی طاقتوں کو بات فرد واحد سے کرنی اور منوانی ہے تو آپ چار نہیں چار سو لابسٹ بھی رکھ لیں وہ بے اثر رہیں گے۔

جہاں بات فرد واحد کی ہو گی وہاں خارجہ پالیسی اور سفارتکاری کا قطعی طور پر کوئی کردار نہیں بنتا۔ ایک ریسیپشن ٹائپ حکومت اور ریسیپشنسٹ ٹائپ وزیراعظم سے اس قسم کی امیدیں وابستہ کرنا دانشمندی نہیں۔ کامیابیوں کا کریڈٹ لینے والوں کو ہی ناکامیوں کا بار بھی اٹھانا پڑے گا۔ زندگی کے وہ معیار جو ہم نے خود ساختہ طور پر اپنا رکھے ہیں انہیں بدلنا ہوگا یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ حب الوطنی کا تعلق کسی خاص تربیعت یا سخت ٹرینگ سے نہیں ہے اور معاشرے کے تمام طبقات ہی ملک سے محبت رکھتے ہیں۔ ایک مضبوط اور پائیدار جمہوری حکومت جس کی پشت پر عوامی طاقت ہو اور جو قومی مفاد کا تعین بھی کرئے نیز آزاد خارجہ پالیسی کی تشکیل بھی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔اس حقیقت کو دل سے تسلیم کئے بنا ہم جتنا بھی وقت جس انداز سے بھی گزار رہے ہیں وہ ہر دن ہمیں آگے لے جانے کے بجائے پیچھے کی جانب دھکیل رہا ہے۔

امریکی پالیسی گذشتہ چار عشروں سے اظہر من الشمس ہے کہ وہ آج تک کسی ایسی قوم و ملک کا کچھ نہیں بگاڑ سکا جہاں اسے ایک مضبوط سیاسی حکومت کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ مگر جہاں بھی اسے میدان عمل میں فرد واحد ملا وہاں وہ کھل کر کھیلا اور بعد ازاں اس قوم کو انتشار و خانہ جنگی کی دلدل میں جھونک کر آگے بڑھ گیا۔ یہ توقع رکھنا کہ پاکستان سے متعلق اس کی “نیک خواہشات” کچھ اور ہوں گی ایک ایسا حسن ظن ہوگا جو اب تباہ کن نتائج پیدا کرئے گا۔ اب ستر کا عشرہ نہیں خطے میں اس کی ترجیحات یکسر بدل چکی ہیں۔ ہمیں بھی فرمانبرداری کے نئے ضابطے تشکیل دینے پر وقت برباد کرنے کے بجائے اپنے دستوری اداروں کی مضبوطی اور پائداری پر توجہ دینے کی ضرورت ہے جب تک امریکہ کے “فرمائشی پروگرام ” پارلیمنٹ میں زیر بحث نہیں آئیں گے اور اسے احساس نہیں ہوگا کہ فیصلہ پاکستان کی عوامی حکومت کرئے گی وہ ڈو مور کی صدا لگاتا رہے گا۔


Comments

FB Login Required - comments