اس دیش میں ہم سب سچے ہیں۔۔۔


naseerرانی سا، اپنے دیش میں اختلاف رائے سے تو شدید۔۔۔۔ شدید نفرت کی جاتی ہے۔ چہرہ پہ اختلاف کا سایہ سا بھی لہرا جائے تو آپ مردود، شیطان اور راکھشس ہو جاتے ہیں۔ اور اختلاف کا ا اظہار کر دیں دہن آتش فشاں ہو جاتے ہیں۔ اردوئے معلی تو اپنی تہذیب پر بہت مان کرتی ہے لیکن بس گالیاں ہی دیتی رہتی ہے۔جس بات پر اختلاف ہو، وہ تو کہیں پیچھے رہ جاتی ہے اور الزام و دشنام پر سہرا باندھ کر روشنی سے تیز رفتار ہو جاتے ہیں اور حماقت نہ لحاف نہ غلاف، برف سے لطف اندوز ہونے لگتی ہے۔

نہیں جی ہمارا خیال ہے کہ قائداعظم ایک جمہوری ریاست کے خواہاں تھے جس میں اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک ممنوع ہو۔

اچھا، تم مردود ہو، تم شیطان ہو، تم امریکہ کی سازش ہو، تم برطانیہ کے پٹھو ہو، تم عیاش شرابی ہو، تم بدکردار لفنگے ہو، تم غدار وطن ہو، تم ننگ قبیلہ ہو، تم پر ولی لعنت بھیجتے ہیں، تمھارے جیسوں سے تو ہم منہ نہیں لگاتے

کیا بات ہے اپنے فرشتہ صفت صحافی کی، کیا شاندار انھوں نے مذہب و ملت کا دفاع کیا ہے۔

ادھر سے نکلے، بائیں بازو سے بات چیت ہوئی۔

نہیں جی میرا خیال ہے کہ آمریت چاہے وہ مزدوروں کے حقوق کے نام پہ قائم کی جائے،اس کے نتائج انسانوں کے لیے بہت خطرناک ہوتے ہیں

لیجے آگئے سامراجی ایجنٹ۔ تم امیروں سے مرعوب بے معنی آدمی ہو، تمھارے جیسے گدھوں کو مارکس کی نورانی عظمت کا کیا پتا۔ تم کو لینن کے درد دل کی خاک سمجھ آئے گئی۔ تم ترقی کے مخالف ہو، مزدوروں کے دشمن، انسانیت کے قاتل ہو اور نفسانی خواہشات کے غلام۔

اپنے آغا روح انقلاب کے مفسر ہیں، ان سے یہ سرمایہ دار شیخی خورے کب بحث کر سکتے ہیں۔ دیکھا جب بات نہیں بنی تو بھاگ لیے (یہ نہیں دیکھا کہ آغا نے بات ہی نہیں کرنے دی)

یہاں سے گالیاں کھا کے اگلی محفل میں پہونچے۔

نہیں جی میرا خیال ہے کہ حقوق کی پامالی ایک معمول کی بات ہے اور حقوق کی بحالی کے لیے ہم سب کو مل جل کر کام کرنا چاہیے۔

معمول کی بات، پورا پاکستان رو رہا ہے اور تم اسے معمول کی بات کہہ رہے ہو۔ کبھی اس کرب سے گزرے ہو جس سے پاکستان کے معصوم لوگ روزانہ گزرتے ہیں (یہی تو کہا ہے روزانہ ہی تو معمول ہے لیکن کون سننا چاہے) تم جیسے لوگ انسانی حقوق کی انجمنوں کے نام پر ایک سیاہ دھبا ہیں، تم منافق، جھوٹے، بے حس، سنگدل بد کردار آوارے ہو۔

واہ جی واہ محترمہ کیا بات ہے آپ کے دلائل کی پختگی، کوئی جھوٹا آپ کے سامنے ایک لمحے کے لیے بھی نہیں ٹھہر سکتا۔

ابھی تشفی نہیں ہوئی، ابھی کچھ اور توہین سہنی ہے۔

نہیں جی میرا خیال ہے کہ نگران اداروں کی کمزوری عوام کے استحصال کی بہت بڑی وجہ ہے۔

یوں کہو ناں کہ تم ایک اشتراکی سرپھرے ہو۔ سرمایہ نہیں آئے گا تو نگرانی کس کی کرو گے، لیکن لینن کے بنائے قاتل ہو، سٹالن کے بنائے ہوئے میزائل ہو، چی گویرا کے بنائے ہوئے ایٹم بم ہو، تمھیں فلاح عامہ اور انسانی ترقی سے کیا دلچسپی۔

اب میرا خیال ہے کافی ملامت سہہ چکے۔ چلیں جی کچھ خریداری کرتے ہیں اور گھر چلتے ہیں، ان جوشیلے سے چھچھوروں سے کون مغز ماری کرتا رہے۔

نہیں جی میرا خیال ہے کہ رسید دینا اور ٹیکس نمبر کے بارے میں آگاہ کرنا آپ کا فرض ہے

کیسی رسید؟ کیسا فرض، جگہ جگہ کتے کی طرح پٹتے ہو اور چپ چاپ سب کچھ سہہ لیتے ہو ، ہم غریب ہیں نا، اس لیے ہم سے رسید مانگتے ہو، مولا تمھیں غرق کرے، چاندنی راتوں میں تمھیں پسو پڑیں، تم ایک اذیت دہ موت مرو، تمھارا خانہ خراب ہو، تمھارے گاوں کی ساری ندیاں خشک ہو جائیں، اور جب تمھیں مرگی کا دورہ پڑے تو جوتا سنگھانے والا بھی نہ ملے۔

کتنا برا زمانہ آگیا ہے کہ یہ اتنی مشکل سے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے چھوٹی سی دکان ڈالی ہے اور یہ بابو لوگ قانون سکھانے آ گئے ہیں۔اپنی راہ لیں جی، کوئی نہیں ہے یہاں قانون شانون۔

اختلاف رائے سے یہ شدید نفرت اچھا رویہ نہیں ہے اور اس کے نتائج اس سے کہیں زیادہ گھناونے ہیں جتنا ہم ان تین چار برس میں دیکھ چکے ہیں لیکن اس شدید نفرت کے ساتھ معاشرتی حمایت منسلک ہے۔ اور معاشرتی حمایت کا پاکستان میں مطلب ہے کہ اب آپ کو کسی عمل کا جواز فراہم کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور آپ کا احتساب گناہ ہے تو پھر جمہوریت، قانون اور سائنس بے کار ہو جاتے ہیں اور جہاں قانون، جمہوریت اور سائنس بے کار ہوں، وہاں کیا اچھا رہ جاتا ہے؟

اب چاہے گریہ کریں کہ خندہ لیکن اختلاف نہ کریں ورنہ۔۔۔ ھاھا


Comments

FB Login Required - comments