ایک تارک وطن کا سفر نامہ پاکستان


1-yasir-pirzadaدو ہفتے پہلے میرے ایک عزیز دوست یورپ سے آئے، حب الوطنی کے جذبے سے سرشار، دماغ میں ملک کے لئے کچھ کر گذرنے کا جنون اور دل میں پاکستان کی محبت ایسے ٹھاٹھیں مار رہی تھی کہ جونہی ہوائی اڈے پر اترے تو پہلا کھمبا جو نظر آیا اُسے چوم لیا کہ اس میں وطن کی مہک تھی۔ دو ہفتے کے بعد گزشتہ روز اُن کا تقریباً آٹھ اقساط پر مبنی ایک طویل دورانئے کا پیغام مجھے موصول ہوا۔ اِس پیغام کا خلاصہ آج اس کالم میں پیش کیا جا رہا اِس معذرت کے ساتھ کہ جب میں نے کالم نگاری شروع کی تھی تو یہ عہد کیا تھا کہ کسی بھی قسم کا خط وغیرہ کبھی کالم میں شامل نہیں کروں گا، آج دس برس میں پہلی مرتبہ اس ’’حلف ‘ ‘ کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہوں، خدا میرے گناہ معاف کرے ! (ویسے تکنیکی اعتبار سے یہ خط نہیں میسیج ہے )!

’’جب میں روز مرہ کی خریداری کے لئے کسی قریبی دکان پر جاتا ہوں تو اپنی چیزیں لیکر ادائیگی کے لیے کاونٹر پر پہنچتا ہوں تو پیچھے سے دوسرا گاہک آگے آ گهستا ہے اور دکاندار بھی یہ تمیز نہیں کرتا کہ پہلے کون ہے۔ اگر میرے آگے کوئی گاہک ہے تو میں ایک معقول فاصلے پر کهڑا ہو کر اپنی باری کا انتظار کر رہا ہوتا ہوں تو پیچھے سے کوئی دوسرا مجھے بےوقوف سمجھ کر آگے گھسنے لگتا ہے اور جب میں اس کو پکڑ کر لائن کا بتاتا ہوں تو وہ غصے میں مجھے کہتا ہے کہ میں اتنے فاصلے پر کیوں کهڑا ہوں؟ گویا کہ میں اگلے بندے کے ساتھ جپهی کے انداز میں کیوں کهڑا نہیں ہوا! میرے بھائی کے بچے ایک نجی سکول میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، میرا بھتیجا مجھے کہتا ہے کہ ہماری گاڑی پر ایک سٹکر لگا ہے، یہ اتارنا نہیں، میں نے وجہ پوچھی تو اُس نے بتایا کہ جب ہم نے گاڑی خریدی تھی تب سے یہ سٹیکر لگا ہوا ہے اور اس سٹکر کی وجہ سے پولیس گاڑی کو نہیں روکتی، میں نے پوچھا کہ کیوں نہیں روکتی تو اس نے جواب میں کہا کہ ان کو ڈر ہوتا ہے کہ ان کی وردی نہ اتروا دی جائے! تو ہمارے بچے یہ سیکھ رہے ہیں ایک اعلٰی سکول اور پاکستان کی اعلی سوسائٹی سے۔ اس کے علاوہ بھی بہت کچھ سیکھ رہے ہیں جیسا کہ وہ سپریم ہیں اور اِن کا کام سڑکوں اور راستوں میں گند ڈالنا ہے اور دوسروں کا کام صفائی کرنا۔ طاقتور کے لیے کوئی قانون نہیں ہے، اسی لئے مجھے سمجھ آئی کہ اکثر گاڑیوں کے پیچھے لوگوں نے اپنا عہدہ اور سٹیٹس کیوں لکھا ہوتا ہے! اگلا واقعہ اسی سکول کا ہے جس میں ہمارے بچے کسی برٹش یونیورسٹی کے نصاب میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ میری بھابی اور بچے یکم جون کو یورپ واپس چلے گئے تھے اور جاتے ہوے کہہ گئے کہ بچوں کے سکول سے فیس کے ووچر لیکر بینک میں جمع کروا دینا، تین جون آخری تاریخ ہے۔ میں یکم کو سکول جاتا ہوں، دو بچوں کے واؤچر مل جاتے ہیں اور ایک بیٹی کا نہیں ملتا، وجہ پوچھی تو فرمایا کہ پتہ نہیں کل آکر لے جانا، اگلے روز پھر وہی جواب ملتا ہے، میں بتاتا ہوں کہ تین جون آخری تاریخ ہے، کہتے ہیں کہ نہیں چار آخری تاریخ ہے، یہ سب کرتے کرتے 7 جون آ گئی، میں نئے واؤچر بنوا کر اگلے روز بینک گیااور قطار میں کھڑا ہو گیا، حسب معمول ایک لڑکا اندر آیا اور میرے سے آگے جا گھسا، میں نے اس کو پکڑ کر اپنے پیچھے لائن میں کھڑا کیا لیکن وہ پھر بھی میرے اوپر سے گزرنے کی کوشش کر تا رہا، جب میری باری آئی اور میں نے واؤچر کاؤنٹر کے پیچھے بیٹھی لڑکی کو دئیے تو وہ تین چار منٹ کمپیوٹر میں کچھ کرتی رہی، پھر ساتھ بیٹھے اپنے کولیگ سے بات کی، پھر کمپیوٹر میں کچھ کیا اور واؤچر واپس کرتے ہوئے بس نفی میں سر ہلا دیا، میں نے پوچھا کیا مطلب آ پ جمع نہیں کرو گی تو اس نے پھر نفی میں سر ہلایا، اتنےمیں میرے پیچھے کھڑے لوگ اپنے بل وغیرہ کے ساتھ میری ونڈو میں لپک پڑے، میں نے پھر پوچھاکہ کہ کوئی منہ سے بتائے گا کہ کیا مسئلہ ہے تو دوسرے آدمی نے کہا کہ آپ کو لیٹ فیس جمع کروانی ہو گی، میں نے کہا کہ میں جو واؤچر بنوا کر لایا ہوں اس میں 9 جون آخری تاریخ ہے جبکہ آج 8 جون ہے، انہوں نے کہا کہ ہم لیٹ فیس کے بغیر نہیں جمع کریں گے جو چورانوے ہزار روپے بنتے ہیں، میں اس مصیبت سے تنگ آ چکا تھا، چار و ناچار میں نے انہیں ایک لاکھ کا پیکٹ دیا اور کہا کہ بقایا مجھے دیں۔ انہوں نے پیسے لے کر سیف میں ڈالے اور واؤچر دوبارہ اس لڑکی کو تھما دیا، اس نے مجھے رسید تو بنا دی مگر باقی پیسے نہیں دیے، میں نے مطالبہ کیا تو پانچ ہزار بیس روپے واپس ملے!

میں ایک ائیر کنڈیشنر ٹھیک کرنے والے کے پاس گیا اور بتایا کہ تین اے سی سروس کروانے ہیں، انہوں نے کہا کہ پتہ لکھوائیں پندرہ منٹ میں بندے پہنچ جائیں گے، میں پتہ بتا کر آ گیا، دو دن تک کوئی نہیں آیا، دو دن کے بعد میں دوسری دکان میں گیا، انہوں نے بھی پندہ بیس منٹ کا وعدہ کیا، آدھے گھنٹے بعد سولہ سے اٹھارہ برس کی عمر کے دو لڑکے آئے، اے سی کو دیکھا اور کہا کہ اس کا کمپریسر تبدیل ہوگا، میں نے کہا ٹھیک ہے، دوسرا دیکھا تو کہا کہ اس کا پاور پلگ نیا لگے گا، میں نے انہیں او کے کر دیا مگر بجلی چلی گئی، انہیں پیسے دیئے اور کہا سوا چار بجے بجلی آئے گی توآ جانا، وہ وعدہ کر کے چلے گئے، دوسرے دن بھی جب چار بجے تک نہیں پہنچے تو میں ان کی دکان پر گیا جہاں ایک موٹا سا آدمی کرسی پر یوں نیم دراز تھا جیسے کھلی آنکھوں سے کوئی خواب دیکھ رہا ہو، میں نے بات کرنے کی کوشش کی تو اس نے جواب دیا اور نہ ہی کوئی حرکت کی، مجھے لگا شائد سو رہا ہے مگر آنکھیں بند کرنا بھول گیا ہے، پھر بھی میں نے ہاتھ کے اشارے سے اسے بلانے کی کوشش کی تو اس نے میری طرف کچھ توجہ کی، میں نے پوچھا کہ وہ لڑکے وعدہ کرکے واپس نہیں آئے تو اس نے کہا پندرہ منٹ میں آ جائیں گے، میں نے اپنا پتہ بتانا چاہا لیکن وہ بولا مجھے پتہ ہے بس وہ آتے ہیں، پھر وہ واقعی آگئے۔ ایک اے سی دوسری منزل پر ایسی جگہ لگا تھا جہاں کسی بہت بڑی سیڑھی کے بغیر پہنچنا مشکل تھا لیکن ان میں سے ایک لڑکا بضد تھا کہ وہ لٹک کر اس کے اوپر بیٹھ سکتا ہے اور مجھے یقین تھا کہ وہ یہاں سے گر کر اپنی جان سے ہاتھ دھو سکتا ہے،

میں نے اس کو منع کیا، پھر انہوں نے دکان پر فون سے بات کی اور کہا کہ اس سارے کام کا بیڑا ہم اٹھاتے ہیں اس کو کل نیچے اتار کر گیس فل کر کے دوبارہ چھت پر لگا دیں گے کہ آئندہ مشکل نہ ہو لیکن اس کام کا ہم چھ ہزار لیں گے، میں نے خوشی سے قبول کر لیا، انہوں نے کہا کہ وہ اگلے روز دس بجے گھر آ جائیں گے، میں نے بہت تاکید کی کہ پورے دس بجے پہنچ جائیں، آج تین دن گذر گئے ہیں، ابھی تک واپس نہیں آئے اور میں نئے اے سی خریدنے کا سوچ رہا ہوں!

میں اپنی بیوی کو ایک مرد ڈاکٹر کے پاس لے گیا، اب ہم ڈاکٹر کے پاس بیٹھے ہیں اور ایک اور مرد مریض بھی آکر پاس بیٹھ گیا اور ڈاکٹر اس کی موجودگی میں میری بیوی کا نام اور عمر پوچھ رہا ہے اور کمپیوٹر پر جو رپورٹ لکھ رہا ہے وہ دوسرا آدمی پڑھ رہا ہے، پھر میں نے ڈاکٹر کی بےعزتی کر دی کہ تم کسی کی پرائیویسی کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے؟ تم ڈاکٹر کیسے بن گئے تھے؟ ‘ ‘

یہ’’ سفر نامہ ‘ ‘ فی الحا ل اپنے اختتام کو پہنچا، اس پر تبصرہ انشاللہ اگلے کالم میں ہوگا۔


Comments

FB Login Required - comments