فواد کی سسکیاں اورشہبازشریف کی سزا


فواد حسن فواد زاروقطار روتے ہوئے ہچکیاں لے رہے تھے اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف انہیں دلاسا دے رہے تھے جب کہ نیب کی تین رکنی ٹیم یہ سارا منظر دیکھ رہی تھی۔ یہ سب کچھ  20 اگست کو ڈی جی نیب لاہور کے دفتر میں چل رہا تھا جہاں شہباز شریف اور فواد حسن فواد کو براون رنگ کے بڑے بڑے صوفوں پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے بٹھایا گیا تھا۔

فواد حسن فواد مسلم لیگ ن کی سابق حکومت کے طاقتورترین افسر تھے۔ وہ سال 2008 سے 2013 کے دوران مسلم لیگ ن کی صوبائی حکومت میں شہباز شریف کے ساتھ مختلف حیثیتوں میں کام کرچکے تھے۔ شہباز ان کی تعریفیں کرتے نہ تھکتے اور یہی وجہ تھی کہ جب  2013 میں ن لیگ اقتدار میں آئی تو نوازشریف اپنے بھائی کی تعریفوں کی وجہ سے ہی فواد حسن کو اسلام آباد اپنے ساتھ لے آئے جہاں وہ ان کے ساتھ سائے کی طرح رہے۔ فواد کی شریف برادران سے قربت اور طاقت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ن لیگ کے وزرا ہوں یا بیوروکریسی سب ان کے اشارہ ابرو کے منتظر رہتے۔ ایک دفعہ نواز شریف کے داماد کیپٹن رئٹائرڈ صفدران کی بے جا طاقت سے تنگ آکر قومی اسمبلی میں بھی بولے مگر فواد حسن فواد کا بال بھی بیکا نہ ہوسکا۔ طاقتور وزیراعظم نے پرنسپل سیکرٹری کو داماد پر فوقیت دی۔

مگر اب حالات بدل چکے تھے۔ فواد حسن فواد 5 جولائی سے نیب لاہور کی حراست میں تھے۔ ان پر شہباز شریف کے دور میں شروع کی گئی آشیانہ ہاوسنگ سکینڈل میں ملوث ہونے اور کرپشن جیسے سنگین الزامات عائد تھے کیونکہ نیب حکام کے مطابق فواد نے بطور سیکرٹری عملدرآمد وزیراعلی ا پنجاب اس سکیم کا معاہدہ ختم کرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا ۔ نیب کے ذمہ دار تو اس معاملے میں رشوت کا الزام بھی عائد کرتے ہیں۔ نیب حکام بتاتے ہیں کہ فواد حسن فواد کی طرف سے مبینہ طور پر لی گئی رشوت کے دستاویزی ثبوت جب انہیں دکھائے گئے تو وہ درخواست کرنے لگے کہ انہیں ریکارڈ پر نہ لایا جائے بلکہ ان سے پہلے ہی ڈیل کرلی جائے۔

تفتیش کے دوران فوادحسن فواد اپنے ہر کام کی ذمہ داری سابق وزیراعلیٰ پر ڈالتے تھے۔ اس لیے 20 اگست کو جب شہبازشریف نیب لاہور آئے تو ان کا فواد سے آمنا سامنا کرایا جا رہا تھا۔ جب فواد کمرے میں داخل ہوئے تو شہباز بیٹھے ڈی جی لاہور سے گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے شہباز شریف کو دیکھتے ہی رونا شروع کردیا اورشہبازشریف انہیں تسلیاں دینے لگے۔

شہبازشریف بولے، آپ فکر نہ کریں ، اس طرح برے دن آجاتے ہیں۔ فواد بولے، نہیں سر میں جو کچھ بھی کرتا رہا وہ آپ کے کہنے پر کرتا رہا۔ شہباز شریف نے پھر فواد کو چپ کرانے کی کوشش کی اور کہا کہ آپ پریشان مت ہوں۔ اس پر فواد بچوں کی طرح روتے ہوئے بولے، ” ںہیں سر انہیں کلئیر کریں، میں جو کچھ کرتا رہا آپ کی ہدایت پر کرتا رہا،”۔ شہباز شریف نے فوری کہا،” بالکل آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں”۔ پتہ نہیں شہباز فواد کو چپ کرا رہے تھے یا فی الحال اس عجیب و غریب صورتحال سے نکلنا چاہتے تھے لیکن انہوں نے یہ کہا مگر نیب کے تفتیشی افسر نے اس بات کے نوٹس لے لیے۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ فواد کا یہ بیان کسی وعدہ معاف گواہ کا بیان نہیں تھا بلکہ ایک زیر حراست ملزم کا بیان تھا۔ جب فواد اپنے آنسو پونچھ رہےتھے تو شہباز شریف نے ٹیم کو اشارہ کیا جس پر نیب ٹیم انہیں وہاں سے لے کر چلی گئی۔

شہباز شریف واپس چلے گئے ۔ مگر وہ واضع طور پر پریشان تھے اور شائد یہی وہ وجہ تھی کہ وہ اپنے بھائی نوازشریف کو بھی سمجھاتے کہ، “زرا ہتھ ہولا رکھیں ، آپ پر تو جو آئی، آئی ہمیں بھی لپیٹ لیا جائے گا،”۔

جب شہبازشریف کو طلب کرنے کا سمن جاری ہوا تو وقت ملک میں صرف ایک دو طاقتور آدمی ہی جانتے تھے کہ دراصل یہ طلبی نہیں بلکہ گرفتاری کا بلاوا ہے کیونکہ چیرمین نیب اپنے دورہ لاہور کے دوران ان کی گرفتاری کے وارنٹس خاموشی سے دستخط کر آئے تھے۔

شہباز شریف جب مقررہ 5 اکتوبر کو کھدر کی قمیض اور پیلے رنگ کی پینٹ زیب تن کیے نیب آئے تو انہیں ڈی جی نیب شہزاد سلیم نے چائے پیش کی ۔ ابھی شہباز چائے کی چسکیاں لے ہی  رہے تھے کہ انہیں بتایا گیا کہ آج انہیں گرفتار کرلیا جائے گا۔ شہباز شریف نے یہ سنتے ہی چائے کی پیالی میز پر رکھ دی اور حیرانگی کا اظہار کیا۔ جس پر شہزاد سلیم نے انہیں کہا کہ جناب گرفتاری اپنی جگہ چائے اپنی جگہ ، آپ چائے پیئں۔ شہباز نے دیوار پر لگی قائد اعظم کی تصویر دیکھی اور بولے۔۔ قائد اعظم کے پاکستان کا کیا بنے گا؟ اور پھر خاموش ہوگئے۔۔ خیر موقع پر موجود نیب ٹیم نے انہیں لاک اپ میں بھیج دیا۔ جہاں پہلے آدھے گھنٹے تک شہبازشریف داہنے ہاتھ سے سر کو پکڑے کرسی پر بیٹھے ٹانگیں بستر پر رکھ کر بے سدھ سوچتے رہے اور پھر نارمل ہو گئے۔

ٹھیک دو روز بعد اتواز کی شام نوازشریف اپنے زیرحراست بھائی سے ملنے نیب لاہور دفتر آئے۔ ان کے ہمراہ شہباز شریف کی اہلیہ نصرت شہبازاوران کے بیٹے حمزہ اور سلیمان بھی تھے۔

دونوں بھائیوں میں بڑی جذباتی ملاقات ہوئی۔ شہبازشریف نے بیٹھتے ہی نیب کے تفتیشی افسران کی شکایت شروع کردی۔ بولے، ”تفتیشی تو ایک ٹھینگنا ہے اسے سوال کرنا بھی نہیں آتا۔” نوازشریف اور شہباز دیگر کے ساتھ انہی صوفوں پر براجمان تھے جہاں بیٹھ کر اگست میں فواد حسن فواد نے سسکیاں لیتے ہوئَے، شہباز سے اپنے اقدامات کی توثیق کروائی تھی۔

حیران کن طور پر ملاقات میں ڈی جی نیب شہزاد سلیم بھی اپنی کرسی پر بیٹھے تھے۔ اچانک نوازشریف ان سے مخاطب ہوئے، “شہزاد صاحب آپ کو خدا نے بڑا عہدہ دیا ہے، آپ انصاف کریں کیونکہ آپ نے خدا کو بھی جواب دینا ہے”۔ اس پر شہزاد سلیم نے نوازشریف کو فواد حسن فواد کے ہی نہیں بلکہ اسی کیس میں گرفتار کیے گئے احد چیمہ کے بارے بھی تفصیلی بریفنگ دے ڈالی اور نوازشریف سے سوال کیا کہ آپ بتائیں کہ اس قدرمتحرک وزیراعلیٰ خاص افسران کی طرف سے مبینہ لین دین سے کیسے بے خبر رہا؟ اس پر نوازشریف نے اپنا خیال ظاہر کیا اور کچھ دیر میں ملاقات ختم ہو گئی۔ ملاقات میں نواز اور شہباز کی قربت دیدنی تھی۔

شائد شہبازشریف کی گرفتاری کی بہت سی دیگر وجوہات میں ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس نے اپنے بڑے بھائی کے خلاف علم بغاوت بلند نہیں کیا۔ مجھے نیب کے ایک افسر نے بتایا ہے کہ شہباز شریف پرسکون ہیں اور اپنے تجربات کی روشنی میں ایک کتاب لکھنے کا ارادہ کر چکے ہیں۔ شائد وہ حالیہ انتخابات کے حوالے سے کتاب میں وہ باتیں بھی لکھ دیں جن کی کم لوگ ہی ان سے توقع کرتے ہیں۔

یہ بات تو واضح ہے کہ احتساب صرف شریف خاندان اور مسلم لیگ ن کا ہورہا ہے۔ یہ احتساب اصولوں پر نہیں بلکہ کسی کے اشارے پر ہو رہا ہے اور مقصد انصاف نہیں بلکہ کچھ طاقتوں کو کچھ یقین دہانیوں کا حصول ہے۔

اس معاملے سے ہٹ کر نیب پنجاب کی طرف سے فواد حسن فواد کے بارے ثبوت اکٹھے کرنے کا دعویِ بھی کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ لگ بھگ پانچ کروڑ روپے کی رقم مبینہ رشوت کے طور پر ادا کی گئی جس کی بینکنگ ٹرانزیکشنز کے ثبوت حاصل کرلیے گئے ہیں جو ان کے خلاف ریفرنس کا حصہ بنیں گے۔ میں فواد حسن فواد کو ذاتی طور پر نہیں جانتا لیکن میرے بعض سینئرز کا خیال ہے کہ فواد نہ صرف ذہین بلکہ بڑے ایماندار بھی ہیں۔ میرے خیال میں اگر وہ واقعی سچے اور ایماندار ہیں تو سچ ضرورسامنے آِئے گا اور اگر انہوں نے نیب کے دعوِے کی مطابق واقعی گڑ بڑ کی ہے تو اس کی ذمہ داری ان کے ساتھ ساتھ شہباز شریف پر بھی عائد ہوتی ہے۔ وجہ یہ کہ اگر فواد حسن فواد پنجاب میں وزیراعلیٰ کی ناک کے نیچے بیٹھ کر کوئی گڑبڑ کرتے رہے تو شہباز شریف اس سارے معاملے سے بے خبر کیوں رہے؟ یہ بھی سچ ہے کہ نیب کے پاس شہبازشریف کی طرف کسی ناجائز لین دین کا ثبوت نہیں ہے تاہم جب اس بارے میں نیب کے ذمہ داروں سے بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ، ٴ اس سارے کھیل میں شہباز شریف کا کردار یہ تھا کہ انہوں نے کمرے کی کنڈی کھولی اور ان کے چہیتوں نے لوٹ مار کی ٴ۔

ادھر شہباز شریف کو سترہ اکتوبر کو سپیکر قومی اسمبلی کی طرف سے جاری پروڈکشن آرڈرز کے اجرا کے بعد پارلیمینٹ لایا گیا تو ایوان میں اپنے خطاب اور مجھ سمیت میڈیا کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران شہباز شریف کوئی ایسی بات کرنےسے گریزاں رہے جس سے کھیل کے اصل کردار آشکار ہوسکیں۔ شائد وہ خود کوطاقت کے مراکز میں قابل قبول بنا رہے تھے۔ مایوس کن بات یہ تھی کہ وہ اپنے سامنے بیٹھے ہوئے صحافیوں سے اس طرح گفتگو فرما رہے تھے کہ جیسے صحافیوں کو کچھ پتہ ہی نہیں۔

حقیقت تو یہ ہے کہ نوازشریف اور شہباز شریف جب اقتدار میں ہوتے ہیں تو وہ اپنی کابینہ ،پارلیمینٹ اورپارٹی سب کو نظر انداز کرتے ہیں۔ ان سے ملاقات کے لیے بھی انہی افسران کی خوشنودی اور منظوری درکار ہوتی ہے۔ شریف برادران اقتدار میں کچھ افسران کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ وہی افسران ان کی حکومت چلاتے اور سیاہ وسفید کے مالک بنے پھرتے ہیں اور آخر پرکچھ افسران ان کی حکومت ختم کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں تو کچھ کی سسکیاں عدالتوں میں شریف برادران کی پشیمانی کا سبب بنتی ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ طاقتور قوتیں آج کل شریف برادران کے درپے ہیں مگر یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ شریف برادران کو درپیش حالیہ صورتحال کی ایک بڑی وجہ اقتدار کے دنوں میں ان کی طرف سے اپنی پارٹی اور پارلیمینٹ دونوں کو نظر انداز کرنا بھی ہے۔ اگر وہ اچھے وقتوں میں پارٹی اور پارلیمینٹ کو نظر انداز نہ کرتے تو شائد انہیں یہ سزائیں ملتی نہ آج یہ دن دیکھنا پڑتے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں