اک غبی سے ڈرتے ہیں


01ہرانت ڈینک ترکی کے ہفت روزہ جریدے آرگوس کا مدیر اور معروف کالم نگار تھا۔ آرمینیائی اقلیت سے تعلق رکھنے والا ہرانت ڈینک انسانی حقوق اور نسلی ہم آہنگی کا پرجوش علم بردار تھا۔ ترکی کے تعزیراتی قانون کی دفعہ 301کے مطابق ترکی قوم اور ریاست پر تنقید کی سزا چھ مہینے سے لے کر تین برس تک قید ہے۔ اقلیتوں کے حقوق کے لئے آواز بلند کرنے کی پاداش میں ہرانت کو متعدد بار اس قانون کے تحت کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔ بالآخر 19جنوری 2007ءکو ایک قوم پرست نوجوان نے باون برس کے اس دبنگ صحافی کو اس وقت گولی مار کر ہلاک کردیا جب وہ پیدل اپنے دفتر کی طرف جا رہا تھا۔

میرے کمرے میں بہت دنوں سے ایک تصویر آویزاں ہے۔ پیش منظر میں ہرانت ڈینک کی نعش استنبول کی سڑک پر اوندھے منہ پڑی ہے جسے سفید کپڑے کے ایک مختصر سے ٹکڑے سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔ دن بھر میں بہت سے طالب علم کمرے میں آتے ہیں۔ صحافت کے ان طالب علموں سے بار بار ایک جملہ سننے کو ملتا ہے کہ میڈیا بہت طاقتور ہے۔ اور اس طاقت کے لیے بھی انگریزی کا ایک لفظ التزام سے استعمال کیا جاتا ہے۔ پاور (power) یعنی مقامی محاورے میں دھونس۔ صحافت کی دہلیز پر دستک دیتے نوجوانوں سے ایسے جملے سنتا ہوں تو طالب علموں کی توجہ اس تصویر کی طرف دلاتا ہوں۔ تصویر میں مقتول ہرانت ڈینک کے پاﺅں نمایاں ہیں اور اس کے جوتوں کے تلوے بری طرح پھٹے ہوئے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ صحافی کیلئے غریب ہونا ضروری ہے بلکہ اشارہ یہ ہے کہ صحافی جب پیشہ وارانہ اصولوں کی پاسداری میں سینہ سپر ہوتا ہے تو اپنے جوتوں سے بے نیاز ہوجاتا ہے۔ اچھے صحافی کو ذاتی رسوخ اور نمود کی نہیں، صحافت کے پیشے کی بالادستی کی فکر ہوتی ہے۔ صحافت ایک تمدنی خدمت ہے۔ صحافت کی طاقت دھونس میں نہیں، درست خبر اور مضبوط دلیل میں ہے۔ رگھوپتی سہائے فراق گورکھپوری نے کہا تھا کہ اقبال اس اذیت ناک احساس کے ساتھ شعر کہتا ہے کہ ہندوستان میں مسلمان اقلیت میں ہیں۔ اس رائے کے صحیح یا غلط ہونے کی بحث میں جائے بغیر سوال کیا جا سکتا ہے کہ کیا آج ہمارے بہت سے صحافی اس رعونت کے زیراثر لکھتے اور بولتے ہیں کہ پاکستان میں مسلمان بہت بڑی اکثریت میں ہیں۔ چنانچہ مذہب کی لاٹھی ہاتھ میں لے کر مخالف نقطہ نظر کی کھیتی بلاکھٹکے اجاڑی جا سکتی ہے۔ کوئی تقدیس کی منڈیر پر کھڑا ہو کر اپنا ناقوس پھونکتا ہے تو کوئی قومی مفاد کی برجیوں میں بیٹھ کر چاند ماری کرتا ہے۔ ہمیں سمجھنا چاہئے کہ جس زمین پر اختلاف رائے کو اظہار کا اذن نہ ہو، وہاں نقصان دہ جڑی بوٹیاں اگتی ہیں۔ چین سے ہماری دوستی گہری اور لازوال ہے مگر چین کی تاریخ سے ہم آشنا نہیں ہیں۔ اگر چین کی کمیونسٹ قیادت اختلاف رائے کو احترام دیتی تو ”عظیم جست“ اور ”ثقافتی انقلاب“ جیسے سانحے رونما نہ ہوتے۔ قومی مفاد کی کنجی کے جی بی کو تھمادی جائے تو سوویت یونین کی بدھیا بیٹھ جاتی ہے۔

marc.jpg.crop_display_0ہماری نسل نے سید ابوالاعلیٰ مودودی، مولانا مفتی محمود اور مولانا شاہ احمد نورانی جیسے بزرگوں کی آنکھیں دیکھ رکھی ہیں۔ مودودی صاحب کے لئے پنچم میں جانا تو بہت دور کی بات تھی، کسی نے انہیں کھرج میں بات کرتے نہیں سنا۔ مجمع سے خطاب نہیں کرتے تھے، غالب کے خط کی طرح مکالمہ کرتے تھے۔ مفتی محمود کلام کو طول دینے کے قائل نہیں تھے۔ ان کا تو سیاسی بیان بھی مختصر ہوتا تھا۔ کنائے میں حریف کی ڈور کاٹ لیتے تھے۔ شاہ احمد نورانی کی شائستہ بیانی ضرب المثل تھی۔ اسی طرح سے فیض احمد فیض کم گوئی اور نرم گفتاری کا نمونہ تھے۔ ایک علمی مجلس میں امرتیا سین کو سننے کا اتفاق ہوا۔ علمی جستجو ایسی کہ کہتے کم اور سنتے زیادہ ہیں۔ ڈاکٹر نذیر احمد جگت استاد تھے۔ ایسے بات کرتے تھے جیسے برادر بزرگ ازراہ شفقت کوئی نکتہ بیان کرتا ہے۔ ڈاکٹر اقبال احمد دلیل دیتے تھے تو معلوم ہوتا تھا، انگلیوں پر ماترے گن رہے ہیں۔ اہل لاہور نے خواجہ منظور حسین کی تذبذب بیانی دیکھی تو پرچہ لگا کہ علی گڑھ سے آنے والا استاد سوچ سوچ کے لفظ بولتا ہے۔ بھائی علم کا لہجہ تو آنچل اور رخسار کی جگل بندی ہے۔ کلہاڑی جنگل میں چلائی جاتی ہے۔ تمدن کی اقلیم میں دلیل کا سکہ چلتا ہے۔
سیاسی اختلاف ذاتی عداوت نہیں ہوتا اور صحافی تو حقیقی معنوں میں سیاسی فریق بھی نہیں ہوتا۔ صحافی کسی سیاسی جماعت یا مکتب فکر کی ترجمانی اختیار کر لے تو اس کی خبر کی درستی اور تجزئیے کی اصابت پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔ ادارتی رائے کا منصب وقائع نگاری سے مختلف ہے۔ خبر میں واقعاتی حقیقت اور مکمل غیر جانب داری کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ تبصرے میں ذاتی رائے شامل ہوتی ہے لیکن اس رائے کی کچھ حدود ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ تجزیہ نگار کو صیغہ متکلم کے استعمال میں محتاط ہونا چاہیے۔ امروز کے نیوز ایڈیٹر حمید ہاشمی کہا کرتے تھے کہ اخبار کا ورق صحافی کا نجی روزنامچہ نہیں کہ اس پر ذاتی تشہیر کی جائے۔ دوسری بات یہ کہ تجزیہ نگار پڑھنے والوں کو موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ مختلف دلائل اور زاویہ ہائے نظر سے باخبر ہو کر اپنی رائے قائم کریں۔ اس میں مختلف دلائل اور نقطہ¿ Hamdullahنظر کے درمیان اختلاف کے پہلو بھی نکلتے ہیں۔ اس اختلاف میں شائستگی موجود ہونی چاہیے۔ شائستگی تکلفات اور تشریفات کا نام نہیں۔ ہمیں شرح صدر سے تسلیم کرنا چاہیے کہ اگر ہم دوسروں سے اختلاف کر رہے ہیں تو ہماری اپنی رائے بھی غلط ہو سکتی ہے۔ اپنی غلطی کا امکان تسلیم کرنے سے ہماری رائے کا غلط ہونا لازم نہیں آتا لیکن اس سے یہ امکان ضرور پیدا ہوتا ہے کہ مختلف آرا اور دلائل کے سامنے آنے سے معاملات کی بہتر اور قابل قبول تفہیم تک پہنچا جا سکتا ہے۔ اگر لکھنے والا خود کو الوہی تلقین کے منصب پر فائز کرلے تو مکالمے کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔ صحافت تمدنی مکالمہ ہے، مناظرہ نہیں۔ اس کا مقصد کشتوں کے پشتے لگانا اور دوسروں پر غالب آنا نہیں۔ اخبار کے صفحے پر اپنی پارسائی کا ڈھول پیٹنا اسی طرح سے غلط ہے جیسے کسی کے عقائد پر انگلی اٹھانا۔ عقیدہ عوامی مباحثے کا مناسب موضوع نہیں۔ عقیدہ تو ’لکم دینکم…‘ کے حکم میں آتا ہے۔ عقیدے کی زرہ بکتر پہن کر صحافت کے میدان میں اتریں تو حبیب جالب کی آواز سنائی دیتی ہے۔

داورِ حشر بخش دے شاید
ہاں مگر اک غبی سے ڈرتے ہیں

اس ملک میں ہم سب نے بہت سی غلطیاں کیں۔ ان غلطیوں میں سیاسی گروہوں ، ریاستی اداروں اور اہل دانش نے برابر کا حصہ ڈالا۔ ڈرون حملوں ہی کو لیجئے۔ ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج کرنے والے دوستوں کو اپنی رائے کا حق ہے مگر ضیاالحق کے عہد میں جب ہم افغان جنگ میں دامے، درمے، سخنے شریک تھے تو سوویت جہازوں نے بلامبالغہ سینکڑوں مرتبہ پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی۔ تب کسی کو پاکستان کی خودمختاری پامال ہونے کا خیال نہیں آیا۔ اس لئے کہ تب DPCخسروان وقت کا اشارہ¿ ابرو کچھ اور تھا۔ کیسا غضب ہے کہ اس وقت پرائی جنگ کو اپنے گھر میں لانے پر مزاحمت کرنے والے راندہ¿ درگاہ ٹھہرتے تھے اور آج جب اس جنگ میں قائم کئے گئے اوجڑی کیمپوں پر ڈرون حملے ہوتے ہیں تو ہمیں خود مختاری کا درس دیا جاتا ہے۔ کیا قیامت ہے کہ ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں صاحب منبر و محراب نے ہم وطن شہری خاتوں کو سرعام مغلظات بکی ہیں اور مولانا صاحب کے ہم خیال تو خیر ان کے دفاع میں شمشیر بکف ہیں، کنارے پر کھڑے راست باز صحافی بھی اس فکر میں ہیں کہ بدزبانی کا الزام تول کر دونوں فریق میں بانٹ دیا جائے۔ جی نہیں۔ پارسائی، تقویٰ اور الوہی ہدایت کا دعویٰ حضرت حافظ حمدللہ صاحب کو ہے، اپنی جگہ سے اٹھ کر حملہ ا ٓور حمداللہ صاحب ہوئے ہیں۔ ان کی بدزبانی کا کوئی دفاع ممکن نہیں۔ ان کے الفاظ گواہ ہیں کہ عمامہ ، جبا اور عبا کے مقدس پردوں میں ایک کندہ ناتراش ذہن رکھا ہے جو چوک چوراہے کی لغت میں سوچتا ہے اور جس کی پارسائی کا بھرم دوسروں کی بلادلیل اطاعت کا محتاج ہے ۔ قوم کو احسان مند ہونا چاہیے حافظ حمداللہ صاحب کا کہ ہم مدتوں یہی بات کہتے اور کسی کو باور نہ ہوتا کہ علما کے سفید لبادوں کے اندر کی حقیقت کیا ہے۔ حافظ حمداللہ کی گہر افشانی کا کوئی تعلق مذہب کی تعلیمات سے نہیں ، مذہب کے نام پر سیاست کرنے والے مذہبی عقائد کی تقدیس کے نام پر اپنے لئے جواب دہی سے بالا درجہ مانگتے ہیں۔ قوم ماضی میں بھی حافظ حمداللہ کے گروہ کو مسترد کر چکی ہے اورآئندہ بھی جبہ و دستار کو یہ ذمہ داری نہیں سونپے گی۔ انشا اللہ خان انشا یاد آ گئے۔
صاحب کے ہزلہ پن سے ہر ایک کو گلہ ہے
میں جو نباہتا ہوں، میرا ہی حوصلہ ہے


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “اک غبی سے ڈرتے ہیں

  • 12-06-2016 at 2:35 pm
    Permalink

    بہت عمدہ مگر آپ کی اس رائے، صحافی تو حقیقی معنوں میں فریق بھی نہیں ہوتا، سے درست ہونے کے باوجود اتفاق کرنا مشکل ہے ۔ برصغیر کی صحافت کا روز اول سے یہی المیہ ہے کہ اس نے سیاست میں ہمیشہ ایک فریق کا کردار ادا کیا ہے۔ وہ ابوالکلام ہوں، جوہر ہوں یا ظفر علی خاں، حمید نظامی ہوں یا الطاف حسین۔ میرے پاس معلومات تو نہیں مگر مجھے یقین ہے کہ ہندووں کی صحافت کی بھی یہی صورت حال رہی ہے۔ اس صحافت نے ہمیشہ عوام کی رہنمائی اور ذہن سازی کو اپنا فریضہ قرار دیا ہے۔ اس کار منصبی کے ساتھ معروضیت کا کوئی امکان باقی نہیں رہتا۔

  • 14-06-2016 at 9:52 pm
    Permalink

    تجزیہ کا اُصول ہمیشہ سے یہ ہے کے غیر جانبدار ہونا چاہیے آپ نے انتہائی خوبصورت کالم کے آخر میں آکر اپنا غم اوریک طرفہ تجزیہ حافظ حمداللہ کے سر ڈال دیا طرفہ تماشہ یہ کے ماروی سرمد کے پچھلے تمام بد زبان قسم کے انٹرویوز کے باوجود جس میں وہ اوریا جان صاحب جیسے صحافی کو نجانے کیا اول فول کہتی رہیں آپ کی نظروں سے نہیں گزرے اور اگر گزرے ہیں تو یہ ناانصافی ہے بطور صحافی آپ کا ادھورا تجزیہ چند لوگوں کو ہی خوش کر پایا ہوگا ۔

Comments are closed.