شریکوں اور مخالفین کو سلگانے کا صحیح طریقہ


ہمارے معاشرے میں خاندانی نظام اور برادری نہایت اہم ہے۔ اہل مغرب کی تہذیب تو اپنے خنجر سے خودکشی کر کے رشتے داروں وغیرہ سے جان چھڑا چکی ہے لیکن ہمارے اعلی اقدار کے حامل روایتی معاشرے میں یہ نہایت اہم ہے کہ رشتے داروں اور مخالفین کو خوشی غمی میں سلگایا جاتا رہے۔ پنجاب میں شریکوں اور اٹک پار میں تربوروں کی محبت کی درخشاں روایات دمدار ستارے کی مانند روشن ہیں۔

شریکوں اور رقیبوں کو سلگانا نہایت اہم ہے۔ بیشتر افراد اس مقصد کے لیے دماغ استعمال نہیں کرتے۔ وہ سوچتے ہیں کہ بس اپنے مخالفین کی بیٹھ کر برائیاں کرتے رہیں تو دنیا بھر میں وہ بدنام ہو جائیں گے۔ انہیں جہاں چار بندے مل جائیں وہ سارا زور اس بات پر لگا دیتے ہیں کہ ان کے مخالفین کو نہ اچھا پہننے کی سمجھ ہے اور نہ اچھا کھانے کی۔ دھوتی کے ساتھ ٹی شرٹ پہنتے ہیں اور چائے میں کیلا ڈبو کر کھاتے ہیں۔

جب ہر جگہ وہ ایسی باتیں کرنے لگیں تو لوگوں کو یقین ہونے لگتا ہے کہ اس برائیاں کرنے والے شخص کو فیشن کی سینس نہیں ہے جو دھوتی کے ساتھ ٹی شرٹ کے جدید سٹائل کی برائی کر رہا ہے۔ یعنی بندہ خود ہی بدھو بن جاتا ہے اور مخالف اس پر خوش ہوتا رہتا ہے۔ ایسا کرنے سے چغلیاں کرنے کا گناہ تو ملتا ہی ہے لیکن اس سے بھی بڑھ کر یہ نہایت ناکام، ناکارہ اور فرسودہ طریقہ ہے اور اسے نہایت کند ذہن اور احمق افراد ہی استعمال کرتے ہیں۔

ہمارے ایک قومی بزرگ فرماتے ہیں کہ زندگی اپنے محاسن پر بسر ہوتی ہے دوسروں کی عیب جوئی سے نہیں۔ شریکوں کو سلگانے کا جدید اور موثر طریقہ اسی حکمت سے کشید کیا گیا ہے۔ اس کے لیے سب سے اہم تو یہ ہے کہ آپ اپنے شریکوں کے بارے میں سوچنا چھوڑ دیں اور انہیں مکمل طور پر نظر انداز کر دیں۔ یا بے شک سوچتے رہیں مگر کسی کو اس سوچ کی خبر نہ ہونے دیں۔

اس کے بعد جہاں بھی جائیں ادھر دل کھول کر اپنی تعریفیں کرنا شروع کر دیں۔ بس یہ یاد رہے کہ کوئی بھی تعریف کرنے سے پہلے یہ امر یقینی بنا لیں کہ اس میں تھوڑی بہت حقیقت ہو اور بہت سے افراد آپ کی بات سے اتفاق کرتے ہوں۔

مثلاً آپ ایک درخت لگائیں اور سب کو بتانا شروع کر دیں کہ آپ نے ایک درخت نہیں لگایا بلکہ ہزاروں لاکھوں پتے لگائے ہیں۔ اس درخت کے سبزے، اس کی لکڑی، اس کے فضا پر خوشگوار اثرات، علاقے میں اس کی وجہ سے زیادہ بارش ہونے وغیرہ سمیت تمام موضوعات پر بات کریں تاکہ گرد و نواح کے لوگوں کو علم ہو جائے کہ آپ کتنے عظیم ہیں۔

یا آپ نے کچھ لکھ دیا ہے تو آپ دنیا پر واضح کر دیں کہ آپ میں لکھنے کی خداداد صلاحیت ہے۔ آپ ایک جینئیس ہیں۔ ایسا بہترین پیس بھلا کون لکھ سکتا ہے۔ مضمون اچھا ہو تو رفتہ رفتہ بہت سے لوگوں کو آپ کی بات کا یقین آ جائے گا اور جن فرسودہ سوچ والوں کو یقین نہیں آئے گا وہ بھی ہر جگہ بیٹھ کر آپ کا ذکر کرتے رہیں گے جس سے مفت میں آپ کی بہترین مارکیٹنگ ہو گی اور آپ ایک سینئیر لکھاری کے طور پر جانے جانے لگیں گے۔

اگر آپ ایک لڑکی ہیں تو اپنے بہترین بالوں، سٹائلش لک، اپنی بہترین لپ اسٹک اور سریلی آواز کی تعریفیں کر سکتی ہیں۔ اس سے آپ سے جلنے والی تمام لڑکیاں ہر محفل میں آپ کا ہی ذکر کرنے پر مجبور ہو جائیں گی۔ اگر ایک لڑکے ہیں تو سب کو اپنے بہترین سٹائل، کرکٹ کی صلاحیتوں اور اہم رومانی فتوحات کا ذکر کر سکتے ہیں۔ شریکوں کو مکمل طور پر اگنور کرنے اور اپنی ذات پر فوکس کرنے سے غیبت کرنے کا گناہ بھی نہیں ہوتا۔

اپنے ارد گرد دیکھیں اور ایسے افراد کو تلاش کریں جو ہر وقت آپ کی برائیاں کرتے رہتے ہیں۔ آپ اس بات سے اتفاق کریں گے کہ ان کو سب سے زیادہ تکلیف اس بات سے ہوتی ہے کہ آپ اپنی تعریفیں کیوں کرتے ہیں اور انہیں اس قابل بھی کیوں نہیں سمجھتے کہ ان برائیاں بیان کر دیں۔

جب بندہ اپنی بے تحاشا تعریفیں کر کے شریکوں کو ایسی آگ لگا سکتا ہو جو ایڑی سے شروع ہو اور چوٹی تک کو سلگا دے تو پھر دوسروں کو برا بھلا کہہ کر اپنا ہی جیا سلگانے کی کیا ضرورت ہے۔ اس طرح تو نہایت کند ذہن اور احمق افراد ہی کیا کرتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1026 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar