مکالمہ کرنا سیکھئے حضور


rashid-ahmad-2wجب سے حضرت انسان نے ہوش سنبھالا ہے اور آپس میں گفتگو کرنا سیکھا ہے اختلاف شاید اسی وقت سے چلتا آرہا ہے اور تا قیامت یہ سلسلہ یونہی جاری وساری رہے گا۔ ایک متوازن اور معقول معاشرہ کے باسیوں کا آپس میں علمی و فکری اختلاف ترقی کے لئے ازبس ضروری ہے مگر افسوس کہ عدم برداشت کا سیلابِ بلا ہے کہ گھروں کے گھر اجاڑتا چلا جارہا ہے۔ یہ جو آئے دن معصوم بچیاں آگ کے بے رحم شعلوں کے حوالے کی جاتی ہیں اس کا سبب پتہ ہے کیا ہے؟ یہی کہ تم نے میری پسند سے اختلاف کیا۔ میں نے جو رشتہ تمہارے لئے پسند کیا تم نے اس سے انکار کیوں کیا؟ اپنی پسند کی شادی کیوں کی؟ اب جلو اور اختلاف کا مزہ چکھو۔ اگر اس اختلاف پر ذرا سا صبر کر کے پانی کا ٹھنڈا گلاس پی کر وہ ماں اگر سوچتی تو شاید وہ اس فیصلہ پر نظر ثانی کرلیتی مگر اختلاف پر آگ بگولہ ہو کر فوری ردعمل دینے کا چلن ہمارے گھروں اور معاشرہ کا سکون غارت کر رہا ہے۔

تازہ واقعہ جو ایک ٹاک شو میں ہوا اگر یہی مولوی صاحب خاتون کی بات حوصلہ سے سنتے، پانی کا ایک گھونٹ پی کر مدلل انداز میں اپنا مقدمہ پیش کرتے تو کیا ہی خوب ہوتا، مگر فوری رد عمل دینے کی وجہ سے اپنے اعصاب پر قابو نہ رکھ سکے اور نتیجتاً وہ کچھ کہہ گئے جو اہل جبہ و دستار کو لمبا عرصہ اگر مگر چونکہ چنانچہ کی گردان الاپنے پر مجبور رکھے گا۔

editہمارے مکاتب و مدارس کو اپنے ہاں اس بات کو اب لازمی نصاب کا درجہ دینا پڑے گا کہ مکالمہ کیا ہے؟ کیسے ہوتا ہے؟ اس کے کیا آداب ہیں؟ اگر آپ سچے بھی ہیں پھر بھی مخالف کی بات کو کس طرح خاموشی سے سننا ہے، فوری رد عمل نہیں دینا، بات نہیں کاٹنی، وغیرہ۔ میڈیا کو بھی زیادہ نہیں تو ذرا سی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا پڑے گا کہ ٹاک شوز میں یہ قانون لاگو کر کے اس پر سختی سے عمل کروائیں کہ ہر مہمان اپنی باری پر بولے گا۔ سب کو یکساں وقت ملے گا۔ آپ کو جتنی مرضی شدت سے دلیل آئی ہوئی ہے آپ اپنی باری سے پہلے نہیں بولیں گے۔ اس دوران چائے جیسی نعمت سے محظوظ ہوں، چسکیاں لیں، نوٹس لیتے رہیں تاکہ آپ پڑھے لکھے بھی لگیں اور معاشرہ بھی اس سے کچھ سیکھے اور اپنے رویوں میں تبدیلی پیدا کرے ورنہ اختلافِ رائے پر گردن زنی کا یہ چلن معاشرہ کی چولیں تو ہلا چکا عمارت بھی منہدم کر دے گا۔


Comments

FB Login Required - comments

راشد احمد

راشداحمد بیک وقت طالب علم بھی ہیں اور استاد بھی۔ تعلق صحرا کی دھرتی تھرپارکر سے ہے۔ اچھے لکھاریوں پر پہلے رشک کرتے ہیں پھر باقاعدہ ان سے حسد کرتے ہیں۔یہ سوچ کرحیران ہوتے رہتے ہیں کہ آخر لوگ اتنا اچھا کیسے لکھ لیتے ہیں۔

rashid-ahmad has 16 posts and counting.See all posts by rashid-ahmad

One thought on “مکالمہ کرنا سیکھئے حضور

  • 13-06-2016 at 2:30 pm
    Permalink

    Rashid u do well.. keep it up

Comments are closed.