لڑکیاں ہم سے تگڑی ہیں بھائی


دل خوش ہوتا خفا ہوتا یا ویسے ہی چل رہا ہوتا۔ ہم منہ اٹھاتے علی مسجد چشمے کے پانی میں نہانے چلے جاتے۔ دن میں دو دو تین چکر جمرود کے لگ جاتے۔ راستے میں دو تین چیک پوسٹ آتی تھیں۔ کسی نہ کسی پر کماندان بیٹھا مل جاتا۔ بڈھا خڑوس آفریدی کماندان۔ خاصہ دار فورس جو مقامی قبائل پر ہی مشتمل ہوتی ہے۔ اس کا اک قسم کا افسر اور ہمارے دوست کا رشتے میں ماما یا نانا۔

ہمیں دیکھتا تو دور سے آواز لگاتا کہ ”بیا رالل دہ مینا گلے طور مسی“۔ پھر آ گئے مینا گل کے کالے نواسے۔ یہ دوست کی نانی کا نام تھا۔ کالا نواسہ وہ مجھے کہتا تھا۔ چیک پوسٹ پر پھر دوست کا اپنے ماموں سے گالیوں کا اک تبادلہ ہوتا۔ ہم بزتی محسوس کرتے تھے۔ خاصہ دار ہم پر ہنستے تھے۔

سال ڈیڑھ ہر چیک پوسٹ پر نام کما کر، نانی کو مشہور کر کے کھڑپینچ کو ہی یاد آیا کہ علاج کیا ہو سکتا۔ چیک پوسٹ پر پہنچے تو کھڑپینچ نے آواز لگائی ”سہ شو دہ زرینے میڑہ“ زرینے کا خاوند کدھر گیا۔ ”راشہ گیٹ کھلاؤ کا چائے روڑہ“۔ گیٹ کھولو چائے لاؤ۔

یہ ہماری تربیت ہو رہی تھی۔ کہ خاتون کا نام لیتے سبکی سی بزتی سی محسوس ہوتی تھی۔ شرمندہ تو بحرحال ہوتے تھے۔ پھر زرینے اور مینا گلے کو پتہ لگ گیا۔ ماما بھی سکون سے ہو گیا کھڑپینچ بھی بالکل سدھر گیا۔
احساس ہوا کہ زرینے اور مینا گلے اتنی بھی بے بس نہیں ہیں۔ ان دو نمونوں کو تو سیدھا کرنے کے قابل ضرور ہیں۔

سکول کو ایجوکیشن تھا۔ میڈم لودھی ہمیں بندر سے انسان بنا رہی تھیں۔ گورے استاد، ماڈرن خاتون استاد۔ سزا ملتی تو کسی ہم جماعت لڑکی کے ساتھ بٹھا دیا جاتا۔ ڈیسک ہم شئر کرتے۔ کرسی اپنی والی پر بھی آدھا سا ہی بیٹھ پاتے۔ ہم جماعت مذاق اڑاتے جس کو سزا ملی ہوتی وہ منٹوں میں لال سیب بن جاتا۔ چھٹی ہونے تک اس کا رنگ لال سے کالا سا لگنے لگ جاتا۔

یہ لڑکیوں سے اک دوسری قسم کا تعلق بن رہا تھا۔ سزا کے طور پر مجھے جس کے ساتھ بٹھایا جاتا۔ وہ ظالم موٹی میرا ناشتہ بھی کھاتی تھی۔ ساتھ یہ بھی کہتی کہ پانچ وقت وضو کی بجائے نہا لیا کر۔ شاید تیرا رنگ صاف ہو جائے۔ یہ اک دوسرا تعلق تھا۔ اک سڑیل سا مجبور سا۔ دل کرتا تھا اپنے ناشتے میں زہر ڈال دوں۔ کچھ بھی کہے بغیر قدرت اک سبق دے رہی تھی۔ یہی کہ لڑکیاں برابر نہیں زور آور بھی ہوتی ہیں۔

بہت بعد اس سے بات ہوئی تب جب شوہر ہی نہیں دو بچے بھی اس کے ساتھ تھے۔ اوئے وسی تیرا تو رنگ صاف نہیں ہو گیا۔ ہم باتیں کرتے رہے۔ اس کا گھر والا حیران حیران دیکھتا رہا۔ مشر بھی بیٹھا تھا اک اور ہم جماعت بھی۔ تب اس کے شوہر کو خود مجھے مشر کو یہ کہنا پڑا کہ ہم جماعت سکول فیلو دوست بھی ہوتے۔ بہت فرینک بھی ہوتے۔ اک دوجے کے رازدار بھی ہوتے۔ یہ باتیں کرتے ہوں تو سننے والوں کو بھی اچھا محسوس ہوتا۔

مشر اس کہانی میں آ ہی گیا ہے تو پھر اس کی بھی سن لیں۔ وہ بھی اک ایسا پرزہ ہے جو زندگی میں انسٹال ہے۔ سبق دینے کو مدد کرنے کو۔ مشر کا کزن بیٹھا شواخون کر رہا تھا۔ یہ صرف پشتو میں ہوتا ہے مایوس باتیں کرنا۔ ہارے ہوئے جواری جیسی جو سب امید چھوڑ چکا ہو۔ کزن ہمارے دلوں میں سوراخ کر رہا تھا کہ اس کا کچھ نہیں ہو سکتا۔

مشر اسے کہہ رہا تھا کہ دیکھ مجھ سے پیسے لے۔ ٹائر پنکچر کی دکان ڈال وہاں بیٹھے روتے رہنا۔ تمھارے شواخون سے ہی گاڑیوں کے ٹائر پھول کر پھٹ جایا کریں گے۔ کزن نہیں مان رہا تھا۔ مشر نے مجھے اک کہنی ماری اسے سمجھا۔ کیا سمجھاؤ ”مور نہ ورتہ اووایا“۔ اسے ماں کا بتاؤ۔

مجھے یاد آ گیا، اسے کہا ”غم بہ نہ کے۔ ستا خو دا مور نوم اطلس دے ٹائر کار بہ خہ وی“۔ فکر نہ کر تمھاری تو امی کا نام اطلس ہے۔ اٹلس ٹائروں کا ایک مشہور برانڈ نیم ہے۔ کزن کو جوش دلایا کہ وہ تمھاری امی کے نام پر ہے کر یہ کام۔
بس پھر مجھے اور مشر کو فرار ہونا پڑا۔ دنیا تب بھی ایسی تھی لوگ اچھا مشورہ کدھر سنتے تھے۔ ترور اطلس تو مشر کو ڈھونڈتی پھرتی تھی۔

وہ قصہ مجھ سے نہیں سنایا جانا۔ سدا بہار نام تھا ہمارے اک دوست کی امی کا۔ جب اک دن وہ دوست بالکل ہی اڑی کر گیا تو مشر نے اسے تاریخی ارشاد کیا۔ ”اؤ دا ایور گرین بچیا خبرہ وورہ“ ایور گرین کے بچے بات تو سن۔
پھر ایور گرین کے بچے نے اپنے گھر بتا دیا۔

یہ سب الٹا سیدھا ہمارے ساتھ ہوتا تھا۔ پر ہم یوں بھی کرتے تھے کہ جب دوستوں کی جاننے والوں کی خواتین گزرتی تو راستے سے ہٹ جاتے۔ دیوار کی طرف منہ کر کے کھڑے ہو جاتے، نظریں جھکا لیتے۔ آج بھی نظر ملا کر بات کرنا مشکل لگتا ہے۔ خود ہی نظریں جھکی رہتی ہیں۔

سکول میں ٹیچر اکثر تھپکی دے دیتی تھیں۔ ہاتھ ملا لیتی تھیں کوئی میچ جیتنے پر۔ کسی اچھی بات پر ہم اپنی ٹیچر کے ساتھ تب ہائی فائیو کر لیتے تھے۔ پتہ نہیں کب کیسے ہم لڑکیوں کو اپنے برابر کا یا کسی حد تک خود سے زیادہ زور آور سمجھنے لگ گئے تھے۔ یقین تھا کہ دوستوں کے ساتھ الٹے سیدھے کام کرتے بچت ہو سکتی ہے۔ کسی لڑکی کسی آنٹی کو چھیڑا تنگ کیا تو کٹ پکی ہے اور بزتی بھی۔

مشر نے اک دن سب کو ڈرائنگ روم میں بٹھایا۔ ہمیں بتایا کہ آج فون فارغ ہے گھر میں کوئی نہیں ہے۔ ہم کال ملائیں گے جہاں کسی لڑکی نے اٹھایا اس کو لائن ماریں گے۔ ہم نے جتنے نمبر ملائے سب کسی انکل نے ہی اٹھائے۔ پھر کھڑپینچ کی باری آئی نمبر ملانے کی۔ اس نے نمبر ملایا تو خاتون نے اٹھایا۔

سب نے بات کی، اک جوان نے پوچھا کبھی لنڈی کوتل آیا ہے۔ دوسرا بولا ہمارے گھر سیال فلیٹ آئے گا۔ کھڑپینچ بولا آنٹی تمھاری لڑکی کدھر ہے۔ آنٹی کی بس ہو گئی تھی یہ سب رومانٹک باتیں سن کر۔ آنٹی بولی کھڑپینچ وسی کو فون دو۔ مجھے فون دیتے ہوئے وہ بولا اسے میرا نام کیسے پتہ۔

وسی تم کل سکول آؤ سارے تمھیں بتاتی ہوں میرا کتنا لڑکی ہے۔ سب نے کھڑپینچ کو دیکھا۔ وہ بولا یارا میرے پاس تو صرف میڈم آفریدی کا ہی نمبر تھا۔ میں نے سوچا ہو سکتا کسی اور کا گھر مل جاوے۔ مشر دوسرے سکول میں تھا اس نے کہا کہ تم سب کو نادیہ کم از کم ایک ایک تھپڑ تو ضرور مارے گی۔

میڈم آفریدی کی بڑی بیٹی نادیہ تھی ہم سے بہت سینئیر۔ اگلے دن سب روٹین ہی تھا وہی ہم وہی سر میسی وہی مشر کی منحوس پیش گوئی۔ میڈم آفریدی تو بس ہم پر ہنستی ہی رہیں۔
لڑکیاں تو ہمیں خود سے تگڑی ہی لگی ہیں بھائی۔ تاریخ سے تو یہی ثابت ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 334 posts and counting.See all posts by wisi