ایڈیٹروں کی قلابازیاں


اردو جرنلزم کی پچھلی نصف صدی میں کیا حالت تھی، اس سلسلہ کے چند واقعات دلچسپی سے خالی نہ ہوں گے۔

صحافتی کورٹ فیس

”ریاست“ کے عروج کے زمانہ میں راقم الحروف دوستوں سے ملنے کے لئے مہینہ میں ایک آدھ بار دہلی سے لاہور ضرور جایا کرتا، اور یہ سفر صرف ایک دن کا ہوتا، کیونکہ مصروفیت کے باعث اس سے زیادہ وقت نہ دیا جا سکتا تھا۔ یعنی رات کو فرنٹیر میل میں دہلی سے سوار ہوتا، اگلی صبح لاہور پہنچتا، اور اسی روز شام کے وقت فرنٹیر میل میں سوار ہو کر اگلی صبح واپس دہلی پہنچ جاتا۔

لاہور میں میرا قیام کئی برس تک پہلے امپیریل ہوٹل میں ہوتا، کیونکہ اس ہوٹل کے مالک مجھ سے کوئی بل چارج نہ کرتے، چاہے میرے ساتھ اور دوست بھی ہوتے۔ کیونکہ اس کے معاوضہ میں ان اشتہار ”ریاست“ میں مسلسل شائع ہوا کرتا۔ اور اس کے بعد میں کئی برس تک ریلوے اسٹیشن کے نزدیک بر گنزا ہوٹل میں قیام کرتا۔ میں چاہے امپیریل ہوٹل میں قیام کرتا، یا بر گنزا ہوٹل میں، ہوٹل میں پہنچنے کے بعد اور غسل کرنے کے بعد میں سیدھا ایک دوست کے ہاں پہنچتا، جو ایک اردو ہفتہ وار اخبا ر کے مالک اور ایڈیٹر تھے۔

ان کے ہاں پہنچنے کے بعد سب سے پہلے میں ان کو ایک روپیہ دیتا، اور کہتا، کہ کسی آدمی کو بھیج کر سید مٹھا کے نکو شاہ حلوائی سے پوریاں منگا دو۔ کیونکہ نکو شاہ کی پوریاں تمام لاہور میں مشہور تھیں، اور لذت کے اعتبار سے ان کے مقابلہ دہلی یا لاہور میں کوئی دوسرا حلوائی نہ کر سکتا تھا، یہ دوست بغیر کسی تکلف کے ایک روپیہ لے کر اپنے کسی عزیز کو پوریاں لینے بھیجتے۔ کیونکہ یہ فی الحقیقت ہمیشہ ہی تنگدست رہتے، اور دوستوں سے دو دو چار چار روپیہ لے کر اپنا گزارا کرتے۔ پوریوں کے آنے تک گپ بازی ہوتی، اور باتوں باتوں میں یہ اپنے افلاس کا اظہار کرتے۔ جس کا اظہار کرتے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا، کہ مجھے دس پندرہ یا بیس روپیہ ان کو نذر کرنے پڑتے۔ یعنی ان کے ہاں بیٹھ کر پوریاں کھانے کی یہ فیس مجھے ادا کرنی پڑتی۔ مگر مجھے دلی مسرت نصیب ہوتی، کہ میں اس طریقہ سے ہی ایک دوست کی خدمت انجام دیتا ہوں۔

ایک روز میں پوریوں کے انتظار میں تھا، کہ ان کے ہاں ایک صاحب فیروز پور سے تشریف لائے۔ اور انہوں نے اپنے مصائب بیان کرتے ہوئے چاہا، کہ ان پر جو ظلم وہاں کے تحصیلدار کے ہاتھوں ہو رہا ہے، اسے اخبار میں شائع کیا جائے۔ مظالم کی یہ داستان جب اس شخص نے سنائی، تو ایڈیٹر صاحب نے پوچھا، کہ سب سے پہلے یہ بتائیے، کہ آپ ہمارے اخبار کے خرید ار نہیں ہیں، تو ایڈیٹر صاحب نے کہا، کہ چھ روپیہ سالانہ چندہ ہے۔ یہ رقم دیجئے، اور آپ اخبار کے خریدار ہوں گے، تو پھر ہم اس مسئلہ پر غور کر سکتے ہیں، کہ آیا آپ پر کیے جا رہے ظلم کے خلاف آواز پیدا کی جا سکتی ہے، یا نہیں؟ ایڈیٹر صاحب کے اس مطالبہ پر اس شخص نے بتایا، کہ وہ غریب ہے، اور چھ روپیہ ادا نہیں کر سکتا۔ تو ایڈیٹر صاحب نے فرمایا، تو پھر اخبار میں اس ظلم کے خلاف آواز بھی پیدا نہیں کی جا سکتی۔

اس گفتگو کو سننے کے بعد راقم الحروف نے مزاحیہ انداز سے اس غریب شخص سے کہا، آپ چاہے امیر ہوں یا غریب، یہ چند ہ تو اخبارات کی کورٹ فیس تو آپ کو دینی پڑے گی۔ کیونکہ نہ تو کوئی عدالت بغیر کورٹ فیس کے کوئی درخواست لے سکتی ہے، اور نہ اخبارات اپنی اس کورٹ فیس، یعنی چندہ کے بغیر کوئی بات سن سکتے ہیں۔ راقم الحروف کے اس لطیفہ پر وہاں بیٹھے تمام دوست ہنس پڑے۔

صحافتی ریمانڈر

لاہور کے ایک ایڈیٹر صاحب اپنے اخبا ر میں گندے اور سنسنی پیدا کرنے والے مضامین لکھنے میں بہت مشہور تھے۔ لندن کے اخبار ”ٹٹ بٹس“ اور ”نیوز آف دی ورلڈ“ کے مضامین سے ترجمہ کر کے شائع کر کے اپنے اخبار کو دلچسپ بتا لیتے، اور کبھی کبھی موقع ملنے پر کسی نہ کسی ریاست پر بھی ہاتھ صاف کر لیتے۔ آپ نے ایک مضمون ریاست کپور تھلہ کے متعلق لکھا۔ جس میں مرحوم مہاراجہ پر غلیظ الزامات لگائے۔ ریاست کپور تھلہ کے وزیر اعظم خان بہادر میاں عبدالحمید مہاراجہ کے یورپ کے عشرت کدوں کی سیر کے باعث ریاست کے انچارج ہوا کرتے، اور نہ چاہتے تھے، کہ مہاراجہ کی عیاشیوں کا لوگوں کو پتہ چلے، اور مہاراجہ کی بدنامی ہو۔ اس کے علاوہ میاں صاحب کچھ کمزور طبیت کے بھی تھے۔

آپ نے اپنا آدمی بھیج کر اس اخبار کے ایڈیٹر صاحب کو کپور تھلہ ہاؤس لاہور میں بلایا، اور ایک سو روپیہ اس غرض کے لئے دیا، کہ یہ آئندہ کپور تھلہ کے خلاف نہ لکھیں۔ اس ”سمجھوتہ“ کو ہوئے ایک برس ہوا تھا، کہ اس اخبار میں مہاراجہ کپور تھلہ کے خالاف پھر ایک مضمو ن شائع ہوا، اور اس مضمون کے شائع ہونے کے بعد آپ اسی ہفتہ شملہ چلے گئے، جہاں کہ میاں عبدالحمید مقیم تھے۔ شملہ پہنچنے کے بعد آپ شام کو مال روڈ پر گئے۔ کیونکہ شملہ کا ہر شخص شام کو مال روڈ پر سیر کے لئے آیا کرتا، اور آپ کو یقین تھا، کہ میاں صاحب بھی مال روڈ پر آئیں گے۔ تھوڑی دیر آپ مال روڈ پر پھرتے رہے، میاں صاحب بھی وہاں آگئے۔ سلام و دعا کے بعد میاں صاحب اور ایڈیٹر صاحب کے درمیا ن یہ گفتگو ہوئی:۔

میاں صاحب:۔ ایڈیٹر صاحب آپ نے پھر وعدہ شکنی کی۔ آپ نے وعدہ کیا تھا، کہ آئندہ ریاست کپور تھلہ یا مہاراجہ کپور تھلہ کے خلاف کبھی کچھ نہ لکھا جائے گا۔
ایڈیٹر صاحب :۔ ہاں میاں صاحب میں اپنے وعدے پر قائم ہوں۔

میاں صاحب :۔ وعدے پر کیا خاک قائم ہیں۔ اس ہفتہ ہی آپ نے مہاراجہ کے خلاف مضمون لکھا ہے۔
ایڈیٹر صاحب :۔ میاں صاحب آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے، میں ریاست کپور تھلہ کے خلاف نہیں ہوں۔ اس ہفتہ والا مضمون تو صرف بطور ایک ریمانڈر کے ہے، کیونکہ ایک برس ہو گیا۔ ایک سال سے آپ نے کچھ نہیں بھیجا، اب آپ کو سالانہ قسط ادا کرنی چاہیے۔

میاں صاحب ”ریمانڈر“ سن کر ہنس دیے، اور فرمایا، کہ کل ان کی کوٹھی پر آ کر سالانہ قسط لے جائیے۔ چنانچہ ایڈیٹر صاحب اگلے روز صبح میاں صاحب کی کوٹھی پہنچے۔ ایک سو روپیہ کے دس دس روپیہ والے نوٹ لئے، اور واپس تشریف لے گئے۔

ضمیر کی قیمت ایک پیالی چائے

لاہور کے ایک ہفتہ وار اخبار کے ایڈیٹر صاحب کے مرحوم مہاراجہ نابھ سے بھی کچھ مراسم تھے۔ مرحوم مہاراجہ اور سردار سردول سنگھ کو لیشر کے درمیان کچھ کشیدگی سی پیدا ہو گئی۔ ان ایڈیٹر صاحب کو جب مہاراجہ نابھ اور سردار سردول سنگھ کی کشیدگی کا علم ہوا، تو آپ نے مہاراجہ کو خوش کرنے کے لئے سردار سردول سنگھ کے خلاف ایک بہت ہی گندا اور مغلظ لیڈر لکھا، اور یہ مضمون مہاراجہ کو بھیجا گیا، تاکہ مہاراجہ خوش ہوں۔

اس واقعہ کے دو ہفتہ بعد ایک بہت شاندار دعوت دی، جس میں کہ لاہور کے تمام سرکردہ لیڈروں اور ورکروں کو بھی دعوت نامے بھیجے گئے۔ اور اس کے ساتھ سردار صاحب نے ان ایڈیٹر صاحب کو بھی دعوتی کارڈ بھیج دیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا، کہ اس پارٹی میں ایڈیٹر صاحب تشریف لائے، جن کا استقبال سردار سردول سنگھ کو لیشر نے نے کیا، اور ان کو ایک بہت اچھی جگہ بٹھایا، جہاں کہ دوسرے کانگرسی لیڈر بیٹھے تھے۔ چائے کے ختم ہونے کے بعد دوسرے لوگوں کے ساتھ ایڈیٹر صاحب بھی اپنے گھر واپس چلے گئے۔ اور بہت خوش کہ سردار سردول سنگھ نے ان کے ساتھ بہت محبت اور عزت کا سلوک کیا، اور لیڈروں کے ساتھ بٹھایا۔

چنانچہ اس عزت افزائی کا نتیجہ یہ ہوا، کہ ایڈیٹر صاحب نے اگلے ہفتہ ہی ایک دوسرا لیڈر لکھا، جس میں کہ سردار سر دول سنگھ کی تعریف کرتے ہوئے ان کے کانگرس کا صدر منتخب کیے جانے کی سفارش کی گئی۔ اس واقعہ کے دس روز بعد سردار سردول سنگھ کولیشر ملے، اور ان سے تمام حالات معلوم ہوئے، تو راقم الحروف نے ان سے کہا، آپ کو کمال حاصل ہے، کہ آپ نے آپ نے ایک آنہ کی چائے کی ایک پیالی میں ان ایڈیٹر صاحب کا ضمیر خرید لیا۔ سردار سردول سنگھ یہ سن کر مسکرا دیے، اور کہا، ایک کامیاب لیڈر کے لئے ضروری ہے، وہ مخالف کا بھی مسکرا کر جواب دے، اور کوشش کرے، کہ دشمن بھی اس کے دوست ہوں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

دیوان سنگھ مفتوں

سردار دیوان سنگھ مفتوں، ایڈیٹر ہفتہ وار ”ریاست“ دہلی۔ کسی زمانے میں راجاؤں، مہاراجوں اور نوابوں کا دشمن، ان کے راز فاش کرنے والا مداری، صحافت میں ایک نئے خام مگر بہت زور دار انداز تحریر کا مالک، دوستوں کا دوست بلکہ خادم اور دشمنوں کا ظالم ترین دشمن۔ سعادت حسن منٹو کے الفاظ۔

dewan-singh-maftoon has 25 posts and counting.See all posts by dewan-singh-maftoon