انتہا پسندی کا حل – مکالمے کا فروغ


Obaidullah Khanجہاں انتہا پسندی کا سامنا ہو وہاں انسانی سوچ اور رویے انتہا پسندی کے خلاف ایک فطری رد عمل میں انتہا پسندی کی مخالف سمت میں جب جوابی بیانیہ تراشتے ہیں تو بسا اوقات نقطہ اعتدال سے آگے نکل کر ایک نئی انتہا کی طرف نکل جاتے ہیں۔ ایسے میں دونوں طرف ایک قطبیت کا پیدا ہونا ایک لازمی امر ہے۔ مگر ایک انصاف پسند اور حقیقت پسند انسان، جس کے یہاں دل اور دماغ میں حقیقی صلح ہو یعنی جو ہر معاملے کو تعصب کی آنکھ سے بالا ہو کر کسی بھی بیانیے یا کسی دلیل کو محض عقل سلیم کی کسوٹی پر پرکھنے کا ملکہ رکھتا ہو، اس کے لئے نقطہ اعتدال پر آکر ٹھہر جانا اور دونوں انتہاؤں کے درمیان ایک میانہ روی اختیار کرنا ممکن ہوجایا کرتا ہے۔

شومئی قسمت کہ ہمارے ملک میں بھی ستر کی دہائی میں ایک انتہا پسندی کا بیج بویا گیا جو رفتہ رفتہ اب ایک تناور درخت بن چکا ہے۔ اس انتہا پسندی کے لئے تختہ مشق مذہب ٹھہرا کیونکہ اس کے لئے آب و ہوا مناسب تھی اور زمین زرخیز۔ جب بھی کسی معاشرے میں نقطہ اعتدال سے باقاعدہ کسی پالیسی کے ذریعے اجتماعی طور پر روگردانی کی جاتی ہے تو اس کے پیچھے کچھ مخصوص مقاصد اور مفادات ہوتے ہیں جو ہمیشہ مقتدر طبقوں سے وابستہ ہوا کرتے ہیں۔ کبھی بھی کسی نیک اور مقدس مقصد کے لئے ایک معتدل معاشرے کو نقطہ اعتدال سے جو توازن کا باعث ہوتا ہے، ہٹایا نہیں جاتا۔ بلکہ ہمیشہ سے ہی مقتدر حلقوں اور طبقوں کے ناجائز مفادات ہوتے ہیں جو معاشروں کو ایک انتہا کی طرف لے جانے کا باعث ہوا کرتے ہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ معاشرے میں عوام کے جذبات کو انگیخت کرنے اور انہیں اپنے مذموم مقاصد کےلئے استعمال کرنے کےلئے جو بیانیے تراشے جاتے ہیں انہیں مقبول عام اصطلاحات کے ساتھ ملفوف کیا جاتا ہے۔کبھی ذاتی مفادات کے حصول کےلئے جمہوریت جیسے مقدس نظریے کا نام استعمال ہوتا ہے تو کبھی ایسے مفادات کو مذہب کا لبادہ اوڑھا دیا جاتا ہے۔ اور کبھی یہ مفادات بیرونی عطیات کے لئے غیر سرکاری تنظیموں کے مغربی مادر پدر آزادی کو آزاد خیالی یا لبرلزم کا جامہ پہنا کر اسے معاشرے میں رائج کرنے کے پیچھے کارفرما نظر آتے ہیں۔

مگر بھیڑیا بھیڑ کا لباس پہننے سے بھیڑ نہیں بن جایا کرتا۔ آمریت کو جمہوریت کا نام دینے سے وہ جمہوریت نہیں کہلا سکتی۔ اسی طرح ایک مخصوص طبقے کے ناجائز مفادات کو مذہب کا چولہ پہنا کر اسے مذہب نہیں قرار دیا جاسکتا۔ مگر کیا کریں جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ اور جس کے ہاتھ میں ڈنڈا اسی کا چلے دھندا کے مصداق ہمارے معاشرے میں ہمارے یہاں بھی آجکل کچھ اسی قسم کی نظریاتی جنگ لڑی جارہی ہے۔ جس نے ہمارے معاشرے میں میں بھی ایک رنگ کی قطبیت پیدا کردی ہے۔ دونوں انتہاؤں پر گروہ بندیاں ہوچکی ہیں۔ ایک انتہا اپنے تئیں راسخ العقیدہ مسلمان کہلانے اور اسلام کا حقیقی ٹھیکیدار اور نمائندہ قرار دینے اور اسلام پر صرف اپنی اجارہ داری ثابت کرنے پر تلی ہے جبکہ دوسری طرف والا گروہ اپنے تئیں لبرل ازم اور سیکولرازم کا حقیقی نمائندہ گروہ کہلانے پر شاداں ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ نہ جمہور مذہبی طبقے کا بیانیہ صد فی صد غلط ہے اور نہ ہی مکمل طور پر بعض انتہا پسند لبرل حلقوں کا بیانیہ مکمل طور پر صحیح ہے۔ اور دونوں گروہ ہی ہمارے معتدل معاشرے، جو کبھی ہوا کرتا تھا، کی نمائندگی نہیں کرتے۔ دونوں انتہاؤں کے سرخیل اپنے مفادات کی آبیاری کرتے ہیں اور عوام ان کے مفادات کا ایندھن بنتی ہے۔

نفرت جب جرم سے یا ایک انتہا پسندی پر مشتمل رویے سے کی جائے تو یہ قابل ستائش ہے کیونکہ یہی وہ جذبہ ہے جو انتہا پسندی کے خلاف ایک مزاحمت پیدا کرنے اور اس کے خلاف تحریک چلا کر معاملات کو نقطہ اعتدال پر واپس کھینچ لانے کا باعث بنتا ہے۔ مگر اگر یہی نفرت نقطہ اعتدال پر رکنے کی بجائے آگے نکل کر دوسری انتہا کی طرف جانا شروع کردے تو یہاں سے تعصب کا میدان شروع ہوجاتا ہے۔ اور عقل نقطہ اعتدال پر ہی آپ کو تنہا چھوڑ جاتی ہے۔ یہی کچھ آج کل ہمارے یہاں اسلام کے نام پر اور اسلام کے خلاف بھی ہورہا ہے۔ حربے ایک سے ہیں، نفرت ایک سی ہے جو تعصب کے شکنجے میں ہے مگر سمت مخالف ہے۔ مذہبی انتہا پسندی نے لبرل ازم اور سیکولرازم کے خلاف ایک محاذ بنا لیا ہے اور سیکولرازم کو صبح شام مطعون کرنا ہی ان کے نزدیک جہاد ٹھہرا ہے۔ جبکہ دوسری طرف ایسے لبرل جہادی بھی ہیں جن کی صبح سے شام مذہب کی مذمت میں گزرتی ہے۔

ہمیں اس وقت جس انتہا پسندی کا سامنا ہے وہ اپنی انتہائی شکل اختیار کرکے دہشت گردی تک پہنچ چکی ہے۔ ان کے نزدیک دنیا کے تمام قاعدے قانون ایک طرف، اخلاقیات ایک طرف، عقل و خرد اور انسانیت بھی بالائے طاق مگر اگر کچھ ہے تو وہ جسے ان کے گروہی مسلک کے لوگ اسلام قرار دیں۔ گو کہ یہ گروہ بھی اپنے اندر درجہ بندیاں رکھتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس گروہ کی ہدایت کا ذریعہ کیا ہے؟ اس انتہا پسندی کو کس طرح اعتدال کی طرف مائل کیا جاسکتا ہے؟ کیا ان کو یہ بتا کر کہ ان کا مذہب ہی غلط ہے؟ یا یہ باور کروا کر کہ وہ جس مذہب کے لئے یہ سب کچھ کر رہے ہیں اس کا کوئی خدا ہی نہیں ہے؟ گویا آپ چاہتے ہیں کہ کسی شخص کی غلطی کی نشاندہی کرنے کا واحد حل یہی ہے کہ اس کے پیروں تلے سے زمین ہی کھینچ لو۔ مگر جس طرح سرمایہ دارانہ نظام کی انتہا پسند پالیسیوں کی وجہ سے امیر، امیر تر اور غریب، غریب تر ہوجاتا ہے اسی طرح رد مذہب قسم کی پالیسی سے مذہب تو ختم نہ ہوگا اور نہ ہی اس کے ماننے والے البتہ وہ تعصب اور مخالفت میں مزید بڑھ کر اور زیادہ شدت پسند ہوتے جائیں گے۔ اور جواب میں لبرل طبقوں میں بھی اسی قسم کی وحشت در آئے گی۔ گو کہ پاکستان میں ابھی لبرل طبقے اتنے طاقتور نہیں ہوئے کہ وہ اس حد تک آسکیں مگر مغرب میں جہاں مسلمانوں کی حیثیت کمزور ہے اور غیر مسلم طاقتور ہیں وہاں اسلامو فوبیا اسی حقیقت کا مظہر ہے۔

ہمیں سب سے پہلے تعصب کے خلاف مہم چلانا ہوگی۔ دلیل اور مکالمے کو فروغ دینا ہوگا۔ جب آزاد مکالمے اور بحث کے لئے ماحول سازگار ہوجائے گا تو دلیل خود اپنا مقام بنالے گی۔ کیونکہ کسی بھی معاشرے کو انتہا پسندی کی طرف لے جانے کے لئے سب سے پہلے دلیل کا خون کیا جاتا ہے۔ آپ دلیل کو زندہ کردیں معاشرہ خود بخود انتہا پسندی سے باہر آجائے گا۔ گو کہ اس میں کچھ وقت لگے گا۔ لیکن یہ بھی سوچئے کہ ہم نے اس انتہا پسندی تک پہنچنے میں تین سے چار دہائیاں لگا دی ہیں۔ اور ایک نسل پوری اس گھٹن زدہ ماحول میں پل کر جوان ہوئی ہے۔ آپ دلیل کو مقدس کر دیجئے باقی معاشرے کی تقدیس خود بخود ہوجائے گی۔ جو طبقے اپنے ناجائز مفادات کے لئے دلیل پر بھی صرف اپنی ہی اجارہ داری چاہتے ہیں وہ اجارہ داری ختم کردیجئے اور دلیل کو آزاد کر دیجئے۔ ایسی دلیل جو ناجائز مفادات کی زمین پر کھڑی کی جائے گی وہ فطری دلیل کے مقابلے میں کبھی نہیں ٹھہر سکے گی۔ جو دلیل کے ساتھ ہوگا وہ زندہ ہو جائے گا۔ اور جسے دلیل مارے گی وہ اپنی موت آپ مر جائے گا۔حیات اعتدال کو ہے انتہا پسندی کو نہیں۔

 


Comments

FB Login Required - comments