آئین و قانون کی عدم تعمیل اور ملازم بچوں کی غلامیٔ جدید


ایک دن ابنِ عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے غلام کی پیٹھ پر کچھ نشانات دیکھے تو اس سے پوچھا : ”کیا میں نے تجھے یہ تکلیف پہنچائی؟ “ غلام نے جواب دیا : ”نہیں تو۔ “۔ ابن عمر نے فوراً اسے آزاد کر دیا۔ آپ نے تکلیف دی تھی نہیں، غلام کو گلہ تھا نہیں مگر خوفِ خدا تھا کہ روزِ قیامت کہیں اس نشان کی بھی پوچھ گوچھ نہ ہو جائے۔ یہ سب رہبرِ کامل ﷺ کی تعلیم، تلقین و ہدایات کے سبب تھا جو آپ اکثر اوقات غلاموں کے سلسلہ میں فرماتے رہتے تھے۔ ایسے ہی ایک موقع پر حضرت ابو مسعود انصاری کو نبی پاک ﷺ نے اپنے غلام کو مارتے دیکھا تو آپ نے فرمایا : اے ابو مسعود : اللہ تجھ پر، تیری اس پر قدرت سے زیادہ قادر ہے۔ ابو مسعود کا سننا تھا کہ فوراً اس غلام کو آزاد کر دیا۔ اس پر نبی پاک ﷺ نے فرمایا کہ تو ایسا نہ کرتا تو جہنم کی آگ تجھے چھو لیتی۔

نبی مکرم ﷺ اپنے اصحاب کو اکثر غلاموں کی غلطی معاف کرنے اور درگزر کرنے کی ہدایت کرتے رہتے تھے۔ ایک دن ایک صحابی نے پوچھا کہ آخر میں اپنے غلام کو کس قدر معاف کروں؟ نبی رحمت نے فرمایا : ستر غلطیاں روزانہ۔

حجۃ الوداع ہو یا آخری ایام، مرض کی شدت کے دنوں میں بھی آپ بھرپور انداز میں غلاموں سے بہتر سلوک کی تلقین کرتے رہے۔ اپنے جیسا کھانا اور پہناوا غلام کو بھی مہیا کرنے کی ہدایات دیتے ریے۔ فرماتے تھے کہ غلام بھی تمہارا بھائی ہے، اس سے حُسنِ سلوک سے پیش آؤ۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ابوزر غفاری کو اور ان کے غلام کو اکثر ایک جیسا کپڑا پہنے دیکھا جاتا تھا۔
غلام تو پھر انسان ہے، نبیِّ رحمت ﷺ نے تو جانوروں کے حقوق پر بھی اپنی امت کو بہتر سلوک کی تلقین کی ہے، اچھی خوراک کی ہدایت اور گنجائش سے زیادہ کام لینے سے منع فرمایا ہے۔ رحمت العالمین نے تو اشجار اور پودوں کو بھی خوامخواہ کاٹنے سے منع فرمایا چاہے جنگ بھی کیوں نہ ہو۔

یاد رہے غلام زرخرید ہوتے تھے اور زمانہ جاہلیت میں مالک کو ان پر جسمانی تشدد اور ہر قسم کے سلوک کا اختیار ہوتا تھا۔ مگر ان زرخرید غلاموں کے برعکس آج کے ملازمیں و مزدور لوگ مملکت کے آزاد شہری ہیں۔ اکثر آجرین اور عام لوگ انہیں بھی غلاموں سے تعبیر کرتے ہیں جو کہ مطلقاً غلط ہے۔ ملازمین اپنی مرضی اور شرائط پر نوکری کرتے ہیں اور جب چاہے چھوڑ کر جا سکتے ہیں۔ مگر غلام اپنی مرضی کا مالک ہوتا تھا نہ ہی اس کی کوئی شرائط ہوتی تھیں، جس نے خرید لیا بس اسی کے احکامات بجا لانا اس پر فرض ٹھہرتا تھا۔ نبی پاک نے غلاموں کو آزاد کرنے کی ایک تحریک برپا کی مگر آج ان کے نام لیوا امتی آزاد لوگوں کو مختلف ہتھکنڈوں سے ”غلام سا“ بنا کر ان سے ناروا سلوک کے مرتکب ہو رہے ہیں جو پوری دنیا میں مذاق و تنقید کا باعث بنتا ہے۔

غلامی ختم کرنے کا جو بیڑہ پیغمبرِ اسلام ﷺ نے اٹھایا تھا اس کو منطقی انجام پر پہنچانے والے دراصل وہی ہیں جن کی تاریخ اس ضمن میں سیاہ ترین تھی۔ بدترین تاریخ کے حاملین امریکیوں نے پہلے اپنے ملک میں اور پھر پوری دنیا میں غلامی کی فرسودہ و قدیم رسم کا خاتمہ کیا اور یونائیٹڈ نیشن کے چارٹر کا اجراء کروایا جس کی رو سے ”ہر فرد چاہے کسی بھی رنگ و قبیلے یا قوم کا ہو، حقوق اور وقار میں آزاد اور برابر ہے۔ ہر فرد زندگی، آزادی اور اپنی حفاظت کا حق رکھتا ہے“۔ تمام ممبر ممالک اپنے آئین میں اس حق کی ضمانت دیتے ہیں۔

ایسی ہی ضمانت پاکستان کے آئین میں بھی موجود ہے مگر یہاں آئین و قانون کی عدم تعمیل کے سبب غلامی کے دوسرے طریقے پروان چڑھے ہیں۔ شکاری پھندا لے کر بیٹھے ہیں شکار پکڑنے کے لیے، آزاد لوگوں کو غلام بنانے کے لیے۔ ان میں سے ایک طریقہ تو بھٹہ لیبر کو یرغمال بنا کر بیگار پر کام لینے جیسا ہے۔ مجبور و لاچار مزدور ایک بار بسبب مجبوری بھٹہ مالکان سے قرضہ لے بیٹھے تو وہ قرضہ پھر کبھی اتر نہیں پاتا۔ ایک وقت آتا ہے پورا خاندان لگ کر بھی کام کرتا ہے تو قرضہ موا پھر بھی وہیں کا وہیں ہی رہتا ہے۔ کئی لوگ سسک سسک کر مر جاتے ہیں تو کچھ کے زندہ جلائے جانے کے بھی واقعات ریکارڈ ہوئے ہیں۔

جدید غلامی کی دوسری صورت ممنوعہ چائلڈ لیبر کی ہے۔ جس میں مجبور و لاچار والدین کے بچے مافیا کے ایک ہاتھ سے دوسرے اور پھر تیسرے ہاتھ سے ہوتے ہوئے آجر گھرانے تک پہنچتے ہیں۔ شکاری مافیا کا ہر رکن ان معصوم بچوں کا خوب استحصال کرتا ہے۔ سچ پوچھیں تو تاریخِ انسانی میں اس کی مثال نہیں، یہ انسانی استحصال کی بدترین صورت ہے جس میں پیدا کرنے والے والدین بھی کسی نہ کسی صورت میں اپنی سگی اولاد، ننھے منے بچوں کا استحصال کر رہے ہوتے ہیں۔ جبکہ آجر گھرانے کے تمام مرد و زن، کیا چھوٹا کیا بڑا، کام والے بچے سے ناروا سلوک روا رکھتے ہیں اور معصوم کے بیجا استحصال کے مجرم بنتے ہیں۔ کم کھانا زیادہ کام اور ننھی سی یہ جان!

یہاں تک رہتا تو شاید اتنا کچھ ابال نہ اٹھتا۔ مگر حد ہو جاتی ہے جب بچے پر زہریلے جملے کسے جاتے ہیں، بات بات پر تھپڑ جڑے جاتے ہیں، مکے اور لاتیں برسائیں جاتی ہیں اور جب ذہنی تسکین نہیں ہوتی تو سلاخوں اور ڈنڈوں سے بھی پیٹا جاتا ہے۔ بات اموات تک جا پہنچتی ہے مگر کچھ لے دے کر معاملہ نمٹا لیا جاتا ہے اور یوں یہ معاملہ میڈیا پر اپنی جگہ نہیں بنا پاتا، اور کبھی اگر میڈیا پر آ بھی جائے، تب بھی آخرکار ”لے دے“ سے ہی معاملہ نمٹتا ہے۔ قانونی کارروائی تو محض مشقِ لا حاصل ہے جس سے عبرت تو کیا ہو، قانونی موشگافیاں کھل کر سامنے آ جاتی ہیں جو سول سوسائٹی، این جی اوز اور وکلاء ٹیم کا خوب منہ چڑاتی ہیں۔

وڈیروں اور مخدوموں کے گھروں میں تو یہ معمول کی بات ہے مگر قومی سطح پر منظرِ عام پر آنے والے اب تک کے کیسز میں ملتان کی مخدوم فیملی کے ہاتھوں کم سن کی موت اور دیگر شہروں میں وکیل اور جج کی فیملیز میں ایسے بچوں پر شدید تشدد کے کیسز کافی مشہور ہوئے۔

غیر تعلیم یافتہ نئے دولتیوں کے ہاں یہ سب کچھ ہو تو سمجھا جا سکتا ہے۔ مگر یہاں تو جج ، وکیل، جاگیردار، گدی نشین مخدوموں کے بعد اب ملٹری افسر کا کیس بھی سامنے آ گیا ہے۔ یوں یہ ہمارا ہمہ گیر قومی رویہ بن چکا ہے۔ جس سے کسی شعبۂ زندگی کو استشنی حاصل نہیں۔ کسی مخصوص طبقہ کی برائی کرنا یہاں ہرگز مقصود نہیں، اصل کوشش یہ باور کرانے کی ہے کہ کیسے پورے کا پورا ہمارا معاشرہ آلودہ اور آوے کا آوا ہی بگڑ چکا ہے۔

حال ہی میں راولپنڈی کے ایسے ایک کیس میں گیارہ سالہ کنزا نام کی بچی پر تشدد ثابت ہوا ہے۔ بچی کی تصاویر اور ویڈیو کلپس الیکٹرانک و سوشل میڈیا پر دکھائی جا رہے ہیں جن سے مذکورہ اعلی تعلیم یافتہ فیملی کی سفاکیت عیاں ہوتی ہے۔ معصوم بچی سے ایسا غیر انسانی سلوک جہاں مجرموں کی تعلیم و گھریلو تربیت پر ایک بہت بڑا سوال ہے وہیں اخلاقی و مذہبی اقدار کے فقدان اور ان کی دماغی حالت کی بھی چغلی کھا رہا ہے۔

آرمی خاتون میجر اور اس کے ڈاکٹر شوہر کا یہ خاندان ہو یا وکیل اور جج والے کیسز، ان میں بچوں کے ساتھ تشدد کا یہ سلوک، ورکشاپ کے چھوٹوں کی نسبت تعلیم یافتہ پروفیشنلز کے گھروں میں تشدد کے واقعات کی زیادتی اور شدت کو نمایاں کرتا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ پڑھے لکھے لوگ بھی حقیقت میں کتنے بڑے جاہل اور سفاک ہو سکتے ہیں۔

ایسے گھروں میں اکثر اوقات والدین کو ان کے مزدور بچوں سے ملنے بھی نہیں دیا جاتا۔ والدین چونکہ اڈوانس رقم لے چکے ہوتے ہیں، بچوں کو ہمراہ لے جا بھی نہیں سکتے۔ چند ہزار روپیوں کی خاطر بچے گویا ان کے غلام ٹھہر جاتے ہیں۔

آزاد ملازم و مزدور لوگ زرخرید غلاموں کی نسبت کہیں بہتر سلوک کے مستحق ہیں۔ اور پھول سے بچے تو اس سے بھی کہیں زیادہ عفو و درگزر اور شفقت و راحت کے حقدار ہیں۔ اس لیے بھی کہ ان کو بطور لیبر گھر پر رکھنے کے بڑے مجرم تو بہرحال آجر خود ہیں، معصوم کی چھوٹی موٹی غلطیاں اگر درگزر نہیں کر سکتے تو اسے واپس والدین کے پاس بھجوا دیں۔

بقول محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایک ”غلام کو ستر غلطیاں یومیہ معاف ہیں“ تو ایک آزاد ملازم و مزدور کو دوہری سہولت تو ہونی ہی چاہیے یعنی ایک سو چالیس غلطیاں روزانہ، جبکہ بچہ چونکہ معصوم ہوتا ہے، اسے آزاد بڑے کی نسبت کم از کم دوہری سہولت ہی دی جائے تو دو سو اسی غلطیاں روزانہ بنتی ہیں۔ تو کیا بچہ اتنی غلطیاں کر بھی لیتا ہو گا؟ شاید ہی کوئی بچہ دس پندرہ غلطیوں سے زائد کرتا ہو۔ اتنی تھوڑی غلطیوں کی اتنی سفاکانہ سزا؟ اور پھر بھی ان کا اصرار ہے کہ دنیا بھر سے اچھے مسلمان ہیں، عجب زعم ہے بھئی۔

ہم عربوں کا رونا تو بہت روتے ہیں کہ پاکستانی لیبر پر سراسر زیادتیاں کرتے ہیں۔ اور اسی سانس میں ورکرز سے بہتر سلوک کرنے اور ان کو شہریت دینے والے یورپی ممالک پر تنقید بھی اپنا حق سمجھتے ہیں۔ یہی یورپی لوگ کوشاں ہیں کہ ہمارے ملک میں معاشرہ اس نہج پر بالغ النظر ہو کہ بچوں کو لیبر پر لگانے کی بجائے انہیں سکول بھیجیں اور ان کی بہتر نگہداشت اور تعلیم کو یقینی بنائیں۔ جب ہم یہ کام خود نہیں کریں گے تو مغرب کی پروردہ این جی اوز یہ کام کریں گی اور پھر صاف ظاہر ہے انہیں جگہ جگہ پرایا لُچ بھی تلنے کا موقع ملے گا۔ قوم کے اجتماعی گریبان میں، ہے کوئی جھانکنے والا، کہ قومی ضمیر ملاحظہ ہو کہ کس قدر منافقانہ رویوں اور کس طرح کی تنزلی اور ترقی معکوس کا شکار ہو چکی ہے یہ قوم؟

بچوں کے تحفظ کے عالمی کنونشن پر پاکستان نے چونکہ دستخط کر رکھے ہیں لہذا ان پر مکمل عملدرآمد کا پابند ہے۔ مقامی قوانین میں امتناعِ چائلڈ لیبر کا قانون موجود ہے مگر مزید قانون سازی اور پھر بھرپور اطلاق کی ضرورت ہے۔ کیا ہی بہتر ہوتا کہ بچوں کے حقوق کے عالمی چارٹر سے قبل ہی ہم نبی مکرم کی تعلیمات کے مطابق اپنے چھوٹوں کے حقوق پر نہ صرف نگہبان ہوتے بلکہ اس شعور کی طرف باقی دنیا کی بھی راہنمائی کرتے۔ مگر اغیار تو یہ تعلیمات و اسباق وہیں سے اخز کر ہی رہے ہیں۔ اب لاچار ہمیں انہی کے چارٹرز اور کنونشنز پر بخوبی اطلاق کرنا ہو گا جن پر ہم پہلے سے دستخط کر چکے ہیں۔
چھوٹی عمر کے ننھے منے بچوں کو سکول جانا چاہیے نہ کہ ایسے ویسوں کے گھر پر کام کے لیے جو ایسی خام خیالی اور ذہنی فتور کے شکار ہوں کہ مار پیٹ سے بچوں کو سدھارا جا سکتا ہے۔
مار نہیں، پیار سے!

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں