منٹو کی کالی شلوار سے حافظ کی شلوار تک


usman ghaziپاکستان میں دوشلواریں بہت مشہور ہوئی ہیں، ایک سعادت حسین منٹو کی کالی شلوار اور دوسری وہ شلوار جس کی حسرت حافظ حمدللہ نے بیان کی۔

ماروی سرمد کی شلوار پر شرارت کی تہمت رکھنا مناسب نہیں کیونکہ جس وقت حافظ حمداللہ نے نیوزون کے پروگرام میں ماروی سرمد کو شلواراتارنے کی دھمکی دی، اس وقت ماروی سرمد ساڑھی میں ملبوس تھیں۔

یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی دونوں مقبول شلواریں اپنی شہرت کے وقت لباس کا حصہ نہیں تھیں، کہیں ذہن کے نہاں خانوں میں پنہاں تھیں۔ شنکر نے سلطانہ کو کالی شلوار لا کر دی تو ابھی وہ ہاتھوں ہی میں تھی کہ افسانہ ختم ہو گیا۔

منٹو کی کالی شلوار نے پاکستان کے جس مذہبی طبقے کو آگ بگولہ کردیا، وہ ٹیلی ویژن پر ایک خود ساختہ عالم دین کی طرف سے شلوار اتارنے کی دھمکی کا کچھ یوں دفاع کرتا رہا کہ اگر منٹو سن لیتے تو حیرت سے بے ہوش ہو جاتے۔

منٹو آج بہت خوش ہوں گے، وہ کالی شلوار کا مقدمہ حقیقی معنوں میں اب جیتے ہیں، وہ کہتے تھے کہ جب سب شلواریں پہنتے ہیں تو اس کے تذکرے سے شرماتے کیوں ہیں، آج اگر منٹو پاکستان میں ہوتے تو دیکھ لیتے کہ بڑے بڑے جبہ دستار کے حامل افراد کے لیے بھی شلوار ایک علمی و شرعی مسئلہ بن چکا ہے بلکہ یہ کہنے میں بھی کوئی قباحت نہیں کہ پاکستان کی حد تک تو شلوار عالم اسلام کا مسئلہ بن گئی ہے، جواز میں صرف منطقی دلائل نہیں پیش کیے جا رہے، بدقسمتی سے مذہبی دلائل بھی دیے جا رہے ہیں۔

مجھ سے لوگ کہتے ہیں کہ آپ غیرجانب دار نہیں ہیں، جب حافظ حمداللہ کی دھمکی کے خلاف لکھیں تو ماروی سرمد کی بدزبانی کو بھی موضوع کلام بنائیں۔

ماروی سرمد کے خیالات سے بہت سوں کو اختلاف ہے، اگر میں بھی ان کے خلاف لکھنے بیٹھ جاؤں تو حافظ حمداللہ بن جاؤں گا اور پھر کس منہ سے حافظ حمداللہ کے عمل پر تنقید کروں گا۔

لیکن پھر بھی میں نے اپنے دوستوں کے شکوے پر ماروری سرمد کے خلاف لکھنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

ماروی سرمد کی سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ وہ نامحرم کے بغیر گھر سے نکل کر ٹی وی کے ایک پروگرام کے لیے اسٹوڈیو تک کیسے پہنچی۔

راستے میں ہزاروں شیاطین اس پر لعنتیں کرتے رہے، سینکڑوں مرد گمراہ ہوگئے، اب پتہ نہیں کتنے لوگ جہنم میں صرف ماروی سرمد کی وجہ سے جلیں گے۔

ماروی سرمد کی دوسری بدترین غلطی حافظ حمداللہ کے برابر والی نشست پر براجمان ہونا تھی، مجھے بتایا گیا ہے کہ عورت ایک فتنہ ہے اور فتنہ جب ایک متقی، پرہیزگار، بااخلاق، باوضع اور باشرع عالم دین کے برابر میں ہو گا تو اس پر کچھ تو اثرات پڑیں گے گویا آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ مولوی حمداللہ ماروی سرمد کے موجودگی کے اثرات بد سے محفوظ نہ رہ سکے، یہ رمضان میں قید ابلیس کی ایک آف شور سازش تھی۔

اور اس پر مستزاد کہ ماروی سرمد نے حافظ حمداللہ کو اکسایا کہ وہ مغلظات پر مبنی دھمکیاں دیں، عین ممکن ہے کہ انہوں نے یہ منصوبہ گھر میں بنا لیا ہواور دھمکی کو عملی جامہ پہنائے جانے کے ڈر سے شلوار کھونٹی پر لٹکا کر ساڑھی پہن لی ہو، احتیاطی تدابیر بھی تو ضروری ہیں نا!

ماروی سرمد کا پروگرام میں ساڑھی باندھ کرآنا علما کے خلاف ایک گہری سازش کا معاملہ لگتا ہے، منصوبہ یہ تھا کہ جب ایک عالم، متقی اور پرہیزگار رکن سینٹ ایک ایسی خاتوں کو شلوار کے حوالے سے دھمکی دے گا جس نے شلوار پہنی ہی نہیں تو سب کو معلوم ہو جائے گا کہ مولانا کے دماغ میں شلوار بسی ہے، مولانا کے اعصاب کی شلوار کا آزار بند بے قابو ہے، مولانا شلوار ہی کے استعارے میں سوچتے ہیں، مولانا پر افکار عالیہ شلوار باندھے اترتے ہیں، کامل اس فرقہ شلوار میں اترا نہ کوئی۔۔۔

ہو سکتا ہے کہ وہ شلوار اتارنے کی دھمکی سننے کے بعد فورا اپنے بیگ سےایکسٹرا شلوار نکال سامنے دھر دیتیں۔۔۔ کیا کرلیتے حافظ صاحب ؟

آپ اگر غور سے دیکھیں تو محسوس ہوگا کہ پروگرام میں ماروی سرمد حافظ حمداللہ کو کینہ توز نظروں سے دیکھ رہی ہیں، آپ کو لگے گا کہ یہ اختلا ف ہورہا ہےمگر یہ آپ کی غلط فہمی ہے۔

یہ انداز ایک سازش بھی تو ہوسکتا ہے، برابر میں بیٹھ کر حافظ حمداللہ کے جذبات کو اتنا بھڑکانا کہ وہ اللہ کا معصوم بندہ دھمکی دینے پر اتر آئے، اہل جبہ و دستار کے خلاف اصحاب شلوار کی ایک گہری سازش ہے۔

یہاں دھمکی کی نوعیت پر بھی غورضروری ہے، حافظ حمداللہ جان سے مارنے کی بھی دھمکی دے سکتے تھے مگر شلوار ہی کیوں۔۔ کچھ تو چل رہا تھا حافظ صاحب کے ذہن میں۔۔اور یقینا ماروی سرمد نے اس کچھ تک پہنچنے کے لیے میڈیا میں اپنے تعلقات استعمال کرتے ہوئے حافظ صاحب کے برابر والی نشست حاصل کی۔

یہاں میں مذہبی طبقے سے درخواست کروں گا کہ وہ منٹو کی قبر پر جاکر ان سے معافی مانگیں کہ خوامخواہ ان کی کالی شلوار پر مقدمے قائم کرتے رہے، وہ سچ کہتے تھے شلوار ہی اصل مسئلہ ہے، یہ اتر جائے تو دکھانے کو اورکچھ نہیں بچتا، ماروی سرمد کو حافظ حمداللہ نے شلواراتارنے کی دھمکی ضرور دی ہےمگر بدقسمتی ہی کہنا چاہیے کہ حافظ کی اپنی شلوار کی کوئی خبر نہیں مل رہی۔ کہا جا رہا ہے کہ جب انہوں نے ایک خاتون پر ہاتھ اٹھایا تو تقدیس کی شلوار نے شرم سے نظریں جھکا لیں اور حافظ صاحب کی پردہ پوشی سے انکار کر دیا۔

پاکستان کی انتہاپسند مذہبی ذہنیت کو بے نقاب کرنے پر۔۔۔ شکریہ حافظ حمداللہ۔


Comments

FB Login Required - comments