می ٹو ایک ٹرینڈ ایک ذمہ داری


می ٹو ایک ایسا ٹریند ہے جس نے جنسی ہراسانی پہ بولنے کی جرات پیدا کی ہے۔ اس میں بلا تفریق تہذیب و اقوام کے ہر کمیونٹی، طبقے اور علاقے سے تعلق رکھنے والی خواتین کی جنسی طور پہ ہراساں کیے جانے کے واقعات کو نہ صرف بیان کیاگیا بلکہ ایسا کرنےوالوں کو قانونی کارووائی کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ یہ اچھی بات ہے کہ ایک ٹیبو پہ بات کرنے کی جرات پیدا ہوئی اور ایسا کرنے والوں میں اس بات اک احساس ہوا کہ محض سٹیٹس، طاقت یا شہرت کی بنیاد پہ وہ یہ حق ہرگز نہیں رکھتے کہ کسی خاتون کو ہراساں کریں۔

دوسرا یہ کہ ہراساں کرنا آسان اس لیے ہے کہ لوگ اس پہ بات کرنے سے ہچکچاتے ہیں اور ویکٹم کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں لیکن سلیبرٹیز کا اس تحریک کا حصہ بننے سے۔ اس طرح کے واقعات پہ بات کرنا آسان ہوا ہے ساتھ ہی لوگوں میں خوف پیدا ہوا کہ یہ غیر اخلاقی حرکت کر کے بچنا آسان نہیں ہے۔

ایک دوسرا رخ یہ ہے کہ اس ٹرینڈ کا غلط استعمال بھی ہوا۔ یہ سچ ہے کہ خواتین کو ایسے حالات کا سامنا زیادہ کرنا پڑتا ہے۔ لیکن ایک لمحے کو سوچیے۔ کو ایجوکیشن میں پڑھنے والے، دفاتر میں اکٹھے کام کرنے والے، یا ایک دوسرے کے دوست مرد و خواتین میں سے اگر مرد کسی خاتون کے بارے میں کہے کہ کسی خاتون نے اسے غیر مناسب انداز سے چھوا ہے۔ کوئی ایسا اشارہ کیا جو نا مناسب تھا یا پھر اسے غیر اخلاقی باتوں سے ہراساں کیا ہے تو پہلی بات یہ کہ اس کا یقین نہیں کیا جائے گا اور ساتھ ہی مذاق بھی اڑایا جائے گا کہ ایسا جھوٹ۔

کہیں ایک لڑکا اور لڑکی اکٹھے موجود ہوں اور لڑکی کہے کہ لڑکے نے اس پہ فقرہ کسا نا مناسب انداز سے چھوا ہے اور شور مچا دے تو لامحالہ لوگ اس لڑکے کی پٹائی کرنے کو پل پڑیں گے۔ اور اگر بات اس کے بر عکس ہو تو کوئی یقین کرنا تو درکنار ہوسکتا ہے دوچار لڑکے کو ہی جڑ دے کہ کیسا بکواس کر رہے ہو۔

ایسا ہی کچھ انڈیا میں ہوا۔ 2014 میں بس میں سفر کے دوران دو بہنوں نے تین لڑکوں کی پٹائی کی اور الزام لگایا کہ انہوں نے چھیڑ چھاڑ کہ تھی۔ اس واقعے کی ویڈیو کسی نے سوشل میڈیا پہ اپ لوڈ کی بات گورنمنٹ تک پہنچی ہریانہ کی حکومت نے ریپلک ڈے پہ لڑکیوں کو ایوارڈ اور 31000 انعام دینے کا اعلان کیا۔ کسی نے لڑکوں کا موقف جاننے کی کوشش نہیں کی۔ کچھ عرصہ کے بعد انہیں لڑکیوں کی ایک اور ویڈیو سامنے آئی جس میں وہ ایک اور لڑکے کو مار رہی تھیں۔

یہاں رائے میں تھوڑی تبدیلی آنا شروع ہوئی اور اسی بس میں جہاں پہلے تین لڑکوں کو مارنے کا واقعہ پیش آیا تھی 6 خواتین مسافروں نے بیان دیا کہ وہ جھگڑا ہراسمنٹ کا نہیں بلکہ سیٹ پہ ہو تھا جو وہ لڑکا بزرگ خاتون کو دینا چاہتا تھا۔ اس کے بعد یہ بات منظر عام پہ آئی کہ لڑکیاں لگاتار لڑکوں مار رہی تھیں اور انہیں بلیک میل کر کے رقم وصول کر رہی تھیں۔ 2017 میں جج نے لڑکوں کو بے قصور قرار دیا اور انہیں باعزت بری کیا۔ لیکن ان تین سالوں میں ان کا سماجی رتبہ ختم ہو گیا۔ وہ کوئی ملازمت حاصل نہ کر سکے۔ گھر کے معاشی حالات خراب ہو گئے۔ تین سال کے بعد حاصل ہونے والی آزادی ان کی عمر بھر کی بربادی تھی۔

اب ذرا تجزیہ کریں ایسا کیوں ہوا۔ لڑکیوں کا لگایا کا الزام اور ویڈیو بغیر تحقیق کے قابل قبول تھی کیونکہ سماج اس بات کا قائل یے کہ ایسے واقعات تواتر سے ہوتے ہیں اس لیے ایسا ہوا ہوگا۔ لڑکیوں کا ردعمل روٹین سے ہٹ کے تھا اس میں جرات اور بہادری کا عنصر تھا اس لیے اسے بنا سوچے سمجھے سراہا گیا۔ لڑکوں کا موقف سننے کی زحمت اس لیے نہیں کی گئی کہ یہ بات طے شدہ ہے کہ کوئی عورت کسی مرد پہ یہ الزام یونہی نہیں لگا سکتی کیونکہ یہ براہ راست اس کی اپنی عزت پہ حملہ ہے۔ معاملہ بالکل برعکس تھا اور ثابت ہو گیا لیکن سماج کی سوچ کی وجہ سے بے گناہوں کو سزا ملی۔

ایسا ہی کچھ دیگر معاملات میں ہو رہا ہے۔ جہاں اچھے دوست رہنے والے کسی رنجش یا دشمنی کی بنا پہ مرد دوستوں پہ یہ الزامات لگا رہے ہیں۔ زایدہ تر یہ واقعات شو بز میں سامنے آ رہے ہیں۔ یہاں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایک درست ٹرینڈ کو غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ یا یہ کہہ لیں کہ شعور کی کمی ہے کہ ایسے صحیح طور سے سمجھا نہیں جا رہا۔

سماج میں اچھی شہرت بلا تخصیص صنف ہر کوئی چاہتا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ معاشرے کے تواتر سے ہونے والے واقعات کو دیکھتے ہوئے رائے قائم کی جائے اور اس پہ قائم رہا جائے۔ ہر معاملے کو گہرائی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اور جب سماج میں بہت تیزی سے تبدیلی آتی ہے تو وہ نقصان بھی کرتی ہے۔ کیونکہ اسے اپنانے کے لیے اور دھیرے دھیرے سماج کا حصہ بننے کے لیے جو وقت درکار ہوتا ہے وہ ملنے نہیں پاتا۔

یہی مسئلہ ہمارے ڈیجیٹل نقلاب ہے اس نے آزادی اظہار رائے کو آسان کیا ہے۔ ان موضوعات پہ بات کو آسان کیا ہے جو کبھی ٹیبو سمجھی جاتی تھیں۔ لیکن اس کا درست استعمال ابھی تک ہمیں نہیں آیا کیونکہ ہم ابھی بھی بوہھلائے ہوئے ہیں کہ یہ سب ممکن ہے۔ انسانی زندگی اور اس سے جڑے معاملات بے تحاشا اہم ہیں۔ اس لیے کوئی بھی ایسی بات یا عمل جو دوسروں کی زندگی کو متاثر کر سکتا ہو اسے پھیلانے یا کہنے سے پہلے سنجیدگی سے تحقیق کرنا ضروری ہے۔ ایسا نہ ہو کہ آپ انجانے میں کسی سنگین جرم کا حصہ بن جائیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں