غالب (احمد) مر گیا، پر یاد آتا ہے


sajid aliفیس بک پر محترم مسعود اشعر صاحب کے کالم سے یہ افسوسناک خبر ملی کہ غالب احمد بھی اس دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں۔ ان کے نوٹ سے اور بھی دکھ ہوا کہ اخبار نے غالب احمد کے ذکر کی بنا پر اس کالم کو لائق اشاعت نہ جانا۔ ہمار ی یہ روایت تو نہیں کہ شعر و ادب کی داد دینے سے پہلے شاعر یا ادیب کا عقیدہ دریافت کیا جائے۔ شاعر کا تو ہمیشہ سے یہ امتیاز رہا ہے کہ اسے ہر طرح کی بات کہنے کا حق حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شاعر حضرات اکثر مذہبی شعار اور اداروں کا مذاق اڑاتے رہے ہیں مگر کبھی اس بات پر نہ لائق نفرین ٹھہرائے گئے نہ گردن زدنی۔ اگر کسی نے شاعرانہ اظہار کو فقہ کی سان پر پرکھنے کی کوشش کی تو الٹا اسے بدذوق قرار دیا گیا۔

مجھے نہیں معلوم کہ کسی مفتی شرع متین نے اس شعر پر میر صاحب کی گرفت کی ہو:

میر کے دین و مذہب کواب پوچھتے کیا ہو ان نے تو

قشقہ کھینچا دیر میں بیٹھا کب کا ترک اسلام کیا

غالب کی رند مشربی اور آج کے ’علمائے حق‘ کی رو سے بدعقیدگی کے باوجود نہ صدر الصدور مفتی صدر الدین آزردہ نے اس سے قطع تعلق کیا نہ علامہ فضل حق خیر آبادی نے منہ موڑا بلکہ دیوان غالب کے انتخاب کا فریضہ بھی انجام دیا جس میں یہ شعر بھی موجود تھا

ہم موحد ہیں ہمارا کیش ہے ترک رسوم

ملتیں جب مٹ گئیں اجزائے ایماں ہو گئیں

خود مفتی آزردہ صاحب نے غالب کی صحبت کا اثر قبول کرتے ہوئے تمام تر تفقہ اور تقویٰ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس قسم کا لازوال شعر بھی کہہ دیا:

کامل اس فرقہ زہاد سے اٹھا نہ کوئی

کچھ ہوئے تو یہی رندان قدح خوار ہوئے

علامہ اقبال نے اپنی شاعری میں مہاتما بدھ کو خراج تحسین پیش کیا، رام کی تعریف میں نظم لکھی، گایتری کے اشلوک کا ترجمہ کیا، بابا گورو نانک کو مرد حق قرار دیا، سوامی رام تیرتھ کا مرثیہ کہا۔ ایک مولوی صاحب نے اس پر کفر کا فتویٰ ارشاد کیا تو اسے سید سلیمان ندوی سے لے کر ظفر علی خاں تک نےملامت کا ہدف ٹھہرایا۔ علامہ اقبال نے تو مزید ستم یہ کیا کہ احمدیوں کے خلاف مضمون لکھنے کے باوجود اپنے بھتیجے شیخ اعجاز احمد کا نام اپنے بچوں کے گارڈین میں شامل کیا۔

ghalib-768x512انتظار حسین صاحب، جنہیں مرحوم لکھنے کو دل نہیں مانتا، کا کہنا تھا کہ اردو میں عظیم کا لفظ صرف تین لوگوں کے نام کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے اور وہی در حقیقت اس کے حق دار ہیں۔ اور وہ تین نام میر، غالب اور اقبال ہیں۔ لیکن اگر راسخ الاعتقادی کو معیار بنایا گیا تو پھر ہمیں ان سب سے ہاتھ دھونا پڑیں گے۔ ہمارے ایک بہت بڑے نقاد تھے جن کا نام محمد حسن عسکری تھا۔ جوانی میں، ترقی پسندوں کے بقول، زوال آمادہ اور فراریت سے معمور فرانسیسی ادب سے متاثر تھے اور اسی انداز میں کہانیاں بھی لکھتے تھے۔ شاعری میں فراق گورکھپوری کے مداح اور عقیدت مند تھے، اقبال کی شاعری کوکسی شمار قطار میں نہیں رکھتے تھے۔ جوانی کے بعد رینے گینوں کی معرفت مذہب کی طرف مائل ہوئے تو اشرف علی تھانوی صاحب سے رشتہ عقیدت استوار کیا اور مفتی شفیع صاحب کی تفسیر کے انگریزی ترجمہ میں مشغول ہو گئے۔ اس کایا کلپ کے باوجود فراق سے ان کی عقیدت میں کوئی فرق نہ آیا اور فراق کی شاعری کے متعلق انہوں نے اپنی آرا میں کسی تبدیلی کی ضرورت محسوس نہ کی اورنہ علمائے دیوبند نے ان سے ایسا کوئی مطالبہ کیا۔

جدید دور میں جب کہ تعلیم کو عام کیا جا رہا ہے تو نصابات میں شعر و ادب کی تعلیم کو بھی ضروری سمجھا جاتا ہے۔ تو کیا کسی ادیب اور شاعر کو نصاب میں شامل کرنے سے پہلے اس کے عقاید کا جائزہ لیا جائے گا۔ اگرایسا ہوا تو میر اور غالب سمیت کتنے ہی شعرائے کرام کو تعلیمی اداروں کے نصاب سے خارج کرنا پڑے گا۔ کیا اقبال کو نصاب سے خارج کر کے ہمیں اقبال سہیل صاحب کی شاعری کو پڑھانا پڑے گا۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ ساہیوال میں ایک مذہبی مدرسہ ہے۔ انہوں نے ایک دفعہ اپنے رسالے کا مدنی نمبر چھاپا۔ لامحالہ اس میں مولانا مدنی اور اقبال کے اس مباحثے کا ذکر بھی آنا تھا۔ اس زمانے میں اقبال سہیل صاحب نے اقبال کے اس مشہور قطعے کا جواب ایک طویل نظم کی صورت میں دیا تھا۔ رسالے کے مدیر نے اس نظم کو شامل اشاعت کرتے ہوئے اس پر یہ نوٹ لکھا تھا کہ اقبال سہیل صاحب کا شعری مقام ڈاکٹر اقبال سے بہت بلند ہے ۔ اس تنقیدی بصیرت پر اہل مذہب ہی سبحان اللہ کہ سکتے ہیں۔

 محمد حسین آزاد سے لے کر انتظار حسین تک کتنے ہی نثر نگاروں کی تحریروں کا مطالعہ باعث جرم و سزا شمار کیا جائے گا۔ نہ دیا شنکر نسیم کے لیے کوئی جگہ ہو گی نہ منشی پریم چند کے لیے۔ فراق گورکھپوری تو مذہبی عقائد کے علاوہ اور بھی کئی وجوہ کی بنا پر مردود نصاب ہوں گے۔

GHALIBخیر بات ذرا پھیل گئی۔ میں لکھنا تو غالب احمد صاحب کے بارے میں چاہتا تھا جن سے شناسائی رہی اور کچھ ملاقاتوں کا موقع میسر آیا۔ زمانہ طالب علمی میں ناصر کاظمی کے فرزند، باصر سلطان کاظمی، سے دوستی کا آغاز ہوا تو ایک دو بار ناصر کاظمی صاحب کو دیکھنے کا موقع میسر آیا، لیکن ناصر کاظمی کی وفات کے بعد باصر کے گھر پر اور اس کے ساتھ ناصر کاظمی کے دوستوں سے ملنے کے کتنے ہی مواقع میسرآئے۔ انہیں میں غالب احمد صاحب بھی تھے۔

پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد ناصر کاظمی ہجرت کر کے ایک بار پھر لاہور میں وارد ہوئے تو ان کے گرد کچھ لوگوں کی منڈلی جمع ہوئی جو ناصر کی سحر انگیز شخصیت سے بہت متاثر تھے۔ ان شب گزیدوں کی انجمن کا ایک رکن غالب احمد بھی تھے جو اس زمانے میں گورنمنٹ کالج لاہور میں طالب علم تھے۔ وہ ناصر کے کتنے ہی رتجگوں کے رفیق تھے۔ 16  دسمبر 1951 کو ناصر کاظمی نے اپنی ڈائری میں لکھا کہ” غالب احمد ان دنوں میری تنہائیوں اور رتجگوں میں زیادہ شریک رہتا ہے۔“ ڈائری کے اندراجات سے پتہ چلتا ہے کہ وہ غالب احمد کی تخلیقی اور شعری صلاحیتوں کے متعلق بہت پر امید تھے۔ 27 فروری 52 کو لکھا ہے: ”ایک شعر غالب احمد کا نقل کرتا ہوں، بہت پسند آیا:

شہر سے دور دن کا پھول کھلا                              آنکھ چمکی کرن کرن کے ساتھ

ازاں بعد ایک اور اندراج کچھ یوں ہے: ”20 ستمبر 52۔۔۔ غالب احمد ابھی ابھی گجرات سے آیا۔ نشست رہی۔ اس سے غزل سنی، ساری غزل پسند آئی۔

پھر اٹھا جانب دل شور کہیں        آرزوؤں نے کیا زور کہیں

دور اس پار چمک لہرائی                       پھر گھٹا اٹھی ہے گھنگھور کہیں

کون جانے یہ کہاں برسے گی               یہ برستی ہے کہیں شور کہیں

جنگلوں میں بھی تو آبادی ہے                               من میں رہتا ہے وہ چت چور کہیں

چشم نرگس بھی ہوئی دیدہ شوق                             کاش آ جائے وہ اس اور کہیں

غالب احمد کی اس غزل میں مطلع کے دوسرے مصرع میں

آرزوؤں کی ز اور اور زور۔ پھر دوسرے شعر میں گھٹا اور گھنگھور کی آواز، پھر یہ مصرع، یہ برستی ہے کہیں شور کہیں—- مون سون اسی طرح اٹھتی ہے۔ غالب احمد اگر اسی طرح سوچ سمجھ کر لکھتا رہا تو نئے غزل گووؤں میں بلکہ نئے شاعروں میں سب سے آگے بڑھ جائے گا۔ مجھے اس سے بہت رغبت اور دلی پیار ہے اور بہت سی امیدیں بھی ہیں۔“

 ایک اور اندراج بہت غور طلب ہے جو26ستمبر 52 کا ہے”۔۔۔ غالب، حفیظ، شیخ، انتظار، نور کے ساتھ میٹرو گیا۔۔۔ نئی پرانی نسل پر بحث ہوئی۔ محمد حسن عسکری نے آفتاب کو انگریزی میں خط تحریر کیا ہے کہ

This younger generation will go to ashes.

نامعلوم یہ کونسی نئی نسل ہے۔ ویسے محمد صفدر، مظفر علی سید، غالب احمد اور میرے ہوتے ہوئے یہ جرات عجیب ہے۔“

تاہم ناصر کاظمی کی ان امیدوں کو پورا نہ ہونا تھا۔ غالب احمد تعلیم سے فارغ ہو کر ایر فورس سے وابستہ ہو گئے اور ان کا ٹھکانہ لاہور سے دور ہو گیا۔ طبیعت میں بے پروائی اور قلندری تھی اس لیے زیادہ چھپنے چھپانے کی ضرورت محسوس نہ کی۔ اس اثنا میں ایک واقعہ یہ ہوا کہ ناصر کاظمی نے 60 کی دہائی میں مسلسل غزلوں کا سلسلہ پہلی بارش کے نام سے تحریر کیا۔ یہ غزلیں سن کر غالب احمد نے کہا کہ ناصر شعر تو تم پہلے سے کہہ رہے تھے مگر شاعری تم پر اب نازل ہوئی ہے۔ وہ ان غزلوں سے اتنا متاثر ہوئے کہ انہوں نے مسودہ ناصر سے لے لیا کہ وہ اس کی اشاعت کا بندوبست کریں گے مگر شومئی قسمت کہ وہ مسودہ ان سے کہیں کھو گیا چنانچہ ناصر کی زندگی میں” پہلی بارش“ شائع نہ ہو سکی۔ ناصر کی وفات کے بعد یہ گم شدہ مسودہ انہیں مل گیا۔ غالب احمد جب ثانوی تعلیمی بورڈ کے چیئرمین کی حیثیت سے سرگودھا میں تعینات تھے اس وقت ان سے یہ مسودہ لے کر ڈاکٹر خورشید رضوی صاحب نے ان غزلوں کا مطالعہ کیا اور ناصر کاظمی پر اپنے 1973کے مضمون میں پہلی بارش کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا۔

 غالب احمد کا تبادلہ جب لاہورہوا تو ناصر کاظمی رخصت ہو چکے تھے۔ اب ان کی دوستی اور ملاقات زیادہ تر حنیف رامے اور شیخ صلاح الدین کے ساتھ رہی۔ اسی اثنا میں مجھے بھی چند بار ان سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ 1999ء میں جب حسن سلطان کاظمی نے چند دوستوں کے ساتھ مل کر ناصر کاظمی سوسائٹی کی بنیاد رکھی تو ناصر کاظمی کے گھر پر جو نشست منعقد ہوئی اس کی صدارت غالب احمد صاحب نے کی۔ انتظار صاحب مہمان خصوصی تھے۔ اسی طرح اس سوسائٹی کی چند اور نشستوں میں بھی وہ تشریف لائے۔ باصر کے ساتھ چند دفعہ ان کے گھر پر ملاقات کو جانا ہوا۔

پندرہ یا شاید سولہ برس پرانی بات ہے جب میرے دوست اور شاگرد ڈاکٹر خلیل احمد گورنمنٹ کالج آف ایجوکیشن (سابقہ سنٹرل ٹریننگ کالج) میں پڑھا رہے تھے تو وہ کالج کی ایک تقریب میں غالب پر ایک لیکچر کروانا چاہتے تھے۔ انہوں نے مجھ سے رابطہ کیا تو میں نے غالب احمد صاحب کا نام تجویز کیا۔ انہوں نے کمال شفقت کا اظہار کرتے ہوئے میری درخواست کو قبول کر لیا۔ اس دن میںنے انہیں کالج تک آمد و رفت کی سہولت فراہم کی۔ ان کا لیکچر سنا اور دن بھر ان کی باتوں سے مستفید ہونے کا موقع میسر آیا۔وہ بہت صاحب علم تھے۔ نفسیات، فلسفہ، ادب اور شاعری کا بہت گہرا مطالعہ تھا۔ ٹھہر ٹھہر کر دھیمے لہجے میں بہت عمدہ گفتگو کرتے تھے۔ متعدد مضامین کے علاوہ ان کے دو شعری مجموعے ”راحت گمنام“ اور ”رخت ہنر“ بھی شائع ہو چکے ہیں۔ ان کی وفات لاہور کی علمی اور تہذیبی زندگی کو مزید تہی مایہ کر گئی ہے۔

 


Comments

FB Login Required - comments