دستار،شلواراور صحافت


khawaja kaleemاینکر:ماروی صاحبہ ،کونسل آف اسلامک آئیڈیالوجی کہاں ہے ؟ کہاں ہیں وہ سب لو گ جو عورت کے خلاف قانون بنار ہے تھے اور عورت کے تحفظ کے قانون پر اعتراض اٹھار ہے تھے۔آج چار عورتوں کے زندہ جل جانے کے باجود خاموشی کیوں ہے؟

ماروی سرمد:جی بالکل ،میرا خیال ہے کہ مسرور صاحب جو فرما رہے تھے تو ان کا مطلب بھی یہی تھا کہ ہم نے دوتین ہفتے جو شور مچایا ہے یہاں پر ….

حافظ حمداللہ :نہیں ،نہیں ،نہیںآپ کو ،آپ کو بات کرنے نہیں دوں گا میں ۔

ماروی سرمد:کیوں نہیں کرنے دیں گے ؟

حافظ حمداللہ :آپ ان (بیرسٹر مسرور)کے الفاظ کو سپورٹ کر رہی ہیں؟

ماروی سرمد:نہیں ،نہیں ،میں نے تو بات ہی نہیں کی! اچھا اگر میں سپورٹ بھی کروں توآپ مجھ سے اونچی آواز میں بات کرینگے؟

حافظ حمداللہ:کروں گا

ماروی سرمد :نہیں کر سکتے

حافظ حمداللہ:بالکل کروں گا

ماروی سرمد :نہیں کر سکتے

حافظ حمداللہ :آپ میری ماں ہیں؟

ماروی سرمد:نہیں تو، آپ کون ہیں؟ آپ کون ہیں؟ آپ باپ ہیں یہاں کے؟

یہ اس مکالمے کی مہذب اور اسلامی گفتگو کے ابتدائی الفاظ ہیں جو ایک نجی ٹیلی ویژن سے پیش کیا گیا،اور جس کے صرف دو منٹ بعد دین کی سربلندی کے ایک دعویدار نے ایک خاتون کو اس کی اوراس کی ماں کی شلوار اتارنے کی دھمکی دی ۔

لیکن اصل کہانی اس سے ذرا پہلے شروع ہوئی تھی جب ٹاک شو کی میزبان کے سوال کے جواب میں ایک مہمان بیرسٹر مسرور نے یہ کہتے ہوئے چنگاری بھڑکائی کہ خواتین پر تشدد کے واقعات پر اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ چرس پی کر سو رہے ہیں۔جس کے جواب میں حافظ حمداللہ نے انہیں شرابی قرار دے کر ان کی اچھی طرح سے تسلی کرائی ۔لیکن جمعیت ©’علمائے‘ اسلام کے رہنما شیرانی صاحب کی شان میں گستاخی پر اس قدر جلا ل میں آچکے تھے کہ تہذیب،تمیز،اخلاق اور دین کی تمام تر حدیں پھلانگ گئے۔اطلاع ملی تو میں نے سوچا ماروی سرمد کی شہرت ایک منہ پھٹ عورت کی ہے تو شاید ان کی کسی بات کے ردعمل میں حافظ صاحب نے یہ گل افشانی کی ہوگی۔لیکن تھوڑی سی تحقیق سے پتہ چلا کہ اس معاملے میں پہل ماروی سرمد نے نہیں کی لیکن با لکل بے قصوربھی وہ نہیں ہیں۔اس سارے معاملے میں بیرسٹر مسرور کا کردار نہایت پراسرار ہے جن کے شیرانی صاحب پربے بنیاد الزامات سے یہ لڑائی شروع ہوئی لیکن ماروی سرمد نے بھی جلتی پر تیل ڈالا تا کہ حافظ حمداللہ اور مشتعل ہوں۔جو بات ٹی وی کے ناظرین کو نہیں معلوم وہ یہ ہے کہ ٹاک شو کے ایک اور مہمان فیاض الحسن چوہان جب حافظ حمداللہ کو کھینچ کرسٹوڈیوز سے باہر لے گئے توماروی نے چلاکر انہیں للکارنے کے لہجے میں ننگی گالیاںبھی دیں ۔ماروی نے فیاض الحسن چوہان سے یہ بھی کہا کہ آپ حافظ حمداللہ کو مجھ پر ہاتھ اٹھانے دیتے ،روکا کیوں؟

لیکن رکئے !بات اتنی بھی سادہ نہیں ،ماروی سرمد اور حافظ حمداللہ بچے نہیں ہیں ،دونوں ایک دوسرے کی شخصیت ،افکاراور ایک دوسرے کے فکری اجداد سے اچھی طرح واقف ہیں۔ ایک کی زندگی کا مقصد دستار کو(چاہے وہ کتنی ہی اجلی کیوں نہ ہو) مٹی میں رولنا ہے تو دوسرے طبقے کی نظرہروقت مخالف کی شلوار پر ہوتی ہے ۔ ایک کو مسجد ومنبر سے خدا واسطے کا بیر ہے تو دوسرا جدید سماج کو ہرصورت چودہ سو سال پیچھے دھکیلنا چاہتا ہے ،یہ سوچے سمجھے بغیر کہ اسلام بالکل بھی اتنا تہی دست نہیں کہ وقت کے تقاضو ں کا ساتھ نہ دے سکے۔ایک طبقے کا سارا زور اس پر ہے کہ عورت کو برابر حقوق دئیے جائیں اور دوسرے طبقے کااسلام شٹل کاک برقعے سے شروع ہوکر ہلکے تشددکی اجازت پر ختم ہو جاتا ہے۔ایک طبقہ یہ چاہتا ہے کہ مساوی حقوق کے نام پر کسی بھی کسوٹی پر پرکھے بغیر کوٹہ سسٹم کے تحت عورت کو ہر اونچی مسند پر بٹھادیا جائے جبکہ دوسرے طبقے کا سماج اور دین اسی وقت تباہ و برباد ہو جاتا ہے جب عورت ان کے گھر نامی قید خانے کے دروازے کی طرف پہلی نظر ڈالے۔ایک گروہ اس بات پر بضد ہے کہ عورت ہر معاملے میں مرد کے برابر ہے تو دوسرے گروہ کی ساری توانائی اس بات کو ثابت کرنے میں خرچ ہوجاتی ہے کہ عورت کی توگواہی بھی پوری نہیں ۔ ایک طبقے کو لبرل ازم او ر جدیدیت پسندی کے نام پر مذہب اور پاکستان کو گالیاں دینے کی بیماری لاحق ہے تو دوسرے کا ایمان ہے کہ جوشخص بھی وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگی کی بات کرے اس کو گالی دینا عین نیکی ہے۔اللہ کابڑا کرم ہے !اعتدال، برداشت،معاملہ فہمی،حکمت اور دوسروں کے احترام کی بیماری سے دونوں طبقے پوری طرح محفوظ ہیں۔معافی چاہتا ہوں کہ الفاظ بہت سخت ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ مکالمے کی بنیادی ضرورت اور اہمیت کوسمجھنے سے دونوں ایسے بھاگتے ہیں جیسے آوارہ کتا پتھر سے ۔

میرے خیال سے اتناقصور ماروی سرمد اورحافظ حمداللہ کا نہیں جتنا اس نام نہاد دانش کا ہے جس نے ریٹنگ کے چکر میں اس ساری خرافات کو پیپ ۔۔۔پیپ ۔۔۔ کا تڑکا لگا کر ٹی وی پر نشر کیا،تھوڑی شہرت اور چندٹکوں کی خاطر ماروی سرمداور حافظ حمداللہ کی عزت کے ساتھ ساتھ صحافت کے وقار اور معاشرتی اخلاقیات سے کھلواڑ کیا ۔اب پیمرا نے جواب طلب کیا ہے تو آزادی صحافت خطرے میں پڑ جائے گی۔ یقین کیجئے! کسی کی دستاراچھالنے یا شلوار اتارنے کا نام صحافت نہیں ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “دستار،شلواراور صحافت

  • 12-06-2016 at 9:06 pm
    Permalink

    بہت مناسب۔ میزبان خاتون نے ابتدا ہی چیخنے چلانے سےکی تھی۔ وہ اپنی باتیں غیر جزباتی انداز اور لہجے میں کہہ سکتی تھیں، اسی لہجے میں جس میں ماروی سرمد نے اپنی گفتگو شروع کی۔ ماروی سرمد کے بعد حافظ حمدالله سے سوال کیا گیا لیکن انھیں مشکل سے ایک منٹ بولنے دیا گیا۔ اسکے بعد بنگش اور مسرور دونوں نے اصل مسئلہ کو سیاسی رنگ دے دیا اور وہ بھی انتہائی بھدے طریقے سے۔ لیکن میزبان خاتون نے انھیں ٹوکنا تو درکنار دیر تک بولنے دیا۔ اب یہ بھی واضح ہوگیا ہے کہ یہ پروگرام پہلے رکارڈ کیا گیا پھر نشر ہوا۔ اگر اس چینل اور اس میزبان خاتون کی نیت بخیر ہوتی تو وہ کچھ اور بھی کر سکتے تھے۔ حافظ حمدالله کا اشتعال بجا تھا، لیکن اسکا اظہار انھوں نے جس طرح کیا وہ انتہائی شرمناک اور قابل نفرین تھا۔ بہر کیف، اس پورے ہنگامے یا ہنگامہ سازی کی ذمہ دار وہ میزبان خاتون تھیں جو اردو سے زیادہ انگریزی میں ماہر معلوم ہوتی تھیں اور جو کسی انگریزی چینل پر اس طرح چیخ چیخ کر نہ بولتیں جس طرح اس اردو چینل پر بول رہی تھیں۔

  • 15-06-2016 at 5:36 pm
    Permalink

    حقیقت سے نظر چھپائے بغیر اب مان لیں پاکستانی ذہنی مریض بن چکے ہیں سماجی کارکن اور مذہبی رہنما ہی برداشت نہیں کر سکتے تو عام آدمی سے کیا توقع رکھتے ہیں مگر خواجہ کلیم صاحب جلتی پر تیل کس نے ڈالا آپ کیسے ثابت کر سکتے ہیں صرف سماجی طور پر دیوالیہ معاشرے کا حصہ ہونا قبول کریں اورتسلیم کریں
    نمود

Comments are closed.