ایک ملا کی خواہش…. ”کھول دو “


akhter hafeezمنٹو نے اپنا افسانہ “کھول دو” جواں سال لڑکی سکینہ اور اسے کے بے بس باپ سراج الدین پہ لکھا ہے۔ جس میں سکینہ جب عصمت دری کا شکار ہوتی ہے تو اسے اور تو کچھ یاد نہیں رہتا مگر اس کا بے جان سا جسم جب ڈاکٹر کے پاس لایا جاتا ہے ۔ ڈاکٹر سکینہ کی نبض ٹٹولتے ہوئے سراج الدین سے کہتا ہے کہ کھڑکی کھول دو …. اور مردہ سکینہ اپنا ازار بند کھول دیتی ہے۔ کیونکہ اسے بس اتنا ہی یاد رہتا ہے کہ وہ جہاں تھی اسے بس یہی کہا جاتا تھا، اور اس کی مسلسل توہین کی جاتی تھی۔

ہمارے ہاں بھی حمداللہ جیسے ملاو¿ں کو دوسروں کی شلواریں اتارنے کا شوق چڑھا ہوا ہے۔ ہمارے سماج میں عورت کی کتنی عزت ہونی چاہیے یہ ہمارے ملا طے کرنا چاہتے ہیں یا پھر وہ مرد حضرات جنہیں عورت ہمیشہ کم عقل اور جاہل نظر آتی ہے مگر انہیں یہ پتا کیوں نہیں چلتا کہ عورت کے بنا سماج کا وجود ممکن نہیں ۔

ایک لائیو ٹاک شو میں ایک عورت کو گالی دینا اور اسے مختلف نازیبا القاب دے کر بے عزت کرنے کا سرٹیفکیٹ تو ہمارے پارساو¿ں نے طویل عرصے سے اپنے پاس رکھا ہوا ہے مگر وہ عورت کا احترام کرنے میں اپنی بے عزتی سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ہمارے ملک میں عورت کو پیٹنے کے طور طریقوں پہ غور کیا جا رہا ہے۔ ملک میں مذہبی قانون سازی کے لیے اگر اس قسم کے افراد کو ساتھ بٹھا کر اگر کوئی مسودہ تیار کیا جائے گا تو یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ اس میں عورت کے لیے آزادی کتنی ہو گی۔

کوئی بھی انتہاپسند کیسا بھی لباس پہنے، کیسی بھی داڑھی رکھے، پگڑی کا رنگ کیسا بھی ہو اس پر انہیں کوئی اعتراض نہیں مگر اگر کوئی عورت ساڑی پہنے، کرتا پہنے یا پینٹ شرٹ پہنے پھر بھی وہ ان حضرات کو ننگی نظر آتی ہے۔ انہیں بس اس بات کی فکر کھائے جاتی ہے کہ اس کی شلوار کیسے اتاری جائے۔ ماروی سرمد سگریٹ پیتی ہے یا ساڑی پہنتی ہے یا پھر بندیا لگاتی ہے اس سے ہمیں کوئی غرض نہیں ہونی چاہیے، کیا کسی بھی سماج میں یہ ممکن ہے کہ سب انسان ایک ہی سوچ کے مالک ہوں، سب انسان کسی ایک نظریے کے ماننے والے ہوں؟ نہیں بالکل بھی نہیں۔ کیونکہ لوگ جب سوچتے ہیں تو ان کے پاس چیزوں کو دیکھنے کے زاویے الگ الگ ہوتے ہیں۔

مگر یہ کسی ایک انتہاپسند کی سوچ نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسا سلسلہ ہے جو برسوں سے چلا آ رہا ہے۔ ہمارے آمروں نے اس سوچ کی آبیاری کی ہے لہٰذا کسی بھی مذہبی جماعت کا لیڈر کسی بھی حد تک جا سکتا ہے اور اسے اس بات کی بھی فکر نہیں ہے کہ اس کی زبان سے جو دشنام بیان ہو رہے ہیں، وہ تیر بن کر ان تمام عورتوں کے سینے میں گڑے ہوں گے جو اس سماج میں اپنی آزادی کے لیے برسوں سے لڑ رہی ہیں، مر رہی ہیں۔ اس سماج کی عورت کو اتنی بھی آزادی نہیں کہ کسی اعتراض کی توقع رکھے بغیر بیٹی کو جنم دے سکے اور اسے پال سکے اور اپنے آپ کو قتل ہونے سے بچا سکے۔ کسی سے اختلاف رائے رکھنے پر کسی انسان کے صبر کا دامن ایسے چھوٹ سکتا ہے کہ وہ کسی عورت کو بے عزت کرنے کی سرعام دھمکی دے ، یہ اس ملک میں پہلی بار ہوا ہے۔

مذہبی رواداری، صبر، اور اسلام کی فضائل بیان کرنے میں ہمارے یہ پارسا تھکتے نہیں اور ان کا لب و لہجہ ایسا ہے کہ ان کی باتیں سن کر دل کرتا ہے کہ کانوں کو وضو کرایا جائے، مگر ایک ایسی ریاست جہاں ملاو¿ں کو ہر قسم کی چھوٹ حاصل ہو، وہ یہ فیصلہ کریں کہ ہمارے اسکولوں میں بچے کیا پڑھیں گے اور ان کی ذہنی تربیت کیسی ہو گی، وہاں ہمیں ایسی بہت سی مثالیں ملیں گی۔ جہاں کسی عورت کی عزت بے معنی ہو، وہاں انہی لوگوں کا راج ہو سکتا ہے جو ہمیں دین کے بارے میں تلقین کرنے پر اجارہ چاہتے ہیں۔

کسی بھی معاملے میں اختلاف رائے رکھنے کا مطلب کسی سے دشمنی کرنا ہرگز نہیں ہوتا بلکہ اختلاف رائے تو دوستوں میں بھی ہوتی ہے، بہن بھائی اور باپ بیٹے میں بھی ہوتا ہے۔ مگر کسی ملا سے اختلاف رائے کرتے وقت پتا نہیں کیوں مذہب خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ وہ بھی ایک ایسا مذہب جو ہمیں امن کا درس دیتا ہے۔

ویسے ان مولوی صاحب کی عذر خواہوں کو یہ ضرور دیکھ لینا چاہیے کہ ان کے اپنے کردار اتنے مضبوط ہیں کہ تاریخ میں ان کی اپنی شلواریں محفوظ رہ سکیں۔

 


Comments

FB Login Required - comments

اختر حفیظ

اختر حفیظ سندھی زبان کے افسانہ نگار اور صحافی ہیں اور ایک سندھی روزنامے میں کام کر رہے ہیں۔

akhter-hafeez has 12 posts and counting.See all posts by akhter-hafeez