غیرت کا پیمانہ بدل ڈالئے صاحب!


maliha hashmiآپ تو ہندوستانی ہیں اور آپ کے شوہر پنجابی تو یہ شادی کیسے ہوگئی؟ نئی پڑوسن نے ہم سے استفسار کیا اور ہم نے میکانکی انداز میں رٹا رٹایا جواب دہرا دیا کہ ’’جی وہ سپورٹس ڈیسک کے انچارج تھے اور ہم ان کے سب آرڈینیٹ تو۔۔۔۔‘‘۔ جملہ ابھی ادھورا ہی تھا کہ اپنی غلطی کا احساس ہوگیا لیکن اب کیا ہوسکتا تھا۔ تیر کمان سے نکل چکا تھا چنانچہ خود کو ان کے متوقع ردعمل کے لئے ذہنی طور پر تیار کرنے لگے اور پڑوسن نے بھی ہمیں بالکل مایوس نہ کیا اور عین ہماری توقع کے مطابق اپنی مرضی کی شادی کا فتویٰ صادر کردیا ’’اچھا تو یوں کہئے نہ کہ لو میرج ہوئی ہے‘‘۔ ہم نے جی جی کہتے ہوئے ان سے جان چھڑانے کی تدبیر پر غور شروع کردیا۔ اب کون انہیں اتنی لمبی کہانی سنائے کہ اگر ہمارے شوہر نامدار کو ان کی اماں نے لڑکی خود ڈھونڈنے کو نہ کہا ہوتا اور تن آسانی کے مارے ہمارے شوہر کے آس پاس یعنی دفتر میں کوئی معقول شخصیت موجود ہوتی اور ہمارے اماں ابا کو چند ناگزیر وجوہات کی بنا پر ایک عدد داماد کی فوری تلاش نہ ہوتی تو شاید یہ شادی بھی نہ ہوتی۔ لو جی ! لو تو ہوا ہی نہیں تھا لیکن لو میرج کا ٹھپہ ضرور لگ گیا۔ لیکن خیر اب کیا کیا جا سکتا ہے۔

کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ جس طرح ہمیں یہ الزام بہت ناگوار گزرتا ہے ، اسی طرح شاید ہمارے اماں ابا کو بھی برا محسوس ہوتا ہو اور شاید ان سے بھی جب یہ سوال پوچھا جاتا ہو کہ بیٹی کی شادی غیر زبان میں کیسے کردی، کہیں پسند کی شادی تو نہیں؟ شاید وہ بھی مناسب انداز میں صورت حال بیان کرنے یا پھر اس سے جان چھڑانے پر غور کرتے ہوں لیکن شکر ہے کہ آج تک انہوں نے اس بارے میں اپنی ناگواری کا اظہار مجھ سے نہیں کیا۔ یا پھر شاید وہ ذہنی طور پر بھی اسی قدر فراخ دل ہوں اور ایسا کچھ محسوس ہی نہ کرتے ہوں لیکن اگر میرا کوئی بھائی ہوتا تو کیا وہ بھی ایسی ہی فراخدلی کا مظاہرہ کرتا؟ یا پھر میں بھی لاہور کی زینت کی طرح شادی کی خواہش ظاہر کرنے پر مار پیٹ اور گھر والوں کے ظلم کا شکار ہوتی اور اگر بغاوت پر اترتی تو یوں ہی اہل خانہ کے ہاتھوں زندہ جلا دی جاتی۔

غیرت کے نام پر قتل کی جانے والی لڑکیوں اور ان کے ’’بیچارے بھائیوں‘‘ کے بارے میں کچھ ہفتے قبل ہم سب میں بخت برشوری کی ایک تحریر پڑھنے کا اتفاق ہوا تھا۔ یہ تحریر اگرچہ پرانی ہے لیکن برشوری صاحب کی دلیل آج بھی تازہ معلوم ہوتی ہے کہ یہاں عزت کا سودا کرنے والی بہنوں کو ان کے جرم کی سزا دینے والے غیور بھائیوں کی کوئی کمی نہیں۔ محترم نے اپنے مضمون میں کیا ہی عمدہ دلیل دی تھی کہ بھائی کیا کرے، اس معاشرے میں پھر اس کی زندگی بھی تو زندگی نہیں رہتی۔ وہ سماج، پڑوسیوں اور علاقہ بھر کے آگے ساری زندگی سر جھکائے رہ جاتا ہے۔ بالآخر یہ شرمندگی اسے مجبور کرتی ہے کہ جس راما نے اس سے زندگی کا حق چھینا ہے وہ اس سے اس کی زندگی چھین لے۔۔۔۔ سوال یہ ہے کہ یہ غیرت و حمیت اس وقت عقل کا دروازہ کیوں نہیں کھٹکھٹاتی، جس وقت بہنوں کے لہجے سے بغاوت ٹپکنا شروع ہوتی ہے؟ کیا ضروری ہے کہ ہر بھائی کی طرح آپ بھی اپنی مرضی سے ہی اپنی بہن کے لئے جیون ساتھی منتخب کریں؟ مانا کہ ہر واقعے میں لڑکی کا انتخاب 100 فیصد درست قرار نہیں دیا جاسکتا اور ایسے میں یہ جواز بھی بجا معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ وہ لڑکا مناسب نہیں، تم کم عمر ہو، وہ لالچی ہے، وغیرہ وغیرہ اس لئے میں تمہیں جانتے بوجھتے اندھے کنوئیں میں چھلانگ نہیں لگانے دوں گا۔۔۔ لیکن من مانی پر اتری بہن کو جان سے مار دینا کیا مسئلے کا حل ہے؟ کیا اس قتل کے بعد وہ اپنی عزت کے ساتھ ساتھ دنیا و آخرت تباہ نہیں کر لیتے؟ کیا بہن، بیٹی کی خواہش کو تسلیم کرلینا اس توہین سے کہیں زیادہ باعث تذلیل ہوتا ہے جو وہ اس کے قتل کی صورت میں انسانیت کی کرتے ہیں؟ کیا کہا؟ اسلام آپ کو بحیثیت ولی یہ حق دیتا ہے۔ خوب کہی بھائی آپ نے۔ وہی اسلام آپ کی بہن کو بھی تو عاقل و بالغ حیثیت میں اپنی مرضی کا جیون ساتھی چننے کا حق دیتا ہے۔ اس بارے میں کیا کہیں گے جناب؟

پسند کی شادی کو معاشرے میں قبول نہ کرنے کی ایک بڑی وجہ یہ سوچ ہے کہ چونکہ یہ فیصلہ اولاد نے اپنی مرضی سے کیا ہے اور اس میں والدین کی رضا شامل نہیں ہے، اس لئے اس میں کامیابی کا ایک فیصد بھی امکان نہیں کہ جو فیصلے ماں باپ سے بغاوت کر کے کئے جائیں، ان میں برکت کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔ ہم یہ حقیقت کیوں نہیں تسلیم کرلیتے کہ والدین اولاد کے لئے اپنے تمام تر خلوص کے باوجود بھی سو فیصد غلطی سے پاک فیصلے کرنے کی صلاحیت ہرگز نہیں رکھتے کیونکہ وہ بھی انسان ہیں اور خطا کے پتلے ہیں۔ مانا کہ والدین کا تجربہ، انہیں اولاد سے زیادہ شعور بخشتا ہے لیکن یہ شعور انہیں اولاد کے تیزی سے بغاوت کی جانب بڑھتے قدم دیکھنے سے کیوں روک دیتا ہے؟ یا پھر شاید بڑے ہونے کا زعم اور آنکھوں پر بندھی انا کی پٹی انہیں اولاد کے فیصلے تسلیم کرنے سے روک دیتی ہے۔ ان کی غیرت یہ گوارا ہی نہیں کر پاتی کہ ان کے ہوتے ہوئے ان کی اولاد اپنی مرضی سے جیون ساتھی چننے کا اختیار استعمال کرے اور اگر وہ ایسا کرنے کا سوچ بھی لیں تو یہ گالی وہ کیسے سہہ سکیں گے کہ اولاد نے ’’لو میرج‘‘ کرلی ہے۔ یقیناً دونوں راتوں کو چھت پر اور دن دیہاڑے پارکوں میں ملاقاتوں اور چوری چھپے تحائف کے تبادلے کے بعد ہی اس مرحلے تک پہنچے ہوں گے۔ جب تک یہ سوچ باقی رہے گی، جب تک ہم لو میرج کو اردو نصاب کے الفاظ متضاد کی طرح ارینج میرج کا سو فیصد متضاد سمجھتے رہیں گے تب تک نجانے کتنی زینتوں کو یوں ہی زندہ جلائی جاتی رہیں گی۔اپنا غیرت کا پیمانہ بدل ڈالیئے صاحب! محبت کرنے کے لئے بدکردار ہونا ضروری نہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

ملیحہ ہاشمی

ملیحہ ہاشمی ایک ہاؤس وائف ہیں جو کل وقتی صحافتی ذمہ داریوں کی منزل سے گزرنے کر بعد اب جزوقتی صحافت سے وابستہ ہیں۔ خارجی حالات پر جو محسوس کرتی ہیں اسے سامنے لانے پر خود کو مجبور سمجھتی ہیں، اس لئے گاہے گاہے لکھنے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

maliha-hashmi has 7 posts and counting.See all posts by maliha-hashmi