دیوتا، پجاری اور جیون بھید کی کتھا


zafar kakarزندگی کی دہلیز پر جب بھی خواب مسخ ہوتے دکھائی دیتے ہیں، نانا جی چراغ کی لو دھیمی کر کے سر اٹھاتے ہیں۔ کوئی کہانی سناتے ہیں۔ خواب اور خواہش میں تال میل پیدا ہوتا ہے اور زندگی ایک بار پھر سے امید دیئے روشن کرتی ہے۔ ایک بار نانا جی نے ہاتھی کے شکار کی کہانی سنائی تھی۔ برما کے جنگلوں میں ایک انگریز پولیس آفیسر ایک ہاتھی کا شکار کرتا ہے۔ ہاتھی کی موت کا منظر بیان کرتے ہوئے نانا جی کرب کی سی کیفیت میں تھے۔ مجھے کوئی زیادہ دکھ نہیں ہوا تھا۔ بس اتنا ہی محسوس ہواکہ شاید جانوروں پر ظلم کر نا ٹھیک نہیں۔ شعور کی منزل پر قدم رکھا تو معلوم ہوا کہ نانا جی نے جارج آرویل کی مشہور زمانہ Shooting an Elephant سنائی تھی۔ کہانی دوبارہ پڑھی تو معلوم ہوا کہ یہ ہاتھی کے کرب انگیز موت کی داستان نہیں تھی، یہ سیاسی بندوبست اور اخلاقی وجود میں کشمکش کی داستان تھی۔

جارج آرویل کی کہانی کل ہمارے قومی منظر نامے ایک طرح سے پھر دہرائی گئی۔ مدعا سماجی ضابطوں کا تھا اور پامال اخلاقی وجود ہوئے۔ کہانیوں کے پلاٹ اور کرداروں میں بہت فرق ہے۔ وہاں ہاتھی مرا تھا۔ یہاں شلوار اتارنے کی دھمکی دی گئی ہے۔ انجام مگر ایک سا تھا۔ اخلاقی وجود کی شکست۔ یہ بات بہت واضح ہے کہ اخلاقیات کا جنازہ کس نے نکالا مگر کچھ لوگ بداخلاقی کی عذر خواہی اس بنیاد پر کر رہے ہیں کہ جس فریق کی تذلیل کی گئی ہے اس کا اپنا اخلاقی وجود کمزور ہے۔ دلیل اگر یہی ہے تو بھی بودی دلیل ہے۔ مشکل یہ ہے کہ عذرخواہی کا خواہش مند فریق نہ صرف بداخلاقی کی تحسین کر ر ہا ہے بلکہ مخالف نقطہ نظر کو ڈرانے دھمکانے کے ساتھ ساتھ سماج میں نفرت کا پرچارک بھی بن چکا ہے۔ ان کے لئے سماج کا ہر وہ شخص قابل نفرت ہے جو ان کے طے کردہ پیمانوں پر سوال اٹھائے گا۔ انہوں نے طے کر لیا ہے کہ سماجی ضابطوں کو تشکیل دینے کا طریقہ کار ان کے پاس آفاقی ہے۔ اصول تو یہ ہے کہ سماج میں ضابطوں کے پیمانے سماج کا مجموعی شعور خود طے کرتا ہے۔ سماج کا اجتماعی شعور اگر زندگی کے ضابطوں پر اتفاق کرتا ہے تو سماج کے ضابطے خودبخود آفاقی ہو جائیں گے لیکن اگر ایسا نہیں ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ، کیا سماج کے ضابطے طے کرتے وقت سماج کے باشعور افراد کو اس پر کلام کی اجازت بھی نہیں دی جا سکتی؟ تھوڑی دیر کے لئے ایک مفروضہ قائم کر لیتے ہیں کہ سماج کے ضابطے آفاقیت پر ہی تشکیل پانے چاہیں۔ مدعا یہ ہے کہ اگر سماج کااجتماعی شعور ضابطوں کی تشکیل کے لئے کسی آفاقیت پرراضی نہیں ہے تو کیا سماج میں آفاقیت کے قیام کے دعویدار اخلاقی برتری سے سماج کو آفاقیت پر قائل کریں گے یا پھر بد اخلاقی، بد اخلاقی کی عذرخواہی، دھونس، دھمکی اور نفرت سے اپنے لئے کوئی ایسا یوٹوپیا تخلیق کرنے کی کوشش کریں گے جس میں ایک مخصوص وضع قطع کے لوگوں کو ہی اچھے اور سچے انسان مانا جاتا ہو اور سماج کے باقی باشندوں کو قابل نفرت۔ حد یہ ہے کہ سماج کے ضابطوں کے بارے میں مختلف نقطہ نظر رکھنے والے باشندوں پر خدا دشمنی کا الزام بھی لگایا جاتا ہے۔

نانا جی نے ایک بھکشوکی کہانی سنائی تھی۔

بھکشونے سوامی سے پوچھا۔ جیون کا بھید کیا ہے مہاراج؟

سوامی نے دھیرے سے سر اٹھایا۔ روشنی!

 بھکشو نے روہانسا ہو کر دونوں ہاتھ پھیلا دیئے۔ بھیتر میں بہت اندھیرا ہے مہاراج۔ بھیتر کے لئے تھوڑی روشنی دے دو مہاراج۔

سوامی نے داہنا ہاتھ فضا میں بلند کیا اور منہ ہی منہ میں بڑبڑایا۔

مریتیون جایا مہارودر تراہی مام شرنڑ ناگتم جنم مریتیوجراروگئی  پیدیتم کرما بندھنیا۔

اپنی سرخ آنکھیں کھولیں اور غضبناک لہجے میں بولا۔ مورکھ! ہاتھ پھیلا۔

بھکشونے ہاتھ پھیلا دیئے۔ سوامی نے ہاتھ فضا میں گھمایا اور بھکشوکی پھیلی ہتھیلیوں کی جانب کچھ پھینکنے کا اشارہ کیا۔ یہ لے مورکھ تیری ہتھیلی نور سے بھر دی۔ اب جا اندھیرنگر کی طرف اور بانٹ دے اس نور کو اندھیر نگر کے منش، مانس، انسان میں۔

اپنی ہتھیلی میں روشنی کی کرنیں تھامے بھکشو مہینوں کی راہ چلتا اندھیر نگر کے قریب پہنچ گیا۔ شہر کی فصیل سے باہر ایک بستی آباد تھی۔ معلوم ہوا کہ یہ بستی بھکشووں کی ہے جو اندھیرنگرتک نور پہنچانے آئے ہیں۔ اندھیرنگر کاکوتوال اس وقت تک کواڑ نہیں کھولنے پر راضی نہیں تھا جب تک سارے بھکشو اپنا اپنا نور لے کر نہ پہنچ جائیں۔ بھکشویہاں تپسیا میں مشغول ہو گئے۔ دن رات اشلوک پڑھے جانے لگے۔ بھگوان سے دعائیں مانگی جانے لگیں کہ اندھیرنگر میں انہیں روشنی بانٹنے کو توفیق دے دے۔ طویل انتظار کے بعد ایک دن شہر کا دروازہ کھول دیا گیا۔ سارے بھکشووں کو حکم ہوا کہ اپنی اپنی روشنی لے کر شہر میں پھیلا دو۔ بھکشوشہر میں داخل ہوئے تو شہر کا دروازہ بند کر دیا گیا۔ ان کے ہاتھوں میں ٹمٹماتی روشنی سے اندھیر نگرمیں دودھیا سی روشنی چھا گئی۔ دور سامنے پہاڑ پر ایک تخت تھا جس کے ارد گرد بہت سارے سوامی بیٹھے کسی کا انتظار کر رہے تھے۔ اچانک تخت کے پیچھے سے راون نمودار ہوا۔ اس کے چہرے پر ایک مکروہ ہنسی تھی۔ اس نے پھونک ماری اور بھکشووں کی ہتھیلیاں بجھ گئیں۔ شہر میں گھپ اندھیرا چھا گیا۔ بھکشووں میں ہلچل مچ گئی۔ ایسے میں روان کی کرخت آواز گونجی۔ مارو! کہیں سے پتھر اور کہیں سے تیر برسنے لگے۔ بھکشوایک دوسرے سے ٹکرانے لگے۔ کسی کو پتھر لگا۔ کسی کو تیر لگا۔ بھکشواپنی جانیں بچانے کے لئے لڑنے لگے۔ اندھیرے میں راون نے اپنے فوجیوں کو ہتھیارڈ ال کر پیچھے ہٹنے کا اشارہ کیا۔ ہتھیار بھکشووں کے ہاتھ لگے اور انہوں نے ایک دوسرے کو دشمن سمجھ کر ہتھیار چلانا شروع کر دئے۔ اندھیر نگر میں خون کی ہولی کھیلی جا رہی تھی اور راون کے چہرے پر ایک مکروہ مسکراہٹ تھی۔ ایک تیر بھکشوکے سینے میں پیوست ہوا اور اس کی سانسیں اکھڑنے لگیں۔ آہستہ آہستہ اس کی آنکھیں بند ہو گئیں۔ مدتوں ایک خواب کی کیفیت رہی۔ ایک زمانے بعد بھکشو کی آنکھیں کھل گئیں۔ وہ ایک مندر کے صحن میں لیٹا آسمان میں ٹوٹتے تارے کو دیکھ رہا تھا۔

وقت گزرتا رہا مگر بھکشو کے من میں ایک ہی سوال تھا۔ جیون بھید کیا ہے۔

مجبور ہر کر ایک دن پھر اس نے سوامی سے پوچھا۔ جیون بھید کیا ہے مہاراج؟

سوامی نے دھیرے سے سر اٹھایا۔ اجالا!

اس بار بھکشوکا سوال مختلف تھا۔ اجالا کہاں سے ملے گا مہاراج؟

سوامی نے کہا۔ اجالا بھگوان کے پوتر منشوں پر بھگوان کی کرپا سے پراکاشت ہوتا ہے۔ ہاتھ پھیلا!

بھکشو نے ہاتھ نہیں پھیلایا۔

سوامی غضبناک ہوا۔ مورکھ! تو نے بھگوان کی کرپا کا اپمان کیا ہے۔ تجھے کبھی اجالانصیب نہیں ہو گا۔ تو نرگ میں جلے گا۔

بھکشو کھڑا ہو گیا۔ اس نے سوامی کی طرف دیکھ کر کہا۔ مہاراج! میں نرگ سے ہو کر آیا ہوں۔ اجالا ہتھیلیوں میں نہیں سماتا۔ اجالے کے لئے دیا جلانا پڑتا ہے اور میں اپنا دیا خود جلاﺅں گا۔

بھکشو کو بستی بدر کر دیا گیا۔ وہ بستی بستی گھومتا رہا۔ اس کے من میں لاچار آرزوئیں تھیں۔ وہ ادھوری خواہشات کاا ستعارہ تھا۔ ناکام تمنائیں، چیختی خاموشیاں لیے اذیت کے فصیلوں کو پار کرتا نگر نگر بستی بستی گھومتا رہا۔ وہ زندگی کی ڈور سے یوں لٹک رہا تھا جیسے دسمبر میں نرگس کی سفید پنکھڑی پر جما شبنم کا قطرہ جسے گرنے کے لئے بس ہلکی دھوپ کی تمازت درکار تھی۔ جیسے پلکوں پر اٹکا آنسو جسے بس ایک جھپکی کی ضرورت تھی۔ اب گرا کہ تب گرا۔ زمانے بیت گئے۔ پر جیون بھید نہ ملا۔ اس نے اشلوک پڑھے۔ چلے کاٹے۔ مندروں کی خاک چھانی۔ پامال راستوں سے ہزار بار گزرا۔ گھنگھرو باندھے۔ ہر گلی میں تماشہ کیا۔ کہ پیش یار می رقصم۔ سربازار می رقصم۔ دم دیدار می رقصم۔ بہ نوک خار می رقصم۔ مگر جیون بھید!

زمانے بعد بھکشو ایک درخت کے نیچے بیٹھا گیان بانٹ رہا تھا کہ ایک ودیارتھی نے پوچھا۔

جیون کا بھید کیا ہے مہاراج؟

نانا جی نے سر اٹھایا۔ کہانی کے بیچ میں کہنے لگے جب تم بڑے ہو جاﺅ تو شکسپیئر کو پڑھنا۔ پھر نانا نے ’کنگ لئیر‘ کا ایک جملہ پڑھا۔ (As flies to wanton boys are we th’ gods, They kill us for their sport)۔ ’ہم دیوتاﺅں کے ہاتھوں میں اس طرح ہیں جس طرح شریر بچوں کے ہاتھوں میں تتلیاں۔ ہمارا خون ان کا کھیل ہے‘۔

نانا جی پھر سے کہانی سنانے لگے۔ بھکشو نے سر اٹھایا۔ اسے ودیارتھی کی آنکھوں میں اپنا بچپن نظر آیا۔ وہ دھیرے سے مسکرایا اور کہا۔

جیون بھید محبت ہے!

ودیارتھی نے سوال کیا۔ محبت کہاں سے ملے گی مہاراج؟

محبت ملتی نہیں ہے بالک۔ محبت بانٹنی پڑتی ہے۔

نانا جی نہیں رہے ورنہ کہتا۔ “ناناجی، ہم دیوتاﺅں کے ہاتھ میں نہیں، ان کے پجاریوں کے ہاتھوں میں اس طرح ہیں جس طرح شریر بچوں کے ہاتھوں میں تتلیاں۔ نفرت ان کا کھیل ہے اور ہم سب جل رہے ہیں۔”


Comments

FB Login Required - comments

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 82 posts and counting.See all posts by zafarullah