فرض شناس تھانیدار کا ایک بدنام معرکہ


wisi 2 babaتھانیدار وطن عزیز کا اک عظیم فرزند ہے۔ ایسے ایسے کارنامے اس سے انجام پانے سے رہ گئے کہ تاریخ میں ہر گز اس کا کوئی ذکر نہیں آئے گا۔ دو چار دھماکوں میں بال بال بچنے کے بعد اسے سپیشل سیل کا انچارج بنا دیا گیا۔ اس کے اپنے بقول وہ تو ڈیٹ مارنے گیا ہوا تھا کہ قریب ہی دھماکہ ہو گیا۔ سرکار کو غلط فہمی ہوئی کہ اس نے دلیری کا مظاہرہ کیا اور جائے واردات پر سب سے پہلے پہنچا۔

بہرحال وہ کسی نہ کسی طرح سپیشل ڈیوٹی پر لگ ہی گیا تھا۔ ویسے تو اس سے متعلق ہر واقعے میں اس سے دھڑا دھڑا بونگیاں وجتی ہیں۔ لیکن کچھ واقعات تو بہت ہی خاص ہیں۔ اس کی اک بار ڈیوٹی ایک ہائی پروفائیل غیر ملکی کے ساتھ لگی۔ تھانیدار کے بقول وہ غیر ملکی کا تعاقب جی جان سے کر رہا تھا۔ پوری طرح نظر رکھی ہوئی تھی کہ یہ فرنگی کوئی حرامدہ کم نہ کر بیٹھے۔ مناسب فاصلے سے وہ تعاقب کر رہا تھا۔ اچانک ایک موڑ پر اس نے ایک مطلوب ملزم کو دیکھ لیا جس پر کروڑ سے اوپر انعام تھا۔

تھانیدار نے آنکھیں بند کر کے حساب لگایا کہ اسے اب فرنگی پر لعنت بھیج کر اس دہشت گرد کو پکڑنا چاہئے۔ کروڑوں کا انعام وہ اپنے خیالوں میں آدھا خرچ بھی چکا تھا۔ اچانک آنکھیں کھول کر دیکھا تو ملزم اور فرنگی دونوں ہی غائب ہو چکے تھے۔ فرنگی اس گمشدگی کے دوران کیا چن چڑھاتا رہا کبھی کسی کو معلوم نہ ہو سکا۔ افسران کا سارا غصہ تھانیدار سے بڑے افسر پر گرا اور ہمارا یار بلا وجہ بچ گیا۔ شاید قدرت نے اس سے زیادہ بزت کرانا تھا۔

تھانیدار کے بقول ویسے تو بندہ وہ بے شرم ہی ہے لیکن اکٹھی دو دو ناکامیاں اس سے ہضم نہ ہوئیں۔ اک کھسرا اس کا واقف تھا اس کے گٹے گوڈوں ٹھوڑی کو ہتھ وغیرہ لگا کر اسے راضی کیا۔ ساتھ میں نقدی بھی دی کہ بس کسی طرح بھی کوئی سر پھرا طالبان کمانڈر پکڑوا دے۔ کھسرے کے ساتھ پتہ نہیں اک بیچارے کمانڈر نے کیا زیادتی کی تھی کہ وہ اسے پکڑوانے پر راضی ہو گیا۔

طے یہ پایا کہ کھسرا کمانڈر صاحب کو لیکر اک گیسٹ ہاؤس میں آوے گا۔ تھانیدار وہاں اپنی ٹیم لیکر موجود ہو گا۔ کمانڈر کو پکڑ کر تھانیدار اپنی پروفیشنل بزتی کا داغ دھوئے گا ترقی پا کر عظیم کہلائے گا۔ وطن عزیز کی ساری مہان ایجنسیوں کو اطلاع دے دی گئی کہ تھانیدار کوئی چن چڑھا دینے لگا ہے۔ کمانڈر کا نام سن کر سب ہی پرجوش ہو گئے تھے۔ ایک تفصیلی پلان بنایا گیا۔

اک گیسٹ ہاؤس کے مالک کو پرانے کھاتے دکھا کر راضی کیا گیا۔ اس کا گیسٹ ہاؤس کمال فیاضی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کرائے پر لیا گیا۔ وردی اور بے وردی پولیس مسافر کے بہروپ میں گیسٹ ہاؤس میں لے جا کر ٹھہرا دی گئی۔ کمانڈر صاحب کے لئے چن کر ایک کمرہ منتخب کیا گیا۔ اس کمرے کی ایک کھڑکی پر ایٹمی سائینس استعمال کر کے کنڈی ڈھیلی کی گئی۔ تاکہ پولیس جب ریڈ کرے تو دو طرفہ ہو۔ کمانڈر صاحب کسی جانب سے فرار نہ ہو سکیں۔

کمانڈر صاحب بھی رج کے ستم ظریف تھے اپنے طے شدہ ٹائیم پر پہنچنے میں ناکام رہے۔ ساری پولیس (آپ پولیس ہی سمجھیں) طرح طرح کے کھانے پکوا پکوا کر اور انہیں کھا کھا کر مرن والی ہو چکی تھی۔ پر کمانڈر صاحب نے پہنچ کر نہ دیا۔ رات گئے کمانڈر صاحب اپنے محبوب کھسرے کے ساتھ آئے۔ انہیں منصوبے کے مطابق اسی کمرے میں ٹھہرایا گیا۔ تھانیدار صاحب نے پندرہ بیس منٹ ایسے گزارے جیسے صدیاں بتا رہے ہوں۔ انہوں نے کھسروں کے ساتھ اپنے سابقہ تجربے کی بنیاد پر سب کو الرٹ کیا۔ یلغار کا حکم دیا۔ آدھی پولیس پارٹی کھڑکی کی جانب گئی ۔ تھانیدار صاحب خود دروازے کی جانب سے گئے۔

کمانڈر صاحب کا دروازہ بجایا انہوں نے اندر سے پوچھا کہ سوک اے ( کون ہے )۔ تھانیدار صاحب  نے اس موقع پر اپنی ساری عقل اور انگریزی اکٹھی استعمال کرتے ہوئے فرمایا کہ روم سروس۔ کمانڈر صاحب نے اندر سے پوچھا کہ آ سہ تہ وئی ( وہ کسے کہتے ہیں )۔ یہ تعلیمی معلوماتی سیشن ابھی جاری تھا کہ کھڑکی کی سائیڈ پر موجود پولیس پارٹی کے ایک جوان نے کھڑکی کھول کر اندر چھلانگ ماری۔ غریب منہ کے بل گرا چوٹ لگنے کی وجہ سے غش سا کھا گیا ۔

کمانڈر صاحب نے یہ ہوائی حملہ دیکھا تو دروازہ کھول کر باہر بھاگنے کی کوشش کی۔ وہ اپنی طرف سے یہ سمجھے کہ جو اندر گرا ہے یہی ان سے روم سروس والی گپ لگا رہا تھا ۔ انکے خیال میں دروازہ سے بھاگنا مناسب ہی ہوگا ۔ انہوں نے دروازہ کھول کر ہی دوڑ لگائی۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا تھانیدار صاحب کو ٹھیک سے یاد نہیں ہے۔ انکے بقول انسان کا جب وقت ہی برا چل رہا ہو تو ملکی حالات نہیں ٹھیک ہو سکتے۔ انکا بتانا ہے کہ اپنی گناہگار آنکھوں سے انہوں نے کمانڈر صاحب کو صرف کرتہ پہنے دروازہ کھولتے دیکھا۔ عین اس موقع پر بجلی چلی گئی۔

تھانیدار صاحب کا یہاں تک دعوی ہے کہ انہوں نے کمانڈر کو پکڑ بھی لیا تھا۔ خوب مارا بھی لیکن اللہ کی رحمت سے ہمارے جس ساتھی نے بھی کوئی لات یا ہاتھ مارا۔ جواب میں چیخ بھی پھر ہمارے ہی کسی ساتھی کی نکلی۔ تھانیدار صاحب کے بقول ویسے تو وہ سکول کے زمانے میں سارا سارا دن پٹے ہیں۔ لیکن جتنی مار اکٹھی اس ادھے پونے گھنٹے میں کھائی ہے۔ سکول والی ساری ملا کر بھی اس کے برابر نہیں۔

پولیس والوں کو کافی دیر اندھیرے میں کشتی کرنے کے بعد خیال آیا ۔ انہوں نے ساری سرکاری گالیاں دے کر جنریٹر آن کروایا ۔ جائے واردات پر اک ادھ مرا کھسرا، ان کا اپنا تھانیدار اور کافی سارے پھنٹر سپاہی ہی ملے۔ کمانڈر صاحب فرار ہو چکے تھے۔ اس کے بعد پولیس نے بڑی دوڑیں لگائیں کئی راہگیروں نے بتایا بھی کہ صرف کرتے میں بغیر شلوار کے آندھی کی طرح کسی کو جاتے دیکھا تو ہے۔ لیکن پکڑا جاتا تو نہ۔

تھانیدار صاحب کی ایک بات سے تو اتفاق ہے کہ بیس کروڑ گوبھیوں کو ہرگز معلوم نہیں کہ ان کے افسر فرض کی راہ میں کیسی کیسی مشکلوں سے گزرتے ہیں۔ کس لئے، بس انہی گوبھیوں کے پیار میں اور کس لئے۔ یہ تو چلیں ہم مان بھی لیں لیکن انکا اگلا فرمان انکے اپنے تجربے کا ہی نچوڑ ہے۔

تھانیدار صاحب کہتے ہیں کہ بندہ ستھن کے بغیر گھوڑے سے بھی تیز دوڑ لیتا ہے۔

 


Comments

FB Login Required - comments